دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بچپن میں اکثر جب نیا سال شروع ہونے لگتا تو ہم کہتے تھے آئندہ یہ کام کروں گا اور یہ کام نہیں کروں گا۔ لیکن پھر ان میں سے کچھ باتیں بھول جاتے اور کچھ کرتے نہیں تھے۔ اب جبکہ دین کی کچھ سمجھ آئی ہے، ان قسموں کا کفارہ کیسے دیا جاسکتا ہے اور کیا اس طرح قسمیں کھانا انگریزوں سے مشابہت تو نہیں ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر اللہ ہم سب میں برابری چاہتا ہے تو کیوں کچھ لوگ دوسرے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور کیوں کچھ لوگ طاقتور اور کچھ کمزور ہوتے ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے ہند وپاک میں جو جتنا بڑا بے نمازی ہوتا ہے اس کے جنازے میں بدعات بھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ بے نمازی کے بارے میں ائمہ کے اقوال بھی بہت سخت ہیں کہ ایسا شخص مسلمان ہی نہیں جو بالکل نماز نہیں پڑھتا، قتل تک کے فتاوی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں بہت بڑا نمازی ہوں لیکن نماز کی اہمیت اجاگر کرنے کی خاطر کیا یہ ممکن نہیں کہ جو علمی بڑی شخصیات ہوں وہ اس کے جنازے میں شریک نہ ہوں، بس کچھ قریبی رشتے دار اور امامِ مسجد اس کے جنازے اور تدفین کی کارروائی مکمل کریں؟ جس طرح آپ ﷺ کے پاس مقروض کا جنازہ لایا گیا تو آپ نے خود نہیں پڑھا لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو منع بھی نہیں کیا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مسجد سے متعلق شریعت میں "متولی" کا کیا مفہوم ہے؟ کون اس کا اہل ہوتا ہے اور کون کسی شخص کو متولی بناسکتا ہے؟ متولی کے کیا حقوق و فرائض ہیں؟ اورکیا تاحیات ایک ہی شخص متولی رہتا ہے یا تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آج كل جیم، رتن، رجنی، ون ٹو ون کے نام سے گٹکے کی طرح چھالیا آتی ہے۔ یہ کمپنیاں گٹکے کی قسم کی چھالیا بناتی ہیں لیکن ٹیکس نہیں بھرتیں اور چھپ چھپا کر بیچی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آج کل لوگ مسجد میں موبائل فون استعمال کر رہے ہوتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہنستے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں اور لطیفے سناتے ہیں۔ جبکہ ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ مسجد میں تو دنیاوی باتیں بھی نہیں کرنی چاہئیں، ہنسنا ہنسانا تو دورکی بات ہے۔ جبکہ ایک دوست یہ کہتے ہیں کہ یہ بڑوں کی بات ہے شرعی حکم نہیں ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا بیٹا ڈاکٹر ہے، اس کی گڈاب کے ایک ہسپتال میں سرکاری نوکری ہے، وہاں چوں کہ مریض بہت کم آتے ہیں اور تین چار ڈاکٹر ہیں اس لیے ڈیوٹی ہفتے میں تین یا چار دن ہوتی ہے۔ وہاں ایک چپڑاسی کی ضرورت ہے لیکن ہسپتال والوں نے نہیں رکھا ہوا۔ البتہ وہاں کے جو بڑے ہیں انہوں نے ڈاکٹرز سے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر پیون کی تنخواہ، جو کہ دس ہزار ہے، اداکرے گا، اسے نوکری سے مزید سہولت مل جائے گی اور پھر اسے صرف دو دن ہی آنا ہوگا۔ میرے بیٹے کو امتحانات کی تیاری بھی کرنی ہے تو کیا وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتا ہے کہ پیون رکھ کر اس کی تنخواہ ادا کرے اور بدلے میں نوکری کا ایک دن کم ہوجائے؟ وہاں چوں کہ مریض کم آتے ہیں اس لیے ان کا نقصان ہونے کا بھی اندیشہ نہیں۔ برائے مہربانی جلد رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل آیت اور روایت کی وضاحت فرما دیں۔ کیونکہ اس سے یہ شبہہ ہورہا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا سب سے کم درجہ ہے جب کہ دوسرے مقامات پر انفاق فی سبیل اللہ کا بہت اجر بتایا گیا ہے۔ يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِيْمٌ. (البقرة:215)
تفسیر ابن کثیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابوصالح کی روایت میں منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی یہ بہت عمر رسیدہ اور کثیر مال والے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! میں کیا چیز صدقہ کروں؟ اور کس چیز پر صدقہ کروں اس پر آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ہی سے عطاء کی روایت میں یہ منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جس نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا کہ اسے اپنی ذات پر خرچ کر اور اس نے کہا کہ میرے پاس دوسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھروالوں پر خرچ کر اس نے کہا میرے پاس تیسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے خادم پر خرچ کر ،اس نے کہا میرے پاس چوتھا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے والدین پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس پانچواں دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اپنے رشتہ داروں پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس چھٹا دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں خرچ کر اور یہ ان میں سے سب سے کم اجر کا باعث ہے۔ (تفسیر ابن کثیر 1 ۔ 251)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مسند احمد کے حوالے سے موصول درج ذیل واقعہ کی تحقیق فرمادیں کیا یہ صحیح ہے؟
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم ﷺ طواف فرما رہے تھے۔ ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر "یاکریم یاکریم" کی صدا تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کی طرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے یاکریمپڑھتے۔ اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے! اے حسین قد والے! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے ان کی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کروں گا۔ وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اس کا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔ عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اس کا حساب لوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لےگا؟ اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لےگا تو میں اس کی بخشش کا حساب لوں گا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اس کی بخشش؟ اگر اس نےمیری نافرمانیوں کا حساب لیا تو میں اس کی معافی کا حساب لوں گا۔ اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لوں گا۔
حضور اکرم سید عالم ﷺ یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تہلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اس کا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم ایک مکان میں ایک والدہ، دو بھائی اور ایک بہن رہتے ہیں، بڑے بھائی نے والد صاحب کے انتقال کے بعد میراث کا مطالبہ کیا اور میں نے علمائے کرام کے مشورے سے بڑے بھائی کو اس پلاٹ کا آدھا حصہ دے دیا اور اس کے بعد میں نے چاہا کہ اب جس آدھے حصے میں ہم رہتے ہیں اس میں بہن کا بھی حصہ ہے اور وہ شادی شدہ بھی ہیں وہ کہیں اور رہتی ہیں، میں نے چاہا کہ ان کو بھی میراث ادا کردوں تاکہ میں اس معاملہ سے بری الذمہ ہوجاؤں تو میں نے بہن سے کہا کہ آپ اپنا میراث لے لیں بہن نے کہا کہ بھائی جان مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں، وہ آپ رکھ لیں میری حالت بہتر ہے۔ والدہ اور میں اس مکان میں رہنے لگے اب 10 سال کے بعد بہن اس میراث کی مطالبہ کررہی ہیں۔ آیا میں ان کو میراث اس وقت کی قیمت میں ادا کروں یا اس دور کےمطابق؟ اس وقت گھر کی قیمت دولاکھ تھی اور اب اس کی قیمت پچاس لاکھ ہے۔ برائے کرم شریعت کی روشنی میں اس کا حل بتائیں۔ جزاکم اللہ خیراً