Oct
26
2020
درج ذیل آیت اور روایت کی وضاحت فرما دیں۔ کیونکہ اس سے یہ شبہہ ہورہا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا سب سے کم درجہ ہے جب کہ دوسرے مقامات پر انفاق فی سبیل اللہ کا بہت اجر بتایا گیا ہے۔ يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِيْمٌ. (البقرة:215)
تفسیر ابن کثیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابوصالح کی روایت میں منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی یہ بہت عمر رسیدہ اور کثیر مال والے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! میں کیا چیز صدقہ کروں؟ اور کس چیز پر صدقہ کروں اس پر آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ہی سے عطاء کی روایت میں یہ منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جس نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا کہ اسے اپنی ذات پر خرچ کر اور اس نے کہا کہ میرے پاس دوسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھروالوں پر خرچ کر اس نے کہا میرے پاس تیسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے خادم پر خرچ کر ،اس نے کہا میرے پاس چوتھا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے والدین پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس پانچواں دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اپنے رشتہ داروں پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس چھٹا دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں خرچ کر اور یہ ان میں سے سب سے کم اجر کا باعث ہے۔ (تفسیر ابن کثیر 1 ۔ 251)
الجواب باسم ملهم الصواب
مذکورہ روایت بعینہ ان الفاظ کے ساتھ تفسیر ابن کثیر میں نہیں ملی ہے۔
البتہ تفسیر نیشاپوری میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے: رجل أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن لي دينارا فقال: أنفقه على نفسك. فقال: إن لي دينارين. فقال: أنفقهما على أهلك. فقال: إن لي ثلاثة فقال: أنفقها على خادمك. فقال: إن لي أربعة قال: أنفقها على والديك. قال: إن لي خمسة قال: أنفقها على قرابتك. قال: إن لي ستة. قال: أنفقها في سبيل الله وهو أخسها أي أقلها ثوابا. (تفسير النيسابوري، غرائب القرآن ورغائب الفرقان، 1/ 592)
اس حدیث میں صدقہ کے درجات بیان فرمائے گئے ہیں، یہ درجہ بندی اس وقت ہے جب انسان کے پاس مال انتہائی قلیل ہو، تب سب سے افضل یہ کہ انسان اس مال کو اپنے اوپر ہی خرچ کرے، لیکن مال اپنی ضرورت سے زائد ہو تو اپنے گھر والوں پر، اس سے بھی زائد ہو تو اپنے خادموں، والدین اور پھر رشتہ داروں پر خرچ کرنا افضل ہے، اور اگر مال اس سے بھی زائد ہو تب اللہ کے راستے (یعنی فقراء و مساکین یا دیگر مصارف دینیہ) میں خرچ کرنے کی فضیلت ہے۔ کیونکہ ہر انسان پر اپنے نفس کے ساتھ ساتھ اپنی کفالت میں موجود لوگوں کا نفقہ بھی واجب ہے، انھیں چھوڑ کر اپنا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کر دینا یقینا سب سے کم درجے کا باعث ہوگا، حدیث میں یہی مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو مال داری کے ساتھ کیا جائے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچے کی ابتداء ان لوگوں سے کرو جن کا نفقہ تم پر لازم ہے۔‘‘ لہذا اس تشریح کی رو سے اس روایت میں کوئی اشکال نہیں رہا۔
في هذا الحديث فوائد منها الابتداء في النفقة بالمذكور على هذا الترتيب ومنها أن الحقوق والفضائل إذا تزاحمت قدم الأوكد فالأوكد ومنها أن الأفضل في صدقة التطوع أن ينوعها في جهات الخير ووجوه البر بحسب المصلحة ولا ينحصر في جهة بعينها. (شرح النووي على مسلم، 7/ 83)
حدثنا علي بن مسلم، حدثنا أبو عاصم، عن ابن عجلان، عن المقبري، عن أبي هريرة قال: قال رجل: يا رسول الله، عندي دينار؟ قال: "أنفقه على نفسك". قال: عندي آخر؟ قال: "أنفقه على أهلك". قال: عندي آخر؟ قال: "أنفقه على ولدك". قال: عندي آخر؟ قال: "فأنت أبصر". وقد رواه مسلم في صحيحه. وأخرج مسلم أيضا عن جابر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لرجل: "ابدأ بنفسك فتصدق عليها، فإن فضل شيء فلأهلك، فإن فضل شيء عن أهلك فلذي قرابتك، فإن فضل عن ذي قرابتك شيء فهكذا وهكذا". وعنده عن أبي هريرة، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى، واليد العليا خير من اليد السفلى، وابدأ بمن تعول". (تفسير ابن كثير ت سلامة، 1/ 580)
قلت: هي أنه صلى الله عليه وسلم إنما رد على المتصدق المذكور صدقته مع احتياجه إليها لأجل ضعف عقله، لأنه ليس من مقتضى العقل أن يكون الشخص محتاجا فيتصدق على غيره، فلذلك أمر في الحديث المذكور أن يتصدق على نفسه أولا، ثم: إن فضل من ذلك شيء فيتصدق به على أهله، فإن فضل شيء فيتصدق به على قرابته، فإن فضل شيء يتصدق به على من شاء من غير هؤلاء. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، 12/ 255)
الأول فيه دليل على أن الإنفاق على أهل الرجل أفضل من الإنفاق في سبيل الله ومن الإنفاق في الرقاب ومن التصدق على المساكين. وحديث جابر فيه دليل على أنه لا يجب على الرجل أن يؤثر زوجته وسائر قرابته بما يحتاج إليه في نفقة نفسه ثم إذا فضل عن حاجة نفسه شيء فعليه إنفاقه على زوجته وقد انعقد الإجماع على وجوب نفقة الزوجة، ثم إذا فضل عن ذلك شيء فعلى ذوي قرابته، ثم إذا فضل عن ذلك شيء فيستحب له التصدق بالفاضل، والمراد بقوله: " هكذا وهكذا " أي يمينا وشمالا كناية عن التصدق. (نيل الأوطار، 6/ 381)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4514