Menu

Fatawaa

سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کی ادائیگی میں فرق

Oct 24 2020
31
0
ذیل میں سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ کی ادائیگی میں جو فرق بیان کیا گیا ہے، اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ کیا یہ درست ہے؟
’’سنتِ مؤکدہ و غیرمؤکدہ کی ادائیگی میں فرق یہ ہے کہ اگر نمازی چار رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کر رہا ہے تو دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد پورا پڑھنے کے بعد اور درودِ ابراہیمی سے قبل کھڑا ہوجائے۔ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ ملاکر معمول کے مطابق قعدہ اخیرہ میں تشہد، درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔ جبکہ سنتِ غیر مؤکدہ کی ادائیگی کے دوران دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد کے بعد درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھے پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء اور تعوذ و تسمیہ پڑھے۔ بقیہ نماز مؤکدہ سنتوں کی طرح ادا کریں گے۔‘‘ 

مسئلہ زکوۃ

Oct 24 2020
0
0
میرے دادا نے انتقال سے قبل اپنی تمام جائداد اپنے ایک بیٹے کو تحفۃً دے دی اور وہ بیٹا ان کو نہ نہیں کہہ سکا، کیوں کہ وہ اپنے والد کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ وہ سب سے فرمانبراد بچہ تھا اور ان کی پوری زندگی ان کا خیال رکھا۔ لیکن اب فیملی کے دوسرے لوگ کہہ رہے کہ یہ غلط فیصلہ ہے اور اسے اس کو قانون کے مطابق تقسیم کرنا چاہیے۔ اب اس بیٹے کو کیا کرنا چاہیے؟ اور اگر وہ تقسیم نہیں کرے گا تو کیا یہ گناہ ہوگا؟ یا اس کے لیے درست ہے کہ تمام جائداد خود رکھ لے۔ 

بچے کی پیدائش پر مٹھائی کھلانا

عرض ہے کہ ایک طریقہ ہمارے معاشرے میں عام ہوا ہے کہ جب بھی کسی بچے کی پیدائش ہو تو تمام دوست احباب کی زبان میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ بھائی مٹھائی کہاں ہے۔ اگر یہ عمل بروئے کار نہ لائے تو ان کی نظر میں مذموم کہلاتا ہے اورلوگ عار محسوس کرتے ہيں کیا اس امر کو بجالانا ہم پر ضروری ہے، جبکہ اس میں بعض کے مالی حالات درست نہیں ہوتے۔ شریعت مطہرہ کا اس بابت کیا حکم ہے؟ 


مسئلہ زکوۃ

Oct 24 2020
1
0
میں نے دو سال پہلے عید الاضحی کے جانوروں کا کاروبار شروع کیا تھا، جو تا حال جاری ہے۔ اس کاروبار کےلیے میں نے اپنے ماموں سے انویسٹمنٹ لی تھی، ماموں شراکت دار نہیں ہیں، بس بطور قرض انہوں نے دےدیا تھا۔ لیکن اب وہ واپس نہیں لے رہے، ان کا کہنا ہے کہ جب ضرورت ہوگی تو میں لے لوں گا۔ ساتھ ساتھ میری ایک جاب بھی چل رہی ہےاور میں قرض واپس کرنے کے قابل بھی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ مجھ پر زکوۃ لازم ہوگی یا نہیں؟ 

حصول اولاد کے جدید طریقوں کی شرعی حیثیت

حصول اولاد کے جدید طریقوں کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔ آج کل یہ طریقے یورپ اور انڈیا میں بہت عام ہوچکے ہیں، پاکستان میں ابھی اس کا رجحان کم ہے، لیکن جس طرح نئی چیزیں بہت جلد اپنالی جاتی ہیں توخطرہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ عام نہ ہوجائے۔ حصول اولاد کے فطری طریقے کے علاوہ دو اور طریقے ہیں:
۱۔ ایک اسپرم بینک کا طریقہ ہے، اس میں یہ ہے کہ ایک مرد اپنا مادہ تولید اسپرم بینک کو ڈونیٹ کردیتا ہے اور اس میں اس کے ساتھ اس کی تفصیلات لکھی ہوتی ہیں کہ فلاں شخص کا ہے، فلاں علاقے کا ہے، رنگ ایسا ہےاور اس شخص میں یہ یہ خامیاں اور یہ یہ خوبیاں ہیں، وغیرہ۔ پھر کوئی خاتون آکر اپنی مرضی کا اسپرم لے کر اپنے رحم میں رکھوالیتی ہے اور پھر وہ حاملہ ہوجاتی ہے اور ڈیلیوری ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ حرام ہی لگتا ہے کہ غیر محرم کامادہ تولید اپنے رحم میں رکھوانا زنا کہلائے گا اور اولاد ولد الزنا کہلائے گی، اس بارے میں شرعی حکم بیان فرمادیں۔ 
۲۔ دوسرا طریقہ سیروگیسی مدر(Surrogacy Mother) کا ہے، جیسے کچھ خواتین ہوتی ہیں جن کے ہاں حمل ٹھہرتا نہیں ہے، یا اگر ٹھہرتا ہے تو گرجاتا ہے تو اس میں یہ کیا جاتا ہے کہ مرد کا مادہ تولید اور عورت کا ایک خاص حصہ لے کر ملاکر ایک خاص ماحول میں رکھا جاتا ہے، جب وہ حمل بڑھ جاتا ہے تو اس بچے کو دوبارہ ماں کے رحم میں لگادیا جاتا ہے، یہ ٹیسٹ ٹیوب بے بیز (Test Tube Babies) کہلاتے ہیں۔ سیروگیسی مدر میں یہ ہوتا ہے کہ مرد کے مادہ تولید اور عورت کے حصے کے ملاپ کے بعد وہ بچہ اسی عورت میں لگانے کے بجائے کسی اور عورت کے رحم میں لگادیا جاتا ہے اور وہ عورت اس کی سیروگیسی مدر کہلاتی ہے، پھر جب نو مہینے پورے ہونے کے بعد وہ بچے کو جنم دے دیتی ہے تو دوبارہ وہ اصل ماں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ اس کی اصل ماں کہلائے گی، وہ عورت سیروگینٹ ماں کہلائے گی اور بچہ سیروگینٹ بچہ کہلایا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ یہ میرے دوست کا یورپ سے سوال ہے اس نے بتایا کہ یورپ میں بہت زیادہ یہ طریقہ رائج ہے، اس سے فائدہ یہ ہے کہ وہ حمل اور بچہ جننے کی تکلیف سے بچ جاتی ہے اور بچہ بھی لوٹادیا جاتا ہے۔ جبکہ سیروگینٹ مدر کو اس کے بدلے دس ہزار ڈالر مل جاتے ہیں۔ اس کو یہی کہا کہ بظاہر تو حرام ہی لگتا ہے تو اس نے کہا کہ دائیاں جو دودھ پلاتی ہیں اس میں بھی تو کچھ نہ کچھ دوسری عورت کا حصہ مل جاتا ہے تو اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً

فاریکس ٹریڈنگ کا کاروبار

 ہم عرصہ ایک سال سے forex Expert Adviser Tradingکر رہے ہیں اور ہم جس بروکر کے ساتھ کام کررہے ہیں اس کا نام Bitkryptonہے۔ اس میں ہم Invistmentدیتے ہیں اور وہ اسے مختلف چیزوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ مثلاً Silver, Gold, Criud,Oilاور مختلف ممالک کی کرنسز میں ہماراپیسہ Distributeکردیتا ہے اور اس میں Tradکرکے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر نفع دیتا ہے۔ نفع کی جو شرح ہے وہ مکمل انویسٹمنٹ کا 0.50% دیتاہے۔ نفع ہفتہ میں 5 دن ملتا ہے ہفتہ اور اتوار مارکیٹ بند ہوتی ہے۔ بروز پیر سے جمعرات نفع کی شرح  Same. 0.50% ہوتی ہے اور جمعہ والے دن مارکیٹ بہت زیادہ Up اور Down ہوتی ہے۔ جمعہ والے دن نفع کی شرح0.50% سے بڑھ بھی سکتی ہے اور کم بھی ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ نفع کی شرح فکس نہیں ہے۔ بروکر کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوتا ہے وہ عرصہ 730دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ہمیں ماہانہ کی بنیاد پر نفع کی شرح 9% تا14تک دیتا ہے۔ بروکر جو کہ یہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد ہماری اصل انویسٹمنٹ کی رقم واپس نہیں کرتا ہے جبکہ صرف ہمیں نفع کی رقم وصول ہوتی ہے۔ کیا یہ کاروبار اسلام کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ہمیں ملنے والا منافع سود تو نہیں ہے؟

مکان کی فنیشنگ کے خرچے اور ملنے والے کرایہ میں کسی کو شریک کرنا

ہمارا ایک پورشن ہے جس کا اسٹرکچر بنا ہوا ہے، اس کی فنیشنگ پہ کوئی بارہ لاکھ کا خرچہ ہوگا۔ اگر ہم بارہ لاکھ کا کوئی انویسٹر ڈھونڈتے ہیں اور مکان تیار ہوجاتا ہےتو کرایہ پر دیتے ہیں، اس میں سے آدھا ہمارا اور آدھا انویسٹر کا ہوگا۔ اور اگر کرایہ دار مکان خالی کرتا ہے تو انویسٹر کو کرایہ نہیں ملے گا۔ اور جب نیا کرایہ دار آتا ہے تو مزید کچھ خرچہ کرنا پڑتا ہے، اس میں بھی ہم دونوں کا خرچہ برابر ہوتا ہے۔ کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے؟ اور کیا یہ سود تو نہیں؟ 

نجی ادارے کے جبر کی وجہ سے جمعہ ادارے میں پڑھنا

کورونا کی وبا کے بعد جبکہ حکومت کی جانب سے SOPs پر مکمل عمل درامد کے بعد مساجد میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے، الحمدللہ۔ مگر ہمارے ادارے جہاں میں نوکری کرتا ہوں ، وہاں پر تمام ملازمین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد جانے پر پابندی ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ آپ دفتر میں ہی جمعہ کی نماز پڑھ لیں یا پڑھا لیں۔ اگر آپ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد گئے تو نوکری سے برخاست کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں جبکہ حکومت کی جانب سے نرمی کی گئی مگر ایک نجی ادارہ اپنے ملازمین کے ایسا حکم نامہ جاری کرےتو ہم کیا کریں؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نماز جمعہ دفتر میں ہی ادا کرسکتے ہیں جبکہ دفتر میں موجود ایک ساتھی جو با شرع ہیں، نماز جمعہ کا خطبہ بھی وہ پڑھ سکتے ہیں اور باجماعت نماز اور خصوصاً نماز جمعہ کے مسائل کے بارے میں بھی جانتے ہیں؟