دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اس بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ پاکستان کے تقریباً ہر سرکاری ادارے مثلاً بجلی، گیس، انکم و سیلز ٹیکس، کسٹم، ہسپتال (ڈاکٹرز) ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ کے اکثر ملازمین الا ماشاءالله سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اسی ادارے سے وابستہ سائلین کے لئے ایجنٹ کا کام کرتے ہیں یا پھر شام کے اوقات میں اسی ادارے سے متعلق مسائل کے حل کےلیے خدمات دینے کےلیے اپنا دفتر بھی چلا رہے ہوتے ہیں اور ان خدمات کے عوض سائلین سے تھوڑی یا زیادہ رقم بھی وصول کرتے ہیں اور اپنے ادارے سے بھی مکمل تنخواہ حاصل کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق ملازمت میں رہتے ہوئے ادارے کا ملازم اپنی آمدنی بڑھانے کےلیے دوسرا کوئی کام نہیں کر سکتا تو پھر اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟ اگر ان کاموں سے حاصل رقم صحیح نہیں اور اب کوئی اپنی اصلاح کر لے تو اس کےلیے کیا ہدایات ہیں؟ گزارش ہے مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ایک اسکول میں ملازمت کرتی ہوں۔ میری بیٹی کی طبیعت خراب تھی اس لیے میرے شوہر نے مجھے اسکول جانے سے منع کیا تو مجھے ضد آگئی جس کے نتیجے میں نے اسے کہا کہ تم بھی اپنے دفتر سے چھٹی کرو تا کہ بیٹی کو ہسپتال لے جایا سکے۔ میں یہ بات مانتی ہوں کہ میں نے یہ بات غلط کی بہر حال شوہر کو غصہ آیا اور اس نے کہا کہ اگرتم کل سےاسکول گئیں تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے۔خیر،آج اسکول تو میں نہیں گئی، کل انہوں نے مجھے یہ بات کہی تھی۔اور میں نے اسکول چھوڑبھی دیا۔ مجھے پوچھنا یہ ہے کہ انہوں یہ کہا کہ اگر اسکول گئیں تو میری طرف سے طلاق ہے۔ میں تو اسکول نہیں گئی اور یہ دن بھی گزر گیا۔انہوں نے ہمیشہ اسکول نہ جانے کو کہا؟ یا اسی اسکول جانے سے منع کیا یا کو ئی بھی اسکول جانے سے منع کیا یعنی کیا اب میں کسی بھی اسکول میں قدم رکھوں گی تو مجھے طلاق ہو جائے گی، یا صرف اسی اسکول کے لیے کہا گیا ہے ؟ یا اس ایک دن کے لیےکہا گیا ہے یاہمیشہ کے لیے کہا گیا ہے؟اس لیے کہ میرے بیٹے کا تو ایڈمیشن بھی اسی اسکول میں ہوا ہے۔
اگلے دن میرے شوہر بیٹے سے بات کر رہے تھے، اس سے پوچھا کہ مما کہاں ہیں؟ پھر فون پر مجھ سے بات کی اور پوچھا کہ اسکول گئیں تھیں؟ میں نے کہا کہ نہیں۔تو کہنے لگے کہ میں نےاپنے الفاظ واپس لے لیے ۔میں نے کہا کہ یہ واپس ایسے تو نہیں ہو سکتے ، یہ قسم تو نہیں ہے۔بہر حال میں نے کہا کہ میں اسکول چھوڑ چکی ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسکول چھوڑنے کو نہیں کہا تھا صرف چھٹی کا کہا تھا ۔ میں نے کہا کہ تم نے تو فقط اسکول کا کہا تھا اور تم نے کو ئی خاص اسکول کو متعین نہیں کیا تھا بلکہ بس یہ کہا تھا کہ اسکول گئیں تو طلاق ۔ اور مجھے تو آگے بچوں کے سلسلے میں کہیں نا کہیں اسکول تو جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری سوچ ہے میرے ذہن میں ایسا کچھ نہیں تھا، میرے ذہن میں بس چھٹی تھی وہ بھی بیٹی کی وجہ سے۔اور آئندہ بھی اگر میرے بچوں کی طبیعت خراب ہو تی تو بھی میں تمہیں چھٹی کرواتا۔انہوں نے کہا کہ میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا بس تمہیں ڈراتا ہوں اور تم بس ایسے ہی خاموش ہو تی ہو۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے دوست کی پھوپھو کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے نہ والدین زندہ ہیں اور نہ اولاد۔ پھوپھو کو ملاکر کل تین بہنیں اور دو بھائی تھے، جن میں سے ایک بہن زندہ ہے باقی سب کا انتقال ہوچکا ہے، ایک بہن جس کا انتقال ہوگیا ہے اس کے تین بچے ہیں اور ایک بھائی کی ایک اولاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کل اثاثے کی حق دار بہن ہوگی یا باقی مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد میں بھی تقسیم ہوگی؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میری بیوی اپنے بھائی کے گھر ملنے کےلیے ٹیکسلا گئی، جب وہاں پہنچی تو اس نے مجھ سے مطالبہ کیاکہ اگر تو میانوالی یا قمرشانی جگہ لے تومیں آؤں گی ، اگر جلال پور میں لےگا تو میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اگر تجھے منانے میں یا میری ماں یا میرا بھائی یا کوئی بھی میری طرف سے تیری ماں یا تیرے بھائی یا بہن کے پاس گئے تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہوگی، میں حلفًا کہتا ہوں کہ میں نے یہ الفاظ صرف ایک مرتبہ کہے ہیں۔ اس واقعہ سے قبل بھی میں ایک طلاق دے چکا ہوں۔طلاق کو ان الفاظ (میری طرف سے طلاق ہوگی) کے ساتھ معلق کرنے سے طلاق ہوگی یا دھمکی طلاق ہے؟ اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہتاہوں اور بلڈنگ کی مینٹینس کمیٹی کا حصّہ ہوں۔ بلڈنگ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے ہمیں فنڈز درکار ہوتے ہیں، جو کہ رہائشی کمیٹی کے لیے طے شدہ ضابطے کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ بروقت فنڈز کی وصولی کے لیے کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایسے رہائشی جو بروقت رقم ادا نہیں کرتے یا نہیں کرپاتے ان سے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ جرمانہ کی رقم بلڈنگ ہی کی انتظامی معاملات میں خرچ ہو تی ہے،کسی تنخواہ کی مد میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جرمانہ لینا درست ہے؟ اگر جرمانہ عائد نہ کیا جائےتو رہائشی وقت پر ادائیگی نہیں کرتے جس کی وجہ سے شدید مالی بحران کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
شریعت میں سزائے موت کی کوئی معین صورت یعنی سر قلم کرنا یا پھانسی وغیرہ مقرر ہے یا قاضی کو موت کا طریقہ طے کرنے کا اختیار ہے یا انتظامیہ کو۔ نیز گولی سے مارنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
یہ جو فصل میں عشر ادا کرنا ہوتا ہے جیسے کپاس کی فصل ہے ایک لاکھ روپے پہ بکی ہے تو کیا اس پر عشر آئے گا یا اس پیدار پر جو مجھے ستر ہزار روپے خرچ کرنا پڑا اور تیس ہزار کا منافع ہوا، اس منافع پر عشر لازم آئے گا؟ اور اگر مجھے اس میں نقصان ہوتا ہے مثلا ایک لاکھ کی پیداوار پر ایک لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنا پڑا تو کیا اس صورت میں بھی عشر ادا کرنا لازم ہو گا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱: تقریبات میں ملنے والے لفافوں کے حوالے سے شریعت کیا کہتی ہے اسے کون استعمال کرسکتاہے جبکہ عام طور پر یہ نہیں بتایا جاتاکہ یہ کس کےلیے دیے گئے ہیں جیسا کہ شادی کے موقع پر پیسے دیے جاتے ہیں اور ان پیسوں کو شادی پر ہی خرچ کیا جا تا ہے؟
سوال نمبر۲: بچوں کو ملنے والی عیدی اور پیدائش کے موقع پربچوں کو ملنے والے پیسے کیا والدین اپنے ذاتی کاموں میں لگاسکتے ہیں یا ان پیسوں کو بچوں پر ہی خرچ کیا جائے گا اور کیا ان پیسوں کو صدقہ کیا جاسکتا ہے؟
سوال نمبر۳: نکاح کے موقع پر لڑکی کو ملنے والے پیسے اگر لڑکی کی والدہ کودےدیے جائیں تو کیا والدہ ان پیسوں کو استعمال کرسکتی ہےجبکہ لڑکی والوں سے وہ پیسے مانگے نہ گئے ہوں اور جبکہ نہ لڑکی اور نہ لڑکی کی والدہ ان کا مطالبہ کررہی ہوں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سعودیہ میں ایک خاتون نے جماعت کے ساتھ کئی نمازیں ادا کی ہیں، بعض اوقات وہ مسبوق بھی ہوجاتی تھیں تو فوت شدہ رکعات کو پہلی دوسری رکعت کی طرح پڑھنے کی بجائے آخری یعنی تیسری اور چوتھی رکعت کے انداز میں پڑھتی تھیں. یعنی اس میں ثنا اور سورت نہیں ملاتی تھیں بلکہ صرف سورۃ الفاتحہ پڑھتی تھیں. بعد ازاں انہیں یہ مسئلہ معلوم ہوا تو اب ان نمازوں کا کیا حکم ہے؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل حدیث کی تخریج مطلوب ہے:
’’القرآن والسلطان توأمان لا يفترقان فالقران أُس والسلطان حارس فمن لا أُس له فمُنهدم ومن لا حارس له فضائع‘‘.