Menu

Fatawaa

’’اولوا الامر‘‘ کی تفسیر

 سورۃ النساء  آیت نمبر۵۹ کے ذیل میں یہ واضح فرمائیے کہ کیا ’’اولوا الامر‘‘ سے مراد حکمران وقت ہیں؟ مزید یہ کہ اختلاف کی صورت میں جو معاملے کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانے کو کہا گیا ہے تو کیا یہ اختلاف مسلمانوں کا حکمران وقت سے ہے یا مسلمانوں کے درمیان کسی فقہی مسئلے میں اختلاف مراد ہے؟یہ بھی واضح کیجیے کہ اس آیت سے حکمران وقت کے خلاف بغاوت کی کیا صورت ہوسکتی ہے اس پر بھی روشنی ڈالیے، برائے مہربانی اگر تفصیلی جواب ابھی ممکن نہ ہو تو اس حوالے سے مطالعہ کرنے لیے کسی مفصل کتاب کا نام بتادیجیے۔


رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب چالیس اقوال کی صحت

May 12 2020
23
0
ایک پوسٹ موصول ہوئی جس میں چالیس اقوال رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرکے نقل کیے گئے ہیں، ان کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہیں؟
1۔ فجر اور اشراق ، عصر اور مغرب اور مغرب اور عشاء کے دوران سونے سے باز رہا کرو۔
2۔ بد بودار اور گندے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔
3۔ ان لوگوں کے درمیان نہ سوئیں جو سونے سے قبل باتیں کرتے ہیں۔
4۔ تم بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔
5۔ منہ سے کھانا نکال کر نہ کھاؤ۔
6۔ اپنے کھانے پر اداس نہ ہوا کرو یہ عادت ہمارے اندر ناشکری پیدا کرتی ہے۔
7۔ گرم کھانے کو پھونک سے ٹھنڈا نہ کرو۔
8۔ اندھیرے میں مت کھاؤ۔
9۔ کھانے کو سونگھا نہ کرو، کھانے کو سونگھنا بد تہذیبی ہوتی ہے۔
10۔ منہ بھر کے نہ کھاؤ کیونکہ اس سے معدہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
11۔ ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالا کرو۔
12۔ جوتے پہنے سے قبل اسے جھاڑ لیا کرو۔
13۔ نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو۔
14۔ رفع حاجت کی جگہ ( ٹوائلٹ ) میں مت تھوکو۔
15۔ لکڑی کے کوئلے سے دانت صاف نہ کرو۔
16۔ اپنے دانتوں سے سخت چیز مت توڑا کرو۔
17۔ ہمیشہ بیٹھ کر کپڑے تبدیل کرو۔
18۔ دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو۔
19۔ بیت الخلاء میں باتیں نہ کیا کرو۔
20۔ دوست کو دشمن نہ بناؤ۔
21۔ دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصے بیان نہ کیا کرو۔
22۔ ٹھہر کر صاف بولا کرو تاکہ بات دوسرے پوری طرح سمجھ جائیں۔
23۔ چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑکر نہ دیکھو۔
24۔ ایڑھیاں مار کر نہ چلا کرو۔
25۔ ایڑھیاں مار کر چلنا تکبر کی نشانیوں میں سے ہے۔
26۔ کسی کے بارے میں جھوٹ نہ بولو۔
27۔ شیخی نہ بگھارو۔
28۔ اکیلے سفر نہ کیا کرو۔
29۔ اچھے کاموں میں دوسروں سے مدد کیا کرو۔
30۔ فیصلے سے پہلے مشورہ ضرور کیا کرو۔ اور مشورہ ہمیشہ سمجھدار کی بجائے تجربہ کار شخص سے کرنا چاہیے۔
31۔ کبھی غرور نہ کرو۔ غرور ایک ایسی بُری عادت ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔
32۔ گداگروں کا پیچھانہ کرو۔
33۔ غربت میں صبر کیا کرو۔
34۔ مہمان کی کھلے دل سے خدمت کرو یہ عادت ہماری شخصیت میں کشش پیدا کردیتی ہے۔
35۔ برا کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرو۔
36۔ اللہ پاک نے جو دیا ہے اس پر خوش رہو۔
37۔ زیادہ نہ سویا کرو۔ زیادہ نیند یاداشت کو کمزور کردیتی ہے۔
38۔ اقامت اور اذان کے درمیان گفتگو نہ کرو۔
39۔ اپنی خامیوں پر غور کیا کرو اور توبہ کیا کرو۔
40۔ روزانہ کم از کم سوبار استغفار کیا کرو۔

والدین کی نافرمانی سے متعلق حدیث قدسی کی تحقیق

May 12 2020
161
0
درج ذیل حدیث ایک خاتون ٹی وی پر بیان کررہی تھیں، خاتون اہل تشیع میں سے معلوم ہوتی ہیں، مزید ان کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ یہ حدیث قدسی تمام مکاتب فکر اسلامی کے نزدیک متفق ہے۔
وعزتي وجلالي وارتفاع مكاني وعلو مقامي ان العاق بوالديه لو يعمل باعمال الانبياء جميعا...
’’مجھے میری عزت، جلالت، جبروت، بادشاہی و اقتدار کی قسم کہ جو شخص اپنے ماں باپ کو ناراض کردے اور وہ بغیر توبہ کیے اور ماں باپ کو راضی کیے  مرجائے وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی نیکیاں اپنے دامن میں لے آئے، پھر بھی میں اس کے کسی عمل کو قبول کرنے والا نہیں‘‘۔


مسلسل گناه كبيره كا ارتكاب

بعض مقررین یہ بیان کرتے ہیں کہ جانتے بوجھتے کسی ایک کبیرہ گناہ کے مسلسل ارتکاب سے کوئی مسلمان خلود فی النار کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کے لیے وہ سورۃ البقرہ کی آیت «بلی من کسب... » کا حوالہ دیتے ہیں ازراہ کرم مذکورہ آیت کی تفسیر کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں شرعی راہ نمائی فرمائیں ۔


تارک فرض کی دیگر عبادات کا حکم

 بعض لوگ یہ نظریہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ ایک فرض کا مستقل تارک ہے تو اس صورت میں اس کی دوسری عبادات و فرائض کی ادائیگی اکارت جائے گی بلکہ اس کے منہ پہ دے ماری جائے گی اور اللہ کے ہاں سے اسے اجر نہیں ملے گا۔ البتہ اس نظریے کے اثبات کے لیے عمومًا ایک روایت اس انداز میں بیان کی جاتی ہے:
’’رسول اللہ ﷺنےفرمایا: اللہ تعالیٰ نےجبرئیل کو حکم دیا کہ فلاں بستیوں کواُن کے رہنےوالوں سمیت اُلٹ دو! حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس پرحضرت جبرئیل ؑنےعرض کیا: اےمیرےربّ !ان میں توتیرافلاں بندہ بھی ہےجس نےچشم زدن کی مدت تک بھی تیری معصیت میں بسرنہیں کی! آنحضورﷺنے فرمایا کہ اس پراللہ تعالیٰ نےفرمایا کہ اُلٹ دو انہیں پہلے اس پر پھر دوسروں پر، اس لیےکہ اس کےچہرےکی رنگت کبھی میری (غیرت اورحمیت کی )وجہ سےمتغیرنہیں ہوئی۔غورکیجیےکہ اس بندہ عابدکی عبادت گزاری کی شہادت کون دےرہےہیں اورکیادےرہےہیں ؟گواہی دےرہےہیں حضرت جبرئیل امین ؑکوئی کرائے کا وکیل نہیں۔وہاں دےرہےہیں جہاں ابوجہل بھی جھوٹ نہیں بول سکےگا،اورگواہی یہ دی جارہی ہےکہ اس بندۂ عابد نے آنکھ جھپکنے کی مدت بھی اللہ تعالیٰ کی معصیت میں بسرنہیں کی ۔یہاں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ایک شخص کی ذاتی عبادت اورنیکی کا یہ عالم ہے۔لیکن بارگاہِ خداوندی سےحکم یہ صادرہواکہ ’’اُلٹوپہلےاس پرپھردوسروں پر‘‘۔کیوں ؟چہرےکارنگ میری (غیرت وحمیت )کی وجہ سےکبھی متغیرنہیں ہوا۔یہ لیےکہ اس بےغیرت اوربےحمیت انسان اسی سزاکامستحق ہےکہ عذاب پہلےاس پرنازل ہوپھردوسروں پر۔حمیت وغیرت دین دراصل ایمان باللہ کااہم ترین تقاضاہے۔اس حمیت و غیرتِ حق کےبغیرنہ ولایت کی کوئی ادنیٰ سی نسبت ہےنہ کوئی انفرادی عبادت، کوئی زہداورکوئی ریاضت اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ہے۔تواصی بالحق امربالمعروف نہی عن المنکر، دعوت الی اللہ، اعلائےکلمہ اللہ کی سعی وجہداسی غیرتِ حق اورحمیت دینی کےعملی مظاہرہیں ۔یہ دین کی پشت پناہی اورنصرت ہے۔ان چیزوں سےاگرزندگی خالی ہےاورانفرادی زہدوعبادت اوروظائف واَ ورادہیں توولایت کی نسبت کاکوئی سوال نہیں ۔ان تمام ریاضتوں کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرکاہ کےبرابربھی نہ وقعت ہےاورنہ وزن ہے۔کسی کی والدہ کی شان میں کوئی شخص کوئی گستاخانہ بات کہہ بیٹھےتواس کے پورےجسم کاخون چہرے پر جمع ہوجائےگا، وہ مرنے مارنے پرتل جائےگا۔لیکن اللہ اوراس کےرسول ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی رہے،اس کےدین کامذاق اڑتارہےاورکوئی اپنی نفلی عبادت وریاضت میں مگن رہےتواسےولایت سےکیانسبت ہوسکتی ہے؟یہ توابلیس کامشن ہےجسےعلامہ اقبال نےان الفاظ میں بیان کیاہے:
مست رکھوذکروفگرصبح گاہی میں اسے
پختہ ترکردومزاجِ خانقاہی میں اسے!
چنانچہ ولایت کاحقیقی مفہوم ہےغیرتِ حق ‘حمیت دینی ‘دین کی پشت پناہی ‘اس کی کےغلبہ واقامت کےلیےجہاد و قتال۔ اگر ولی کایہ تصورآپ نےجان لیاتواس نصرت ‘اس کامنطقی نتیجہ بھی سمجھ میں آجائےگاکہ :’’جس نےمیرےکسی ولی سےعداوت رکھی اُس کےخلاف ہیں ااعلانِ جنگ ہے!‘‘جوشخص ولی ہےہمہ تن میرےدین کاحمایتی بناہواہےاُسےمیں چھوڑدوں ‘یہ کیسے ممکن ہے! جو اللہ کاولی ہے اللہ بھی تو اس کا ولی ہے۔پس فرمایا کہ جس شخص نےمیرےولی کےساتھ دشمنی رکھی تواس کے بارے میں فرمایا گیا۔ ’’خلاف میں اعلانِ جنگ کرچکاہوں۔‘‘  برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ:
1۔ کسی ایک فرض عین کے تارک کی دوسری عبادات مقبول ہیں یا نہیں مثلا کیا زکٰوۃ نہ دینے والے کی نماز قبول ہو گی یا نہیں؟
2۔  فرض کفایہ جیسے دعوت وتبلیغ، جہاد فی سبیل اللہ کے تارک کے دوسرے معمولات اور عبادات قبول کی جائیں گی یا وہ مردود ہیں؟

جرمانے اور بیعانے کا حکم

مندرجہ ذیل مسئلے میں رہنمائی فرمائیں:
۱۔ ایک کمپنی کے پچاس فیصد شیئرز زید کے پاس ہیں اور پچاس فیصد بکر کے پاس ہیں،  دونوں میں یہ طے پایا  کہ کمپنی  میں شرکت کا معاملہ ختم کرتے ہوئے کوئی بھی ایک پارٹی کمپنی کی مکمل ملکیت حاصل کر لے اور اس کے لیے ضابطہ یہ مقرر کر دیا گیا کہ کمپنی کی ملکیت کا حقدار صرف وہی ہوگا جو شیئرز کی زیادہ سے زیادہ بولی دے گا ، جس کے اصول وضوابط بھی طے کرلیے گئے۔ اب زید فی شیئر سو روپے کی بولی دے کر جیت جاتا ہے جس کے بعد اس کے پاس ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ 
۲۔لیکن  کسی وجہ سے زید اس خریداری سے دستبردار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہ ڈیل نہیں اٹھاسکتا تو جرمانے یا کسی بھی طور پر بکر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ زید کے پاس موجود حصص دس فیصد کم رقم مثلا نوے روپے میں خرید لے اور اسے بھی اس رقم کی ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دس فیصد کم کرنا شرعاً جائز ہے؟
۳۔ اب اگر بکر کہتا ہے کہ میرے پاس بھی رقم نہیں ہے اور میں یہ نہیں اٹھاسکتا تو سوال  یہ ہے کہ آغاز میں بولی جیتنے والی پارٹی زید نے جو دس فیصد بیعانہ دیا تھا جس پر وہ سو روپے میں خریدنے کا حقدار ہو گیا تھا تو کیا بکر اس بیعانے کو لوٹانے کا ذمہ دار ہے یا پھر بکر کے لیے یہ بیعانے کی رقم خود رکھ لینا بھی جائز ہے؟برائے مہربانی اس معاہدے کی تفصیلات کے متعلق شرعی حکم ذکر کر دیں۔


میت کو خواب میں دیکھنا

May 09 2020
1
0
میت کو خواب میں دیکھنا کہ اسے بہت ٹھنڈ لگ رہی اور وہ سکڑ کر لیٹا ہے، اسی طرح اسی بندے کو دیکھنا کہ وہ بیمار ہے اور بینچ پر لیٹا ہے تو اس خواب کی تعبیر بتادیں اور اگر برا خواب ہے تو کیا صدقہ کریں؟ایک ہی شخص کو دو لوگوں نے ان دو حالتوں میں دیکھا ہے۔


کھانے پینے کی چیزوں پر دم کرنا

کھانے پینے کی چیزوں پر کچھ پڑھ کر کھانا پینا کیا جائز ہے؟ ایسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ یا اسی طرح کچھ اور آیات پڑھ کر پھونک دی جائیں تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟