Menu

Fatawaa

دودھ میں امت کی ہلاکت کا سبب

May 14 2020
15
0
سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میں اپنی امت پر دو چیزوں کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن مجید اور دودھ۔ لوگ ہریالی، سبزہ تلاش کریں گے، خواہشات کی پیروی کریں گے، نمازیں چھوڑ دیں گے اور قرآن مجید منافق قسم کے لوگ سیکھیں گے اور اس کو ذریعہ بنا کر ایمانداروں سے جھگڑیں گے۔  
- دودھ ؟ اسکے تین مختلف معنی ہو سکتے ہیں۔ ١. دودھ سے مراد صرف دودھ ہی لیا جائے۔ یا ٢. اسکی تمام مصنوعات یا ٣. دودھ کو بطور مثال ذکر کیا گیا۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ لوگ ماکولات اور مشروبات کے پیچھے پڑ جائیں گے۔  اگر دودھ سے دودھ ہی مراد لیا جائے، تو ممکن ہے کہ ماضی میں ایسے لوگ رہے ہوں جنہوں نے دودھ کیوجہ سے مساجد سے بیزاری کا اظہار کیا ہو یا پھر مستقبل میں ایسے لوگوں کا وجود پایا جائے گا۔اگر عصر حاضر کے کرداروں پر نگاہ ڈالی جائے تو تیسرا معنی زیادہ مناسب معلوم ہو رہا ہے، کیونکہ لوگ ہوٹلوں، بالخصوص آبادی سے دور طعام گاہوں، آئس کریم مرکزوں اور کھیر گاہوں غرضیکہ زبان کے چسکوں اور دولت کی نمائش میں پڑ کر نماز اور جمعہ سے غافل ہو کر رہ گئے ہیں، ہر ایک مالدار کو بڑے بڑے ہوٹلوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کا علم ہے، جس کا وہ لحاظ بھی کرتا ہے، لیکن وہ جاہل ہو گا تو پانچ نمازوں کے اوقات سے، خطبہ جمعہ کی ابتدا کے وقت سے اور ان گھڑیوں کے تقاضے پورے کرنے سے۔ مساجد کے قریب واقع ہوٹلوں میں دودھ سوڈے کے بہانے آدھی آدھی رات تک بیٹھے رہیں گے، لیکن نماز عشاء پڑھنے کی توفیق نہیں ہو گی۔ - سبزہ تلاش کریں گے یعنی جنگلوں کیطرف نکل جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چراگاہوں میں جا کر دودھ تلاش کیا جائے۔
 سوال یہ ہے کہ روایت میں موجود  دودھ سے مراد کیا ہے؟

دو طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا تعلق

میں شیعہ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، آج سے دس بارہ سال پہلے میری شادی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے شخص سے ہوگئی، نکاح کے وقت میرے والدین نے یہ شرط رکھی کہ نکاح اہل تشیع کے مطابق ہوگا، میرے سسرال والوں نے یہ بات مان لی، پچھلے سال میرے شوہر نے ایک اسٹامپ پیپر پہ لکھی ہوئی طلاق دی جس پر گواہوں کے دستخط بھی تھے اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی اس پر لگی ہوئی تھی، یہ پچھلے سال فروری میں انہوں نے یونین کونسل کے بجائے خود میرے والدین تک پہنچائی، والدین نے سمجھایا اور صلح کرادی، مگر اس نے خاندان میں یہ بات مشہور کردی کہ یہ میری بیوی نہیں ہے، میں نے اسے طلاق دےدی ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا بیڈ روم اس شخص سے الگ کرلیا، اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان میاں بیوی والا تعلق نہیں رہا، پھر اسی سال جون میں اس نے مجھے طلاق دی، اسٹامپ پیپر تھا جس پر گواہوں کے دستخط اور میرے شوہرکے دستخط اور اس کا شناختی کارڈ نمبر وغیرہ سب درج تھا اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی لی ہوئی تھی۔ یہ طلاق نامہ بھی یونین کونسل کے بجائے اس نے خود آکر میری والدہ کو دی۔ دوسری طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے پاس آگئی اور میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اب اس بات کو چھ سات ماہ ہوچکے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ آپ آپس میں صلح کرلیں، آپ مجھے یہ بتائیں کہ ہم دونوں کا اب کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ 
میں نے اپنا معاملہ ایک شیعہ عالم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ مرد سنی ہے ، اس نے طلاق بھی اہل سنت والجماعت کے مطابق دینی ہے اس لیے آپ اہل سنت والجماعت کے کسی عالم، مفتی سے مسئلہ پوچھیں۔ اس کے بعد میں نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ کیا اور وکیل سے رابطہ کیا، وکیل نے نوٹری پبلک والوں سے ریکارڈ نکالنے کا کہا مگر ان کے پاس یہ طلاق رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئی تھی، تو وکیل نے مجھے کہا کہ شریعت پاکستان کے قانون سے بلند ہے اس لیے آپ کسی مفتی سے رابطہ کریں، پاکستانی قانون کے مطابق تو طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس نے یونین کونسل کے تھرو یہ طلاق نہیں بھجوائی اور نوٹری پبلک والوں سے بھی اس نے رجسٹرڈ نہیں کرائی۔ 
اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا میرایہ مسئلہ کوئی اہل سنت والجماعت کا عالم حل کرے گا یا اہل تشیع کا عالم؟ اور دوسرا مجھے یہ بتائیں کہ دو طلاقوں کے بعد ہمارا کوئی تعلق اور کوئی رشتہ ہے یا نہیں؟ 

سود کا مسئلہ

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے سونار کے ساتھ بکنگ کی جس وقت سونے کی پرائز کم تھی اور کچھ پیسے بھی ادا کیے اور ساتھ یہ بھی طے ہواگیا کہ میں اسے قسطوں پہ ادا کروں گا اور پرائز پرانی ہی لگے گی، میں سال سے ڈیڑھ سال کے دوران اس کو پیسے ادا کرکے جو پرائز طے ہوئی تھی اس وقت کی وہ دوں گا۔ کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ 


سونے سے قبل پانچ اعمال کی فضیلت والی روایت کی صحت

May 14 2020
274
0
درج ذیل روایت بہت مشہور ہے، اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ روایت صحیح ہے؟ 
 حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی رات کو روزانہ پانچ کام کر کے سویا کرو: 
۱۔چار ہزار دینار صدقہ دے کر سویا کرو۔
۲۔ایک قرآن شریف پڑھ کر سویا کرو۔
۳۔جنت کی قیمت دے کر سویا کرو۔
۴۔دو لڑنے والوں میں صلح کراکر سویا کرو۔
۵۔ایک حج کر کے سویا کرو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کام کیسے ممکن ہے؟حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھنے کا ثواب چار ہزار دینار صدقہ دینے کے برابر ہے۔ تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے کا ثواب ایک بار قرآن شریف پڑھنے کے برابر ہے۔ دس مرتبہ درود شریف پڑھنے سے جنت کی قیمت ادا ہوگی۔ دس مرتبہ استغفار پڑھنے کا ثواب دو لڑنے والوں میں صلح کرانے کے برابر ہے۔ چار مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھنے سے ایک حج کا ثواب ملے گا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ! اب میں روز یہی عملیات کر کے سویا کروں گا۔

مسلم اور غیر مسلم کے مشترکہ چندے سے مسجد کے اخراجات کی ادائیگی

ایک بلڈنگ ہے جس میں مسلم اور بہت سے غیر مسلم ہندو، کرسچن، شیعہ، آغانی وغیرہ رہتے ہیں، اس بلڈنگ کے نیچے مسلمانوں نے مسجد بنائی ہوئی ہے، اپارٹمنٹ انتظامیہ مسجد کے انتظامی اخراجات کے لیے تمام لوگوں (مسلمانوں اور غیر مسلموں) سے چندہ جمع کرتی ہے اور پھر سب کے مشترکہ جمع شدہ چندے سے مسجد کے اخراجات اور امام کی تنخواہ وغیرہ کی ادائیگی کرتی ہے۔ کیا اس طرح کرنا درست ہے؟ مفصل مدلل جواب عنایت فرمائیے۔


سورۃ القلم کی تفسیر میں مذکور روایت کی تحقیق

سورة القلم كي پهلي آيت هے:  «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ»  اس كي تفسير ميں کہا گیا ہے کہ یہاں «ن» سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں "ن" سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم
تفسیر الطبری ج ٢٣ ص ٥٢٤ میں ہے: حدثنا واصل بن عبد الأعلى، قال: ثنا محمد بن فُضَيل، عن الأعمش، عن أبي ظبيان، عن ابن عباس قال: أوّل ما خلق الله من شيء القلم، فقال له: اكتب، فقال: وما أكتب؟ قال: اكتب القدر، قال فجرى القلم بما هو كائن من ذلك إلى قيام الساعة، ثم رفع بخار الماء ففتق منه السموات، ثم خلق النون فدُحيت الأرض على ظهره، فاضطرب النون، فمادت الأرض، فأُثبتت بالجبال فإنها لتفخر على الأرض(تفسير الطبري) ترجمہ:’’ أبي ظبيان ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں سب سے پہلی چیز جو الله نے خلق کی وہ قلم ہے پس اس کو حکم دیا لکھ – قلم نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ پس قلم لکھنا شروع ہوا جو بھی ہو گا قیامت تک ، پھر اس کی سیاہی کے بخارات آڑ گئے جس سے آسمان بن گئے پھر النون کو تخلیق کیا جس پر زمین کو پھیلا دیا پھر النون پھڑکی جس سے زمین ڈگمگائی پس پہاڑ جما دیے‘‘۔
سوره القلم کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتے ہیں: وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ يُقَالُ النُّونُ الْحُوتُ الْعَظِيمُ الذي تحت الأرض السابعة، وقد ذكر الْبَغَوِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ إِنَّ عَلَى ظَهْرِ هذا الحوت صخرة سمكها كغلظ السموات وَالْأَرْضِ، وَعَلَى ظَهْرِهَا ثَوْرٌ لَهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ قَرْنٍ وَعَلَى مَتْنِهِ الْأَرَضُونَ السَّبْعُ وَمَا فِيهِنَّ وما بينهن، والله أَعْلَمُ.(ابن کثیر) ترجمہ:’’ اور ابن أَبِي نَجِيحٍ نے کہا کہ ان کو ابراہیم بن بکر نے خبر دی کہ مجاہد نے کہا وہ (لوگ) کہا کرتے النون ایک عظیم مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے اور البغوی نے ذکر کیا اور مفسرین کی ایک جماعت نے کہ اس مچھلی کے پیچھے چٹان ہے جیسے زمین و آسمان ہیں اور اس کے پیچھے بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں‘‘۔
سوال يه هے كه كيا مچھلی والی بات درست اور حدیث سے ثابت ہے؟

بھائیوں کے مشترکہ گھر سے ایک کمرہ بطور مہر کے دینا

 ہم چار بھائی ہیں، بڑے سے چھوٹے بھائی کی ابھی شادی ہوئی، جس میں ایک کمرہ اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے مہر طے پایا، ہمارا تین کمروں کا ایک مکان ہے، میں سب سے چھوٹا بھائی ہوں اور والدین اگر میرے ساتھ رہتے ہیں تو وہ گھر میرا ہی ہوگا، باقی تین بھائیوں کو شادی کے بعد علیحدہ علیحدہ مکان بنانے ہوں گے، اب اگر بھابھی اپنے کمرے کا مطالبہ کریں جو ان کے حق مہر میں طے ہوا تھا تو میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ ان تین کمروں میں سے ایک کمرہ انہیں دینا پڑے گا یا متبادل کوئی کمرہ بناکے دینا پڑےگایا پیسے دینے پڑیں گے یا یہ کہ یہ میری ذمہ داری نہیں ہے، ان کے شوہر کی ذمہ داری ہے؟ اس حوالے سے مجھے رہنمائی درکار ہے۔


صدقہ سے متعلق حدیث کی تصدیق

درج ذیل حدیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ ٹھیک ہے ؟
’’صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا : اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا ، لیکن آج تو آج میں نہیں لوں گا۔‘‘

چند روایات کی تحقیق

May 13 2020
13
0
ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے جس میں درج ذیل روایات بیان کی گئی ہیں ان کی ا ستنادی حیثیت کیا ہے؟
۱۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ، حضرت فاطمہ روٹی بنارہی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم تو ہرروز روٹی بناتی ہو آج میں روٹی بناتا ہوں، چنانچہ آپ نے بنانی شروع کی مگر روٹی نہیں بن رہی تھی ، آپ نے روٹی سے اس کی وجہ پوچھی تو روٹی نے کہا کہ مجھے آپ نے چھولیا ہے اب مجھے دنیا کی آگ کیا جہنم کی آگ بھی نہیں جلاسکتی۔ 
۲۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جتنی بڑی مشکل اور پریشانی ہو گھر سے نکلتے ہوئے روٹی کےایک ٹکڑے پر نمک لگا کر کھالو یہ ممکن ہی نہیں کہ مایوس ہوکر لوٹو۔
۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص نے جمعہ کے دن صبح سے عشاء تک کثرت سے درود شریف پڑھا اس نے جنت خریدلی اور جس نے یہ خبر دوسروں تک پہنچائی وہ حضور ﷺ کے ساتھ جنت میں جائے گا۔ 
۴۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ سمجھوتا کرنا سیکھو کیونکہ تھوڑا سا جھک جانا کسی رشتے کے ہمیشہ کےلیے ٹوٹ جانے سے بہتر ہے۔ 
۵۔آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر تھوڑا سا جھک جانے سے تمھاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا۔

مزارعت کی شرعی حیثیت

ایک ویڈیو بیان موصول ہوا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’مزارعت فقہ حنفی، امام ابوحنیفہ، امام شافعی وغیرہم رحمہم اللہ کے نزدیک حرام مطلق ہے، جس کی زمین ہے وہی کاشت کرے یا پھر زمین کسی دوسرے مسلمان بھائی کے حوالے کردے اور پھر اس سے کچھ نہ لے، متعدد احادیث میں یہ بات آئی ہے ۔ زمین میں مضاربت ممکن ہی نہیں ہے۔‘‘ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ بات درست ہے؟