Menu

Fatawaa

مخلوط محافل میں شرکت

Jun 01 2020
4
0
لوگ ہمارے مخلوط محافل میں نہ جانے پر بہت سوال کرتے ہیں۔یہ بتادیں کہ اس کے بارے میں کوئی حدیث ہے؟ کیا مخلوط محفل میں جانا کبیرہ گناہ میں شامل ہے؟ کیا نہ جانے پر علماء نے اجتہاد کے ذریعے یہ بات طے کی ہےیا کوئی اور دلیل بھی ہے؟ لوگ ہمارے اسپتالوں اور دیگر ضروری جگہوں پر جانے پر بھی اعتراض اٹھاتے ہیں کہ وہاں کس حیثیت سے جاتے ہو تم لوگ؟ کیا حقوق العباد کے نام پر ایسی جگہ پردے میں جا سکتے ہیں؟ اور کیا ناجائز اور حرام برابر ہیں؟


نماز جمعہ کی شرائط

Jun 01 2020
24
0
سیمنز میں ہمارے ہاں ایک نماز کے لیے جگہ ہےجہاں عام دنوں میں کمپنی کے لوگ چار وقت کی نماز پڑھتے ہیں، بقیہ فجر میں اور ہفتہ اور اتوار کنفرم نہیں ہے لیکن غالباً دس بارہ گارڈز تو باقاعدہ نماز پڑھتے ہیں، لیکن جمعے کی نماز وہاں نہیں ہوتی۔ ہم نے اپنے ادارے میں اندرونی طور پر یہ مشاورت کی تھی کہ یہاں جمعے کی اجازت مل جائے۔ میں نے سنا تھا کہ جمعے کی نماز کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ جگہ ہر بندے کے لیے کھلی ہو، یہ سیکیورڈ علاقہ ہے تو یہاں یہ شرط پوری نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ جمعے کی نماز کی جگہ کے لیے کیا یہ شرط ہے یا نہیں۔ مزید برآں یہ بھی واضح فرمائیں کہ کیا جمعے کے انعقاد کے لیے اس جگہ کا شرعاً مسجد ہونا شرط ہے؟ دراصل مذکورہ جگہ مصلی ہے نہ کہ وقف کردہ مسجد اور اس بات کا امکان ہے کہ مستقبل میں کسی ضرورت کے لیے مصلے کو اس جگہ سے منتقل کرکے کسی اور جگہ تعمیر کرنا پڑے۔برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔


بھائی کی وراثت

Jun 01 2020
2
0
 اگر دو بھائی اور دو بہنیں ہوں، ایک بھائی اور ایک بہن غیر شادی شدہ ہو اورایک بھائی بہن شادی شدہ ہوں۔ غیر شادی شدہ بھائی کا انتقال ہوگیا تو اس بھائی کی وراثت کس کو ملے گی؟ برائے مہربانی صحیح رہنمائی فرمائیں۔

کسی اور کے پاسپورٹ پر کاروبار کرنا

 درج ذیل فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے، اس فیصلے کی رو سے ہمیں یہ مسئلہ بتایا جائے کہ اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے پاسپورٹوں پر کاروبار کےلیے گاڑیاں بھجوائے اور دوسرا فریق اس پر راضی ہو اور اسے اس کا معاوضہ بھی دیا جائے تو کیا اس رقم کا لینا دینا جائز ہے؟
’’حکومت پاکستان نے تین سالہ کاروں کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی مستفید ہوں گے جو ذاتی سامان کے تحت کاریں بھیجنے، رہائش گاہ کی منتقلی اور گفٹ اسکیموں کے تحت کاریں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آٹھ ہزار کاروں کو بندرگاہوں سے آزاد ہونے کے لئے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہاں کار ڈیلرز اور پاکستان میں اکتوبر ۲۰۱۷ء سے ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے جب سابقہ قواعد و ضوابط واپس لے لیے گئے تھے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی خوش ہوں گے کیونکہ ان میں سے اکثر میزبان ملک سے واپسی پر گاڑی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا پھر اپنے اہل خانہ کو تحفے کے طور پر گاڑی بھیجنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایسی کاریں درآمد کرنے والے ہزاروں پاکستانی ملک بھر میں یہ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ۹،جنوری۲۰۱۸ ء سے قبل درآمد شدہ آٹھ ہزار نئی اور استعمال شدہ کاریں مستفید ہوں گی۔ یہ کاریں پاکستانی بندرگاہوں پر پھنس گئیں تھیں لیکن اب پاکستان کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو کلیئر کردیا جائے گا۔ پاکستان حکومت نے درآمدات کو روکتے ہوئے کہا کہ کاریں درآمد کنندگان کے غیر ملکی بینکوں کی تفصیلات اور کاریں برآمد کرنے والوں سے دیگر معلومات فراہم کیے بغیر لائی گئیں۔ معاملہ فیڈرل بیورو آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر زیر بحث لایا۔ اس سے پچھلے طریقہ کار کو بحال کیا گیا۔‘‘ 


مسائل زکوٰۃ

Jun 01 2020
0
0
عرض یہ ہے کہ ہماری برادری مل کر ایک ادارہ بنانا چاہتے ہیں، جو زکوٰۃ کی رقم سے اپنی برادری کے لوگوں کی مدد کرسکے۔ اس ادارےمیں زکوٰۃ دینے والے لوگ بھی چوڑی برادری کے لوگ ہیں اور زکوٰۃ لینے والے بھی چوڑی برادری کے لوگ ہوں گے۔اگر اضافی رقم ہوگی تو باہر کے لوگوں میں بھی دے دیں گے، مگر دیں گے انہی کو جن کو ہم بذات خود جانتے ہوں گے۔زکوٰۃ جن لوگوں کو دی جاسکتی ہے، اس کی بھی وضاحت فرمادیجیے۔ اور طریقہ کار بھی واضح کردیجیے۔ نیز کس کس مد میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، اس پر بھی رہنمائی فرمادیجیے۔جزاک اللہ خیراً


مسئلہ زکوٰۃ

Jun 01 2020
1
0
ایک خاتون کے مطابق ان کے پاس تین تولہ سونا ہے، کرائے کا گھر ہے، جس کا کرایہ چودہ ہزار ہے۔ ان کا اپنا ایک گھر ہے جس کی مالیت تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ روپے ہے، یہ کرائے پر دیا ہوا ہے، جسے سے چھ ہزار روپے کرایہ آتا ہے۔ ان کے پاس دو لاکھ روپے سیونگز ہیں، جو ابھی دو ماہ قبل کہیں انویسٹ کیے ہیں، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اس سے کوئی نفع نہیں ملا۔ اس کے علاوہ ان کے اوپر دو لاکھ نوے ہزار روپے قرض ہے، جو انہوں نے چکانا ہے۔ تقریباً دو سال قبل ایک پلاٹ کی بکنگ کروائی ہے، وہاں پچاس ہزار روپے جمع ہیں، لیکن اس میں سے بیس پچیس ہزار ایسے ہوں گے جن پر ایک سال گزرچکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک جگہ پچاس ہزار کی بی سی ڈالی ہوئی ہے، جس کے پچیس ہزار ادا کرچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان پر زکوٰۃ لاگو ہوگی یا نہیں؟ اور ہوگی تو کس طرح حساب کتاب کیا جائے گا؟


روزے کی فضیلت پر مشتمل ایک حدیث کی سندی حیثیت

درج ذیل حدیث کی سندی حیثیت پر رہنمائی فرمادیں:
 ایک بار موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: اے اللہ! آپ نے مجھے براہ راست کلام کے شرف سے نوازا ہے، کیا آپ نے یہ شرف کسی اور کو بھی عطا کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ: آخری زمانے میں میں ایک امت بھیجوں گا، جو حضرت محمد ﷺکی امت ہوگی، جو سوکھے ہونٹوں، سوکھی زبان، کمزور جسم، حلقوں والی آنکھوں، سوکھے جگر اور بھوک سے بدحال پیٹوں کے ساتھ مجھ سے دعا کریں گے، وہ تمہارے مقابلہ میں مجھ سے کہیں زیادہ قریب ہوں گے۔ جب تم مجھ سے گفتگو کرتے ہو تو تمہارے اور میرے درمیان ستر ہزار پردے ہوتے ہیں، لیکن افطار کے وقت میرے اور محمدﷺ کے امتی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوگا۔ اے موسیٰ! میں نے اس بات کا ذمہ لیا ہے کہ افطار کے موقع پر میں کسی روزے دار کی دعا رد نہیں کروں گا۔سبحان اللہ!!