Menu

Fatawaa

صدقہ سے متعلق حدیث کی تصدیق

May 13 2020

درج ذیل حدیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ ٹھیک ہے ؟
’’صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا : اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا ، لیکن آج تو آج میں نہیں لوں گا۔‘‘
الجواب باسم ملهم الصواب
یہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح میں روایت فرمائی ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں:عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: < تَصَدَّقُوا، فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ؛ فَيَقُولُ الَّذِي يُعْطَاهَا: لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ قَبِلْتُهَا؛ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلا. وقال المحقق شيخ عبد القادر الأرناؤءط تحت الحديث: الحديث: أخرجه الشيخان. (مختصر صحيح الإمام البخاري، كتاب الزكاة، باب الصدقة قبل الرد)
اس روایت کو امام مسلم اور امام بخاری رحمہما اللہ دونوں نے روایت کیا ہے۔ لہذا یہ حدیث قابل اعتماد ہے۔
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4290