Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم الحدیث
93 post(s) found

سونے سے قبل پانچ اعمال کی فضیلت والی روایت کی صحت

May 14 2020
274
0
درج ذیل روایت بہت مشہور ہے، اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ روایت صحیح ہے؟ 
 حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی رات کو روزانہ پانچ کام کر کے سویا کرو: 
۱۔چار ہزار دینار صدقہ دے کر سویا کرو۔
۲۔ایک قرآن شریف پڑھ کر سویا کرو۔
۳۔جنت کی قیمت دے کر سویا کرو۔
۴۔دو لڑنے والوں میں صلح کراکر سویا کرو۔
۵۔ایک حج کر کے سویا کرو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کام کیسے ممکن ہے؟حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھنے کا ثواب چار ہزار دینار صدقہ دینے کے برابر ہے۔ تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے کا ثواب ایک بار قرآن شریف پڑھنے کے برابر ہے۔ دس مرتبہ درود شریف پڑھنے سے جنت کی قیمت ادا ہوگی۔ دس مرتبہ استغفار پڑھنے کا ثواب دو لڑنے والوں میں صلح کرانے کے برابر ہے۔ چار مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھنے سے ایک حج کا ثواب ملے گا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ! اب میں روز یہی عملیات کر کے سویا کروں گا۔

صدقہ سے متعلق حدیث کی تصدیق

درج ذیل حدیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ ٹھیک ہے ؟
’’صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا : اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا ، لیکن آج تو آج میں نہیں لوں گا۔‘‘

چند روایات کی تحقیق

May 13 2020
13
0
ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے جس میں درج ذیل روایات بیان کی گئی ہیں ان کی ا ستنادی حیثیت کیا ہے؟
۱۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ، حضرت فاطمہ روٹی بنارہی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم تو ہرروز روٹی بناتی ہو آج میں روٹی بناتا ہوں، چنانچہ آپ نے بنانی شروع کی مگر روٹی نہیں بن رہی تھی ، آپ نے روٹی سے اس کی وجہ پوچھی تو روٹی نے کہا کہ مجھے آپ نے چھولیا ہے اب مجھے دنیا کی آگ کیا جہنم کی آگ بھی نہیں جلاسکتی۔ 
۲۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جتنی بڑی مشکل اور پریشانی ہو گھر سے نکلتے ہوئے روٹی کےایک ٹکڑے پر نمک لگا کر کھالو یہ ممکن ہی نہیں کہ مایوس ہوکر لوٹو۔
۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص نے جمعہ کے دن صبح سے عشاء تک کثرت سے درود شریف پڑھا اس نے جنت خریدلی اور جس نے یہ خبر دوسروں تک پہنچائی وہ حضور ﷺ کے ساتھ جنت میں جائے گا۔ 
۴۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ سمجھوتا کرنا سیکھو کیونکہ تھوڑا سا جھک جانا کسی رشتے کے ہمیشہ کےلیے ٹوٹ جانے سے بہتر ہے۔ 
۵۔آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر تھوڑا سا جھک جانے سے تمھاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا۔

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت

اس روایت کے بارے میں بتائیے کیا یہ مستند روایت ہے:’’حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سکرات کی حالت میں اپنے بیٹے سے فرمایا: جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ جائے اور نہ آگ، اور جب تم لوگ مجھے دفن کرچکو تو مجھ پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالنا ، اس کے بعد میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر ٹھہرو کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے تاکہ تمہاری وجہ سے مجھے انس رہے اور میں جان سکوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دے رہا ہوں؟ (مسلم شریف، بہ حوالہ مشکوة شریف)‘‘


امت کے بارے میں تین چیزوں کے ڈر والی حدیث

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مجھے اپنی امت کے بارے میں تین چیزوں کے بارے میں بہت زیادہ ڈر ہے، ایک ڈر اس بات کا ہے کہ مال کی کثرت ہوجائے گی اور پھر مال کی محبت میں آپس میں بغض کرنے لگیں گے۔ دوسرا اس بات کا ڈر ہے کہ قرآن کریم ہر شخص کے سامنے کھل جائے گا اور ہر شخص اس میں رائے زنی کرنے لگے گا۔ یہ حدیث مکمل اور اس کی سند مطلوب ہے۔ رہنمائی فرمادیجیے۔


رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب چالیس اقوال کی صحت

May 12 2020
23
0
ایک پوسٹ موصول ہوئی جس میں چالیس اقوال رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرکے نقل کیے گئے ہیں، ان کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہیں؟
1۔ فجر اور اشراق ، عصر اور مغرب اور مغرب اور عشاء کے دوران سونے سے باز رہا کرو۔
2۔ بد بودار اور گندے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔
3۔ ان لوگوں کے درمیان نہ سوئیں جو سونے سے قبل باتیں کرتے ہیں۔
4۔ تم بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔
5۔ منہ سے کھانا نکال کر نہ کھاؤ۔
6۔ اپنے کھانے پر اداس نہ ہوا کرو یہ عادت ہمارے اندر ناشکری پیدا کرتی ہے۔
7۔ گرم کھانے کو پھونک سے ٹھنڈا نہ کرو۔
8۔ اندھیرے میں مت کھاؤ۔
9۔ کھانے کو سونگھا نہ کرو، کھانے کو سونگھنا بد تہذیبی ہوتی ہے۔
10۔ منہ بھر کے نہ کھاؤ کیونکہ اس سے معدہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
11۔ ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالا کرو۔
12۔ جوتے پہنے سے قبل اسے جھاڑ لیا کرو۔
13۔ نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو۔
14۔ رفع حاجت کی جگہ ( ٹوائلٹ ) میں مت تھوکو۔
15۔ لکڑی کے کوئلے سے دانت صاف نہ کرو۔
16۔ اپنے دانتوں سے سخت چیز مت توڑا کرو۔
17۔ ہمیشہ بیٹھ کر کپڑے تبدیل کرو۔
18۔ دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو۔
19۔ بیت الخلاء میں باتیں نہ کیا کرو۔
20۔ دوست کو دشمن نہ بناؤ۔
21۔ دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصے بیان نہ کیا کرو۔
22۔ ٹھہر کر صاف بولا کرو تاکہ بات دوسرے پوری طرح سمجھ جائیں۔
23۔ چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑکر نہ دیکھو۔
24۔ ایڑھیاں مار کر نہ چلا کرو۔
25۔ ایڑھیاں مار کر چلنا تکبر کی نشانیوں میں سے ہے۔
26۔ کسی کے بارے میں جھوٹ نہ بولو۔
27۔ شیخی نہ بگھارو۔
28۔ اکیلے سفر نہ کیا کرو۔
29۔ اچھے کاموں میں دوسروں سے مدد کیا کرو۔
30۔ فیصلے سے پہلے مشورہ ضرور کیا کرو۔ اور مشورہ ہمیشہ سمجھدار کی بجائے تجربہ کار شخص سے کرنا چاہیے۔
31۔ کبھی غرور نہ کرو۔ غرور ایک ایسی بُری عادت ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔
32۔ گداگروں کا پیچھانہ کرو۔
33۔ غربت میں صبر کیا کرو۔
34۔ مہمان کی کھلے دل سے خدمت کرو یہ عادت ہماری شخصیت میں کشش پیدا کردیتی ہے۔
35۔ برا کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرو۔
36۔ اللہ پاک نے جو دیا ہے اس پر خوش رہو۔
37۔ زیادہ نہ سویا کرو۔ زیادہ نیند یاداشت کو کمزور کردیتی ہے۔
38۔ اقامت اور اذان کے درمیان گفتگو نہ کرو۔
39۔ اپنی خامیوں پر غور کیا کرو اور توبہ کیا کرو۔
40۔ روزانہ کم از کم سوبار استغفار کیا کرو۔

والدین کی نافرمانی سے متعلق حدیث قدسی کی تحقیق

May 12 2020
161
0
درج ذیل حدیث ایک خاتون ٹی وی پر بیان کررہی تھیں، خاتون اہل تشیع میں سے معلوم ہوتی ہیں، مزید ان کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ یہ حدیث قدسی تمام مکاتب فکر اسلامی کے نزدیک متفق ہے۔
وعزتي وجلالي وارتفاع مكاني وعلو مقامي ان العاق بوالديه لو يعمل باعمال الانبياء جميعا...
’’مجھے میری عزت، جلالت، جبروت، بادشاہی و اقتدار کی قسم کہ جو شخص اپنے ماں باپ کو ناراض کردے اور وہ بغیر توبہ کیے اور ماں باپ کو راضی کیے  مرجائے وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی نیکیاں اپنے دامن میں لے آئے، پھر بھی میں اس کے کسی عمل کو قبول کرنے والا نہیں‘‘۔


تارک فرض کی دیگر عبادات کا حکم

 بعض لوگ یہ نظریہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ ایک فرض کا مستقل تارک ہے تو اس صورت میں اس کی دوسری عبادات و فرائض کی ادائیگی اکارت جائے گی بلکہ اس کے منہ پہ دے ماری جائے گی اور اللہ کے ہاں سے اسے اجر نہیں ملے گا۔ البتہ اس نظریے کے اثبات کے لیے عمومًا ایک روایت اس انداز میں بیان کی جاتی ہے:
’’رسول اللہ ﷺنےفرمایا: اللہ تعالیٰ نےجبرئیل کو حکم دیا کہ فلاں بستیوں کواُن کے رہنےوالوں سمیت اُلٹ دو! حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس پرحضرت جبرئیل ؑنےعرض کیا: اےمیرےربّ !ان میں توتیرافلاں بندہ بھی ہےجس نےچشم زدن کی مدت تک بھی تیری معصیت میں بسرنہیں کی! آنحضورﷺنے فرمایا کہ اس پراللہ تعالیٰ نےفرمایا کہ اُلٹ دو انہیں پہلے اس پر پھر دوسروں پر، اس لیےکہ اس کےچہرےکی رنگت کبھی میری (غیرت اورحمیت کی )وجہ سےمتغیرنہیں ہوئی۔غورکیجیےکہ اس بندہ عابدکی عبادت گزاری کی شہادت کون دےرہےہیں اورکیادےرہےہیں ؟گواہی دےرہےہیں حضرت جبرئیل امین ؑکوئی کرائے کا وکیل نہیں۔وہاں دےرہےہیں جہاں ابوجہل بھی جھوٹ نہیں بول سکےگا،اورگواہی یہ دی جارہی ہےکہ اس بندۂ عابد نے آنکھ جھپکنے کی مدت بھی اللہ تعالیٰ کی معصیت میں بسرنہیں کی ۔یہاں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ایک شخص کی ذاتی عبادت اورنیکی کا یہ عالم ہے۔لیکن بارگاہِ خداوندی سےحکم یہ صادرہواکہ ’’اُلٹوپہلےاس پرپھردوسروں پر‘‘۔کیوں ؟چہرےکارنگ میری (غیرت وحمیت )کی وجہ سےکبھی متغیرنہیں ہوا۔یہ لیےکہ اس بےغیرت اوربےحمیت انسان اسی سزاکامستحق ہےکہ عذاب پہلےاس پرنازل ہوپھردوسروں پر۔حمیت وغیرت دین دراصل ایمان باللہ کااہم ترین تقاضاہے۔اس حمیت و غیرتِ حق کےبغیرنہ ولایت کی کوئی ادنیٰ سی نسبت ہےنہ کوئی انفرادی عبادت، کوئی زہداورکوئی ریاضت اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ہے۔تواصی بالحق امربالمعروف نہی عن المنکر، دعوت الی اللہ، اعلائےکلمہ اللہ کی سعی وجہداسی غیرتِ حق اورحمیت دینی کےعملی مظاہرہیں ۔یہ دین کی پشت پناہی اورنصرت ہے۔ان چیزوں سےاگرزندگی خالی ہےاورانفرادی زہدوعبادت اوروظائف واَ ورادہیں توولایت کی نسبت کاکوئی سوال نہیں ۔ان تمام ریاضتوں کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرکاہ کےبرابربھی نہ وقعت ہےاورنہ وزن ہے۔کسی کی والدہ کی شان میں کوئی شخص کوئی گستاخانہ بات کہہ بیٹھےتواس کے پورےجسم کاخون چہرے پر جمع ہوجائےگا، وہ مرنے مارنے پرتل جائےگا۔لیکن اللہ اوراس کےرسول ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی رہے،اس کےدین کامذاق اڑتارہےاورکوئی اپنی نفلی عبادت وریاضت میں مگن رہےتواسےولایت سےکیانسبت ہوسکتی ہے؟یہ توابلیس کامشن ہےجسےعلامہ اقبال نےان الفاظ میں بیان کیاہے:
مست رکھوذکروفگرصبح گاہی میں اسے
پختہ ترکردومزاجِ خانقاہی میں اسے!
چنانچہ ولایت کاحقیقی مفہوم ہےغیرتِ حق ‘حمیت دینی ‘دین کی پشت پناہی ‘اس کی کےغلبہ واقامت کےلیےجہاد و قتال۔ اگر ولی کایہ تصورآپ نےجان لیاتواس نصرت ‘اس کامنطقی نتیجہ بھی سمجھ میں آجائےگاکہ :’’جس نےمیرےکسی ولی سےعداوت رکھی اُس کےخلاف ہیں ااعلانِ جنگ ہے!‘‘جوشخص ولی ہےہمہ تن میرےدین کاحمایتی بناہواہےاُسےمیں چھوڑدوں ‘یہ کیسے ممکن ہے! جو اللہ کاولی ہے اللہ بھی تو اس کا ولی ہے۔پس فرمایا کہ جس شخص نےمیرےولی کےساتھ دشمنی رکھی تواس کے بارے میں فرمایا گیا۔ ’’خلاف میں اعلانِ جنگ کرچکاہوں۔‘‘  برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ:
1۔ کسی ایک فرض عین کے تارک کی دوسری عبادات مقبول ہیں یا نہیں مثلا کیا زکٰوۃ نہ دینے والے کی نماز قبول ہو گی یا نہیں؟
2۔  فرض کفایہ جیسے دعوت وتبلیغ، جہاد فی سبیل اللہ کے تارک کے دوسرے معمولات اور عبادات قبول کی جائیں گی یا وہ مردود ہیں؟

کھانے پینے کی چیزوں پر دم کرنا

کھانے پینے کی چیزوں پر کچھ پڑھ کر کھانا پینا کیا جائز ہے؟ ایسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ یا اسی طرح کچھ اور آیات پڑھ کر پھونک دی جائیں تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟


دم درود کا شرعی حکم

کیا پانی پر یا کسی کھانے کی چیز پر پھونک کر پینا، پلانا یا کھانا،کھلانا شرعی طور پر درست ہے؟ علماء اکثر پانی پھونک کر مرض کی شفاء کے لیے مریض کو دیتے ہیں؟ ایک صاحب ابو داؤد کی کسی حدیث کا حوالہ دے رہے تھےکہ یہ غلط ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ وضاحت فرمادیں۔