دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل واقعے کی تصدیق مطلوب ہے۔
’’ علامہ سیوطی رحمہ اللہ ایک دفعہ بہت سخت بیمار ہوئے ، شفایابی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے، خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، آپ کے ساتھ پرندے بھی تھے، آپ نے فرمایا: بیٹا یہ دعا کیوں نہیں پڑھتے «بِسمِ اللهِ رَبِّیَ الله، حَسبِیَ الله، تَوَکَّلتُ عَلی الله،ِ اِعتَصَمتُ باللهِ، فَوَّضتُ اَمرِی اِلی اللهِ، مَاشَآء الله، لَاقُوَّةَ اِلَّا باللهِ» پھر وہ پرندے دھیرے دھیرے بندوں کی شکل میں مبدل ہوگئے، ان میں سے ایک نے استفسار کیا کہ اگر کوئی شخص یہ دعا دشمن کے نرغے میں یا قرضے کی ادائیگی کےلیے یا حاسدین کے حسد سے بچنے کےلیے یا جادو وغیرہ سے بچنے کےلیے اس وظیفہ کو پڑھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: واہ واہ پھر تو کیا کہنے! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میں نے پوچھا آپ کے ساتھ یہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں، یہ سید الشہداء حضرت حمزہ ہیں اور دیگر لوگ جو پرندوں کی شکل سے انسانوں کی شکل میں منتقل ہوئے یہ شہداء احد ہیں۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں: میں یہ دعا پڑھتا رہا، یہاں تک کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں بالکل تندرست کھڑا ہوگیا۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بخاری شریف کی پہلی حدیث ہے ’’اِنَّمَا الاَعمالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ کیا یہ حدیث مبارکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک جو صحیح حدیث کی شرائط ہیں ان شرائط پر پورا اترتی ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مخضرم اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟ حضرت نجاشی اور حضرت اویس قرنی رحمہما اللہ مخضرمی تھے یا تابعی؟ کیا مخضرمی اور تابعی میں کوئی فرق ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال یہ ہے کہ جو ہمارے یہاں مشہور واقعات ہیں جن کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جاتی ہے، جیسے ایک ضعیفہ کا واقعہ ہےجو کچرا پھینکتی تھی اور ایک ضعیفہ جو مکہ چھوڑ کر جارہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈر کر، کہیں وہ بھی اسلام قبول نہ کرلے اور اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سامنے تشریف لے آئے اور اس کا سامان بھی منزل تک پہنچایا بغیر کسی اجرت کے اور وہ یہ جان کر یہ خوبصورت چہرہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے تو وہ ایمان لے آئی۔ اور ایک یہ کہ عیدکے دن کسی مسکین اور یتیم کو گھر لے آتے اور حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کا لباس اسے پہناتے۔ کیا ان واقعات کی کوئی حقیقت ہے؟ کیا یہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں؟ یا ضعیف احادیث ہیں؟ برائے مہربانی جواب دیجیےگا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ماہ رجب کے روزے کی فضیلت کے حوالے سے درج ذیل احادیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ درست ہیں؟
۱۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے ماہ حرام (رجب) کے تین روزے رکھے اس کےلیے نو سو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔ (اللألی المصنوعۃ للسیوطی)
۲۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور رجب کے دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے اور تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے اور پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ماہ رجب کے روزے کی فضیلت پر مشتمل درج ذیل حدیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہے؟
فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور رجب کے دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے اور تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے اور پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
السلام علیکم!اس حدیث کا حوالہ درکار ہے:’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علماء اللہ کے بندوں کے درمیان رسولوں کے (ورثے کے) امین ہوتے ہیں، جب تک وہ حاکم کے ساتھ نہ گھلیں ملیں، پس اگر وہ حاکم کے ساتھ گھلے ملے تو بلا شبہ انہوں نے رسولوں سے خیانت کی تو (جو علماء ایسا کریں) تم ان سے خبردار رہنا اور ان سے علیحدہ ہوجانا‘‘۔