دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سنن ابی داؤد کی درج ذیل روایت میں چند سوالات ہیں:
۱۔ اس روایت اور اس جیسی روایات کیا درجہ صحت کو پہنچتی ہیں؟
۲۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کرناکہ ’’ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ ‘‘ کیا آپ ان کی وفات کو مصیبت سمجھتے ہیں اور حضرت مقدام کا سخت جواب دینااس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت معاویہ وفاتِ حضرت حسن کو ہلکا لے رہےتھے اور حضرت معاویہ کے دل میں حضرت حسن کا کوئی خاص مقام نہیں تھا، اس بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کیا فرماتے ہیں؟
۳۔حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے بقول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں سونا، ریشم اور درندوں کی کھالیں استعمال میں لائی جاتی تھیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیے۔
۴۔ حضرت معاویہ کی موجودگی میں ان کے ساتھی اسدی نے حضرت حسن کے بارے میں یہ کہا کہ ’’انگارہ تھا جو بجھ گیا‘‘ اور حضرت مقدام اس پر غصہ ہوئے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضرت معاویہ کے ہوتے ہوئے حضرت حسن کی بارے میں اس طرح کی بات کی جائے۔
سنن ابی داود کی روایت یہ ہے:حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً، وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: «هَذَا مِنِّي» وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ، وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔ (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل حدیث کی تخریج مطلوب ہے:
’’القرآن والسلطان توأمان لا يفترقان فالقران أُس والسلطان حارس فمن لا أُس له فمُنهدم ومن لا حارس له فضائع‘‘.
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ایک اہل حدیث عالم دین یہ فرمارہے ہیں کہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں باب باندھا ہے ’’لا صلاۃ بعد الجمعۃ‘‘ کہ جمعہ کے بعد کوئی نفل نہیں اسی طرح صحابہ کا عمل ثابت کیا کہ صحابہ سے نماز جمعہ سے پہلے کوئی دو رکعت پڑھ لیتے وہ تحیۃ المسجد تھی، نماز جمعہ سے پہلے کی سنت نہیں تھی ، اسی طرح کسی صحیح حدیث سے نماز جمعہ کے بعد بھی سنت ثابت نہیں۔ اس بارے میں رہنمائی کردیں اور یہ بھی بتا دیں کہ جمعۃ المبارک کی کل کتنی رکعات مسجد میں ادا کرنی ہیں اور گھر آکر کتنی ادا کرنی ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
براہ مہربانی درج ذیل حدیث کی تصدیق کر دیں:
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی شہر میں پہنچو تو سب سے پہلے وہاں کی پیاز کھالوتو اس شہر کی بیماریاں تم سے دور رہیں گی۔(تہذیب آل محمدﷺ، ص۱۰۶)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آج کل ایک بیماری عام ہورہی ہے جسے کورونا وائرس کہا جارہا ہے، اس سے اور دیگر بیماریوں سے بچنے کےلیے ایک دعا ہے، جو شخص وہ دعا پڑھتا ہے اللہ تعالی اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ وہ دعا یہ ہے: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني علی كثير ممن خلق تفضيلا. سوال یہ ہے کہ اس دعا کی جو فضیلت اوپر ذکر ہوئی کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک پوسٹ موصول ہوئی جس میں صحیح مسلم کے حوالے سے ایک حدیث شریف مذکور تھی جس کا مضمون یہ تھا:’’ جس گھر کے دروازے رشتہ داروں کےلیے بند ہوں اور جس گھر میں رات کو دیر تک جاگنے اور صبح کو دیر سے اٹھنے کا رواج ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بےبرکتی کو کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘ اس حدیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے ہے‘‘۔ اس روایت کے حوالے سے رہنمائی فرمائیے، کیا یہ روایت درست ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا آپ مجھے اس حدیث مبارک کی تصدیق کرکے بتاسکتے ہیں؟
’’حضورﷺ کا ارشاد پاک ہے: کسی کی نیکی کا اندازہ کرنے کے لیے صرف اس کے نماز روزے ہی کو نہ دیکھو (یعنی کسی کے صرف نماز روزے ہی کو دیکھ کر اس کے معتقد نہ ہوجاؤ) بلکہ یہ چیز دیکھو کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرے اور تکلیف اور مصیبت کے دنوں میں بھی پرہیز گاری پر قائم رہے۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
حدیث جبریل کی ایک عبارت ہے:’’ ووضع كفيه على فخذيه ‘‘اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ کیا حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ رکھے تھے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی کو یوں نہیں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھلا دیا گیا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کہنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟