Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم الحدیث
93 post(s) found

صحابہ کرام کی موجودگی میں غناء

ایک روایت ہے کہ عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، وہاں لڑکیاں گانا گارہی تھیں، میں نے کہا: آپ دونوں رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور اہل بدر میں سے ہیں، اور یہ کچھ (گانا) آپ کے سامنے ہورہا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر چاہو تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر سنو اور چاہو تو چلے جاؤ، ہمیں شادی کے موقعہ پر لہو کی رخصت دی گئی ہے۔ 
کیا یہ روایت مستند ہے؟ اور اگر مستند ہے تو اس کی وضاحت فرمادیں۔

ربیع الاول میں محافل سجانااور خوشیاں منانا

ربىع الاول كا روزہ ركھنا ىا كوئى نفلى عبادت احادىث مىں منقول ہے ىا نہىں، اور اس دن محافل سجانا، كھانا تقسىم كرنا كہ اس سے آپ صلى اللہ علىہ وسلم كو ثواب پہنچانے كى نىت ہوتو كىا ىہ جائز ہے ىا نہىں، اور اس دن محافل سجانا، ىا گھروں مىں روشنىاں وغىرہ كرنا كىسا ہے؟  

نیند کے غلبہ کے وقت نماز پڑھنا

مندرجہ ذیل  حدیث کے حوالے سے درج ذیل سوالات کے ضمن میں براہ کرم راہنمائی فرما دیجیئے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (بروایت حضرت انس بن مالک) تم میں سے جب کسی کو نماز پڑھتے پڑھتے نیند کا غلبہ ہونے لگے تو اسے چاہیے کہ سو جائے یہاں تک کہ (نیند کا خمار کچھ نکل جائے اور) وہ یہ سمجھ سکے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔  (صحیح بخاری، سنن النسائی)
کیا مندرجہ بالا حدیث کی اسنادی حیثیت درست ہے؟  اور کیا نیند کو نماز پر فوقیت دینا شرعا درست ہے؟ اور کیا نیند کے غلبے کے تحت فجرکی نماز یا دیگر نمازوں کو مؤخر کرنا اور آخری وقت میں پڑھنا درست ہے؟ نیند کے غلبے کی وجہ سے باجماعت نماز کو چھوڑنا، کیا یہ شرعا درست ہے؟ جزاکم اللہ خیرا


حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے جسم میں معاذ اللہ کیڑے پڑگئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں کچرے میں پھینک دیا گیا تھا۔ یہ روایت بظاہر تو صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اس کی تحقیق فرمادیں۔ جزاکم اللہ

احوال امت سے باخبر رہنے سے متعلق روایت کی تحقیق

 کیا احوال امت سے باخبر رہنے کے متعلق کوئی حدیث حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے؟
ایک مدرس صاحب سے سننے میں آیا کہ جو احوال امت سے باخبر نہ رہے وہ ہم میں سے نہیں۔ برائے مہربانی حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

چادر چرانے والا شخص

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے سوال کیا کہ فلاں شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ صحابہ کرام نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! ہم تو اسے جنت میں دیکھتے ہیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں اسے جہنم میں دیکھ رہا ہوں کیونکہ اس نے بیت المال سے ایک چادر چرائی تھی۔ دوسری حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اس نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کفار کے خلاف جہاد بھی کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ شخص صحابی تھا تو جہنم تو صحابہ کے لیے ہے ہی نہیں تو وہ شخص کس گروہ میں سے تھا؟ اس کی وضاحت فرمادیجیے۔ جزاکم اللہ خیرا

نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم لگانا

یہ حدیث مبارکہ سند اور صحت کے اعتبار سے کس درجہ کی ہے ’’من ترك الصلوة متعمدا فقد كفر‘‘ نيز اگر یہ حدیث مبارکہ دلیل اور حجت کی حیثیت رکھتی ہے تو پھر آجکل ہماری نجانے کتنی صلواتیں (نمازیں) چھوٹ جاتی ہیں یا رہ جاتی ہیں تو کیا ہر صلوٰۃ چھوٹ جانے یا ترک ہو جانے پر ایمان اور نکاح کا اعادہ اور تجدید ضروری ہو گا؟ کیونکہ اگر کلمہ کفر جیسے زبانی فعل سے نکاح منسوخ ہوگیا تو صلوٰۃ چھوٹ جانا تو عملی کفر ہوا اس لحاظ سے یہ زیادہ خطرناک ہونا چاہیے؟

خواتین کےلیے عید کی نماز کا حکم

ذیل میں ایک تحریر لکھی جارہی ہے جس کے ذریعہ کچھ لوگ خواتین کو عید کی نماز میں شریک ہونے کا حکم اور ترغیب دیتے ہیں۔ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
’’نماز عیدین عورتوں پر بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر فرض ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ عورتوں اور پردہ نشین لڑکیوں کو باہر لے جائیں تاکہ وہ جماعت المسلمین کے ساتھ دعاؤں میں شامل ہو سکیں، البتہ حائضہ عورتوں کو نماز کی جگہ سے علیحدہ رکھیں۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! ہم میں بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس چادر (برقع) نہیں ہوتی۔ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کے ساتھ جانے والی عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی چادر کا ایک حصّہ اسے اوڑھا دے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب الصلاۃ فی الثیاب) 
اے ایمان والو! غور کرو کہ عورتوں کا عید گاہ میں جانا کتنا ضروری ہے؟ اے ایمان والو! صلوٰۃ العیدین میں عورتوں کا جانا حکمِ رسول ﷺسے ثابت ہے۔ کیا آج اس پر عمل ہو رہا ہے؟ غور کیجیئے جو لوگ عورتوں کو صلوٰۃ العید ین کے اجتماع میں جانے کے لیے تو منع کرتے ہیں مگر شادی بیاہ کی غیر ضروری و جاہلانہ رسموں اور گانے بجانے کی محفلوں میں جانے سے منع نہیں کرتے اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔‘‘ 

حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کے واقعے کی تصدیق

کیا درج ذیل واقعہ احادیث کی کتب میں ملتا ہے؟ اگر ہے تو کیا اس کا عربی متن مل سکتا ہے؟
حضرت ابودجانہ رضى اللہ عنہ كى ہر روز كوشش ہوتى كہ وہ نماز فجر رسول اللہﷺ كے پيچھے ادا كريں، ليكن نماز كے فورى بعد يا نماز كے ختم ہونے سے پہلے ہى مسجد سے نكل جاتے، رسول اللہﷺ كى نظريں ابودجانہ كا پيچھا كرتيں، جب ابودجانہ كا يہى معمول رہا تو ايک دن رسول اللہﷺ نے ابودجانہ كو روک كر پوچھا: ’’ابودجانہ! كيا تمہيں اللہ سے كوئى حاجت نہيں ہے؟‘‘ ابودجانہ گويا ہوئے: كيوں نہيں اے اللہ كے رسول، ميں تو لمحہ بھر بھى اللہ سے مستغنى نہيں ہوسكتا۔ رسول اللہﷺ فرمانے لگے: ’’تب پھر آپ ہمارے ساتھ نماز ختم ہونے كا انتظار كيوں نہيں كرتے، اور اللہ سے اپنى حاجات كے ليے دعا كيوں نہيں كرتے۔‘‘ ابودجانہ كہنے لگے: اے اللہ كے رسول! در اصل اس كا سبب يہ ہے كہ ميرے پڑوس میں ايک يہودى رہتا ہے، جس كے كھجور كے درخت كى شاخيں ميرے گھر كے صحن ميں لٹكتى ہيں، اور جب رات كو ہوا چلتى ہے تو اس كى كھجوريں ہمارے گھر ميں گرتى ہيں، ميں مسجد سے اس ليے جلدى نكلتا ہوں تا كہ ان گرى ہوئى كھجوروں كو اپنے خالى پيٹ بچوں كے جاگنے سے پہلے پہلے چُن كر اس يہودى كو لوٹا دوں، مبادا وہ بچے بھوك كى شدت كى وجہ سے ان كھجوروں كو كھا نہ ليں۔ پھر ابودجانہ قسم اٹھا كر كہنے لگے اے اللہ كے رسول! ايک دن ميں نے اپنے بيٹے كو ديكھا جو اس گرى ہوئى كجھور كو چبا رہا تھا، اس سے پہلے كہ وہ اسے نگل پاتا ميں نے اپنى انگلى اس كے حلق ميں ڈال كر كھجور باہر نكال دى۔ اللہ كے رسول! جب ميرا بيٹا رونے لگا تو ميں نے كہا اے ميرے بچے مجھے حيا آتى ہے كہ كل قيامت كے دن ميں اللہ كے سامنے بطور چور كھڑا ہوں۔ سيدنا ابوبكر رضى اللہ عنہ پاس كھڑے يہ سارا ماجرا سن رہے تھے، جذبہ ايمانى اور اخوت اسلامى نے جوش مارا تو سيدھے اس يہودى كے پاس گئے اور اس سے كھجور كا پورا درخت خريد كر ابو دجانہ اور اس كے بچوں كو ہديہ كر ديا۔ پھر كيوں نہ اللہ سبحانہ وتعالىٰ ان مقدس ہستيوں كے بارے يہ سند جارى كرے: ﴿رضى الله عنهم ورضوا عنه﴾ ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ الله سے راضی ہوئے‘‘ چند دنوں بعد جب يہودى كو اس سارے ماجرے كا پتہ چلا تو اس نے اپنے تمام اہل خانہ كو جمع كيا، اور رسول اللہﷺ كے پاس جا كر مسلمان ہونے كا اعلان كر ديا۔

بعض صحابہ کرام کے اجساد اٹھا لیے جانے کی تحقیق

کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہما کے اجساد مبارکہ آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے؟ مستند روایات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔