Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم الحدیث
93 post(s) found

ایک روایت حدیث کی سندی حیثیت

درج ذیل حدیث کی سندی حیثیت بیان فرمادیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبِ، فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا، وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ، وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ، فَاسْتَجِدُّوا، وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلْجِ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ، وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمُ الْغِيلَانُ، فَبَادِرُوا بِالْأَذَانِ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ، وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ، وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ، فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ» 
ترجمہ: ’’حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرواور اس کے بغیر منزل سے آگے نہ بڑھا کرو، اور جب خشک زمین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو تو تیزی سے وہاں سے گزرجایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دیا کرو، کیوں کہ رات کے سفر میں زمین کا فاصلہ کم کر دیا جاتا ہے، سفر کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جا رہی ہے۔ اور اگر بھوت جنات کا سامنا ہو تو اذان دیا کرو، نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ کرنے سے گریز کیا کرو، کیوں کہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور قضائے حاجت بھی نہ کیا کرو، کیوں کہ یہ لعنت کا سبب ہے‘‘۔

اللہ تعالی کا ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرنا

 ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس حدیث کے صحیح الفاظ کیا ہیں؟ یہ حدیث کس کتاب میں ہے؟ نیز اس کی صحت کے بارے میں بھی بتادیں۔ 

نماز مىں ثناء، تعوذ تسميہ وغىرہ كا احادىث سے ثبوت

نماز مىں ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ پھر كم از كم تىن قرآنى آیات، ركوع كے كلمات، سجدہ كے كلمات اور قعدہ كے كلمات، پھر آخرمىں دائیں بائیں سلام پھیرنا۔ ان تمام كلمات كو اپنے اپنے مقام پر پڑھنے اور اسى ترتیب كے ساتھ پڑھنے كا بىان احادىث صحاح ستہ سے ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو برائے مہربانى ان احادىث كے حوالہ جات دے دیں۔ جزاك اللہ۔

مسجد میں گپ شپ لگانا

آج کل لوگ مسجد میں موبائل فون استعمال کر رہے ہوتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہنستے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں اور لطیفے سناتے ہیں۔ جبکہ ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ مسجد میں تو دنیاوی باتیں بھی نہیں کرنی چاہئیں، ہنسنا ہنسانا تو دورکی بات ہے۔ جبکہ ایک دوست یہ کہتے ہیں کہ یہ بڑوں کی بات ہے شرعی حکم نہیں ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ 

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا اجر

درج ذیل آیت اور روایت کی وضاحت فرما دیں۔ کیونکہ اس سے یہ شبہہ ہورہا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا سب سے کم درجہ ہے جب کہ دوسرے مقامات پر انفاق فی سبیل اللہ کا بہت اجر بتایا گیا ہے۔ يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ  وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِيْمٌ. (البقرة:215)

تفسیر ابن کثیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابوصالح کی روایت میں منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی یہ بہت عمر رسیدہ اور کثیر مال والے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! میں کیا چیز صدقہ کروں؟ اور کس چیز پر صدقہ کروں اس پر آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ہی سے عطاء کی روایت میں یہ منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جس نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا کہ اسے اپنی ذات پر خرچ کر اور اس نے کہا کہ میرے پاس دوسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھروالوں پر خرچ کر اس نے کہا میرے پاس تیسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے خادم پر خرچ کر ،اس نے کہا میرے پاس چوتھا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے والدین پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس پانچواں دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اپنے رشتہ داروں پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس چھٹا دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں خرچ کر اور یہ ان میں سے سب سے کم اجر کا باعث ہے۔ (تفسیر ابن کثیر 1 ۔ 251)


ایک أعرابی کا اللہ سے حساب لینے کا واقعہ

مسند احمد کے حوالے سے موصول درج ذیل واقعہ کی تحقیق فرمادیں کیا یہ صحیح ہے؟ 
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم ﷺ طواف فرما رہے تھے۔ ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر "یاکریم یاکریم" کی صدا تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کی طرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے یاکریمپڑھتے۔ اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے! اے حسین قد والے! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے ان کی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کروں گا۔ وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اس کا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔ عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اس کا حساب لوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لےگا؟ اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لےگا تو میں اس کی بخشش کا حساب لوں گا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اس کی بخشش؟ اگر اس نےمیری نافرمانیوں کا حساب لیا تو میں اس کی معافی کا حساب لوں گا۔ اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لوں گا۔
حضور اکرم سید عالم ﷺ یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تہلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اس کا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔