Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم الحدیث
93 post(s) found

ايك لاكھ نماز کی فضیلت حدود حرم میں

 حدیث میں مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت ایک لاکھ بیان ہوئی ہے۔ یہ فضیلت مسجد الحرام کے ساتھ خاص ہے یا حرم میں کہیں بھی نماز پڑھنے سے یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

درود تُنجینا اور دعائے جمیلہ

سوال نمبر1: درود ِتُنْجیینا کی فضیلت کیا ہے؟ کیا حاجتیں پوری کرنے کے لیے پڑھ سکتے ہیں، کوئ خاص تعداد معین کر کے پڑھنا چاہیے؟ یا چلتے پھرتے وضو بے وضو بھی پڑھ سکتے ہیں؟
سوال نمبر2: دعائے جمیلہ،سات سلام،اور سات حٰم انکی فضیلت کیا ہے؟ کسی خاص مقصد کا سوچ کر ہی پڑھے جا سکتے ہیں یا کبھی کبھی بغیر کسی مقصد کے بھی پڑھ سکتے ہیں؟ نیز کیا کوئی خاص تعداد مخصوص کر کے پڑھنا چاہیے؟
سوال نمبر3: طلاق کے بعد لڑکی کی دوسری شادی کے لیے کوئی خاص دعا بتا دیں؟ 


’’آخری امتی کے جنت میں داخل ہونے تک راضی نہیں ہوں گا‘‘ حدیث کی سندی حیثیت

Jul 30 2020
61
0
 براہ مہربانی درج ذیل حدیث کا ریفرنس بھیج دیں۔
’’ایک بار جب جبرائیل علیہ السلام نبی کریم کے پاس آئے تو محمد ﷺ نے دیکھا کہ جبرائیل کچھ پریشان ہیں، آپ ﷺنے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپ کو غم زدہ دیکھ رہاہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کر کے آیا ہوں، اس کو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاؤ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا جہنم کے کل سات درجے ہیں، ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا، اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالیٰ مشرک لوگوں کو ڈالیں گے، اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے،چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے، تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے، دوسرے درجے میں اللہ تعالیٰ عسائیوں کو ڈالیں گے، یہ کہ کر جبرائیل علیہ السلام خاموش ہوگئے تو نبی کریمﷺ نے پوچھا جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے، مجھے بتاؤ کہ پہلے درجے میں کون ہوگا؟ جبرائیل علیہ السلام نےعرض کیا اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپ کی امت کے گنہگاروں کو ڈالیں گے، جب نبی کریم ﷺ نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جائےگا تو آپ بھی بےحد غمگین ہوئے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کیں، تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کر کے اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے۔ صحابہ کرام حیران تھے کہ نبی کریم ﷺ پر یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے، مسجد سے حجرے جاتے ہیں، گھر بھی تشریف لے کر نہیں جارہے، جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پر آئے اور دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا، آپ روتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہٰذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جائے، آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ عنہ سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنی عظیم شخصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نہیں جانا چاہیئے، بلکہ مجھے ان کی نور نظر بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اندر بھیجنا چاہیے، لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئیں ابا جان السلام علیکم! بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائنات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا، اباجان آپ پرکیا کیفیت ہے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرماہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جائے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنی امت کے گنہگاروں کا غم کھائے جارہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کر رہاہوں کہ اللہ ان کو معاف کر اورجہنم سے بری کر، یہ کہ کر آپ ﷺ پھر سجدے میں چلےگئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گنہگاروں پہ رحم کر ان کو جہنم سے آزاد کر ،کہ اتنے میں حکم آگیا ’’ولسوف یعطیک ربک فترضی‘‘ اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاؤگے، آپﷺ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگو ں اللہ نے مجھ سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کرے گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جائے؟

حضرات شیخین کی قربانی نہ کرنے کی وجہ اور وجوب قربانی

ہمارے ایک ٹیچر کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، جب لوگوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی لازم نہیں ہے، لوگوں نے خود سے لازم بنالیا ہے، اور اسی طرح کی بات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

احاديث كي تشريح

سوال نمبر۱: حدیث شریف میں آتا ہے ’’الدین النصیحة‘‘ ترجمہ: دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے، اس سے آگے ہے: ’’لله‘‘ اللہ کےلیے۔ تو کیا اس طرح ترجمہ درست ہے’’دین اللہ کےلیے خیر خواہی کا نام ہے‘‘ صحیح ترجمہ اور تشریح کیا ہوگی؟ 
سوال نمبر۲: دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک اور حدیث میں آتا ہے انسان کی روح پھونکے جانے کے بعد اس کا شقی ہونا یا سعید ہونا لکھ دیا جاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ 
سوال نمبر۳: تیسرا سوال یہ ہے کہ اسی دوسری حدیث میں ہے کہ بندہ عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ نوشتہ تقدیر اس پر غالب آجاتا ہے، اس کی کیا تشریح ہے؟

تہجد کے وقت فرشتوں کا جگانا

مفتیان کرام کی خدمت میں میرا سوال یہ ہے کہ ایک مولانا صاحب نے اپنے بیان میں یہ فرمایا کہ حدیث میں آتا ہے: جب تہجد کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ جو میرے نیک بندے ہیں انہیں اٹھا دو اور جو میرے گناہ گار بندے ہیں انہیں سلا دو۔ تو کیا یہ بات حدیث مبارکہ میں نقل ہوئی ہے؟

رزق حلال کمانے سے متعلق ایک اشکال کا ازالہ

رزق حلال کمانا فرض ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ حرام کماتے ہیں وہ ہم سے مالی طور پر بہت آگے نکل جاتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ رزق حلال میں برکت ہوتی ہے، جبکہ رزق حلال کمانے والوں کو کبھی فاقے سے گزرنا پڑتا ہے تو کبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی مختلف مصیبتیں اٹھانی پڑتی ہیں، حالانکہ ہم نے سنا ہے کہ دنیا میں بندے کے آنے سے پہلے اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں بتائیے کہ یہ تضاد کیوں ہے؟

مردوں کےلیے زعفران کا استعمال

 ایک روایت ہے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مردوں کےلیے زعفران کا استعمال ممنوع قرار دیا۔ لیکن ہم تو اسے اپنے کھانوں میں یا بطور دوا کے استعمال کرتے  ہیں تو کیا اس حدیث کی بنیاد پر زعفران کا استعمال ترک کردیں؟

نماز جنازہ میں ثناء اور سورۃ الفاتحہ

 نماز جنازہ میں جو ثناء پڑھی جاتی ہے «سبحانک اللهم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدک وجل ثناءک ولا اله غیرک» اس میں «وجل ثناءک» احادیث سے ثابت ہے یا نہیں اگر ہے تو کوئی حوالہ مستند دیں۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ نماز جنازہ میں سورہ الفاتحہ بطور قرات کے پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 

بیماری سے بچاؤ کی دعا

آج کل ایک بیماری عام ہورہی ہے جسے کورونا وائرس کہا جارہا ہے، اس سے اور دیگر بیماریوں سے بچنے کےلیے ایک دعا ہے، جو شخص وہ دعا پڑھتا ہے اللہ تعالی اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ وہ دعا یہ ہے: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني علی كثير ممن خلق تفضيلا. سوال یہ ہے کہ اس دعا کی جو فضیلت اوپر ذکر ہوئی کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟