Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم الحدیث
93 post(s) found

عورت کے پردے سے متعلق ایک روایت کی تحقیق

ایک روایت سنی گئی ہے کہ جو عورت پردہ نہیں کرتی تو چار لوگ اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ان سے سوال ہوگا: شوہر، باپ، بھائی اور بیٹا۔ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ کسی کا قول ہے یا حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو اس کا کیا حوالہ ہے؟ 

مردوں کے ارواح کا گھروں کو لوٹنا

درج ذیل واقعہ کی تصدیق مطلوب ہے:
’’ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا فوت ہونے کے بعد والدین کی روحیں گھر لوٹتی ہیں؟ حضرت  علی نے جواب دیا: اے سلمان جب والدین فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی روحیں اپنی اولاد کے پاس گھروں کو لوٹتی ہیں اور ان سے فریاد کرتی ہیں آہ و بکا کرتی ہیں اور یہ سوال کرتی ہیں کہ صدقات اور نیک اعمال کے ذریعے سے ان پر مہربانی کرو وہ اولاد سے اپنے لیے دعاؤں کا سوال کرتی ہیں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: روحیں کب کب اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں؟ فرمایا: یہ شب جمعہ کو اپنے اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں اور اپنوں کو پکارتی ہیں جس کو لوگ نہیں سن سکتے پھر یہ روحیں مایوس ہو کر لوٹ جاتی ہیں سوائے ان کے جن کی اولاد نیکوکار اور والدین کے لیے صدقات و ایصال و ثواب کرتی رہتی ہیں۔ پھر فرمایا: اے سلمان! یاد رکھنا اپنے مرحوم والدین کے لیے دعا کرتے رہنا، جب کوئی اپنے مرحوم والدین کے لیے دعا کرتا ہے تو یہ روحیں اللہ تعالی سے فریاد کرتی ہیں: یا اللہ جس طرح ہماری اولاد نے ہمارے اوپر احسان کیا ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھا تو بھی ان پر رحم فرما اور دنیاوی پریشانیوں تکلیفوں اور بیماریوں کو ان سے دور فرما ۔‘‘

سیاہ کپڑے پہننا

درج ذیل روایت کی تحقیق مطلوب ہے: 
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’سیاہ کپڑے مت پہنا کرو، کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے‘‘۔  (من لا یحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق)


مردے کو تلقین کے حوالے سے حدیث کی سندی حیثیت

 برائے مہربانی اس حدیث کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ نہیں؟
’’آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی مردے کو دفناؤ تو کوئی ایک شخص اس کے سرہانے بیٹھ جائے، جب سب لوگ چلے جائیں تو وہ شخص اس سے کہے کہ اے فلاں بن فلانہ (یعنی مردے کا نام لے اور اس کی والدہ کا نام لے)، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ اگر اس کی والدہ کا نام معلوم نہ ہو تو کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایاکہ حضرت حوا کی طرف نسبت کردیں (یعنی فلاں بن حوا)۔ آپﷺ فرماتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ اس کو پکارا جائے گا تو مردہ سنے گا لیکن جواب نہیں دے گا، تھوڑی دیر ٹھہر کر دوبارہ پکاریں تو وہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا، پھر اسی طرح تیسری مرتبہ پکاریں تو وہ کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے، مجھے کچھ تلقین کرو (یہ آوازیں وہ شخص تو نہیں سن سکتا لیکن حدیث کے مطابق وہ کہتا ہے) لہذا وہ شخص کہے کہ جو کچھ تم دنیا سے کہتے آئے اسے یاد کرویعنی یہ کہ تمہارارب اللہ تعالیٰ ہے، تمہارا امام قرآن ہے، تمہارے رسول محمدﷺ ہیں اور تمہارا دین اسلام ہے (چار چیزوں کے بارے میں، رب کے بارے میں، نبی کے بارے میں، دین کے بارے میں اور امام یعنی قرآن کے بارے میں) آپﷺ فرماتے ہیں کہ جب اس طرح تلقین کی جائے گی تو جب منکر نکیر آئیں گےتو وہ کہیں گے کہ جس شخص کو اس کی حجت یا دلیل پہلے ہی سکھادی گئی ہو، اس سے ہم کیا سوال کریں؟ تو وہ بغیر سوال کیے ہی رخصت ہوجائیں گے‘‘۔

ایک خاتون کا رسول اللہ ﷺ سے نکاح اور علیحدگی کی تحقیق

میں نے سنا ہے کہ ایک غیر مسلم مؤرخ نے لکھا ہے کہ ایک خاتون کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے ہوا، لیکن رات کو اس خاتون نے آپ علیہ السلام کو دیکھتے ہی أعوذ بالله من الشيطن الرجيم پڑھا اور علیحدہ ہوگئی۔ ایسا واقعہ ہم نے تو سیرت میں نہیں پڑھا، آپ کو اگر اس بارے میں کچھ معلوم ہو تو رہنمائی فرمائیں کیا یہ بات درست ہے؟

ایک صحابیہ کے طلاق مانگنے کے واقعہ کی تصدیق

Sep 24 2020
29
0
صحیح مسلم حدیث نمبر 1959 کے حوالے سے ایک صحابیہ کے طلاق مانگنے کا واقعہ موصول ہوا ہے، آپ سے اس واقعہ کی تصدیق مطلوب ہے۔ برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرمادیں:
ایک صحابی رسول رات کو اپنے گھر میں آرام فرماتھے، انہیں پیاس لگی تو انہوں نے اہلیہ سے پانی مانگا، ان کی اہلیہ صحابیہ عورت تھی وہ پانی لے کرآئی تو وہ صحابی دوبارہ سو چکے تھے وہ عورت اتنی خدمت گزار تھی کہ پانی لے کر کھڑی ہوگئی، جب رات کا کافی حصہ گزر گیا تو صحابی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی وفادار بیوی پانی لے کر کھڑی ہے، پوچھا: تم کب سے کھڑی ہو؟ اس صحابیہ عورت نے جواب دیا کہ جب آپ نے پانی مانگا تھا میں پانی لے کر آئی تو آپ آرام فرماچکے تھے اس لیے میں نے آپ کو جگاکر آپ کے آرام میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور سونا بھی گوارا نہ کیا کیونکہ میں نے سوچا کہ ممکن ہے پھر آپ کی آنکھ کھلے اور آپ کو پانی کی طلب ہو اور کوئی پانی دینے والا نہ ہو، کہیں خدمت گزاری اور وفا شعاری میں کوتاہی نہ ہوجائے اس لئے میں ساری رات پانی لے کر کھڑی رہی۔ جب اس عورت نے یہ کہا کہ میں ساری رات کھڑی رہی تو اس صحابی کی حیرت کی انتہانہ رہی وہ فوراًاٹھ کر بیٹھ گئے اور عجیب خوشی کی کیفیت میں اپنی بیوی سے کہنے لگے کہ تم نے خدمت کی انتہا کردی، اب میں تم سے اتنا خوش ہوں کہ آج تم مجھ سے جو مانگو گی میں دوں گا، صحابیہ نے کہا مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس تم راضی اور خوش رہو، لیکن جب صحابی نے بار بار اصرار کیا تو عورت نے کہا اگر ضرور میرا مطالبہ پورا کرنا ہے تو مہربانی کرکے مجھے طلاق دے دو، جب اس نے یہ الفاظ کہے تو اس صحابی کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی ہو، وہ ہکے بکے اور حیران رہ کر اپنی بیوی کا منہ دیکھنے لگے کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔اس نے کہا اتنی خدمت گزار بیوی آج مجھ سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہو، اس نے کہا چونکہ میں وعدہ کر چکا ہوں اس لئے تیرا مطالبہ تو پورا کروں گا لیکن پہلے چلتے ہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، آپ سے مشورہ کے بعد جو فیصلہ ہوگا اسی پر عمل کروں گا۔ چنانچہ صبح صادق کا وقت ہوچکا تھا یہ دونوں میاں بیوی اپنے گھر سے نکل کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کی طرف روانہ ہوگئے، راستے میں ایک گڑھے میں صحابی کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر گئے، اس کی بیوی نے ہاتھ پکڑ کر صحابی کو اٹھایا اور کہا آپ کو چوٹ تو نہیں آئی، صحابی نے کہا: اور تو کچھ نہیں البتہ پاؤں میں تکلیف ہے۔ صحابیہ عورت نے فرمایا: چلو واپس گھر چلیں، صحابی نے کہا اب تو قریب آچکے ہیں، صحابیہ کہنے لگیں، نہیں واپس چلو، چنانچہ جب واپس گھر آئے تو صحابی نے پوچھا کہ مجھے توسمجھ نہیں آئی کہ ساراماجرا کیا ہے، صحابیہ نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ جسے ساری زندگی میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے ایمان میں شک ہے کیونکہ جو بھی ایمان دار ہوتا ہے وہ ضرور تکلیف میں آزمایا جاتا ہے، مجھے تو آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ۱۵ سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن آپ کو کبھی سر میں بھی درد نہیں ہوا، اس لیے مجھے شک ہوگیا اور میں نے سوچا کہ ایسے آدمی کے نکاح میں رہنے کاکیا فائدہ ہے جس کا ایمان مشکوک ہے، اس لیے میں نے طلاق مانگی لیکن جب راستے میں آپ کے پاؤں میں چوٹ آئی تو میرا شک رفع ہوگیا کہ الحمد للہ آپ تکلیف میں آزمائے گئے اور آپ نے اس تکلیف پر صبر کیا۔ 


تشہد سے متعلق واقعہ کی تحقیق

Sep 24 2020
16
0
 درج ذیل سوال وجواب کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کیا یہ درست ہے؟ 
سوال: اس قصے کی کیا حقیقت ہے کہ "التحیات" کا لفظ اس وقت استعمال کیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کےلیے آسمان پر تشریف لے گئے اور جس وقت آپ سدرۃ المنتہی پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ والطَّيِّبَاتُ"۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" پھر فرشتوں نے کہا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ" یہ قصہ اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو "التحیات" یاد کروانے کیلیے بتلایا جاتا ہے۔
جواب: اس واقعے کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ کوئی سند ہے، ہمیں ثابت شدہ احادیث میں اس سے متعلق کوئی نام و نشان نہیں ملا، لیکن واقعۂِ معراج مکمل تفصیلات کےساتھ صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتابوں میں ثابت شدہ ہے، اس کے با وجود نماز کے تشہد سے متعلق ایسی کوئی بات ان میں ذکر نہیں کی گئی، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ تشہد صحابہ کرام کو سکھایا تو اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیلات بیان نہیں فرمائیں۔ چنانچہ صحیح بخاری: (6328) اور مسلم: (402) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  سے روایت کرتے ہیں کہ  "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کہا کرتے تھے: اللہ تعالی پر سلامتی ہو، فلاں پر بھی سلامتی ہو،  تو ایک بار ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالی تو بذاتِ خود ہی سلامتی ہے، اس لیے جب بھی کوئی تشہد میں بیٹھے تو یوں کہا کرے: (اَلتَّحِيَّاتُ للهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) [تمام زبانی، بدنی، اور مالی عبادات اللہ تعالی کےلیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی ، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں]  (جب ایسے کہے گا تو آسمان و زمین میں موجود اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں تک  نمازی کی دعا پہنچ جائے گی، یہ کہنے کے بعد جو مانگنا چاہے سو مانگ لے)" 
ہمیں زیادہ سے زیادہ اس واقعہ کے بارے میں (سَلامٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ) نہایت رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے تم پر  سلامتی ہو آیت کے تحت چند تفسیر کی کتابوں میں یہ بات ملی ہے کہ:
"مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے اشارہ ہے اللہ تعالی کے اس سلام کی طرف جو شب معراج کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر اللہ تعالی نے فرمایا تھا: "السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" [اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمتیں اور برکتیں ہوں] تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلام کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا تھا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ" [ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو]" انتہی (روح  از علامہ آلوسی" (3/38))
 اسی طرح چند شارحینِ حدیث  نے تشہد کی دعا ذکر کرتے ہوئے جو شرح   کی ہے  وہاں اس سے ملتی جلتی بات ملتی ہے، جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی  نے "شرح سنن ابو داود" (4/238)  میں ذکر کی ہے، نیز ملا علی قاری نے اسے "مرقاۃالمفاتیح" میں ابن الملک سے نقل کیا ہے۔ اسی طرح یہ واقعہ کچھ فقہ کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہےمثال کے طور پر "تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق" (1/121) اسی طرح قسطلانی اور شعرانی جیسے صوفیوں کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے۔ لیکن کسی نے بھی اس واقعہ کو سند کے ساتھ ذکر نہیں کیا، اس لیے اس واقعہ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا درست نہیں ہے، بالکل اسی طرح یہ واقعہ بچوں کو بھی نہیں سکھانا چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی تمام احادیث کو بیان کرنا حرام ہے، صرف ایک صورت میں بیان کرنا جائز ہے جب ان احادیث کی حقیقت عیاں کرنا مقصود ہو اور ان سے لوگوں کو خبردار کرنا  ہو۔


قرب فتنہ دجال والی حدیث کی وضاحت

 درج ذیل حدیث کی کچھ تشریح عنایت فرمائیں اس کا کیا مطلب ہےکہ قبروں میں فتنہ دجال کے پاس آزمائے جاؤ گے؟ کیا قبر کا عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو فتنہ دجال کے آس پاس مریں گے یا تمام مرے ہوئے لوگوں پر اس زمانے میں عذاب ہوگا یا یہ کوئی اور ہی فتنہ ہے جس کا یہاں علم دیا جا رہا ہے؟

عَن أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَقول قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ خَطِيبًا فَذكر فتْنَة الْقَبْر التِي يفتتن فِيهَا الْمَرْءُ فَلَما ذَكَرَ ذَلِكَ ضَج الْمُسْلِمُونَ ضَجةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ هَكَذَا وَزَادَ النسَائِيُّ: حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ فلما سَكَنَتْ ضَجتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ؟ قَالَ: «قَدْ أُوحِيَ إِلَي أَنكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا من فتْنَة الدجال» رواه البخاری (1373) و النسائی (103 ، 104) 

ترجمہ: ’’حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فتنہ قبر کا ذکر فرمایا جس میں آدمی کو آزمایا جائے گا، پس جب آپ ﷺ نے اس کا ذکر فرمایا تو مسلمان زور سے رونے لگے۔‘‘

 امام نسائی نے اضافہ نقل کیا ہےکہ یہ رونا میرے اور رسول اللہ ﷺ کا کلام سمجھنے کے مابین حائل ہو گیا، جب ان کا یہ رونا اور شور تھما تو میں نے اپنے پاس والے ایک آدمی سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کلام کے آخر میں کیا فرمایا؟ اس نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے وحی کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ تم قبروں میں فتنہ دجال کے قریب قریب آزمائے جاؤ گے۔‘‘ 


میت کی طرف سے قربانی کرنا

بعض حضرات کہتے ہیں کہ میت کے طرف سے قربانی جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے جو امت کے طرف سے قربانی کی تھی وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، محدثین کے اقوال سے اس پر دلیل دیتے ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قربانی کرنے والی روایت کو محدثین کے اقوال کی روشنی میں ضعیف کہتے ہیں۔ اس کی تحقیق بھیج دیں، کیا واقعی اسی طرح ہے؟ ان روایتوں کے خاص اور ضعیف ہونے کا کیا جواب ہوگا؟