May
13
2020
ایک ویڈیو بیان موصول ہوا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’مزارعت فقہ حنفی، امام ابوحنیفہ، امام شافعی وغیرہم رحمہم اللہ کے نزدیک حرام مطلق ہے، جس کی زمین ہے وہی کاشت کرے یا پھر زمین کسی دوسرے مسلمان بھائی کے حوالے کردے اور پھر اس سے کچھ نہ لے، متعدد احادیث میں یہ بات آئی ہے ۔ زمین میں مضاربت ممکن ہی نہیں ہے۔‘‘ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ بات درست ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
امام ابو حنیفہؒ مزارت کے عدم جواز کے قائل ہیں اور امام شافعی ومالک رحمہما اللہ تنہا مزارعت کے معاملے کو ناجائز کہتے ہیں، لیکن باغات کے ضمن میں وہ بھی جواز کے قائل ہیں۔ نیز امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہمااللہ تعالی،امام احمد اسحاق بن راہویہ اور دیگر ائمہ مزارعت کے جواز کے قائل ہیں اور بہت سی احادیث اور آثار صحابہ سے مزارعت کا جواز ثابت ہوتا ہے اسي وجه سے احناف كا مفتي به قول مزارعت كے جائز هونے كا هي هے۔عدم جواز کے قائلین کا موقف درج ذیل بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے:
حدیث شریف میں ہے۔ عن جابر، «أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المخابرة». (مسلم، كتاب البيوع، باب كراء الارض) ترجمه:’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا‘‘۔
ایک اور روایت میں ہے:عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من لم يذر المخابرة فليؤذن بحرب من الله ورسوله". (السنن الكبري للبيهقي،كتاب المزارعه، باب ما جاء في النهي عن المخابرة والمزارعة) ترجمہ:’’ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جس نے مزارعت کو نہ چھوڑا وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جائے‘‘۔
جواز کے قائلین ائمہ کے دلائل درج ذیل ہیں:
بخاری شریف میں ہے: عن أبي جعفر، قال: «ما بالمدينة أهل بيت هجرة إلا يزرعون على الثلث والربع» وزارع علي، وسعد بن مالك، وعبد الله بن مسعود وعمر بن عبد العزيز، والقاسم، وعروة، وآل أبي بكر، وآل عمر، وآل علي، وابن سيرين وقال عبد الرحمن بن الأسود: «كنت أشارك عبد الرحمن بن يزيد في الزرع» وعامل عمر، «الناس على إن جاء عمر بالبذر من عنده فله الشطر، وإن جاءوا بالبذر فلهم كذا» وقال الحسن: «لا بأس أن تكون الأرض لأحدهما، فينفقان جميعا، فما خرج فهو بينهما». (صحيح البخاري، كتاب المزارعة، باب المزارعة بالشطر ونحوه) ترجمه:’’حضرت ابو جعفر سے مروی ہے فرمایا: مدینہ میں ہجرت کرنے والوں کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا جو ثلث یا ربع کی شرط پر مزارعت نہ کرتا ہو حضرت علی ، سعد بن مالک، عبد اللہ بن مسعود عمر بن عبد العزیز ، عروہ اور حضرت ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ عنہم کی اولادوں نے مزارعت كا معاملہ کیا اور عبد الرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن یزید کے ساتھ کھیتی باڑی کے معاملے میں شریک تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا کہ اگر بیج عمر کا ہو تو ان کے لئے آدھا اور اگر بیج دوسرے لوگوں کا ہو تو ان کے لئے اتنا اتنا .حسن فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں کہ زمین کسی ایک کی ہو پس دونوں اس میں خرچ کریں جو حاصل ہو وہ ان کے درمیان تقسیم ہو جائے‘‘۔
لہذا معلوم ہوا کہ مزارعت جلیل القدر صحابہ و تابعین کے ہاں جائز تھی اور جن روایات میں نہی وارد ہوئی ہے اس كي توجيه اس طرح کی گئی ہے کہ یہ نہی تنزیہی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس معاملہ میں کافی جھگڑے آنے لگے تھے اس لئے منع فرمایا ، یا پھر لوگ کھیتی باڑی میں لگ کر جھاد سے نہ رک جائیں اس لئے منع فرمایا۔
ان النهي كان محمولا عنده علي التنزيه ترغيبا في مكارم الاخلاق...منها انهم كانوا يتنازعون في كراء الارض حتي افضى لهم التقاتل...منها انه كره لهم الافتتان بالحراثة والحرص عيلها والتفرغ لها فيقعدهم عن الجهاد في سبيل الله.(المواهب اللطيفة شرح مسند الامام ابي حنيفة، المجلد الخامس، كتاب المزارعة)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4225