دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں لندن میں رہتا ہوں اور میری بیوی پاکستان میں۔ میں نے ایک مرتبہ بیوی کو میسج لکھ کر بھیجا کہ ’’میں تمہیں ہمیشہ کےلیے چھوڑ رہا ہوں‘‘ ان الفاظ سے میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اب مجھے بتائیے کیا اس سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا پانی پر یا کسی کھانے کی چیز پر پھونک کر پینا، پلانا یا کھانا،کھلانا شرعی طور پر درست ہے؟ علماء اکثر پانی پھونک کر مرض کی شفاء کے لیے مریض کو دیتے ہیں؟ ایک صاحب ابو داؤد کی کسی حدیث کا حوالہ دے رہے تھےکہ یہ غلط ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ وضاحت فرمادیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارا سونے کا کاروبار ہے، لوگ ہمیں سونے سے بنی ہوئی چیزیں دیتے ہیں اور ہم انہیں ان کے خالص سونے کے بقدر جتنا سونا بنتا ہے دیتے ہیں مثلا ہمیں وہ دو گرام سونےکی چیز دیتے ہیں جس کا خالص ڈیڑھ گرام ہوتا ہے تو ہم انہیں ڈیڑھ گرام سونا دیتے ہیں تو کیا یہ کاروبار اس طریقے سے جائز ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سنن ابی داؤد کی درج ذیل روایت میں چند سوالات ہیں:
۱۔ اس روایت اور اس جیسی روایات کیا درجہ صحت کو پہنچتی ہیں؟
۲۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کرناکہ ’’ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ ‘‘ کیا آپ ان کی وفات کو مصیبت سمجھتے ہیں اور حضرت مقدام کا سخت جواب دینااس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت معاویہ وفاتِ حضرت حسن کو ہلکا لے رہےتھے اور حضرت معاویہ کے دل میں حضرت حسن کا کوئی خاص مقام نہیں تھا، اس بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کیا فرماتے ہیں؟
۳۔حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے بقول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں سونا، ریشم اور درندوں کی کھالیں استعمال میں لائی جاتی تھیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیے۔
۴۔ حضرت معاویہ کی موجودگی میں ان کے ساتھی اسدی نے حضرت حسن کے بارے میں یہ کہا کہ ’’انگارہ تھا جو بجھ گیا‘‘ اور حضرت مقدام اس پر غصہ ہوئے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضرت معاویہ کے ہوتے ہوئے حضرت حسن کی بارے میں اس طرح کی بات کی جائے۔
سنن ابی داود کی روایت یہ ہے:حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً، وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: «هَذَا مِنِّي» وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ، وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔ (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
1۔ صدقۃ الفطر دیتے ہوے ہر روزے کا الگ الگ دینا ہوگا یا ایک ہی؟ مثلا: اگر گندم کے حساب سے دیں تو کیا پورے رمضان کا 100 روپیہ دیں یا پھر 3000 روپے دیں ہر روزے کا ٹوٹل کرکے؟
2۔ اگر میرے ابو مجھ سے کہیں کہ میں نے آپ کا صدقہ الفطر دے دیا ہے تو کیا میں اس کی تحقیق کروں ؟ کہ کہیں وہ بھول تو نہیں گئے وغیرہ۔ اگر ہاں تو کیسے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا کسی نبی، ولی یا اللہ کی کسی صفت کے طفیل مانگنا جائز ہے؟ جیسے : یااللہ آپ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم پر رحم کیجیے۔ یا آپ اپنی شان غفاری کی صدقے رحم کیجیے یا فلاں ولی کے صدقے رحم کیجیے۔۔۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا ايك دوست لوگوں سے انویسٹمنٹ لے كر كاروبار کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر تم کسی کو اس کام میں لگاؤگے تو تمہیں بھی آخر میں کمیشن ملے گا۔ میں نے ایک دوست کو اس کام میں لگایا تو اب جو مجھے کمیشن ملے گا کیا مجھے اپنے دوست کو بتانا ضروری ہوگا کہ آپ کو اس کام میں لگانے کی وجہ سے یہ کمیشن مل رہا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میری دادی نے کچھ پیسے قومی بچت بینک میں رکھوائے ہوئے ہیں، اس بینک سے ان کے پاس ہر ماہ منافع آتا ہے۔ میری دادی بیوہ ہیں، جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ دادا کی پنشن سے بھی کچھ رقم ان کے پاس آتی ہے، کیا یہ رقم جو قومی بچت بینک سے حاصل کی گئی ہے، حلال ہے یا حرام؟ کیا یہ رقم صرف اس شخص کےلیے حرام ہے جس کے نام پر قومی بچت بینک میں اکاؤنٹ بناہوا ہے یا سب کے لیے؟ مثلا اگر دادی رقم حاصل کرکے اپنی اولاد کو دےدیں جس سے ان کے معاملات زندگی بحال ہوجائیں یا مدد ہوجائے یا اپنے گھر والوں کےلیے فرنیچر دلوادیں یاکسی کو مدد کی نیت سے دےدیں تو کیا یہ رقم وصول کرنے والے پر بھی حرام ہوگی؟اس رقم سے اگر وہ گھر کےلیے راشن دلوادیں تو کیا گھر کے باقی افراد کے لیے بھی یہ حرام ہوگا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱:والدین کی وراثت میں ایک بھائی اور دو بہنوں کے درمیان سو روپے کس طرح سے تقسیم کرنا ہے؟
سوال نمبر۲: اگر غیر شادی شدہ بھائی کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کی وراثت میں ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں تو ان کے درمیان سو روپے کی تقسیم کیسے ہوگی؟ ان ایک بھائی ، دو بہنوں میں ایک غیر شادی شدہ ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں نے خواب دیکھا کہ میری فیملی ایک صحن میں بیٹھی باتیں کررہی ہے، اچانک ابو کہتے ہیں کہ ’’نبوت کیا پتہ ختم نہ ہوئی ہو ابھی اور بھی نبی آنے والا ہو‘‘، میں کھڑی ہوکر ابو کے پاس جاتی ہوں اور کہتی ہوں کہ کیا آپ اپنے ہوش وحواس میں یہ بات کہہ رہے ہیں؟ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ آپ مرتد ہوجائیں گے وہ لڑتے ہیں کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہے، میں امی سے کہتی ہوں کہ امی آپ کا نکاح ابو سے اسی وقت ختم ہوگیاہے اب ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے، اتنے میں ابو سے میری ہاتھاپائی ہوجاتی ہے، ابو کے ہاتھ میں چھری ہے وہ مجھےمارنا چاہتے ہیں مگر امی آکر ابو کے ہاتھ سے چھری گرادیتی ہیں اور وہ چھری میرے ہاتھ میں آجاتی ہے، میں ابو کی گردن میں ہلکی سی ضرب لگاتی ہوں تو ابو بےہوش ہوکر گر جاتے ہیں، پتہ چلتا ہے کہ ابو کا قتل میرے ہاتھوں ہوچکا ہے، پھر میں اپنے ہاتھوں پر ہتھکڑی لگتے اور جیل جاتے دیکھتی ہوں مگر ذہن میں یہی ہے کہ نبوت کی خاطر جیل بھی برداشت ہے۔ اس خواب کی تعبیر ارشاد فرمادیں۔