Menu

Fatawaa

مسئلہ طلاق

May 07 2020

میری بیوی اپنے بھائی کے گھر ملنے کےلیے ٹیکسلا گئی، جب وہاں پہنچی تو اس نے مجھ سے مطالبہ کیاکہ اگر تو میانوالی یا قمرشانی جگہ لے تومیں آؤں گی ، اگر جلال پور میں لےگا تو میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اگر تجھے منانے میں یا میری ماں یا میرا بھائی یا کوئی بھی میری طرف سے تیری ماں یا تیرے بھائی یا بہن کے پاس گئے تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہوگی، میں حلفًا کہتا ہوں کہ میں نے یہ الفاظ صرف ایک مرتبہ کہے ہیں۔ اس واقعہ سے قبل بھی میں ایک طلاق دے چکا ہوں۔طلاق کو ان الفاظ (میری طرف سے طلاق ہوگی) کے ساتھ معلق کرنے سے طلاق ہوگی یا دھمکی طلاق ہے؟ اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیے۔
الجواب باسم ملهم الصواب
پہلی طلاق جس کا سوال میں ذکر ہے، اس سے عدت میں رجوع ہوچکا تھا یا دوبارہ نکاح ہوا ہے، بہرحال اگر دوسری طلاق معلق کرتے وقت دونوں کا نکاح برقرار ہے تو معلق طلاق کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کے بعد شرط پائی گئی تو اس سے دوسری طلاق واقع ہوئی ہے اور اگر شرط نہیں پائی گئی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4335