ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
قیامت آئے گی ، اور اس سے آگے اس کی نشانیاں ، تو علم اٹھا یا جائے گا لیکن سینوں سے نہیں بلکہ شہروں سے اور ہم نے شہر وں میں عالِموں کو علم سمیت اٹھتے دیکھا تو شہروں کو روتا پایا ۔ آخر موت پہ رونا کس کو نہیں آتا اور عالِم کے اٹھنے کو عالَم کی موت یونہی تو نہیں کہا گیا ، ظلمت کو موت یا جَہل سے تشبیہ دی جائے اور ظلمت کدے کوگو رستان سے، تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور نور کو علم یا روحِ زندگی سے تعبیر کیا جائے تو اچھا ہی ہے اس لیے کہ وحی ربانی میں اس طرح کے اشارے بے شمار ملتے ہیں:﴿أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ﴾’’ارے دیکھو جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو روشنی دی جسے لیے وہ لوگوں میں پھرتا ہے کیا اس کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیریوں میں ہے‘‘ ۔صاحب زاد المسیر رحمہ اللہ نے نور کی تفسیر میں تین اقوال نقل کیے ہیں: ہدایت ،قرآن پاک اور عِلم ، اور ظاہر ہے ان تینوں تعبیرات میں کوئی تباین نہیں ہے ۔
ماہ نامہ مفاہیم - مولانا محمد اقبال
اس بحث سے یہ بات پتا چلی کہ مذکورہ ا ٓیت میں سیئہ سے مرادشرک و کفر ہے،اور یہی اہل سنت والجماعت کے مذہب کے مطابق ہے۔اس سے عام کبائر مراد نہیں لیے جاسکتے جیسا کہ معتزلہ اور خوارج کامذہب ہے۔اوراس آیت مبارکہ کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہےکہ اس میں اہل کفر کے انجام سے بحث ہوئی ہے،اہل ایمان کے متعلق سرے سے بحث ہی نہیں ہورہی۔امام نسفی تفسیر میں لکھتے ہیں:إذا مات مؤمناً فأعظم الطاعات وهو الإيمان معه فلا يكون الذنب محيطاً به فلا يتناوله النص ’’جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے تو طاعتوں میں سب سے بڑی طاعت یعنی ایمان اس کے ساتھ ہوتا ہے ،تو گناہ اسے احاطہ نہیں کر سکتا ۔پس اس پراس آیت کا اطلاق نہیں ہو سکتا‘‘۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اللہ تعالی کے نظر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے جسموں ، مالوں اور ظاہری صورتوں پر اللہ نظر اعتبار یعنی قدر و قیمت کا جانچنے کی نظر سے نہ دیکھے گا کیونکہ اس کی نگاہ میں جسموں کی مضبوطی اور ظاہری خوبصورتی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے جب تک ان کے ساتھ حسن سیرت نہ ہو ۔اسی طرح اللہ کی نظر میں مال و دولت کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ صدقات و انفاق اور اعمالِ صالحہ نہ ہوں۔ پس اللہ تعالی کی نظر میں اصل اہمیت تمہارے اعمال اور قلوب کی ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اب تک کی بحث میں ہم نے سمجھا کہ علم دین یا فقہ فی الدین کے تین شعبے ہیں یعنی علم الاعتقاد یا علم الکلام ، علم الاحکام یا علم الاعمال اور علم الاخلاق یا تزکیہ نفس و احسان ۔ دوسری اہم بات یہ سمجھیے کہ ان تینوں شعبوں کا اتنا علم کہ جس کی روشنی میں انسان اپنے اعتقاد ، اعمال اور اخلاق کی اصلاح کر سکے ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ انہی تین شعبوں کا اتنا علم کہ جس سے دوسروں کی رہنمائی کی جا سکے تمام امت پر فرض کفایہ ہےالبتہ اس فرض کفایہ کا اہتمام کرنا اولو الامر کی ذمے داری ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں پر اولو الامر کی اطاعت لازمی قرار دی ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - حافظ حماد احمد ترک
حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ علمی میدان میں جس طرح اکابر علماء کے دبستانوں سے مستفیدہوئے تھے اسی طرح ان علوم و فنون کو اپنے تلامذہ میں منتقل فرما یا ۔ آپ رحمہ اللہ بلاشبہہ جامع العلوم والفنون تھے۔ آپ کے علمی مرتبے کی ایک جھلک حضرت تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہ کے رسالے ’’میرے والد - میرے شیخ ‘‘ میں نظر آتی ہے۔ آپ رحمہ اللہ کے شخصی ذوق کی پہچان حضرت تقی صاحب مد ظلہ سے زیادہ ہو بھی کس کو سکتی ہے، چنانچہ ذیل میں نقل ہونے والے اکثر واقعات موصوف محترم ہی کے رسالے سے ماخوذ ہیں۔
ماہ نامہ مفاہیم - ڈاکٹر محمد رشید ارشد
ہم اہل علم و صلاح سے یہ جملہ آئے روز سنتے رہتے ہیں کہ عصر موجود ، دور فِتَن ہے ۔ اگر ہم اپنے اسلاف کی چار سو سال پرانی تصنیفات پڑھیں چاہے آٹھ سو سال پرانی ، ہر جگہ ایک بات آپ کو مشترک لگے گی کہ زمانہ بہت خراب ہوگیا ہے ، بہت فتنوں کا دور ہے اور جیسے قرب قیامت کی علامتیں ظاہر ہوگئی ہیں۔ آج کے لوگ اس بات کو مذاق اور تفنن کا ہدف بنالیتے ہیں کہ یہ عجیب سی بات ہے کہ اُن کو آٹھ سوسال پہلے فتنےاور آثار قیامت نظر آتے تھے اور آج بھی انھیں یہی کچھ سوجھ رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی رفیقِ اعلی کی طرف مراجعت کے ساتھ ہی وحی آسمانی کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا ۔ وحی متلو اور وحی غیر متلو کا ایک ذخیرہ آپﷺ چھوڑ گئے ۔ اس وحی کو تا قیام قیامت انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ قرار دیا ہے اسی لیے یہ امانت ان تک لفظا و معنا منتقل کرنے کی ضرورت تھی ۔﴿بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ﴾کے فحوی کے مطابق علماء کو اس ذمے داری پر فائز کیا گیا۔ یہ ذمےداری اس حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ﴾’’بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں ‘‘ اور آپﷺ سے یہ بھی یہ روایت ہے:
ماہ نامہ مفاہیم - فتاوی یسئلونك
سوال: ایک روایت ہے کہ عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، وہاں لڑکیاں گانا گارہی تھیں، میں نے کہا: آپ دونوں رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور اہل بدر میں سے ہیں، اور یہ کچھ (گانا) آپ کے سامنے ہورہا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: اگر چاہو تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر سنو اور چاہو تو چلے جاؤ، ہمیں شادی کے موقعے پر لہو کی رخصت دی گئی ہے۔ کیا یہ روایت مستند ہے؟ اور اگر مستند ہے تو اس کی وضاحت فرمادیں۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
جہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ اس سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کسی عام آدمی کو نہیں چاہیے کہ وہ قانون کا نفاذ خود کرتے ہوئے کسی گستاخ کو خود قتل کرے بلکہ چاہیے کہ پولیس کو اطلاع دے کر یہ سمجھے کہ اس نے اپنی ذمے داری ادا کر دی البتہ حکومت اور انتظامیہ کو یہ ذمےداری احسن طریقے سے ادا کرنی چاہیے اور اس حساسیت کا اندازہ کرنا چاہیے جو بالکل صحیح طور پر ناموس رسالت کے بارے میں مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
بعض حلال و حرام وہ ہیں جو بالکل واضح ہیں جیسے روٹی ،پانی ، پھل اور میوے کا حلال ہونا اور شراب ، خنزیز کا گوشت ،زنا اور جھوٹ وغیرہ کا حرام ہونا،ان کی حلت و حرمت سب پر واضح ہے ۔ ان دونوں (یعنی حلالِ محض اور حرام ِ محض) کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ۔بہت سارےلوگ (یعنی عوام الناس ) ان(مشتبہ امور) کا حکم نہیں جانتے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اور امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے غور و فکر اور اجتہاد سے مشتبہات کا حکم معلوم کر کے بعض پر حلال اور بعض پر حرام کا حکم لگاتے ہیں اور یہ علماے راسخین اور مجتہد ین ہوتے ہیں۔ اب عام لوگوں کو بھی مجتہدین کے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے ۔ البتہ جو چیز باوجود اجتہاد کےمجتہدین پر بھی مشتبہ ہی رہے تو اس سے سبھی لوگوں کو دور رہنا چاہیے۔
ماہ نامہ مفاہیم - ڈاکٹر محمد رشید ارشد
یہ دور کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں اس کے بارے میں اکثر ہم سنتے ہیں کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ ایمان اور عملِ صالح کے حوالے سے یہ مشکل وقت ہے۔ ایک بات تو خیر ہمیں معلوم ہونی ہی چاہیے کہ انسان کے نفس میں شر کا پہلو ہمیشہ سے رہا ہے اور وہ خِلقی ہے۔ خِلقی ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس کے اندر کچھ داعیات اور جبلتیں رکھی ہیں۔مثلا جنس کی جبلّت ہے،بھوک کی جبلّت ہے،ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا جذبہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کوبنایا، اور اس کی مرکزی مخلوق انسان ہے جس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ انسان اس میں رہے بسے، زندگی اور اپنی نسل کو جاری رکھے تاکہ اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - حافظ حماد احمد ترک
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ۲۰ شعبان ۱۳۱۴ھ بہ مطابق جنوری ۱۸۹۷ء کو دیوبند میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے دادا نے محمد مبین نام رکھا لیکن جب حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کو اطلاع ہوئی تو آپ رحمہ اللہ نے محمد شفیع نام تجویز کیا۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ رحمہ اللہ کے والدِ ماجد مولانا محمد یٰسین صاحب عثمانی دیوبندی رحمہ اللہ دار العلوم دیوبند میں فارسی کے مدرس تھے اور ایک عالم ِباعمل اور صاحبِ کمالات بزرگ تھے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ:’’ہم نے دارالعلوم کا وہ وقت دیکھا ہے جس میں صدر مدرس سے لے کر ادنیٰ مدرس تک اور مہتمم سے لےکر دربان اور چپڑاسی تک سب کے سب صاحب نسبت بزرگ اور اولیاء اللہ تھے۔ دارالعلوم اس زمانے میں دن کو دارالعلوم اور رات کو خانقاہ معلوم ہوتا تھا کہ اکثر حجروں سے شب میں تلاوت اور ذکر کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ‘‘۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ دیتا ہے اور بے شک میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی عطا کرتا ہے اور یہ امت اللہ کے امر پر اس طرح قائم رہےگی کہ اس کی مخالفت کرنے والا بھی انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہا ں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے‘‘۔
یہ ایک جامع حدیث ہے۔شیخ عبدالکریم الخضیر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح (کرنے یا سیکھنے ) میں ایک یا دو سال لگا دے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں اور اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح پر کوئی تصنیف کرے اور کل علم اس کے ذیل میں بیان کر دے تو تعجب کی بات نہیں جیسے کہ محدث ابن ہبیرہ نے اس حدیث کی شرح میں کل علم فقہ کو اس میں داخل کیا ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - مولانا معراج محمد
گردشِ ایام اور شامت اعمال کے سبب جب عالم اسلام، یورپی ملکوں کی کالونی بنا تو سیاسی و اقتصادی کے ساتھ ساتھ،اسے عقیدے و نظریے کی سطح پر بھی یلغار کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مغربی مصنفین نے مشرقی علوم پر تحقیق کی ٹھانی اور ایک شعبۂ علمی’’ استشراق‘‘ وجود میں آ گیا۔ جہاں ایک طرف بہت سارےمسلمان اہل علم، اپنے ’’ فاتحین ‘‘ کی علمیت سے متاثر ہوئے وہیں بعض رجال العلم نے اِن ’’قابضین ‘‘ سے علمی مناقشے کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے گزشتہ صدی میں جو نابغۂ روز گار شخصیات اسلامی دنیا میں پیدا ہوئیں ان میں ایک اہم شخصیت ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی رحمہ اللہ کی بھی ہے۔آپ علماے سلف کی طرح علم وعمل دونوں میدانوں کے شہسوار تھے۔ شام میں اخوان المسلمین کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی مگر ان کا اصل کارنامہ امت کا اپنی تہذیب و ثقافت پر اعتماد بحال کرنا، انھیں اپنے اسلامی تشخص پر فخر سکھانا اور مسلمانوں کے علوم اور تہذیب پر سے مستشرقین کی اڑائی ہوئی گردوغبار صاف کر کے اس کی حقیقی صورت سامنے لانا ہے۔زمانۂ طالب علمی میں ہی آپ نے مستشرقین پر کام شروع کیا اور آغاز ہی میں ان کی علمی کمزوریوں کو بھانپ گئے، جس کی تصدیق بعد کی علمی تحقیقات اور مستشرقین کے ساتھ نجی ملاقاتوں نے بھی کردی۔
ماہ نامہ مفاہیم - فتاوی یسئلونك
احناف کے ہاں بھی اس کی ضرورت موجود ہے کہ بار بار گستاخی کا ارتکاب کرنے والا عام مرتد نہیں بلکہ زندیق ہوتا ہے اور زندیق کی سزا صرف قتل متعین ہے اور عصر حاضر کے گستاخوں کا جو حال ہے اس کے پیشِ نظر ان کی سزا صرف قتل ہی متعین ہے۔ متقدمین کے زمانے میں گستاخیٔ رسول کسی مؤمن سے سرزد ہونا نا ممکن تھا اس لیے ذمی کی گستاخی کا حکم باب الجزیہ میں اور مسلمان کی گستاخی کا حکم باب المرتد میں ذکر فرمایا، جبکہ متأخرین کے ہاں یہ وبا عام ہوئی تو انھوں نے باب البغاۃ، باب الارتداد اور باب الجزیہ میں اس کی وضاحت فرما کر گستاخِ رسول کی سزا قتل متعین فرمائی۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
آپﷺ کی رسالت کے عموم کو بہت ہی عام رکھا گیا:﴿إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ﴾7’’زمین و آسمان کی ہر چیز مانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں سوائے ناہنجار جن وانس کے‘‘۔ محبتِ الٰہی کا ایک ظہور ﴿فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ﴾ کے الفاظ میں ہوا۔ اس ترکیب میں میں وارد’’چناؤ‘‘ کا معنی یوں بیان کیا گیا: أن يكون مَظْهَرَ صِفاتِه8’’تاکہ آپ اللہ کی صفات کے مظہر بن جائیں‘‘ تو آپ ﷺ بندۂ مولا صفات اور مظہر ِنورِ خدا ٹھہرے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
’’(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔ پھر بھی اگر یہ لوگ منھ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے‘‘۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اب عالم ِخلق میں آپ ﷺکے ظہور کا مرحلہ آتا ہے کہ ولادتِ با برکت کے موقعے پر جب آپ کا جسمِ اطہر ، تنِ مادر سے جدا ہوا تو ایک روشنی دکھائی دی گئی جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ یہ روشنی گویا آپ ﷺکے نور ِنبوت و ہدایت کا ایک استعارہ تھی اور شام کے محلات کے روشن ہونے میں یہ ایک طرف تو آپ ﷺکی نبوت کی وسعت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف یہ کہ آپ ﷺکی نبوت سے وقت کی مملکتیں ہلاک اور ان کے زیر سرپرستی فروغ پانے والے شرک و جہالت کے اندھیرے چاک ہو جائیں گے۔
ماہ نامہ مفاہیم - مولانا محمد اقبال
مشہور و معروف قول کے مطابق شہنشاہِ کونین ﷺ۱۲ ربیع الاول کو مکہ میں صبحِ صادق کے وقت ابوطالب کے مکان میں پیدا ہوئے ،لیکن جمہور مورخین اور محدثین کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ ولادتِ باسعادت کی تاریخ ۸ ربیع الاول یوم دوشنبہ، اپریل ۵۷۰ عیسویں ہے۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے یہی مروی ہے،1جبکہ علامہ شبلی رحمہ اللہ نے مصر کے مشہور ہیئت دان محمود پاشا کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضور ﷺکی ولادت ۹ ربیع الاول بروز دوشنبہ ، ۲۰ /اپریل ۵۷۱ عیسویں میں ہوئی۔ 2