Menu

Mafaheem

فتاویٰ یسئلونک دار الافتاء و الارشاد

Nov 26 2020

سوال:السلام علیکم!کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ فقہاے احناف گستاخِ رسول کی سزا قتل نہیں کہتے الا یہ کہ وہ مسلمان ہو جو ارتداد کی وجہ سے قتل کی سزا کا حق دار قرار پائے؟ کیا متقدمین حنفیہ اور متاخرین کی آرا اس سلسلے میں مختلف ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب:جمہور ائمہ کرام کے نزدیک گستاخِ رسول کی سزا قتل ہے اور اس رائے کے حامل حضرات شوافع اور متاخرین حنفیہ ہیں، جب کہ متقدمینِ حنفیہ کے ہاں گستاخِ رسول کافر ہے۔ اب اگر ذمی شانِ رسالت ﷺ  میں گستاخی کرے  تو وہ ہر قسم کی سزا کا مستحق ہے اور اگر مسلما ن نعوذ باللہ گستاخی  کا مرتکب ہو تو وہ مرتد ہو جاتا ہے اور مرتد  کے بارے میں راجح مسلک یہی ہے کہ اس سے توبہ طلبی کی جانی چاہیے۔ بس اسی وجہ سے  بظاہر فقہ حنفی میں دو آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ  گستاخِ رسول سے توبہ طلبی کی جائے  اور بغیر توبہ کا موقع دیے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ اس رائے کے حامل افراد میں امام ابو حنیفہ  ، امام ابو یوسف ، امام محمد ،امام ابو الحسن کرخی ، علامہ سعدی ،علامہ خیر الدین رملی ،علامہ ابن عابدین شامی  وغیرہ  فقہائے کرام علیہم الرحمہ شامل ہیں ۔دوسری رائے یہ ہے کہ گستاخِ رسول سے توبہ طلبی نہیں کی جائے گی بلکہ اس  کو بغیر توبہ کا موقع دیے قتل کر دیا جائے گا، اس رائے کے حامل حضرات میں علامہ بزازی ، محقق ابن ہمام ، صاحب خلاصۃ الفتاویٰ  ملا خسرو ، ابن نجیم ، شیخی زادہ ،علامہ عینی ، علامہ حصکفی ، عبدالقادر سندھی ،محقق عبدالرحمٰن صاحب   مجمع الانہر، علامہ ابو السعود رومی ، علامہ مصطفیٰ بن محمد الطائی ، قاضی عبدالواحد ، علامہ احمد طحطاوی ،علامہ انور شاہ کشمیری   اور علامہ ظفر احمد تھانوی  علیہم الرحمہ شامل ہیں۔علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ  نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا نام تنبیه الولاة و الحکام علی أحکام شاتم خیر الأنام ہے۔اس میں متعد د بار  بر سرِ عام گستاخیٔ رسول کے مرتکب کی سزا قتل تجویز کی ہے جبکہ جہالت یا دوسری نا معلوم وجوہات کی بنا پر ایک بار گستاخی کے مرتکب کی سزا قیدِ با مشقت  ذکر فرمائی ہےاور توبہ نہ کرنے پر عام مرتد کی طرح توبہ طلبی کے بعد قتل کا حکم تحریر فرمایا ہے۔

جدید  دور میں کچھ لوگوں کا خیال ہےکہ گستاخِ رسول  کی سزا صرف قتل تجویز کرنا در حقیقت فقہ حنفی سے عدول کرنے کے متراد ف ہے ۔ لہذا پاکستان کے آئین میں گستاخیٔ رسول کی سزا جو قتل تجویز کی گئی ہے وہ مبنی بر انصاف نہیں کیوں کہ یہ سزا در اصل ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے موافق  ہے  مذہبِ حنفی کے موافق نہیں ۔ یہ بات چند وجوہ کی بنا پر محل نظر ہے:

1۔احناف کے ہاں بھی اس کی ضرورت موجود ہے کہ بار بار گستاخی کا ارتکاب کرنے والا عام مرتد نہیں بلکہ زندیق ہوتا ہے اور زندیق کی سزا صرف قتل متعین ہے اور عصر حاضر کے گستاخوں کا جو حال ہے اس کے پیشِ نظر  ان کی سزا صرف قتل ہی متعین ہے۔ متقدمین کے زمانے میں گستاخیٔ رسول کسی مؤمن سے سرزد ہونا نا ممکن تھا  اس لیے ذمی کی گستاخی کا حکم  باب الجزیہ میں اور مسلمان کی گستاخی کا حکم باب المرتد  میں ذکر فرمایا، جبکہ متأخرین کے ہاں یہ وبا  عام ہوئی تو انھوں نے باب البغاۃ، باب الارتداد اور باب الجزیہ میں اس کی وضاحت فرما کر گستاخِ رسول  کی سزا قتل متعین فرمائی۔

2۔حالات کی وجہ سے احکامات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ بعد کے زمانے میں بالعموم اور آج کے زمانے میں بالخصوص جب کفر بامِ عروج کو پہنچ کر اسلام اور مسلمانوں کو جسمانی اور ذہنی غلامی میں گرفتار کر کے ان سے محبت رسول کا آخری آسرا بھی چھین لینے کی کوشش  میں لگے ہوئے ہیں۔ ان حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ گستاخیٔ رسول کی سزا صرف قتل ہی مقرر کی جائے۔

3۔بہت سے مسائل میں فقہاے احناف نے دوسرے مذاہب سے حکم نقل فرمایا  اور اس حکم کو اپنے مذہب کے قواعد کے خلاف نہ ہونے کی وجہ سے اپنا ہی مذہب قرار دیا جیسا کہ علامہ شامی رحمہ اللہ  نے بہت سے مسائل میں فقہ شافعی  سے کسی مسئلے میں کوئی جزئیہ نقل کر کے  اس کو اپنا مذہب اس وجہ سے قرار دیا کہ وہ قواعدِ مذہب حنفی کے خلاف نہیں اس طرح زوجۂ مفقود اور دوسرے عائلی مسائل میں دوسرے مذہب پر فتویٰ دیا گیا۔لہذا آج کےحالات اس بات کا تقاضہ  کر رہے ہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گستاخِ رسول کی سزا صرف قتل تجویز کی جائے۔

4۔فقہ حنفی کا ہی اصول یہ بھی  ہے کہ حکم ِحاکم رافعِ خلاف ہے۔ لہذا جب بفضلہ تعالیٰ پاکستان کے قوانین میں یہ قانون بنا دیا گیا کہ گستاخی کی سزا صرف قتل ہو گی تو متقدمین اور متأخرین کے اختلاف کو نقل کرنے اور لوگوں کو الجھانے  کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔

لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ گستاخِ رسول کے معاملے میں فی زمانہ متأخرین کے مسلک پر عمل کرنا ہی متعین ہے۔

سوال:شاتمِ رسولﷺ کی سزا کیا ہے ؟

جواب: شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا قتل ہے، مثال کے طور پر چند روایات ذکر کی جاتی ہیں:

﴿عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّﷺوَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّﷺوَتَشْتُمُهُ فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِﷺ فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ﴾ (سنن أبي داؤد، کتاب الحدود، باب الحكم فيمن سب النبيﷺ)

 ترجمہ:’’حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ ایک نابینا کی ام ولد (وہ باندی جس نے مالک کا بچہ جنا ہو) رسول اللہﷺ کو برا بھلا کہا کرتی تھی اور (نعوذ باللہ)  آپ کی برائی میں مشغول رہتی تھی۔ وہ شخص اسے اس سے منع کرتا تھا تو وہ باز نہ آتی تھی اور وہ اسے ڈانٹتا تھا لیکن وہ اس کی ڈانٹ نہیں سنتی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک رات جب وہ رسول اللہﷺ کی ہجو میں پڑی تھی اور آپﷺ کو برا بھلا کہہ رہی تھی تو اس کے نابینا مالک نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اس پر تکیہ لگا لیااور اسے قتل کردیا۔ اس عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ پڑا ہوا تھا تو وہ وہاں پر خون سے لتھڑ گیا۔  صبح کو جب رسول اللہﷺکے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں اس شخص کو جس نے اپنے اوپر میرا حق رکھتے ہوئے یہ فعل کیا ہے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے تو وہ نابینا کھڑا ہوگیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا لرزتا کانپتا ہوا آیا اور رسول اللہﷺکے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ یا رسول اللہﷺمیں اس عورت کا مالک ہوں وہ آپ کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ کی برائی میں پڑی رہا کرتی تھی میں اسے منع بھی کرتا تھا تو وہ باز نہ آئی تھی اور اسے ڈانٹا ڈپٹا تو اس پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور اس سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری بڑی اچھی ساتھی تھی گذشتہ رات وہ آپ کو برا بھلا کہنے لگی اور آپ کے بارے میں ایسی ویسی بات کہنے لگی تو میں نے خنجر لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر تکیہ لگا دیا۔ (زور لگایا) یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کردیا رسول اللہﷺنے فرمایا کہ خبردار گواہ رہو اس کا خون ہدر (بیکار اور لغو ہے اس کا قصاص نہیں لیا جائے گا)‘‘۔

﴿عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِﷺدَمَهَا﴾(سنن أبي داؤد، کتاب الحدود، باب الحكم فيمن سب النبيﷺ)

ترجمہ:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت رسول اللہﷺ کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ کی برائی میں پڑی رہتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتی کہ وہ مر گئی اور رسول اللہﷺ نے اس (عورت) کا خون ہدر (ضائع قرار) دے دیا‘‘۔

﴿عن ابن عمر قال: أتي عمر ابن الخطاب برجل سب رسول اللهﷺ، فقتله، ثم قال: من سب رسول اللهﷺ أو أحدا من الأنبياء فاقتلوه﴾ (کنزالعمال، حرف الفاء، کتاب الفضائل من قسم الأفعال، باب فضائل النبيﷺ، فضائلة متفرقة)

ترجمہ:’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو  جس نے آنحضرتﷺ پر سب و شتم کیا تھا  قتل فرمادیا اور پھر فرمایا: ’’جو بھی رسولﷺ پر یا کسی اور نبی پرسب و شتم کرےتو اسے قتل کر دیا جائے‘‘۔

فقہ حنفی میں شاتمِ رسولﷺ کی سزا کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ شخص جو اہانتِ رسولﷺ کا مرتکب ہو کر کافر ہوجائے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی معافی ہر گز قبول نہیں کی جائے گی۔(1 )

امام مالک علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں: جوشخص بھی حضورﷺ  کی توہین کرے، آپ پر عیب لگائےیا آپﷺ کی تنقیص کرے،مسلم ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی معافی قبول نہ کی جائے۔( 2)

امام شافعی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں کہ شاتمِ رسولﷺ کو قتل کیا جائے گا۔( 3)

امام احمد بن حنبل  علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں: جوشخص بھی حضورﷺ  کی توہین کرےیا آپﷺ میں نقص بیان کرے مسلمان ہو یا کافر اس کی گردن مار دی جائے اور اس سے معافی قبول نہ کی جائے۔( 4)

نیز آپﷺ نے فتحِ   مکہ کے وقت عام معافی کا اعلان فرمایا سوائے  ابن زبعرى ،كعب بن زہير،حويرث بن نقيد ، ابن خطل،ابن ابی معيط، نضر بن حارث وغیرہ۔( 5)کیونکہ ان تمام لوگوں کے من جملہ جرائم میں سے بنیادی جرم نبی اکرمﷺکی شانِ اقدس میں گستاخی تھا اور بادشاہِ وقت کی گستاخی پوری ریاست کی گستاخی تصور کی جاتی ہے اور نبی اکرمﷺ کی گستاخی پوری شریعت کی گستاخی کے مترادف ہے۔

حوالہ جات:

1۔الْكَافِرُ بِسَبِّ نَبِيٍّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ حَدًّا وَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ مُطْلَقًا(رد المحتار، کتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب توبة اليأس مقبولة)

(ب)( قوله لسبه للأنبياء ) المراد الجنس وإلا فهو قد سب نبيا واحدا ( قوله ويؤيده ) أي يؤيده قتل الكافر الساب (رد المحتار، کتاب الجهاد ، باب العشر والخراج۔۔۔، فصل في الجزية، مطلب فیما ینتقض به ۔۔۔)

2۔ وقال ابن القاسم عن مالك: من سب النبيﷺ قتل و لم يستتب قال ابن القاسم : أو شتمه أو عابه أو تنقصه فإنه يقتل كالزنديق و قد فرض الله توقيره۔ (الصارم المسلول لإبن تیمية، المسألة الرابعة في بیان السب المذکور۔۔۔، فصل ذکر بعض نصوص العلماء في کفر الساب)

(ب)و كذلك قال مالک في رواية المدنيين عنه: من سب رسول اللهﷺ أو شتمه أو عابه أو تنقصه قتل مسلما كان أو كافرا و لا يستتاب  (الصارم المسلول لإبن تیمية، المسألة الرابعة في بیان السب المذکور۔۔۔، فصل ذکر بعض نصوص العلماء في کفر الساب)

3 ۔وأما الشافعي فالمنصوص عنه نفسه أن عهده ینتقض بسب النبیﷺ وأنه یقتل (الصارم المسلول لإبن تیمية، المسألة الأولی أن من سب النبیﷺ من مسلم أو کافر۔۔۔، نص الإمام الشافعي)۔

4 ۔ قال الإمام أحمد : كل من شتم النبي عليه الصلاة و السلام أو تنقصه ـ مسلما كان أو كافرا فعليه القتل و أرى أن يقتل و لا يستتاب(الصارم المسلول لإبن تیمية، المسألة الرابعة في بیان السب المذکور۔۔۔، فصل ذکر بعض نصوص العلماء في کفر الساب)۔

5 ۔ و مما يبين ذلك أنه  قد كان أمر بقتل من كان يؤذيه بعد فتح مكة ـ مثل ابن الزبعري و كعب بن زهير و الحويرث بن نقيد و ابن خطل و غيرهم ـ مع أمانه لسائر أهل البلد و كذلك أهدر دم أبي سفيان بن الحارث و امتنع من إدخاله عليه و إدخال عبد الله بن أبي أمية لما كانا يقعان في عرضه ـ و قتل ابن أبي معيط و النضر بن الحارث دون غيرهما من الأسرى و سمى من يبذل نفسه في قتله ناصرا لله و رسوله و كان بندب إلى قتل من يؤذيه و يقول: من يكفني عدوي (الصارم المسلول لإبن تیمية، المسألة الثانية أنه یتعین قتله ولا یجوز استرقاقه۔۔۔، الحدود لا یقیمه إلا الإمام) ۔

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments