Menu

Mafaheem

All Posts Author: حافظ حماد احمد ترک

سوانحِ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (۲)

حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ علمی میدان میں جس طرح اکابر علماء کے دبستانوں سے مستفیدہوئے تھے اسی طرح ان علوم و فنون کو اپنے تلامذہ میں منتقل فرما یا ۔ آپ رحمہ اللہ بلاشبہہ جامع العلوم والفنون تھے۔ آپ کے علمی مرتبے کی ایک جھلک حضرت تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہ کے رسالے ’’میرے والد - میرے شیخ ‘‘ میں نظر آتی ہے۔ آپ رحمہ اللہ کے شخصی ذوق کی پہچان حضرت تقی صاحب مد ظلہ سے زیادہ ہو بھی کس کو سکتی ہے، چنانچہ ذیل میں نقل ہونے والے اکثر واقعات موصوف محترم ہی کے رسالے سے ماخوذ ہیں۔

سوانحِ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب

مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ۲۰ شعبان ۱۳۱۴ھ بہ مطابق جنوری ۱۸۹۷ء کو دیوبند میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے دادا نے محمد مبین نام رکھا لیکن جب حضرت گنگوہی   رحمہ اللہ کو اطلاع ہوئی تو آپ  رحمہ اللہ  نے محمد شفیع نام تجویز کیا۔ آپ کا سلسلۂ  نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ  رحمہ اللہ  کے والدِ ماجد مولانا محمد یٰسین صاحب عثمانی دیوبندی  رحمہ اللہ  دار العلوم دیوبند میں فارسی کے مدرس تھے اور ایک عالم ِباعمل اور صاحبِ کمالات بزرگ تھے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ:’’ہم نے دارالعلوم کا وہ وقت دیکھا ہے جس میں صدر مدرس سے لے کر ادنیٰ مدرس تک اور مہتمم سے لےکر دربان اور چپڑاسی تک سب کے سب صاحب نسبت بزرگ اور اولیاء اللہ تھے۔ دارالعلوم اس زمانے میں دن کو دارالعلوم اور رات کو خانقاہ معلوم ہوتا تھا کہ اکثر حجروں سے شب میں تلاوت اور ذکر کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ‘‘۔

نعت گوئی اور چند اردو نعت گو شعرا

نعت کی ابتدا تو سابقہ انبیا کے مبارک صحیفوں میں میرے آقا ﷺکی آمد کی اَخبار اور آپ ﷺکے اوصاف کے بیان سے ہو چکی تھی لیکن اسے عروج؛ قرآنِ مجید میں حاصل ہوا۔ چنانچہ کہیں﴿وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾ تو کہیں ﴿عَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم﴾ کہا گیا۔کہیں ﴿مَا وَدَّعَکَ﴾ اور ﴿مَا قَلیٰ﴾ سے دل جوئی کی گئی، تو کہیں ﴿اَنْتَ فِیْھِمْ﴾ سے آپﷺکی عظمت اجاگر کی گئی۔ کبھی ﴿لَقَدْ مَنَّ اللہُ﴾ پڑھا تو آپﷺکی قدر ومنزلت آنکھوں کے راستے درونِ قلب تک جا پہنچی اورکبھی ﴿لاتَرْفَعُوْا﴾ سنتے ہی تمام تر اجساد خاکی آپﷺکی تعظیم میں جھکتےچلے گئے۔ کہیں تو شارع نے دوٹوک الفاظ میں ﴿وَمَا اٰتَاکُمْ﴾ سے آپﷺکے اقوال و افعال کی حجیت کا اعلان کیا اور جب کبھی اپنی شانِ رحمت کے اظہار کے لیے نطق فرمایا توآپﷺرحمۃ للعلمین قرار پائے،اگرکہیں﴿اِنَّمَا اَنَا بَشَر﴾ سے عبدیت اور بشریت کی طرف اشارہ ہوا تو ﴿قَابَ قَوْسَیْن﴾کے ذکر سے اپنے بندے کو رفعتوں اور قربتوں کی معراج پر پہنچا دیا۔ صلی اللہ علی محمد!

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments