Menu

Mafaheem

All Posts Term: شمارہ نمبر 03
9 post(s) found

اداریہ

قیامت آئے گی ، اور اس سے آگے اس کی نشانیاں ، تو علم اٹھا یا جائے گا لیکن سینوں سے نہیں بلکہ شہروں سے اور ہم نے شہر وں میں عالِموں کو علم سمیت اٹھتے دیکھا تو شہروں کو روتا پایا ۔ آخر موت پہ رونا کس کو نہیں آتا اور عالِم کے اٹھنے کو عالَم کی موت یونہی تو نہیں کہا گیا ، ظلمت کو موت یا جَہل سے تشبیہ دی جائے اور ظلمت کدے کوگو رستان سے، تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور نور کو علم یا روحِ زندگی سے تعبیر کیا جائے تو اچھا ہی ہے اس لیے کہ وحی ربانی میں اس طرح کے اشارے بے شمار ملتے ہیں:﴿أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ﴾’’ارے دیکھو جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو روشنی دی جسے لیے وہ لوگوں میں پھرتا ہے کیا اس کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیریوں میں ہے‘‘ ۔صاحب زاد المسیر رحمہ اللہ نے نور کی تفسیر میں تین اقوال نقل کیے ہیں: ہدایت ،قرآن پاک اور عِلم ، اور ظاہر ہے ان تینوں تعبیرات میں کوئی تباین نہیں ہے ۔

درسِ قرآن

اس بحث سے یہ بات پتا چلی کہ مذکورہ ا ٓیت میں سیئہ سے مرادشرک و کفر ہے،اور یہی اہل سنت والجماعت کے مذہب کے مطابق ہے۔اس سے عام کبائر مراد نہیں لیے جاسکتے جیسا کہ معتزلہ اور خوارج کامذہب ہے۔اوراس آیت مبارکہ کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہےکہ اس میں اہل کفر کے انجام سے بحث ہوئی ہے،اہل ایمان کے متعلق سرے سے بحث ہی نہیں ہورہی۔امام نسفی تفسیر میں لکھتے ہیں:إذا مات مؤمناً فأعظم الطاعات وهو الإيمان معه فلا يكون الذنب محيطاً به فلا يتناوله النص ’’جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے تو طاعتوں میں  سب سے بڑی طاعت یعنی  ایمان اس کے ساتھ ہوتا ہے ،تو گناہ اسے احاطہ نہیں کر سکتا ۔پس  اس پراس آیت کا اطلاق نہیں ہو سکتا‘‘۔

درسِ حدیث ﷺ

اللہ تعالی کے نظر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ  تمہارے جسموں ، مالوں اور ظاہری صورتوں  پر اللہ  نظر اعتبار  یعنی قدر و قیمت کا جانچنے کی نظر سے نہ دیکھے گا  کیونکہ اس  کی نگاہ میں  جسموں کی مضبوطی  اور ظاہری خوبصورتی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے جب تک ان کے ساتھ حسن سیرت نہ ہو ۔اسی طرح اللہ کی نظر میں   مال  و  دولت کی  کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ  صدقات و انفاق اور اعمالِ صالحہ   نہ ہوں۔   پس اللہ تعالی کی نظر میں  اصل اہمیت  تمہارے اعمال اور قلوب کی ہے۔

تفقہ فی الدین (۲)

اب تک کی بحث میں ہم نے سمجھا کہ علم دین یا فقہ فی الدین کے تین شعبے ہیں یعنی علم الاعتقاد یا علم الکلام ، علم الاحکام یا علم الاعمال اور علم الاخلاق یا تزکیہ نفس و احسان ۔ دوسری اہم بات یہ سمجھیے کہ ان تینوں شعبوں کا اتنا علم کہ جس کی روشنی میں انسان اپنے اعتقاد ، اعمال اور اخلاق کی اصلاح کر سکے ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ انہی تین شعبوں کا اتنا علم کہ جس سے دوسروں کی رہنمائی کی جا سکے تمام امت پر فرض کفایہ ہےالبتہ اس فرض کفایہ کا اہتمام کرنا اولو الامر کی ذمے داری ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ  نے عام مسلمانوں پر اولو الامر کی اطاعت لازمی قرار دی ہے۔

سوانحِ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (۲)

حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ علمی میدان میں جس طرح اکابر علماء کے دبستانوں سے مستفیدہوئے تھے اسی طرح ان علوم و فنون کو اپنے تلامذہ میں منتقل فرما یا ۔ آپ رحمہ اللہ بلاشبہہ جامع العلوم والفنون تھے۔ آپ کے علمی مرتبے کی ایک جھلک حضرت تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہ کے رسالے ’’میرے والد - میرے شیخ ‘‘ میں نظر آتی ہے۔ آپ رحمہ اللہ کے شخصی ذوق کی پہچان حضرت تقی صاحب مد ظلہ سے زیادہ ہو بھی کس کو سکتی ہے، چنانچہ ذیل میں نقل ہونے والے اکثر واقعات موصوف محترم ہی کے رسالے سے ماخوذ ہیں۔

نیکیوں میں جلدی کریں

ہم اہل علم و صلاح سے یہ جملہ آئے روز سنتے رہتے ہیں کہ عصر موجود ، دور فِتَن ہے ۔ اگر ہم اپنے اسلاف کی چار سو سال پرانی تصنیفات پڑھیں چاہے آٹھ سو سال پرانی ، ہر جگہ ایک بات آپ کو مشترک لگے گی کہ زمانہ بہت خراب ہوگیا ہے ، بہت فتنوں کا دور ہے اور جیسے قرب قیامت کی علامتیں ظاہر ہوگئی ہیں۔ آج کے لوگ اس بات کو مذاق اور تفنن کا ہدف بنالیتے ہیں کہ یہ عجیب سی بات ہے کہ اُن کو آٹھ سوسال پہلے فتنےاور آثار قیامت نظر آتے تھے اور آج بھی انھیں یہی کچھ سوجھ رہا ہے۔

اختلاف فقہاء کی حقیقت

نبی کریم ﷺ  کی رفیقِ اعلی کی طرف مراجعت کے ساتھ ہی  وحی آسمانی کا  سلسلہ  اختتام پذیر ہوا ۔   وحی  متلو اور  وحی غیر متلو  کا ایک  ذخیرہ  آپﷺ چھوڑ گئے ۔  اس وحی کو تا قیام  قیامت انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ قرار  دیا ہے  اسی لیے  یہ امانت ان تک لفظا و معنا   منتقل کرنے  کی ضرورت  تھی ۔﴿بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ﴾کے فحوی کے مطابق علماء کو اس ذمے داری پر فائز کیا گیا۔ یہ ذمےداری اس حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ﴾’’بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں ‘‘ اور آپﷺ سے یہ بھی یہ روایت ہے:

فتاویٰ یسئلونک دارالافتاء والارشاد

سوال: ایک روایت ہے کہ عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، وہاں لڑکیاں گانا گارہی تھیں، میں نے کہا: آپ دونوں رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور اہل بدر میں سے ہیں، اور یہ کچھ (گانا) آپ کے سامنے ہورہا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: اگر چاہو تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر سنو اور چاہو تو چلے جاؤ، ہمیں شادی کے موقعے پر لہو کی رخصت دی گئی ہے۔ کیا یہ روایت مستند ہے؟ اور اگر مستند ہے تو اس کی وضاحت فرمادیں۔

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments