Menu

Mafaheem

All Posts Term: اداریہ
3 post(s) found

اداریہ

قیامت آئے گی ، اور اس سے آگے اس کی نشانیاں ، تو علم اٹھا یا جائے گا لیکن سینوں سے نہیں بلکہ شہروں سے اور ہم نے شہر وں میں عالِموں کو علم سمیت اٹھتے دیکھا تو شہروں کو روتا پایا ۔ آخر موت پہ رونا کس کو نہیں آتا اور عالِم کے اٹھنے کو عالَم کی موت یونہی تو نہیں کہا گیا ، ظلمت کو موت یا جَہل سے تشبیہ دی جائے اور ظلمت کدے کوگو رستان سے، تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور نور کو علم یا روحِ زندگی سے تعبیر کیا جائے تو اچھا ہی ہے اس لیے کہ وحی ربانی میں اس طرح کے اشارے بے شمار ملتے ہیں:﴿أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ﴾’’ارے دیکھو جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو روشنی دی جسے لیے وہ لوگوں میں پھرتا ہے کیا اس کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیریوں میں ہے‘‘ ۔صاحب زاد المسیر رحمہ اللہ نے نور کی تفسیر میں تین اقوال نقل کیے ہیں: ہدایت ،قرآن پاک اور عِلم ، اور ظاہر ہے ان تینوں تعبیرات میں کوئی تباین نہیں ہے ۔

اداریہ

جہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ اس سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کسی عام آدمی کو نہیں چاہیے کہ وہ قانون کا نفاذ خود کرتے ہوئے کسی گستاخ کو خود قتل کرے بلکہ چاہیے کہ پولیس کو اطلاع دے کر یہ سمجھے کہ اس نے اپنی ذمے داری ادا کر دی البتہ حکومت اور انتظامیہ کو یہ ذمےداری احسن طریقے سے ادا کرنی چاہیے اور اس حساسیت کا اندازہ کرنا چاہیے جو بالکل صحیح طور پر ناموس رسالت کے بارے میں مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔

اداریہ

آپﷺ کی رسالت کے عموم کو بہت ہی عام رکھا گیا:﴿إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ7’’زمین و آسمان کی ہر چیز مانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں سوائے ناہنجار جن وانس کے‘‘۔ محبتِ الٰہی کا ایک ظہور ﴿فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ﴾ کے الفاظ میں ہوا۔ اس ترکیب میں میں وارد’’چناؤ‘‘ کا معنی یوں بیان کیا گیا: أن يكون مَظْهَرَ صِفاتِه8’’تاکہ آپ اللہ کی صفات کے مظہر بن جائیں‘‘ تو آپ ﷺ بندۂ مولا صفات اور مظہر ِنورِ خدا ٹھہرے۔

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments