Menu

Mafaheem

All Posts Term: شمارہ نمبر 01
11 post(s) found

اداریہ

آپﷺ کی رسالت کے عموم کو بہت ہی عام رکھا گیا:﴿إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ7’’زمین و آسمان کی ہر چیز مانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں سوائے ناہنجار جن وانس کے‘‘۔ محبتِ الٰہی کا ایک ظہور ﴿فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ﴾ کے الفاظ میں ہوا۔ اس ترکیب میں میں وارد’’چناؤ‘‘ کا معنی یوں بیان کیا گیا: أن يكون مَظْهَرَ صِفاتِه8’’تاکہ آپ اللہ کی صفات کے مظہر بن جائیں‘‘ تو آپ ﷺ بندۂ مولا صفات اور مظہر ِنورِ خدا ٹھہرے۔

درسِ قرآن

’’(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔ پھر بھی اگر یہ لوگ منھ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے‘‘۔

درسِ حدیث ﷺ

اب عالم ِخلق میں آپ ﷺکے ظہور کا مرحلہ آتا ہے کہ ولادتِ با برکت کے  موقعے پر  جب آپ کا جسمِ اطہر  ،  تنِ مادر سے جدا ہوا تو ایک روشنی دکھائی دی گئی جس سے شام کے  محلات روشن ہو گئے۔ یہ روشنی  گویا آپ ﷺکے نور ِنبوت و ہدایت  کا ایک استعارہ  تھی اور شام کے محلات کے روشن ہونے میں یہ ایک طرف تو  آپ ﷺکی نبوت کی وسعت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف یہ کہ آپ ﷺکی نبوت سے وقت کی  مملکتیں  ہلاک  اور ان  کے زیر سرپرستی فروغ پانے والے شرک و جہالت کے اندھیرے چاک ہو جائیں گے۔

طلوعِ آفتابِ رسالت ﷺ اور خوارق کا ظہور

مشہور و معروف قول کے مطابق شہنشاہِ کونین ﷺ۱۲ ربیع الاول کو مکہ میں صبحِ صادق کے وقت ابوطالب کے مکان میں پیدا ہوئے ،لیکن جمہور مورخین اور محدثین کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ ولادتِ باسعادت کی تاریخ ۸ ربیع الاول یوم دوشنبہ، اپریل ۵۷۰ عیسویں ہے۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے یہی مروی ہے،1جبکہ علامہ شبلی رحمہ اللہ نے مصر کے مشہور ہیئت دان محمود پاشا کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضور ﷺکی ولادت ۹ ربیع الاول بروز دوشنبہ ، ۲۰ /اپریل ۵۷۱ عیسویں میں ہوئی۔ 2

انقلاب کا نبوی طریق: چند اشکالات

سیرتِ نبویﷺسے منہجِ انقلاب کی تشکیل کا اصول یہ بیان کیا گیا کہ سیرت کا مطالعہ معروضی طور پر (objectively) کیا جائے اور پھر سیرتِ  مطہرہ کے حالات و واقعات کو خاص سے عام (generalize) کر کے اصول و مبادی مستنبط کیے جائیں اور ان کی روشنی میں انقلابی عمل کے مراحل و مدارج ا ور لوازم طے کیے جائیں۔اس تعبیر اور طرز تعبیر پر کچھ گذارشات عرض کرنا پیشِ نظر ہے۔ ہماری گزارشات تین اطراف سے ہوں گی: ایک تصورِ سیرت و سنت کے بارے میں، دوسرے معروضیت (objectivity)کے بارے میں اور تیسرے عموم (generalization) کے بارے میں ۔

آپﷺ کی پرورش:ایک منفرد نقطۂ نظر

سرورِ عالم سید ولدِ آدم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺکا بچپن مبارک سیرت نگاری کا اہم موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو اخص الخاص بنایا اور یہ منظور نہیں فرمایا کہ کوئی کسی بھی درجے میں آپﷺسے کسی بھی اعتبار سے بلند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺکی تعلیم وتربیت کا ابتدا سے انتہا تک خود ہی انتظام فرمایا۔ دنیاکے کسی شخص کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ آپﷺکا استاد ہے یا کسی نے آپ کی تربیت فرمائی۔ آپﷺکے والدِ ماجد کا انتقال آپ کی ولادت سے قبل ہی ہو گیا، اور چھے برس کی عمر میں والدہ ماجدہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اس کے بعد عموماً سیرت نگاروں نے یہ بات درج کی ہے کہ آپﷺکی پرورش آپ کے چچا اور دادا نے کی مگر حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی صاحب رحمہ اللہ نے اس بارے میں یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ آپﷺکی پرورش انھوں نے نہیں بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے براہ ِراست فرمائی، اور ساتھ ہی ساتھ آپﷺکی برکت سے ان سب کو بھی کئی نعمتوں سے نوازا۔

نعت گوئی اور چند اردو نعت گو شعرا

نعت کی ابتدا تو سابقہ انبیا کے مبارک صحیفوں میں میرے آقا ﷺکی آمد کی اَخبار اور آپ ﷺکے اوصاف کے بیان سے ہو چکی تھی لیکن اسے عروج؛ قرآنِ مجید میں حاصل ہوا۔ چنانچہ کہیں﴿وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾ تو کہیں ﴿عَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم﴾ کہا گیا۔کہیں ﴿مَا وَدَّعَکَ﴾ اور ﴿مَا قَلیٰ﴾ سے دل جوئی کی گئی، تو کہیں ﴿اَنْتَ فِیْھِمْ﴾ سے آپﷺکی عظمت اجاگر کی گئی۔ کبھی ﴿لَقَدْ مَنَّ اللہُ﴾ پڑھا تو آپﷺکی قدر ومنزلت آنکھوں کے راستے درونِ قلب تک جا پہنچی اورکبھی ﴿لاتَرْفَعُوْا﴾ سنتے ہی تمام تر اجساد خاکی آپﷺکی تعظیم میں جھکتےچلے گئے۔ کہیں تو شارع نے دوٹوک الفاظ میں ﴿وَمَا اٰتَاکُمْ﴾ سے آپﷺکے اقوال و افعال کی حجیت کا اعلان کیا اور جب کبھی اپنی شانِ رحمت کے اظہار کے لیے نطق فرمایا توآپﷺرحمۃ للعلمین قرار پائے،اگرکہیں﴿اِنَّمَا اَنَا بَشَر﴾ سے عبدیت اور بشریت کی طرف اشارہ ہوا تو ﴿قَابَ قَوْسَیْن﴾کے ذکر سے اپنے بندے کو رفعتوں اور قربتوں کی معراج پر پہنچا دیا۔ صلی اللہ علی محمد!

در جہانی و از جہاں بیشی

تفہیمِ مدعا کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہﷺکی ذاتِ والا صفات دو حصوں میں منقسم تھی۔ایک آپﷺکا اپنے خالق و مالک ومحبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالی سے تعلق جس کو ہم اختصار سے تعلق مع الحق کہہ سکتے ہیں اور دوسرا ماسوا للہ سے تعلق جس کو ہم تعلق مع الخلق کا عنوان دے سکتے ہیں۔ یہ دو پہلو ہوئے آپ ﷺکی شخصیت کے ، لیکن ایک تیسری جہت بھی قائم کی جا سکتی ہے یہ ذات حق اور اس کی خلق کے درمیان ربط و رابطے کی جہت ہے ۔جب تک رسول اللہ ﷺکی ان سبھی جہات کا صحیح ادراک حاصل نہ ہو آپ ﷺکا تعارف ناقص رہ جائے گا۔

فتاویٰ یسئلونک دارالافتاء والارشاد

سوال: میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ میلاد منانا جائز ہے؟

سوال: السلام علیکم! عید میلاد کے متعلق علماے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟
سوال: السلام علیکم! عید میلاد کے متعلق علماے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟

سوال:روضۂ رسولﷺپر حاضری کے آداب اور درود و سلام پیش کرنے کا صحیح طریقہ بتا دیں اور کونسا درودسلام پڑھنا چاہیے یا جس کی فضیلت زیادہ ہو وہ بتا دیں؟

احوالِ امت

امتِ مسلمہ کو ہر دور میں مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ان مسائل کی نوعیت اور صورتیں اگرچہ مختلف رہیں لیکن ان کے اسباب و وجوہات میں ایک چیز تقریبا ہر دور میں مشترک رہی :عدمِ اتحاد و یکجہتی ۔مسلمان جب متحد تھے تو ملک کیا پورے پورے براعظموں پر عدل و مساوات کا نظام قائم کیے رکھتے تھے ، لیکن جیسے جیسے اتحاد اور یکجہتی کا فقدان فقدان ، اجتماعی مفادات پر ذاتی مفادات کی ترجیح اور امت پن کے تصور میں کمزوری آتی گئی مسلمانوں کا شیرازہ بکھرتا چلا گیا۔آج امتِ مسلمہ کو جتنے بھی مسائل کا سامنا ہے یکجہتی اورایک امت ہونے کے تصور کا فقدان ہی اس کی اصل وجہ ہے۔

فقہ اکیڈمی کی تعلیمی سرگرمیاں :ستمبر ۲۰۲۰ء

یک سالہ تعلیم الاسلام کورس،

 الشھادۃ الدراسیۃ في العلوم الإسلامیۃ  سالِ اول تا سالِ پنجم،

 درسِ نظامی درجۂ اولیٰ و ثانیہ،

 مختصر تعلیم الاسلام کورس،

عربی گرامر دس ماہ کورس،

قرآنی عربی کورس

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments