ماہ نامہ مفاہیم - مولانا معراج محمد
گردشِ ایام اور شامت اعمال کے سبب جب عالم اسلام، یورپی ملکوں کی کالونی بنا تو سیاسی و اقتصادی کے ساتھ ساتھ،اسے عقیدے و نظریے کی سطح پر بھی یلغار کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مغربی مصنفین نے مشرقی علوم پر تحقیق کی ٹھانی اور ایک شعبۂ علمی’’ استشراق‘‘ وجود میں آ گیا۔ جہاں ایک طرف بہت سارےمسلمان اہل علم، اپنے ’’ فاتحین ‘‘ کی علمیت سے متاثر ہوئے وہیں بعض رجال العلم نے اِن ’’قابضین ‘‘ سے علمی مناقشے کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے گزشتہ صدی میں جو نابغۂ روز گار شخصیات اسلامی دنیا میں پیدا ہوئیں ان میں ایک اہم شخصیت ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی رحمہ اللہ کی بھی ہے۔آپ علماے سلف کی طرح علم وعمل دونوں میدانوں کے شہسوار تھے۔ شام میں اخوان المسلمین کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی مگر ان کا اصل کارنامہ امت کا اپنی تہذیب و ثقافت پر اعتماد بحال کرنا، انھیں اپنے اسلامی تشخص پر فخر سکھانا اور مسلمانوں کے علوم اور تہذیب پر سے مستشرقین کی اڑائی ہوئی گردوغبار صاف کر کے اس کی حقیقی صورت سامنے لانا ہے۔زمانۂ طالب علمی میں ہی آپ نے مستشرقین پر کام شروع کیا اور آغاز ہی میں ان کی علمی کمزوریوں کو بھانپ گئے، جس کی تصدیق بعد کی علمی تحقیقات اور مستشرقین کے ساتھ نجی ملاقاتوں نے بھی کردی۔
ماہ نامہ مفاہیم - ڈاکٹر محمد رشید ارشد
تفہیمِ مدعا کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہﷺکی ذاتِ والا صفات دو حصوں میں منقسم تھی۔ایک آپﷺکا اپنے خالق و مالک ومحبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالی سے تعلق جس کو ہم اختصار سے تعلق مع الحق کہہ سکتے ہیں اور دوسرا ماسوا للہ سے تعلق جس کو ہم تعلق مع الخلق کا عنوان دے سکتے ہیں۔ یہ دو پہلو ہوئے آپ ﷺکی شخصیت کے ، لیکن ایک تیسری جہت بھی قائم کی جا سکتی ہے یہ ذات حق اور اس کی خلق کے درمیان ربط و رابطے کی جہت ہے ۔جب تک رسول اللہ ﷺکی ان سبھی جہات کا صحیح ادراک حاصل نہ ہو آپ ﷺکا تعارف ناقص رہ جائے گا۔