Menu

Mafaheem

All Posts Term: شمارہ نمبر 02
7 post(s) found

اداریہ

جہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ اس سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کسی عام آدمی کو نہیں چاہیے کہ وہ قانون کا نفاذ خود کرتے ہوئے کسی گستاخ کو خود قتل کرے بلکہ چاہیے کہ پولیس کو اطلاع دے کر یہ سمجھے کہ اس نے اپنی ذمے داری ادا کر دی البتہ حکومت اور انتظامیہ کو یہ ذمےداری احسن طریقے سے ادا کرنی چاہیے اور اس حساسیت کا اندازہ کرنا چاہیے جو بالکل صحیح طور پر ناموس رسالت کے بارے میں مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔

درسِ حدیث ﷺ

 بعض حلال و حرام وہ ہیں جو بالکل واضح ہیں جیسے روٹی ،پانی ، پھل اور میوے  کا حلال ہونا  اور    شراب ، خنزیز کا گوشت ،زنا اور جھوٹ وغیرہ  کا حرام  ہونا،ان کی حلت و حرمت سب پر واضح ہے ۔ ان دونوں (یعنی حلالِ محض  اور حرام ِ محض) کے درمیان  کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ۔بہت سارےلوگ (یعنی عوام الناس )  ان(مشتبہ امور) کا حکم نہیں جانتے۔  علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اور امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  کچھ لوگ اپنے غور و فکر  اور اجتہاد سے مشتبہات  کا حکم معلوم کر کے  بعض پر حلال  اور بعض پر  حرام کا حکم لگاتے ہیں اور یہ علماے راسخین اور مجتہد  ین  ہوتے ہیں۔ اب عام لوگوں کو بھی مجتہدین کے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے  ۔ البتہ جو چیز   باوجود   اجتہاد  کےمجتہدین پر  بھی مشتبہ ہی رہے تو اس سے سبھی لوگوں کو  دور رہنا چاہیے۔

جدید برائیوں سے کیسے بچیں

 یہ دور کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں اس کے بارے میں اکثر ہم سنتے ہیں کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ ایمان اور عملِ صالح کے حوالے سے یہ مشکل وقت ہے۔ ایک بات تو خیر ہمیں معلوم ہونی ہی چاہیے کہ انسان کے نفس میں شر کا پہلو ہمیشہ سے رہا ہے اور وہ خِلقی ہے۔ خِلقی ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس کے اندر کچھ داعیات اور جبلتیں رکھی ہیں۔مثلا جنس کی جبلّت ہے،بھوک کی جبلّت ہے،ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا جذبہ ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کوبنایا، اور اس کی مرکزی مخلوق انسان ہے جس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ انسان اس میں رہے بسے، زندگی اور اپنی نسل کو جاری رکھے تاکہ اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔

سوانحِ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب

مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ۲۰ شعبان ۱۳۱۴ھ بہ مطابق جنوری ۱۸۹۷ء کو دیوبند میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے دادا نے محمد مبین نام رکھا لیکن جب حضرت گنگوہی   رحمہ اللہ کو اطلاع ہوئی تو آپ  رحمہ اللہ  نے محمد شفیع نام تجویز کیا۔ آپ کا سلسلۂ  نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ  رحمہ اللہ  کے والدِ ماجد مولانا محمد یٰسین صاحب عثمانی دیوبندی  رحمہ اللہ  دار العلوم دیوبند میں فارسی کے مدرس تھے اور ایک عالم ِباعمل اور صاحبِ کمالات بزرگ تھے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ:’’ہم نے دارالعلوم کا وہ وقت دیکھا ہے جس میں صدر مدرس سے لے کر ادنیٰ مدرس تک اور مہتمم سے لےکر دربان اور چپڑاسی تک سب کے سب صاحب نسبت بزرگ اور اولیاء اللہ تھے۔ دارالعلوم اس زمانے میں دن کو دارالعلوم اور رات کو خانقاہ معلوم ہوتا تھا کہ اکثر حجروں سے شب میں تلاوت اور ذکر کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ‘‘۔

تفقہ فی الدین

’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ  جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ دیتا ہے اور بے شک میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی عطا کرتا ہے اور یہ امت اللہ کے امر پر اس طرح قائم رہےگی کہ اس کی مخالفت کرنے والا بھی انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہا ں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے‘‘۔

یہ ایک جامع حدیث ہے۔شیخ عبدالکریم الخضیر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح (کرنے یا سیکھنے ) میں ایک یا دو سال لگا دے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں اور اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح پر کوئی تصنیف کرے اور کل علم اس کے ذیل میں بیان کر دے تو تعجب کی بات نہیں جیسے کہ محدث ابن ہبیرہ نے اس حدیث کی شرح میں کل علم فقہ کو اس میں داخل کیا ہے۔

ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی اور محاکمۂ استشراق

گردشِ ایام اور شامت اعمال کے سبب جب عالم اسلام، یورپی ملکوں کی کالونی بنا تو سیاسی و اقتصادی کے ساتھ ساتھ،اسے عقیدے و نظریے کی سطح پر بھی یلغار کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مغربی مصنفین نے مشرقی علوم پر تحقیق کی ٹھانی اور ایک شعبۂ علمی’’ استشراق‘‘ وجود میں آ گیا۔ جہاں ایک طرف بہت سارےمسلمان اہل علم، اپنے ’’ فاتحین ‘‘ کی علمیت سے متاثر ہوئے وہیں بعض رجال العلم نے اِن ’’قابضین ‘‘ سے علمی مناقشے کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے گزشتہ صدی میں جو نابغۂ روز گار شخصیات اسلامی دنیا میں پیدا ہوئیں ان میں ایک اہم شخصیت ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی رحمہ اللہ کی بھی ہے۔آپ علماے سلف کی طرح علم وعمل دونوں میدانوں کے شہسوار تھے۔ شام میں اخوان المسلمین کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی مگر ان کا اصل کارنامہ امت کا اپنی تہذیب و ثقافت پر اعتماد بحال کرنا، انھیں اپنے اسلامی تشخص پر فخر سکھانا اور مسلمانوں کے علوم اور تہذیب پر سے مستشرقین کی اڑائی ہوئی گردوغبار صاف کر کے اس کی حقیقی صورت سامنے لانا ہے۔زمانۂ طالب علمی میں ہی آپ نے مستشرقین پر کام شروع کیا اور آغاز ہی میں ان کی علمی کمزوریوں کو بھانپ گئے، جس کی تصدیق بعد کی علمی تحقیقات اور مستشرقین کے ساتھ نجی ملاقاتوں نے بھی کردی۔

فتاویٰ یسئلونک دار الافتاء و الارشاد

احناف کے ہاں بھی اس کی ضرورت موجود ہے کہ بار بار گستاخی کا ارتکاب کرنے والا عام مرتد نہیں بلکہ زندیق ہوتا ہے اور زندیق کی سزا صرف قتل متعین ہے اور عصر حاضر کے گستاخوں کا جو حال ہے اس کے پیشِ نظر  ان کی سزا صرف قتل ہی متعین ہے۔ متقدمین کے زمانے میں گستاخیٔ رسول کسی مؤمن سے سرزد ہونا نا ممکن تھا  اس لیے ذمی کی گستاخی کا حکم  باب الجزیہ میں اور مسلمان کی گستاخی کا حکم باب المرتد  میں ذکر فرمایا، جبکہ متأخرین کے ہاں یہ وبا  عام ہوئی تو انھوں نے باب البغاۃ، باب الارتداد اور باب الجزیہ میں اس کی وضاحت فرما کر گستاخِ رسول  کی سزا قتل متعین فرمائی۔

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments