ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اللہ تعالی کے نظر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے جسموں ، مالوں اور ظاہری صورتوں پر اللہ نظر اعتبار یعنی قدر و قیمت کا جانچنے کی نظر سے نہ دیکھے گا کیونکہ اس کی نگاہ میں جسموں کی مضبوطی اور ظاہری خوبصورتی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے جب تک ان کے ساتھ حسن سیرت نہ ہو ۔اسی طرح اللہ کی نظر میں مال و دولت کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ صدقات و انفاق اور اعمالِ صالحہ نہ ہوں۔ پس اللہ تعالی کی نظر میں اصل اہمیت تمہارے اعمال اور قلوب کی ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
بعض حلال و حرام وہ ہیں جو بالکل واضح ہیں جیسے روٹی ،پانی ، پھل اور میوے کا حلال ہونا اور شراب ، خنزیز کا گوشت ،زنا اور جھوٹ وغیرہ کا حرام ہونا،ان کی حلت و حرمت سب پر واضح ہے ۔ ان دونوں (یعنی حلالِ محض اور حرام ِ محض) کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ۔بہت سارےلوگ (یعنی عوام الناس ) ان(مشتبہ امور) کا حکم نہیں جانتے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اور امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے غور و فکر اور اجتہاد سے مشتبہات کا حکم معلوم کر کے بعض پر حلال اور بعض پر حرام کا حکم لگاتے ہیں اور یہ علماے راسخین اور مجتہد ین ہوتے ہیں۔ اب عام لوگوں کو بھی مجتہدین کے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے ۔ البتہ جو چیز باوجود اجتہاد کےمجتہدین پر بھی مشتبہ ہی رہے تو اس سے سبھی لوگوں کو دور رہنا چاہیے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اب عالم ِخلق میں آپ ﷺکے ظہور کا مرحلہ آتا ہے کہ ولادتِ با برکت کے موقعے پر جب آپ کا جسمِ اطہر ، تنِ مادر سے جدا ہوا تو ایک روشنی دکھائی دی گئی جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ یہ روشنی گویا آپ ﷺکے نور ِنبوت و ہدایت کا ایک استعارہ تھی اور شام کے محلات کے روشن ہونے میں یہ ایک طرف تو آپ ﷺکی نبوت کی وسعت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف یہ کہ آپ ﷺکی نبوت سے وقت کی مملکتیں ہلاک اور ان کے زیر سرپرستی فروغ پانے والے شرک و جہالت کے اندھیرے چاک ہو جائیں گے۔