ماہ نامہ مفاہیم - مولانا محمد اقبال
اس بحث سے یہ بات پتا چلی کہ مذکورہ ا ٓیت میں سیئہ سے مرادشرک و کفر ہے،اور یہی اہل سنت والجماعت کے مذہب کے مطابق ہے۔اس سے عام کبائر مراد نہیں لیے جاسکتے جیسا کہ معتزلہ اور خوارج کامذہب ہے۔اوراس آیت مبارکہ کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہےکہ اس میں اہل کفر کے انجام سے بحث ہوئی ہے،اہل ایمان کے متعلق سرے سے بحث ہی نہیں ہورہی۔امام نسفی تفسیر میں لکھتے ہیں:إذا مات مؤمناً فأعظم الطاعات وهو الإيمان معه فلا يكون الذنب محيطاً به فلا يتناوله النص ’’جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے تو طاعتوں میں سب سے بڑی طاعت یعنی ایمان اس کے ساتھ ہوتا ہے ،تو گناہ اسے احاطہ نہیں کر سکتا ۔پس اس پراس آیت کا اطلاق نہیں ہو سکتا‘‘۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
’’(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔ پھر بھی اگر یہ لوگ منھ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے‘‘۔