نبی کریم ﷺ کی رفیقِ اعلی کی طرف مراجعت کے ساتھ ہی وحی آسمانی کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا ۔ وحی متلو اور وحی غیر متلو کا ایک ذخیرہ آپﷺ چھوڑ گئے ۔ اس وحی کو تا قیام قیامت انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ قرار دیا ہے اسی لیے یہ امانت ان تک لفظا و معنا منتقل کرنے کی ضرورت تھی ۔﴿بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ﴾کے فحوی کے مطابق علماء کو اس ذمے داری پر فائز کیا گیا۔ یہ ذمےداری اس حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ﴾’’بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں ‘‘ اور آپﷺ سے یہ بھی یہ روایت ہے: