دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آج كل جیم، رتن، رجنی، ون ٹو ون کے نام سے گٹکے کی طرح چھالیا آتی ہے۔ یہ کمپنیاں گٹکے کی قسم کی چھالیا بناتی ہیں لیکن ٹیکس نہیں بھرتیں اور چھپ چھپا کر بیچی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا بیٹا ڈاکٹر ہے، اس کی گڈاب کے ایک ہسپتال میں سرکاری نوکری ہے، وہاں چوں کہ مریض بہت کم آتے ہیں اور تین چار ڈاکٹر ہیں اس لیے ڈیوٹی ہفتے میں تین یا چار دن ہوتی ہے۔ وہاں ایک چپڑاسی کی ضرورت ہے لیکن ہسپتال والوں نے نہیں رکھا ہوا۔ البتہ وہاں کے جو بڑے ہیں انہوں نے ڈاکٹرز سے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر پیون کی تنخواہ، جو کہ دس ہزار ہے، اداکرے گا، اسے نوکری سے مزید سہولت مل جائے گی اور پھر اسے صرف دو دن ہی آنا ہوگا۔ میرے بیٹے کو امتحانات کی تیاری بھی کرنی ہے تو کیا وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتا ہے کہ پیون رکھ کر اس کی تنخواہ ادا کرے اور بدلے میں نوکری کا ایک دن کم ہوجائے؟ وہاں چوں کہ مریض کم آتے ہیں اس لیے ان کا نقصان ہونے کا بھی اندیشہ نہیں۔ برائے مہربانی جلد رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
عرض ہے کہ ایک طریقہ ہمارے معاشرے میں عام ہوا ہے کہ جب بھی کسی بچے کی پیدائش ہو تو تمام دوست احباب کی زبان میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ بھائی مٹھائی کہاں ہے۔ اگر یہ عمل بروئے کار نہ لائے تو ان کی نظر میں مذموم کہلاتا ہے اورلوگ عار محسوس کرتے ہيں کیا اس امر کو بجالانا ہم پر ضروری ہے، جبکہ اس میں بعض کے مالی حالات درست نہیں ہوتے۔ شریعت مطہرہ کا اس بابت کیا حکم ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم عرصہ ایک سال سے forex Expert Adviser Tradingکر رہے ہیں اور ہم جس بروکر کے ساتھ کام کررہے ہیں اس کا نام Bitkryptonہے۔ اس میں ہم Invistmentدیتے ہیں اور وہ اسے مختلف چیزوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ مثلاً Silver, Gold, Criud,Oilاور مختلف ممالک کی کرنسز میں ہماراپیسہ Distributeکردیتا ہے اور اس میں Tradکرکے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر نفع دیتا ہے۔ نفع کی جو شرح ہے وہ مکمل انویسٹمنٹ کا 0.50% دیتاہے۔ نفع ہفتہ میں 5 دن ملتا ہے ہفتہ اور اتوار مارکیٹ بند ہوتی ہے۔ بروز پیر سے جمعرات نفع کی شرح Same. 0.50% ہوتی ہے اور جمعہ والے دن مارکیٹ بہت زیادہ Up اور Down ہوتی ہے۔ جمعہ والے دن نفع کی شرح0.50% سے بڑھ بھی سکتی ہے اور کم بھی ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ نفع کی شرح فکس نہیں ہے۔ بروکر کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوتا ہے وہ عرصہ 730دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ہمیں ماہانہ کی بنیاد پر نفع کی شرح 9% تا14تک دیتا ہے۔ بروکر جو کہ یہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد ہماری اصل انویسٹمنٹ کی رقم واپس نہیں کرتا ہے جبکہ صرف ہمیں نفع کی رقم وصول ہوتی ہے۔ کیا یہ کاروبار اسلام کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ہمیں ملنے والا منافع سود تو نہیں ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارا ایک پورشن ہے جس کا اسٹرکچر بنا ہوا ہے، اس کی فنیشنگ پہ کوئی بارہ لاکھ کا خرچہ ہوگا۔ اگر ہم بارہ لاکھ کا کوئی انویسٹر ڈھونڈتے ہیں اور مکان تیار ہوجاتا ہےتو کرایہ پر دیتے ہیں، اس میں سے آدھا ہمارا اور آدھا انویسٹر کا ہوگا۔ اور اگر کرایہ دار مکان خالی کرتا ہے تو انویسٹر کو کرایہ نہیں ملے گا۔ اور جب نیا کرایہ دار آتا ہے تو مزید کچھ خرچہ کرنا پڑتا ہے، اس میں بھی ہم دونوں کا خرچہ برابر ہوتا ہے۔ کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے؟ اور کیا یہ سود تو نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک عزیز نے کچھ سالوں قبل تفسیر کا ایک مکمل سیٹ عنایت کیا تھا۔ کیا اس کو فروخت کیا جا سکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر1: حیدر آباد میں یہ ٹرینڈ چل رہا ہے کہ جب مکان کرائے پر اس طرح لے رہے ہیں کہ اس کو ایڈوانس دے دیے، ایک لاکھ، دو لاکھ یا دس لاکھ، جتنے بھی دینے ہیں، اب وہ کرایہ نہیں دے گا، بلکہ صرف بجلی پانی کے بل وغیرہ بھرے گا، یعنی ایڈوانس اتنا زیادہ دے دیا کہ اب کرایہ دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کیا یہ معاملہ درست ہے؟
سوال نمبر2: اگر کسی کی کوئی فیکٹری یا دوکان ہو اور اس کو کچھ رقم کی ضرورت ہو یا نہ بھی ہو اور اسے کوئی رشتے دار وغیرہ رقم دے دے کہ اسے اپنے بزنس میں لگالو اور اس کے بدلے مجھے نوکری پر رکھ لو اور تنخواہ مجھے زیادہ دینا۔ تو کیا یہ درست ہوگا؟
واضح رہے کہ نوکری کے بدلے جو رقم ادا کی جارہی ہے وہ رقم قرض ہوتی ہے جو بعد میں واپس ادا کی جاتی ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک دو منزلہ مکان جس کے کاغذات مجموعہ مکان پر مشتمل ہوں، اس کی دونوں منزلیں علیحدہ علیحدہ بیچی جاسکتی ہیں؟ اور کیا مشتری ایک منزل فوری خرید کر دوسری منزل کو اجارے پر حاصل کر کے مستقبل میں رقم کی دستیابی کی صورت میں یہ دوسری منزل بھی خرید سکتا ہے؟ اور کیا پہلی منزل آج کی مارکیٹ ویلیو پر اور دوسری منزل وقت بیع کے مارکیٹ ریٹ پر خرید سکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آن لائن ڈراپ شپنگ کے بارے میں رہنمائی کردیں کہ کیا شرعی طور پر یہ حلال کاروبار ہے؟
آن لائن ڈراپ شپنگ بزنس میں مال قبضے میں نہیں لیا جاتا اور پروڈکٹ کی ویب سائٹ پر ساری معلومات دی جاتی ہیں اور جب آرڈر آتا ہے تو مینوفیکچرر سے رابطہ کر کے وہ پروڈکٹ ڈلیور کیا جاتا ہے۔ ڈراپ شپنگ کرنے والا ایک مڈل مین کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں تین باتیں بہت اہم ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ مال قبضے میں نہیں ہوتا۔
2۔ جب آرڈر آتا ہے تو پروڈکٹ خریدنے کے بعد مینوفیکچرر کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پروڈکٹ خریدار کے پتے پر بھیج دے۔
3۔ آرڈر ملنے سے پہلے مینوفیکچرر کے ساتھ ڈراپ شپنگ ایجنٹ کا یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ مینوفیکچرر کی پروڈکٹ پرافٹ رکھ کر آگے سیل کرے گا، یعنی جو بھی قیمت مینوفیکچرر نے بتائی ہے اس پر پرافٹ رکھ کر ڈراپ شپنگ ایجنٹ پروڈکٹ کو قبضے میں لیے بغیر اگر خریدار کو سیل کرتا ہے، پھر جو آرڈر آتا ہے تو ڈراپ شپر پروڈکٹ خرید کر مینوفیکچرر کے ذریعے وہ پروڈکٹ ڈیلیور کرتا ہے۔ یہ بات مینوفیکچرر کو پتا ہوتی ہے مگر خریدار سے یہ بات چھپی ہوتی ہے۔
کیا یہ بزنس شرعی طور پر حلال ہے؟ کیوں کہ اس کا رجحان بہت عام ہو گیا ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر کوئی بندہ کسی کے لیے کوئی سامان لائے اور اس کی قیمت سو روپے بنتی ہو اور اگر یہ اس شخص کو بتائے بغیر اس سے ایک سو بیس روپے لے لے تو کیا یہ صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کریں۔