دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
غیر مسلم ممالک (دارالکفر) میں ہوٹل، مکڈونلڈ، کے ایف سی، پیزا ہٹ اور برگر بنانے والی کمپنیاں اپنا کھانا لوگوں کو مہیا کرنے کے لیے کئی افراد کو ملازم رکھتے ہیں یہ ملازم نہ کھانا بناتے ہیں، نہ ہی کھاتے ہیں اور نہ ہی مالک ہیں ان کا کام صرف یہ کھانا لوگوں تک پہنچانے کا ہے۔ اس کھانے میں مختلف طرح کی قباحتیں ہوتی ہیں۔ جیسے کھانا پہنچانے میں حرام گوشت ہوتا ہے یہاں تک کہ سور کا گوشت بھی ہوتا ہے۔ مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری سی فوڈ بھی ہوتا ہے۔ کئی ہوٹلوں کے آرڈر کے ساتھ ڈرنکس ہوتے ہیں بسا اوقات شراب بھی ہوتی ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کچھ کمپنیاں اپنے مال کو انشورڈ کروالیتی ہیں مثلا دھاگا بنانے والی کمپنی اپنا خام مال انشورڈ کروالیتی ہے اب اگر خدانخواستہ روئی میں آگ لگ جاتی ہے تو انشورنس کمپنی سے اپنا کلیم لے لیتی ہے اور جو جلی ہوئی روئی ہے وہ انشورنس کمپنی کی ملکیت بن جاتا ہے، پھر انشورنس کمپنی مارکیٹ میں اسے فروخت کردیتی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی چیزوں کو انشورڈ کروایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جس مال کو مارکیٹ فروخت کرتی ہے اس کی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم لوگ اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کےلیے پورا سال قرآن پاک اور تسبیحات پڑھتے رہتے ہیں، سال کے خاص دن جسے برسی کہا جاتا ہے اس دن بھی ایصال ثواب کےلیے پڑھتے ہیں۔ لیکن ایک دوست کا کہنا ہے کہ پورا سال پڑھنا جائز ہےمگر برسی والے دن پڑھنا بدعت ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کیا ان کی بات درست ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا سوال ہے کہ ایک شخص جو سودی بینک میں ملازمت کرتا ہے اور ان ہی پیسوں سے عمرہ کر کے آئے، تو کیا ایسے شخص کا عمرہ ہوجاتا ہے؟ اور اگر یہی شخص عمرہ سے واپسی پر ایک جائےنماز تحفہ میں دے تو کیا اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اگر نماز پڑھ لی تو کیا گناہ ہوگا؟ اگر ہاں تو اس کا کفارہ بتا دیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا ایک سنی مسلمان لڑکی کا نکاح بوہری شیعہ لڑکے سے کیا جا سکتا ہے یا کرنا جائز ہے یا حرام ہے؟ اگر انجانے میں ایسا ہو چکا ہو تو اس سے ہونے والی اولاد کے بارے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ مہربانی ہوگی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک پوسٹ موصول ہوئی جسے ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہے؟
’’کیا خاتون یا خاتون کے سرپرست کی طرف سے پیغام نکاح قابلِ شرم فعل ہے؟ ہمارے ہاں خاتون یا خاتون کے سرپرست کی جانب سے پیغامِ نکاح بھیجنا معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ان سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت انس کی بیٹی بولی (کم بخت) کیا بے شرم عورت تھی، ارے تھو، ارے تھو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت تجھ سے بہتر تھی۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں خود اپنے آپ کو پیش کیا۔ (بخاری) گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہِ راست پیغامِ نکاح دینا حیا کے منافی نہیں ہے بلکہ شرف حاصل کرنے کا جذبہ ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استنباط کیا ہے کہ ایک عورت کسی صالح شخص کو اس کی نیکی کی وجہ سے پیغامِ نکاح دے سکتی ہے۔اسلام کا عمومی اصول نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بتلایا ہے کہ لا نکاح الا بولی ’’نکاح ولی کے ذریعے ہوتا ہے‘‘۔ اس طرح کے نادر واقعات سے ایسی صورت میں جب ولی نہ ہو یا عورت خود جرأت کرکے پیغامِ نکاح دے سکتی ہو، اس کا جواز نکلتا ہے، جبکہ بنیاد دین دار شوہر کی طلب ہو۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی ایک بیوہ خاتون تھیں، انھوں نے بھی آپ کو پیغامِ نکاح بھجوایا تھا۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں ان کے خاوند خنیس بن خدافہ جو آنحضرت کے اصحاب میں سے تھے، جنگ اُحد میں زخمی ہوئے تھے اور بعد میں شہید ہوگئےتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت حفصہ سے نکاح کے لیے کہامگر انھوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا (بخاری )۔یہ ایک طویل واقعے کا اقتباس ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاتون یا خاتون کے سرپرست کا اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے پیغام نکاح میں پہل کرنا کوئی قابل اعتراض اور قابلِ شرم بات نہیں ہے، جس طرح بلاوجہ ہمارے معاشرے میں اس بات کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ خیال رہے کہ اسلامی حدود کی پامالی اور بے حیائی کا کوئی پہلو اس میں شامل نہ ہو۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جناب میرے ایک جاننے والے نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے یہ موبائل استعمال کیا یا اس کو چھوا تو تمہیں تین طلاق ہے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے وہ موبائل کسی اور کو بیچ دیا، پھر اس کے کہنے کے تقریبا پانچ سے چھ ماہ بعد وہ شخص، جس کو موبائل بیچا گیا تھا، اس کے گھر ملنے آیا تو اس کی بیوی نے یہ جانے بغیر کہ یہ وہی موبائل ہے، اس کو چھو لیا، تو اب کیا تین طلاق واقع ہوں گی یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جس گھر میں ہم لوگ رہتے ہیں وہ والد محترم کے نام پر ہے۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے کچھ رقم گھر کی تعمیرات میں لگائی اور چاہت یہ ہے کہ ترکے کے وقت پہلے میری لگائی گئی رقم ادا کی جائے، تو اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟اگر چہ ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا والد صاحب سے، لیکن والد صاحب اس بات پر راضی ہیں اور تعمیرات کے بعد جو مکان کی قیمت بڑھ گئی تو اس صورت میں میری جانب سے لگائے گئے پیسوں کا کیا تناسب ہوگا؟ واضح رہے کہ میں اپنی الگ نوکری کرتا ہوں۔ تعمیرات میں لگائی گئی رقم میں نے قرض لی تھی، جو کہ میں ہی ادا کروں گا، والد صاحب نہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے علاقوں میں شوہر بعض دفعہ بیوی کے ساتھ لڑائی کے دوران اسے کہتاہے خاموش ہوجاؤ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ اس سے یقیناً ہمارے عرف میں مقصد استقبال ہوتا ہے نہ کہ حال، اور استقبال کا معنی غالب ہے، تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون کے شوہر ایک نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والے شخص کو نبی مانتے ہیں، اس کا اقرار بھی کرتے ہیں، ان کے حلقے میں بھی جاتے رہتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے، احادیث کا صریح انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پرصرف قرآن کی تعلیمات کو ماننا لازم ہے۔ اب اس خاتون کے نکاح کی کیا حیثیت ہے اور مزید ان کے لیے شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے؟ شریعت ان سے کیا تقاضا کرتی ہے؟ اس کی وضاحت فرمادیں۔