دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ذیل میں ایک تحریر لکھی جارہی ہے جس کے ذریعہ کچھ لوگ خواتین کو عید کی نماز میں شریک ہونے کا حکم اور ترغیب دیتے ہیں۔ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
’’نماز عیدین عورتوں پر بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر فرض ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ عورتوں اور پردہ نشین لڑکیوں کو باہر لے جائیں تاکہ وہ جماعت المسلمین کے ساتھ دعاؤں میں شامل ہو سکیں، البتہ حائضہ عورتوں کو نماز کی جگہ سے علیحدہ رکھیں۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! ہم میں بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس چادر (برقع) نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کے ساتھ جانے والی عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی چادر کا ایک حصّہ اسے اوڑھا دے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب الصلاۃ فی الثیاب)
اے ایمان والو! غور کرو کہ عورتوں کا عید گاہ میں جانا کتنا ضروری ہے؟ اے ایمان والو! صلوٰۃ العیدین میں عورتوں کا جانا حکمِ رسول ﷺسے ثابت ہے۔ کیا آج اس پر عمل ہو رہا ہے؟ غور کیجیئے جو لوگ عورتوں کو صلوٰۃ العید ین کے اجتماع میں جانے کے لیے تو منع کرتے ہیں مگر شادی بیاہ کی غیر ضروری و جاہلانہ رسموں اور گانے بجانے کی محفلوں میں جانے سے منع نہیں کرتے اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر والدىن بالغ اولاد كو حج كروائىں تو كىابعد مىں وہ بالغ اولاد جب خود صاحبِ استطاعت ہوجائے، تو ان پر دوبارہ حج كرنا فرض ہوگا ىا نہىں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللّہ خیراً۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جس بچے كى عمر چودہ سال سے كچھ ماہ زىادہ ہو اور وہ پڑھ بھى رہا ہو، لىكن اس كے ماں باپ كى حىثىت كے بارے مىں معلوم نہ ہو كہ ان كے پاس كوئى زىور وغىرہ ہے ىا نہىں، تو اىسے بچے كو زکوٰۃ دى جاسكتى ہے؟ اور اگر دى جاسكتى ہے تو كس عمر مىں دى جائے، تاكہ وہ اپنے تعلىمى اخراجات پورے كرسكے؟ اس مسئلےمىں رہنمائى فرمائىں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر والدىن اپنى اولاد كو نفلى روزہ ركھنے سے منع كرتے ہوں تو اس كا كىا حكم ہے؟ اگر كوئى والدىن كے منع كرنے كے باوجود نفلى روزہ ركھے تو كىا ان كے كہنے پر روزہ توڑدىنا درست ہے، حالانكہ روزہ ركھنے سے كسى كو نقصان نہ ہوگا، تب بھى؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون جس کے حیض کی مدت مقرر نہیں ہے، كبھى دو مہىنے بعد توكبھى چار مہىنے بعد حىض آتا ہے، اس خاتون کو پاکی کی حالت میں شوہر نے طلاق دے دی، اب یہ خاتون عدت کیسے گزارے اور اس کی عدت كے كتنے دن ہوں گے؟ برائے مہربانی اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیرا
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
نماز مىں ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ پھر كم از كم تىن قرآنى آیات، ركوع كے كلمات، سجدہ كے كلمات اور قعدہ كے كلمات، پھر آخرمىں دائیں بائیں سلام پھیرنا۔ ان تمام كلمات كو اپنے اپنے مقام پر پڑھنے اور اسى ترتیب كے ساتھ پڑھنے كا بىان احادىث صحاح ستہ سے ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو برائے مہربانى ان احادىث كے حوالہ جات دے دیں۔ جزاك اللہ۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
لوگوں سے سنا ہے کہ اگر وضو کرتے ہی موزے پہن لے تو سارا دن وضو میں پیر دھونے کی ضرورت نہیں ہے، صرف مسح کرلیا تو وضو ہو جاتا ہے، کیا یہ شرعًا جائز ہے؟ اگرملازمت كے دوران مجبوری میں مسح کرلیا جائے تو كىاوضو ہوجائے گا یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے ہند وپاک میں جو جتنا بڑا بے نمازی ہوتا ہے اس کے جنازے میں بدعات بھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ بے نمازی کے بارے میں ائمہ کے اقوال بھی بہت سخت ہیں کہ ایسا شخص مسلمان ہی نہیں جو بالکل نماز نہیں پڑھتا، قتل تک کے فتاوی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں بہت بڑا نمازی ہوں لیکن نماز کی اہمیت اجاگر کرنے کی خاطر کیا یہ ممکن نہیں کہ جو علمی بڑی شخصیات ہوں وہ اس کے جنازے میں شریک نہ ہوں، بس کچھ قریبی رشتے دار اور امامِ مسجد اس کے جنازے اور تدفین کی کارروائی مکمل کریں؟ جس طرح آپ ﷺ کے پاس مقروض کا جنازہ لایا گیا تو آپ نے خود نہیں پڑھا لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو منع بھی نہیں کیا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
محرم الحرام کے روزے کی احادیث کے حوالے سے بتائیے کیا وہ صحیح ہیں یا ضعیف؟ کسی شیعہ ذاکر نے کہا کہ ان احادیث کے سارے راوی بچے تھے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ذیل میں سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ کی ادائیگی میں جو فرق بیان کیا گیا ہے، اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ کیا یہ درست ہے؟
’’سنتِ مؤکدہ و غیرمؤکدہ کی ادائیگی میں فرق یہ ہے کہ اگر نمازی چار رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کر رہا ہے تو دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد پورا پڑھنے کے بعد اور درودِ ابراہیمی سے قبل کھڑا ہوجائے۔ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ ملاکر معمول کے مطابق قعدہ اخیرہ میں تشہد، درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔ جبکہ سنتِ غیر مؤکدہ کی ادائیگی کے دوران دوسری رکعت کے قعدہ میں تشہد کے بعد درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھے پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء اور تعوذ و تسمیہ پڑھے۔ بقیہ نماز مؤکدہ سنتوں کی طرح ادا کریں گے۔‘‘