Menu

Blog

All Posts Blog: Maqalaat (مقالات)

فضائل شعبان

Apr 08 2020
40
0

فقہ اکیڈمی کے شعبۂ تصنیف و تالیف کے ناظم  استاذ جمیل الرحمٰن عباسی صاحب مدظلہ کا تحریر کردہ رسالہ "فضائل شعبان" پیش خدمت ہے۔ جس میں مصنف موصوف نے انتہائی محنت سے؛ احادیث کے بنیادی مآخذ کا مطالعہ فرما کر؛ شعبان المعظم کے فضائل اور ماہ شعبان کے مسنون اعمال کو فقہائے کرام کی تصریحات کے موافق بیان کیا ہے۔ بالخصوص شب برات کی شرعی حیثیت اور اس بارے ثابت اعمال کی وضاحت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی یہ مساعی قبول فرمائے، ہم سب کو ماہ شعبان کے فضائل نصیب فرمائے  اور ان مسنون اعمال پر عمل کرنے کی سعادت عطا فرمائے، آمین۔

کتاب الأربعین في فضائل القرآن

Jul 26 2019
172
0
مؤلف :حماد احمد

 حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا: ’’اعمال کے نتائج نیتوں پر موقوف ہیں اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو کہ وہ اسے پائے گا، یا کسی عورت کے لیے ہو، کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف شمار ہوگی جس کے لیے ہجرت کی ہو‘‘ ۔ (متفق علیہ)

بے خدا تہذیب، اسباب واثرات

Jul 11 2019
520
0

محمد رشید ارشد 

فی الواقع ہم جس دنیا میں بس رہے ہیں وہ اپنی بنیادوں سے لے کر اپنے میناروں تک ساری کی ساری مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔ تخلیق کے اعتبار سے یقینا اللہ ہی نے دنیا بنائی ہے لیکن تشکیل کے اعتبار سے یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں وہ ساری کی ساری اپنے اندر باہر سے مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔یعنی وہ تہذیب و معاشرت جس کے ہم باسی و عادی ہیں، اس کے اصول و اطلاق مغرب کے طے کردہ ہیں ۔

جوابی بیانہ ۔۔۔تاریخی اسباق

Jul 09 2019
84
0
مولانا معراج محمد(استاذ فقہ اکیڈمی)

۱۹۲۳ ء میں انہدام خلافت کے ساتھ مسلم دنیا میں ایک نئی کشمکش کا آغازہوا ۔ایک طرف حامیان خلافت تھے جوقیام خلافت کےلیے عملی طورپرسرگرم ہونے کےساتھ فکری اورعلمی میدان میں بھی خدمات انجام دیتے رہے 

وہ زبان جسے اہلِ زبان نے خود ضائع کر دیا

Jul 09 2019
30
0
مترجم: مولانامعراج محمد (استاذ فقہ اکیڈمی)

کہتے ہیں انگریزی زبان کے کچھ الفاظ لکھے تو جاتے ہیں مگر پڑھے نہیں جاتے اور کچھ پڑھے تو جاتے ہیں پر لکھے نہیں جاتے،اور کچھ حروف کبھی کسی طرح پڑھے جاتے ہیں کبھی کسی طرح، البتہ اس زبان کے ہر طالبِ علم کے لیے یہ جانے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ اس کے کلمات کیسے لکھے جاتے ہیں اور ان کا درست تلفظ کیا ہے؟ 

اقامت دین فرض عین یا فرض کفایہ

Jan 05 2019
961
0

حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغی جماعت سے وابستہ ایک صاحب کے استفسار پر دین کے کام کے فرض عین اور فرض کفایہ ہونے کو چودہ سو سالہ فقہی روایت میں کھڑے ہوکرنہایت عام فہم انداز میں بیان فرمادیا۔ وہ ناواقف افراد جو علماءِ ربانی کی شان اور مقام نہیں جانتے، ان کے لیے یہ موقعِ تقابل ہے۔ اس مسئلے پر جب تجدد زدہ فقہ اسلامی سے عناد رکھنے والے جدید مفکرین کلام کرتے ہیں تو اُنہیں بے جا اور دور از کار تاویلات کا سہارا لینا پڑتا ہے اور پھر بھی بات نہیں بنتی! اس وقت تو حسرت وافسوس اور بھی بڑھ جاتا ہے جب اچھے اچھے داعیانِ دین بھی بے جا تاویلات کرکے اپنے غیر علمی موقف کو سہارا فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی یہ کہتا ہے: ’’جب فقہ اسلامی کی کتابیں لکھی گئی تھیں تو اُس وقت صورت حال کچھ اور تھی اور اب اقامتِ دین کو محض فرض کفایہ نہیں کہا جاسکتا‘‘ اور کہیں ایک خالص فقہی اصطلاح’’فرض عین‘‘ کو ’’ایمانی فرض عین‘‘ جیسے  ...


تصوراتِ جنس اور اسلام کا لا مذہبی ایڈیشن اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ

Dec 30 2018
63
0

تصوراتِ جنس اور اسلام کا  لا مذہبی ایڈیشن اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ محمد بلال گزشتہ مہینے عالم اسلام میں ایک بہت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سیران آتش  نامی ایک خاتون نے برلن  میں ایک مسجد قائم کی۔ یہ مسجد ابن رشد گویئتے مسجد کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں مرد و زن برابر کھڑے ہو کر نماز  ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امامت بھی انھی خاتون نے کی ۔  امامت کے وقت دو مصلے برابر بچھے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے ایک پر مرد اور دوسرے پر خاتون ساتھ ساتھ کھڑے ہو کر امامت کرتے ہیں۔ اس مسجد میں ہم جنس پرست برادری (LGBTQ )کو بھی آنے کی مکمل  آزادی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کا ہر فرقہ مثلا سنی، شیعہ اور علوی بھی آکر اپنی عبادات ادا کرسکتا ہے۔جہاں اس مسجد میں اتنی آزادیاں ہیں وہاں ایک پابندی بھی ہے اور وہ  ہےحجاب ونقاب پر پا بندی ۔  اس واقعے کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بھی منکشف ہوئی کہ  اس طرح کے اور بھی واقعات وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔اگست  ۲۰۱۶ ء میں کوپن ہیگن، ڈنمارک  میں ایک فیمنسٹ خاتون نے جامع مسجد برائے خواتین قائم کی ۔وہاں بھی امامت  و خ ...

جنرل سیسی اور جامعہ ازہر

Dec 30 2018
82
0

 مولانا معراج محمد 

جب سے جنرل عبد الفتاح سیسی مصر کی حکومت پر قابض ہوئے ہیں انہوں نے اسلام پسند وں پر گھیرا تنگ کردیا ہے۔ رابعہ عدویہ سمیت مختلف مو قعوں پر ہزاروں اسلام پسندوں کو شہید کیا،مصر کی جیلیں اسلام پسندوں سے بھری پڑی ہیں جس میں اخوان کی اعلی قیادت سے لے کر ان کے حمایتیوں تک جرم ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔مگر سیسی نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ اسلام کی اصلاح کی بھی ٹھان لی اور صدر بنتے ہی تعبیر دین کی تجدید پر زور دینا شروع کیا۔ انہوں نے دین کی جدید تعبیر جو مغرب کے لیے قابلِ قبول ہو،  کا کام جامعہ ازہر کے سامنے رکھا اور گزشتہ سال میلاد النبی کے موقع پر ایک مجلس میں شیخ الازہر اور علما ء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’یہ کوئی معقول بات نہیں کہ جس فکر کو ہم صدیوں سے مقدس سمجھتے ہیں پوری امت کو سارے جہاں میں اضطراب ، خطرے ، قتل اور ہلاکت تک پہنچا دیں‘‘۔جامعہ ازہر نے اپنی عادت کے مطابق کوشش کی کہ فکری انداز سے مسئلے کا حل نکلے مگر حکومت کو یہ راس نہ آیا اور سیسی نے تجدید دین کا کام اپنے مشیر دینی امور ڈاکٹر اسامہ ازہری کے حوالے کرد ...

دینی بیانیہ اور تفہیم مغرب کی ضرورت

Dec 30 2018
113
0

 محمد رشید ارشد 

اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انسان اور انسانی تہذیب کے بارے میں تمام کلاسیکی نظریات اور تصورات تقریباً ہر پہلو سے غیر مؤثر ہو کر رہ گئے۔ چیزوں پر سے نظریاتی گرفت بہت اہتمام اور زور کے ساتھ کمزور کر دی گئی۔ اس بہت بنیادی تبدیلی کے اثرات اور نتائج بھی اسی کی طرح ہمہ گیر ہیں۔ مغر ِب جدید میں اسی مقصود کو سامنے رکھ کر طاقت اور علم کی یکجائی کے اتنے فعال مظاہر وجود میں آگئے ہیں کہ باقی دنیا خود کو پہچاننے اور جاننے کے لیے بھی اور اپنے آپ کو اس نصب العین تک پہنچانے کے لیے بھی جس کا شعور انسان کی خلقت میں داخل ہے، مغرب کی غیر مشروط اور غیر محدود پیروی کرنے پر مائل ہے۔ آج انسان کی خود شعوری اور جہاں بینی کی کسی ایسی جہت کو موجود رہنے یا وجود پانے کی گویا اجازت ہی نہیں ہے جو مغربی ورلڈ ویو سے اختلاف نہیں بلکہ ایک غیرمتصادم امتیاز بھی رکھتی ہو۔ شعور کی اور وجود کی ایک مطلق کنڈیشننگ کا نظام دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک غالب ہے اور اس کی باگ ڈور مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ اس یک طرفہ آفاقیت کا احساس تو شاید مذہبی حلقوں کو تھا ، لیکن اس کا نتیجہ خیز 0000 ....

ڈونلڈ ٹرمپ کی سبق آموز کامیابی اور اسلامی انقلابی تحریکیں

Dec 30 2018
25
0

محمد ایاز

 9نومبر2016ءکو امریکا میں صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔بدتمیز،بد تہذیب،جھوٹا،دغاباز،نسل پرست،مسلم دشمن اور متعصب کہلانے والے ڈونلڈ ٹرمپ  مرد میدان قرار پائے اور امن پسند،نمونہ اخلاق،انسان دوست اور مہذب کہلانے والی خاتون کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔امریکہ  کے۲۰۱۶ءکے انتخابات کوکئی اعتبارات سے اہمیت حاصل ہے۔امریکہ کے صدارتی انتخابات نے عالمی میڈیا اور خاص کر امریکن  میڈیا کی ساکھ کو زمین بوس کردیا۔ایک طرف الیکشن مہم (Election Campaign)میں دو سو سے زائد اخبارات نے ہیلری کلنٹن کا  نہ صرف ساتھ دیا بلکہ کھلی حمایت کا اعلان بھی  کیایہاں تک کہ CNN جیسے نیوز چینل کو  کلنٹن نیوز نیٹ ورک کہا گیا۔ریاست کے معروف ایڈیٹوریل بورڈ (Editorial Boards) ہیلری کلنٹن کی خدمت میں دن رات کوشاں رہے۔دوسرے طرف صرف ۱۹ اخبارات  ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں سامنے آئے اور کچھ گنے چنے غیر معروف ایڈیٹوریل بورڈز (Editorial Boards) نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دیا۔ لیکن حیران کن طور پر انتخابات والے دن  امریکہ کے ...

Maqalaat

All Posts Blog: Maqalaat (مقالات)

کتاب الأربعین في فضائل القرآن

Jul 26 2019
172
0
مؤلف :حماد احمد

 حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا: ’’اعمال کے نتائج نیتوں پر موقوف ہیں اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو کہ وہ اسے پائے گا، یا کسی عورت کے لیے ہو، کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف شمار ہوگی جس کے لیے ہجرت کی ہو‘‘ ۔ (متفق علیہ)

بے خدا تہذیب، اسباب واثرات

Jul 11 2019
520
0

محمد رشید ارشد 

فی الواقع ہم جس دنیا میں بس رہے ہیں وہ اپنی بنیادوں سے لے کر اپنے میناروں تک ساری کی ساری مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔ تخلیق کے اعتبار سے یقینا اللہ ہی نے دنیا بنائی ہے لیکن تشکیل کے اعتبار سے یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں وہ ساری کی ساری اپنے اندر باہر سے مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔یعنی وہ تہذیب و معاشرت جس کے ہم باسی و عادی ہیں، اس کے اصول و اطلاق مغرب کے طے کردہ ہیں ۔

جوابی بیانہ ۔۔۔تاریخی اسباق

Jul 09 2019
84
0
مولانا معراج محمد(استاذ فقہ اکیڈمی)

۱۹۲۳ ء میں انہدام خلافت کے ساتھ مسلم دنیا میں ایک نئی کشمکش کا آغازہوا ۔ایک طرف حامیان خلافت تھے جوقیام خلافت کےلیے عملی طورپرسرگرم ہونے کےساتھ فکری اورعلمی میدان میں بھی خدمات انجام دیتے رہے 

وہ زبان جسے اہلِ زبان نے خود ضائع کر دیا

Jul 09 2019
30
0
مترجم: مولانامعراج محمد (استاذ فقہ اکیڈمی)

کہتے ہیں انگریزی زبان کے کچھ الفاظ لکھے تو جاتے ہیں مگر پڑھے نہیں جاتے اور کچھ پڑھے تو جاتے ہیں پر لکھے نہیں جاتے،اور کچھ حروف کبھی کسی طرح پڑھے جاتے ہیں کبھی کسی طرح، البتہ اس زبان کے ہر طالبِ علم کے لیے یہ جانے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ اس کے کلمات کیسے لکھے جاتے ہیں اور ان کا درست تلفظ کیا ہے؟ 

اقامت دین فرض عین یا فرض کفایہ

Jan 05 2019
961
0

حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغی جماعت سے وابستہ ایک صاحب کے استفسار پر دین کے کام کے فرض عین اور فرض کفایہ ہونے کو چودہ سو سالہ فقہی روایت میں کھڑے ہوکرنہایت عام فہم انداز میں بیان فرمادیا۔ وہ ناواقف افراد جو علماءِ ربانی کی شان اور مقام نہیں جانتے، ان کے لیے یہ موقعِ تقابل ہے۔ اس مسئلے پر جب تجدد زدہ فقہ اسلامی سے عناد رکھنے والے جدید مفکرین کلام کرتے ہیں تو اُنہیں بے جا اور دور از کار تاویلات کا سہارا لینا پڑتا ہے اور پھر بھی بات نہیں بنتی! اس وقت تو حسرت وافسوس اور بھی بڑھ جاتا ہے جب اچھے اچھے داعیانِ دین بھی بے جا تاویلات کرکے اپنے غیر علمی موقف کو سہارا فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی یہ کہتا ہے: ’’جب فقہ اسلامی کی کتابیں لکھی گئی تھیں تو اُس وقت صورت حال کچھ اور تھی اور اب اقامتِ دین کو محض فرض کفایہ نہیں کہا جاسکتا‘‘ اور کہیں ایک خالص فقہی اصطلاح’’فرض عین‘‘ کو ’’ایمانی فرض عین‘‘ جیسے  ...


تصوراتِ جنس اور اسلام کا لا مذہبی ایڈیشن اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ

Dec 30 2018
63
0

تصوراتِ جنس اور اسلام کا  لا مذہبی ایڈیشن اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ محمد بلال گزشتہ مہینے عالم اسلام میں ایک بہت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سیران آتش  نامی ایک خاتون نے برلن  میں ایک مسجد قائم کی۔ یہ مسجد ابن رشد گویئتے مسجد کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں مرد و زن برابر کھڑے ہو کر نماز  ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امامت بھی انھی خاتون نے کی ۔  امامت کے وقت دو مصلے برابر بچھے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے ایک پر مرد اور دوسرے پر خاتون ساتھ ساتھ کھڑے ہو کر امامت کرتے ہیں۔ اس مسجد میں ہم جنس پرست برادری (LGBTQ )کو بھی آنے کی مکمل  آزادی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کا ہر فرقہ مثلا سنی، شیعہ اور علوی بھی آکر اپنی عبادات ادا کرسکتا ہے۔جہاں اس مسجد میں اتنی آزادیاں ہیں وہاں ایک پابندی بھی ہے اور وہ  ہےحجاب ونقاب پر پا بندی ۔  اس واقعے کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بھی منکشف ہوئی کہ  اس طرح کے اور بھی واقعات وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔اگست  ۲۰۱۶ ء میں کوپن ہیگن، ڈنمارک  میں ایک فیمنسٹ خاتون نے جامع مسجد برائے خواتین قائم کی ۔وہاں بھی امامت  و خ ...

جنرل سیسی اور جامعہ ازہر

Dec 30 2018
82
0

 مولانا معراج محمد 

جب سے جنرل عبد الفتاح سیسی مصر کی حکومت پر قابض ہوئے ہیں انہوں نے اسلام پسند وں پر گھیرا تنگ کردیا ہے۔ رابعہ عدویہ سمیت مختلف مو قعوں پر ہزاروں اسلام پسندوں کو شہید کیا،مصر کی جیلیں اسلام پسندوں سے بھری پڑی ہیں جس میں اخوان کی اعلی قیادت سے لے کر ان کے حمایتیوں تک جرم ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔مگر سیسی نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ اسلام کی اصلاح کی بھی ٹھان لی اور صدر بنتے ہی تعبیر دین کی تجدید پر زور دینا شروع کیا۔ انہوں نے دین کی جدید تعبیر جو مغرب کے لیے قابلِ قبول ہو،  کا کام جامعہ ازہر کے سامنے رکھا اور گزشتہ سال میلاد النبی کے موقع پر ایک مجلس میں شیخ الازہر اور علما ء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’یہ کوئی معقول بات نہیں کہ جس فکر کو ہم صدیوں سے مقدس سمجھتے ہیں پوری امت کو سارے جہاں میں اضطراب ، خطرے ، قتل اور ہلاکت تک پہنچا دیں‘‘۔جامعہ ازہر نے اپنی عادت کے مطابق کوشش کی کہ فکری انداز سے مسئلے کا حل نکلے مگر حکومت کو یہ راس نہ آیا اور سیسی نے تجدید دین کا کام اپنے مشیر دینی امور ڈاکٹر اسامہ ازہری کے حوالے کرد ...

دینی بیانیہ اور تفہیم مغرب کی ضرورت

Dec 30 2018
113
0

 محمد رشید ارشد 

اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انسان اور انسانی تہذیب کے بارے میں تمام کلاسیکی نظریات اور تصورات تقریباً ہر پہلو سے غیر مؤثر ہو کر رہ گئے۔ چیزوں پر سے نظریاتی گرفت بہت اہتمام اور زور کے ساتھ کمزور کر دی گئی۔ اس بہت بنیادی تبدیلی کے اثرات اور نتائج بھی اسی کی طرح ہمہ گیر ہیں۔ مغر ِب جدید میں اسی مقصود کو سامنے رکھ کر طاقت اور علم کی یکجائی کے اتنے فعال مظاہر وجود میں آگئے ہیں کہ باقی دنیا خود کو پہچاننے اور جاننے کے لیے بھی اور اپنے آپ کو اس نصب العین تک پہنچانے کے لیے بھی جس کا شعور انسان کی خلقت میں داخل ہے، مغرب کی غیر مشروط اور غیر محدود پیروی کرنے پر مائل ہے۔ آج انسان کی خود شعوری اور جہاں بینی کی کسی ایسی جہت کو موجود رہنے یا وجود پانے کی گویا اجازت ہی نہیں ہے جو مغربی ورلڈ ویو سے اختلاف نہیں بلکہ ایک غیرمتصادم امتیاز بھی رکھتی ہو۔ شعور کی اور وجود کی ایک مطلق کنڈیشننگ کا نظام دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک غالب ہے اور اس کی باگ ڈور مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ اس یک طرفہ آفاقیت کا احساس تو شاید مذہبی حلقوں کو تھا ، لیکن اس کا نتیجہ خیز 0000 ....

ڈونلڈ ٹرمپ کی سبق آموز کامیابی اور اسلامی انقلابی تحریکیں

Dec 30 2018
25
0

محمد ایاز

 9نومبر2016ءکو امریکا میں صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔بدتمیز،بد تہذیب،جھوٹا،دغاباز،نسل پرست،مسلم دشمن اور متعصب کہلانے والے ڈونلڈ ٹرمپ  مرد میدان قرار پائے اور امن پسند،نمونہ اخلاق،انسان دوست اور مہذب کہلانے والی خاتون کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔امریکہ  کے۲۰۱۶ءکے انتخابات کوکئی اعتبارات سے اہمیت حاصل ہے۔امریکہ کے صدارتی انتخابات نے عالمی میڈیا اور خاص کر امریکن  میڈیا کی ساکھ کو زمین بوس کردیا۔ایک طرف الیکشن مہم (Election Campaign)میں دو سو سے زائد اخبارات نے ہیلری کلنٹن کا  نہ صرف ساتھ دیا بلکہ کھلی حمایت کا اعلان بھی  کیایہاں تک کہ CNN جیسے نیوز چینل کو  کلنٹن نیوز نیٹ ورک کہا گیا۔ریاست کے معروف ایڈیٹوریل بورڈ (Editorial Boards) ہیلری کلنٹن کی خدمت میں دن رات کوشاں رہے۔دوسرے طرف صرف ۱۹ اخبارات  ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں سامنے آئے اور کچھ گنے چنے غیر معروف ایڈیٹوریل بورڈز (Editorial Boards) نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دیا۔ لیکن حیران کن طور پر انتخابات والے دن  امریکہ کے ...

تزکیۂ نفس اور جہاد فی سبیل اللہ

Dec 30 2018
161
0

 ہوش محمد

 دینِ اسلام ہر دور میں مختلف نوعیت کے حملوں اور فتنوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔  مادی ترقی بھی اسی سلسلے  کی ایک کڑی ہے جس نے اسلا م کی عمارت  کو شدید زک پہنچائی اوردین سے دوری کی راہیں ہموار کیں جس کے سبب کئی فتنے رونما ہوئے  تاآنکہ اس دور کا نام دورِ فتن پڑ گیا۔ انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ ’’دین کو زندگی کے بعض شعبوں تک محدود کرنے کی کوشش‘‘ کی صورت میں پیش آیا ۔ اس دور کے فتنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر اس فتنے کو ’’اُم الفتن‘‘ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ اس فتنے نے دینِ اسلام کے کئی بڑے اور اہم شعبوں پر ضرب لگائی۔ مثلاً خدمتِ خلق میں کل دین کو پنہاں دکھایا اور حقوق اللہ سے بےگانہ کر کے محض حقوق العباد پر  زور دیا۔تصوف وسلوک کے شعبے میں دراڑیں پیدا کیں ۔ جہاد کے روایتی تصور کو مسخ کر دیا  وغیرہ،  پھر اسی فتنے کی کوکھ سے یہ تصور بھی  برآمدہوا کہ جن کا شیوہ جہاد فی سبیل اللہ ہو وہ میدان کارزار میں تو کارآمد ہوا کرتے ہیں  ...

پاکستان کے ہمدرد دانشوروں کا اجتماع

Dec 30 2018
12
0

پاکستان کے ہمدرد دانشوروں کا اجتماع محمد ایاز پاکستان سے دور لندن میں پاکستانی  سیکولر، لبرل، ترقی پسند، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور قوم پرست دانشوروں کا ایک اجتماع SAATH فورم یعنی (South Asians Against Terrorism & For Human Rights) کے زیر نگرانی ہوا۔ اس   کانفرنس  کی میزبانی پاکستانی دانشور ڈاکٹر محمد تقی  (معروف کمیونسٹ) اور سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے مشترکہ طور پر کی۔  تقریباً سو کے قریب تعداد میں موجود ان دانشوروں میں سرمایادارانہ نظام کے حامی، کمیونسٹ، لبرل، ہیومن رائیٹس ایکٹوسٹس، سیکولر جماعتوں کے ارکان، میڈیا کے آزاد خیال حضرات وغیرہ سب ہی موجود تھے۔مجلس میں موجود  نمایاں شخصیات  ماروی سرمد، لطیف آفریدی، بینا سرور، فرحت تاج، تیمور الرحمٰن (لال)، عارف جمال،  عباس ناصر وغیرہ  تھے۔الغرض مذہب مخالف جذبات کے تحت کمیونسٹ اور سرمایہ دار حضرات بھی اکھٹے ہوگئے۔  اس اجتماع میں پاکستان سے متعلق چند باتوں پر اظہارِ خیال کیا گیا جن کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔  سب سے پہلے جس شے کے بارے میں اظہارِ تشویش کیا گیا وہ یہ ...