Menu

Blog

جوابی بیانہ ۔۔۔تاریخی اسباق

Jul 09 2019


مولانا معراج محمد(استاذ فقہ اکیڈمی)

۱۹۲۳ ء میں انہدام خلافت کے ساتھ مسلم دنیا میں ایک نئی کشمکش کا آغازہوا ۔ایک طرف حامیان خلافت تھے جوقیام خلافت کےلیے عملی طورپرسرگرم ہونے کےساتھ فکری اورعلمی میدان میں بھی خدمات انجام دیتے رہے ،ان میں سب سے پہلےمصرکے معروف عالم اور مفسرقرآن محمدرشید رضا صاحب﷫ ’’مصنف تفسیرالمنار‘‘تھے جنھوں نے ’’الخلافۃ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جس میں خلافت سےمتعلق شرعی مباحث ذکر کیے اس کےبعدتصانیف کا ایک سلسلہ شروع ہوا جن میں اسلام کی سیاسی تعلیمات پرتفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ مگراس کےساتھ کچھ ایسےلوگ بھی نمودارہوئے جو خلافت کی شرعی حیثیت بلکہ اسلام کےسیاست سے تعلق ہی کےمنکرہوئےاوراسے مسلمانوں کےدرمیان  شروفسادکامنبع  اورترقی کی راہ میں رکاوٹ قراردینےلگے،ان میں سب پر سبقت لے جانےوالےعلی عبدالرزاق صاحب تھے جو ۱۸۸۷ءکومصرمیں پیداہوئے ۱۹۱۲ءمیں جامعہ ازہرسےدینی تعلیم مکمل کی اس کے ساتھ ساتھ انھوں  نے  ۱۹۰۸ءمیں قائم ہونے والے ’’جامعۃالاہلیہ‘‘ سے عصری علوم حاصل کیے ،اس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبۂ اقتصادیات میں داخلہ لیا مگرپہلی جنگ عظیم کی وجہ سے ۱۹۱۵ءمیں وآپس آگئے اوراسی سال مصر کی شرعی عدالت میں قاضی مقرر کیےگئے ۔
 علی عبدالرزاق صاحب کئی کتب کے مصنف ہیں مگران کی شہرت کاسبب ۱۹۲۵ءمیں شائع ہونےوالی ان کی کتاب ’’الاسلام واصول الحکم‘‘ بنی ۔جس میں انھوں نےخلافت کی شرعی حیثیت کا انکار کیا،اسےشروفسادکامنبع قراردیا اور یہ کہا کہ قرآن وحدیث میں خلافت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔علما  نے خلافت وامامت  پر جن آیات واحادیث سے استدلال کیاہے مذکورہ کتاب میں ان کاردکیاگیا۔ان کادعویٰ تھا کہ نبی اکرمﷺ  کا کام محض پیغام الہی پہنچانا تھا، احکام کی تنفیذ ان کی شرعی ذمے داری نہیں تھی اورجوسیاسی نوعیت کے کام آپﷺ نے کیےوہ ان کےساتھ خاص ہیں جن میں کوئی ان کا شریک نہیں ہوسکتا ۔
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ خلافت بمعنیٰ’’نیابت رسول‘‘ کی غلطی صدراول میں ہوئی جب ابوبکر صدیق نے دینی طرزپرحکومت کرتے ہوئے’’خلیفۃرسول اللہ‘‘ کا لقب اختیار کیا اوروہی اس غلط فہمی کاباعث بنے کہ لوگ خلافت کودینی منصب سمجھ بیٹھے ،مصنف  نے آخر میں اپنا حتمی فیصلہ یہ سنا یا  کہ ’’حق یہ ہےکہ دین اسلام اس خلافت سےبَری ہےجسے مسلمانوں  نےمتعارف کرایاہے اوراس کےاردگران کےبنائےگئےرغبت ورہبت اورعزت وقوت کےتصورات سےبیزارہے۔خلافت ہرگزکوئی دینی اصطلاح نہیں اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز ہیں ۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی  اصطلاحات اورادارے ہیں دین کا ان سےکوئی تعلق نہیں  ۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل ،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں ‘‘(صفحہ۱۳۷)۔
’’الاسلام واصول الحکم‘‘خلافت کی شرعی حیثیت کو مسترد کرنے کے موضوع پربنیادی اوراہم کتاب ہے۔اس میں مصنف نے بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خلافت کوصدراول ہی سے ہاتھ ڈال کر غیر شرعی اور ناجائزقراردیا ہے اورمسلمانوں کو کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ جیسے چاہے اپناسیاسی نظام وضع کریں۔
کتاب پڑھتےہوئے لگتاہےجیسے یہ اپنےیہاں کے’’جوابی بیانیے‘‘ کی تائیدمیں لکھی گئی ہو،صرف اس فرق کے ساتھ کہ مصنف صاحب نے بات صدراول تک پہنچا کر اپنا مدعا واضح کیا ہے جبکہ یہاں اسے حال تک محدودرکھ کرماضی کونہیں چھیڑاجاتا تاکہ زودہضم رہے۔
مصنف صاحب پرخلافت کے غیرشرعی ہونے کے ساتھ مسلمانوں کےنظام قضا کاغیرشرعی ہونابھی کافی پہلے واضح ہوچکاتھا جیسےکہ انھوں نےخلافت کےعدل وانصاف کے بجائےطاقت کی بنیادپرقائم رہنےکےضمن میں سلطان محمدالخامس کاتذکرہ کیاہےجن کادورحکومت جنگ عظیم اول کےساتھ ختم ہوگیاتھا،جبکہ کتاب کاپیش لفظ یکم اپریل ۱۹۲۵ءکولکھاگیاہے،مگر اس کے باوجود آپ برابراس’’غیر شرعی‘‘منصب پربراجمان رہےیہاں تک کہ اشاعت کتاب کےبعد۱۲اگست۱۹۲۵ءکوجامعہ ازہرنےان کی ڈگری منسوخ کی جس کی بنیاد پروہ عہدےسےمعزول کیےگئے۔کتاب پرکی گئی بعض اہم تنقیدیں ہم بعدمیں ذکرکریں گے،سردست  مصنف صاحب کاموقف انھی کےاقتباسات کےذریعےپیش کیاجاتاہے۔
صاحب کتاب خلافت کی اصطلاح پربحث کرنےکےبعدلکھتے ہیں’’خلیفہ ان مسلمانوں کے نزدیک بمنزلۂ رسول ہے،اس کوولایت عامہ،اطاعت تامہ اوراقتدارکامل حاصل ہے،اس کو انھیں    دین پر قائم رکھنے کا حق حاصل ہے اس لیے وہ ان پرحدودِدین قائم کرےگاوہی اس کےشرائع نافذکرےگا توان کے دنیوی معاملات کی انجام دہی کا بطریق اولیٰ ذمے دارہوگا۔ان(مسلمانوں )پرلازم ہے کہ پوری عزت کےساتھ اس سےمحبت کریں کیو نکہ وہ رسولﷺ کانائب ہے اورمسلمانوں کےیہاں رسول اللہﷺ کےمقام سےاشرف کوئی مقام نہیں ہوسکتا توجواس مقام کی طرف منسوب ہوجائے،وہ اس انتہا کوپہنچ گیا جس کےاوپرمخلوق کےلیےکسی مقام کا تصورنہیں کیا جاسکتا(صفحہ۱۱)۔
’’حاشیۃ الباجوری علی الجوھرۃ‘‘کی طرف نسبت کرتےہوئے لکھتے ہیں’’ان مسلمانوں پراس کی اطاعت ظاہراًوباطناًلازم ہے کیونکہ اطاعتِ ائمہ  اطاعتِ خداوندی میں سے ہے اوران کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی سے‘‘(صفحہ۱۲)۔ آگے’’العقدالفرید‘‘کےحوالےسےلکھتے ہیں’’پس امام کی اطاعت اوراس کی خیرخواہی فرض و واجب اور امرلازم ہے،ایمان اس کے بغیرمکمل نہیں ہوتا اوراسلام  بدون اس کے ثابت نہیں ہوتا۔[ایضا]
مزیدلکھتےہیں’’مختصرا یہ کہ سلطان رسول اللہ ﷺکا نائب ہوتا ہےوہ زمین میں اللہ کی حِمیٰ (چراگاہ) ہے،بندوں کےاوپر اللہ کاپھیلاہوا سایہ ہےاورجوزمین میں اللہ کاسایہ اوررسول اللہﷺ کاخلیفہ ہوتواس کی ولایت عام اورمطلق ہونی چاہیے ۔جیسےاللہ اوررسول ﷺکی ولایت ہے۔’’طوالع الانوار وشرحہ مطالع الانظار‘‘ کاحوالہ دیتےہوئےلکھتےہیں اورکوئی عجب نہیں کہ اسے(خلیفہ کو)لوگوں کےجان ،مال اورشرمگاہوں میں تصرف کاحق حاصل ہو‘‘(صفحہ ۱۲تا۱۳)۔
خلیفہ کےماخذاقتدارکی بحث کے ضمن میں مسلمانوں پرتنقیدکرتےہوئےلکھتےہیں کہ’’انھوں نےدیگرسیاسی مباحث کی طرح اسےبھی مہمل چھوڑاہےلیکن اس موضوع سےمتعلق علما  کی عبارات کے استقرا سےپتہ چلتاہے کہ اس میں مسلمانوں کے دومذہب ہیں‘‘۔
اول :   اقتدارخلیفہ کاماخذذاتِ خداوندی ہےکہ خلیفہ اپنی قوت اللہ کی قوت سےحاصل کرتا ہے۔اس رائے کی روح آپ کو علما  اور عام مسلمانوں کےدرمیان ظاہر نظرآئی گی، خلافت سے متعلق ان کےمباحث اسی طرف جاتے اوراسی عقیدے کی طرف اشارہ کرتےہیں جیساکہ ابھی ہم نےذکرکیا کہ انھوں نےخلیفہ کوزمین میں اللہ کاسایہ بنایاہےاورابوجعفرمنصورنےخودکوزمین میں اللہ کاسلطان قراردیا تھا (صفحہ۱۶)۔ 
دوم :   کہ خلیفہ  کی قوت کاماخذ امت ہے امت ہی اسےاس منصب کےلیےمنتخب کرتی ہے(صفحہ ۲۰)۔
مصنف صاحب نےاپنےدعوے پرعلما اورفقہا کےاقوال کے بجائےاشعاراورمنطقی کتابوں کےدیباچوں سےاقتباسات پیش کیے ہیں جن میں بادشاہوں کی مدح مبالغہ آرائی کےساتھ کی گئی ہےاورمجتہدین کی جگہ مغربی فلسفیوں کی مثالیں دی ہیں،لکھتےہیں’’ماخذِاقتدارِخلیفہ میں مسلمانوں کی طرح یورپیوں میں بھی اختلاف ہواہےاورمذہب اول فلسفی’’تھامس ہابز‘‘کےموقف کےقریب ہےکہ’’بادشاہوں کااقتدارمقدس ہوتاہےاوران کا حق آسمانی ہوتا ہےجبکہ دوسرامذہب گویا بعینہ’’جان لاک‘‘کاموقف ہے‘‘(صفحہ۲۲)۔
نصب امام کے دلائل کوردکرتےہوئےلکھتےہیں’’فرضیتِ اقامتِ امام کےقائل علما کےجتنےمباحث ہم پڑھ چکےہیں کسی کوہم نےاس کی فرضیت پرکتاب اللہ کی کسی آیت سےدلیل قائم کرتاہوانہیں پایاولعمری(اورمیری عمرکی قسم )اگرکتاب اللہ میں ایک دلیل بھی ایسی ہوتی توعلما اس سےاستدلال میں تردد نہ کرتےاورخلافت کاتکلف اٹھانےوالےانصار(جن کی تعدادمیں کمی نہیں)میں سے کوئی شبہ دلیل سےدلیل پکڑنےکی کوشش کرتاہواپایا جاتا لیکن ان کےمتکلفین اورمنصفین  اپنی رائے کی حمایت میں کتاب اللہ سےحجت پانےمیں عاجزآگئے، اس لیےوہ کبھی اجماع کےمدعی بنتےہیں اورکبھی منطقی قیاسات  اور عقلی احکام  کاسہارا لیتے ہیں ‘‘ (صفحہ ۲۵)۔
بحث کوآگےبڑھاتےہوئےلکھتےہیں’’اگر آپ کومزیدتحقیق درکارہےتوعلامہ مسٹرتھامس آرنلڈکی کتاب’’الخلافہ‘‘کی طرف رجوع کیجیے،اس کےباب دوم اورسوم میں مفیداورقانع کرنےوالی تحقیق موجودہے‘‘ (صفحہ۲۶)۔
مزیدلکھتےہیں’’صرف قرآن نے خلافت کو مہمل نہیں چھوڑابلکہ سنت نے بھی قرآن کی طرح  اس سے تعرض نہیں کیا،اس کی دلیل یہ ہے کہ علما نےاس باب میں حدیث سے استدلال نہیں کیا،اگروہ حدیث میں دلیل پاتےتو اجماع سےپہلےوہی ذکرکرتے‘‘(صفحہ۲۷)۔
اصطلاح ’’خلافت‘‘ کی غلطی کیسےہوئی؟ اس کےلیے تمہیدباندھتےہوئے مصنف نے کہا کہ’’عربوں پر یہ بات  مخفی نہیں تھی کہ اللہ تعالی نے ان کےلیےنئی مملکت کےاسباب مہیاکیےہیں اوراس کےمقدمات ان کےلیےتیارکیےہیں بلکہ وہ رسول اللہﷺ کی مفارقت سےپہلےاس کومحسوس کرتےتھےلیکن جب نبی اکرمﷺ کاانتقال ہوگیاتوانھوں  نےبلاتردداس سیاسی مملکت میں مشاورت شروع کی جس کےلیےان کےپاس اسےدینی وحدت کی بنیادپرتعمیرکرنےکےسواکوئی چارہ نہ تھا جسےنبی اکرمﷺ نےان کےدرمیان چھوڑدیاتھا،اس دن وہ مملکت کے قیام اورحکومت سازی کےلیےمشورےکررہےتھےاس لیےان کی زبانوں پرامارت،امرا اوروزارت،وزرا کی باتیں آگئیں اور وہ قوت،تلوار،عزت،دولت،کثرت و منفعت کےتذکرےکرنےلگے،یہ سب کچھ مملکت کے قیام اورحکومت کےلیےتھا،اسی کااثرتھا کہ مہاجرین وانصار اورکبارصحابہ  ایک دوسرے سےآگےبڑھنے کی کوششوں میں لگ گئے یہاں تک کہ ابوبکر کےہاتھ پربیعت ہوگئی اوروہ اسلام کے پہلےبادشاہ بن گئے۔
جب آپ دیکھیں گےکہ ابوبکر کی بیعت کیسے ہوئی تومعلوم ہوجائےگا کہ وہ سیاسی بادشاہت کی بیعت تھی، اس پر نئی مملکت کی تمام مہریں  ثبت تھیں  اورایسےہی قائم ہوئی تھی  جس طرح عام حکومتیں قوت اور تلوارکےزورپرقائم ہوتی ہیں ۔یہ نئی مملکت تھی جسے عربوں نے قائم کیااور یہی عربی دولت اورعربی حکومت تھی جبکہ  اسلام دینِ انسانیت ہے،وہ عربی ہےنہ ہی عجمی(صفحہ۱۲۳ تا ۱۲۴)۔
آگے لکھتے ہیں ’’ابوبکر  اور دیگر خاصانِ قوم کا خیال نہیں تھا  کہ امارت المسلمین دینی منصب ہے اور اس کےخلاف خروج دین پر خروج ہے ،ابوبکر کہتے تھے: ’’اے لوگو !  میں تمہارے جیسا ہوں،  میں نہیں جانتا شاید تم مجھے ان (کاموں)کا مکلف بناؤ جس کی طاقت رسول اللہﷺ رکھتے تھے ۔یقینا اللہ نے محمدﷺ کو عالمین پر فضیلت دی ہے اور انھیں    غلطیوں سے معصوم بنایا تھا جبکہ میں (ان کا)متبع ہو ں  نہ کہ بدعتی(دین میں نئی بات داخل کرنےوالا)‘‘۔ لیکن ان دنوں  بہت سے ایسے اسباب پائےگئے جنھوں نے ابوبکر  پر کچھ دینی رنگ چڑھادیا جس سے بعض لوگوں کو لگا کہ وہ دینی منصب پر فائز ہیں اور رسول اللہﷺ کے نائب ہیں۔   اسی طرح یہ خیال پیدا ہوا کہ امارت علی المسلمین دینی مرکز ہے اور رسول اللہﷺ کی نیابت ہے ۔ان میں سب سے اہم سبب جس کی بنا پر یہ گمان پیدا ہوا ابوبکر کا ’’خلیفۃ رسول اللہ ﷺ‘‘ کا لقب اختیارکرناتھا ‘‘ (صفحہ۱۲۶)۔
مصنف صاحب لکھتے ہیں’’ یقین سے پتہ نہیں چلتا کہ ابوبکر کے لیے’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کے لقب کا اختراع کب ہوا مگر اتنا معلوم ہے کہ ابوبکر نے اس کی اجازت دی تھی اور اس کو پسند کیا تھا ‘‘(صفحہ ۱۲۷)۔اسی صفحہ پر آگے لکھتے ہیں’’اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہﷺ عرب کے سردار اور مدارِ وحدت تھے جیسا کہ ہم پہلے اس کی تشریح کرچکے ہیں جب ابوبکر  ان کے بعد عرب کے بادشاہ اور نئے سیاسی طرز پر ان کی وحدت کو مجتمع کرنے والے بنے تو عرب کے لغت میں انھیں    اس اعتبار سے’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کہنے کی گنجائش پیدا ہوگئی جیسا کہ علی الاطلاق خلیفہ کہنے کی ‘‘۔
اس لقب کے اختیار  کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’اس لقب میں رعب،ہیبت،قوت اورجاذبیت(کشش )ہےتوعجب نہیں کہ اس کی وجہ سے صدیق نےاسےاختیارکیا ہوجبکہ وہ نئی مملکت کی تعمیرکرنےاٹھےتھےاورچاہتےتھے کہ فتنوں کےسیلاب،متناقض خواہشات(ذاتی مفادات) کی آندھیوں میں گھری،نئی نئی جاہلیت سےنکلی ہوئی قوم کی شیرازہ بندی اس (لقب خلیفہ)کےذریعےکریں جن میں سخت قوت،دیہاتی پن اورعصبیت کی باقیات موجودتھیں لیکن چونکہ وہ عہدنبوی ﷺکےقریب،ان کےسامنےجھکنےوالےاوران کی بات کےسامنےمکمل طورپرگردن نہاد تھے اس لیے یہ لقب ان کی سرکشی کوقابوکرنےاوربعض باغی قیادت کوقابو کرنےکےلیےزیادہ مناسب تھااورشایدانھوں (ابوبکر )نے ایساکیا‘‘(صفحہ۱۲۸)۔
آگے لکھتے ہیں’’ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ابوبکر  کی خلافت اپنے تمام ترمعنی میں حقیقی خلافت ہے‘‘ (صفحہ ۱۲۸)۔مزید وضاحت کرتے ہیں’’یہاں ابوبکر  کے ساتھ ذاتی نوعیت کے کچھ ایسے عوامل شامل ہوگئے  جنھوں نے اس عام غلطی میں معاونت کی اور ان کے لیے امارت ابوبکر کو دینی  معنی پہنانا آسان کردیا  یقیناصدیق  کا مقام رسول اللہﷺ کے نزدیک بلند اور ممتاز تھا  ،اس کے ساتھ ابوبکر اپنےنجی اور عوامی معاملات میں  رسول اللہﷺ کے نقش قدم پر چلتے تھے اور بلا شبہہ حکومتی معاملات میں بھی ان کی یہی شان تھی،وہ اپنی انتہائی کوشش کے ساتھ حکومت کو دینی طریقے کے مطابق چلاتے تھے اور ہرممکن حد تک رسول اللہ ﷺ کے منہج پر چلتے تھے  تو کوئی عجب نہیں کہ ابوبکر  نے اپنی نئی مملکت کے مرکز پر (جس کے وہ پہلے بادشاہ تھے)تمام ممکن دینی مظاہر جاری کردیے‘‘(صفحہ ۱۳۴ تا ۱۳۵)۔
مگر اس کے باوجود مصنف صاحب  خلافت کے شرعی ہونے پر مطمئن نہیں ہیں اوراسےحضرت ابوبکر  کی غلطی گردانتےہیں ۔ لکھتے ہیں’’اس سے واضح ہوا کہ لقب خلیفہ رسول اللہﷺ اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے (جن میں سے بعض کی طرف ہم نے اشارہ کیا باقی کے طرف نہیں)غلطی کے اسباب میں سے تھا جو عامۃ المسلمین میں پھیل گئی، انھیں لگا کہ خلافت دینی مرکز ہے اور جو مسلمانوں کا والی بن جائے وہ رسول اللہ ﷺ کے مقام پر فائزہوگیا ۔اس طرح مسلمانوں میں  صدر اول سے یہ بات پھیل گئی کہ خلافت دینی منصب ہے اور صاحب الشریعۃﷺ کی نیابت ہے‘‘(صفحہ۱۳۵)۔
 مصف صاحب صفحہ ۵۰پرلکھ چکےہیں’’اگرفقہا کی مرادخلافت وامامت سےوہ ہوتی جسےماہرین سیاست حکومت کہتےہیں توان کی بات درست ہوتی کہ شعائردینیہ کاقیام اوراصلاح رعیت اس خلافت بمعنی حکومت پرموقوف ہےچاہےوہ  کسی بھی صورت میں اورجس نوعیت کی ہومطلق،مقید،استبدادی،جمہوری ہویادستوری،شورائی،اشتراکی اوربالشوک ازم۔ان کی دلیل اس سے زیادہ کافائدہ نہیں دیتی(لیکن)اگروہ خلافت سےاپنی متعارف کردہ خاص قسم کی حکومت مرادلیتےہیں تودلیل ان کےدعوے کےموافق نہیں اوران کی دلیل غلط ہے‘‘۔مگرگذشتہ ایک صدی نےواضح کردیاکہ فقہا کی دلیل درست تھی اورمسلمانوں کی دینی اوردنیوی اصلاح خلافت وامارت پرموقوف ہے،عالم اسلام مجموعی طورپرمندرجہ بالانظام ہائےحکومت آزماچکا ہےمگردنیامیں مسلمانوں کاکوئی مقام ہے نہ ہی شعائرِدین کما حقہ محفوظ ہیں مگرمصنف صاحب چونکہ قریب العہد بانہدام خلافت اورحدیث العہد بنظام الغرب  تھےاس لیےلکھتےہیں’’ مسلمانوں کی دنیوی اصلاح کسی طرح بھی اس پر موقوف نہیں،   پس ہم اپنےدینی اوردنیوی امور میں اس خلافت کے محتاج نہیں ہیں۔اگر ہم چاہتے تو اس سے بھی زیادہ کہتے،بےشک خلافت ہمیشہ سےاسلام اورمسلمانوں کےلیےآفت اورشروفساد کاسرچشمہ رہی ہے‘‘(صفحہ۵۰ تا ۵۱)۔
آخرمیں مصنف صاحب اپناحتمی فیصلہ سناتےہیں’’حق یہ ہےکہ دین اسلام اس خلافت سےبری ہےجسےمسلمانوں نےمتعارف کرایاہے اوراس کےاردگردان کےبنائےگئےرغبت ورہبت اورعزت وقوت کےتصورات سےبیزارہے۔خلافت ہرگزکوئی  دینی اصطلاح نہیں،اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی  اصطلاحات اورادارے ہیں دین کا ان سےکوئی  تعلق نہیں۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل ،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں‘‘(صفحہ۱۳۷)۔
کتاب’’الاسلام واصول الحکم‘‘ کی اشاعت کے بعد سب سے پہلے معروف مفسرقران محمد رشیدرضا صاحب﷫ نے ’’مجلۃالمنار ‘‘میں  کتاب پر تنقیدی مضامین لکھے،انھوں نےلکھا ’’ اعداے اسلام ہمیشہ سے اسلام کے تخت گرانے،  اس کی اقتدارو حکومت پر آخری فیصلہ کرنے، اور اس کی شریعت  مٹانے  اور مسلمانوں کو اس پر عمل سے دور  کرنے   کے آرزومند رہے ہیں۔اس کے لیے انھوں نے تیر و تلوار دھونس دھمکیوں  اور اخلاق و عقائد کے بگاڑ سے لے کر اسلام کی بنیادوں  پر طعن و تشنیع تک ہر طرح کا حربہ آزمایامگراسلام اور مسلمانوں کے خلاف موجودہ سیاسی اور علمی جنگ میں انھیں مسلح جنگوں سے زیادہ نقصان پہنچا کیونکہ صلیبی جنگیں مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد کا ذریعہ بنتی تھیں،جبکہ اس معنوی جنگ نے ان کی جمیعت کو پارپارا کردیا ۔اب وہ دشمن کے معاون بنے اپنے ہی ہاتھوں اپنا گھر بربا دکررہے ہیں مسلمانوں کے خلاف دشمنان اسلام کی آخری کامیابی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ تھا جس کے بعد ترکوں نے خلافت کو خیر باد کہہ کر سیکولر جمہوری حکومت بنائی جو اسلامی شریعت سے مکمل آزاد ہے اور دین و سیاسست کی مکمل آزادی کااعلان کیا ۔اس حادثے نے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ دیا اور فرنگیوں کی سیاست رائج کرنے والے مشرقی نصاریٰ اور مغرب زدہ  ملحدین نے جشن منایا،  اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں نے ترکوں کے لیے تالیاں بجاتے ہوئے  مصراور دیگر مسلم ممالک میں ان کا علم بلند کیا لیکن جب انھوں نے مصر کو بھی انقرہ کی طرح سیکولر بنانے کی کوشش  کی تو منصبِ خلافت کے احیا کے لیے  جس قدر اس وقت ممکن ہوا ایک عالمی اسلامی کانفرنس کی دعوت پھیل گئی۔اتنے میں جامعہ ازہر کےفاضل،شرعی عدالت کے قاضی،بلند اخلاق اور دینداری کے ساتھ معروف خانوادے کے ایک فرد شیخ علی عبدالرزاق نےانوکھی باتوں کا پرچارشروع کردیا کہ اسلام میں کوئی خلافت،امامت اورحکومت ہے نہ ہی قضا  اور سیاسی نوعیت کے احکام بلکہ اسلام  محض روحانی مذہب ہے جیسا کہ نصرانیت پروٹسٹنٹ تعبیر کے مطابق نہ کہ ان سے پچھلی تعبیر کے مطابق۔اور مسلمان عہدِ  ابوبکر  سےلے کر آج تک جس خلافت کے دعویدار رہے ہیں وہ قول باطل،عملی گمراہی اور  فساد فی الارض ہے کیونکہ انھوں نے خلیفہ کو  دینی اور الٰہی  اقتدار دیا ہے جس میں سب سے بڑھ کر گمراہ بادشاہ ہیں کیونکہ اقتدار ان ہی میں منحصر ہوتا ہے اور ابو بکر عرب کے بادشاہ تھے ۔
کتاب کے مندرجہ جات کا خلاصہ ذکر کرنے کے بعد علی عبدالرزاق صاحب کی عبارت نقل کرتے ہیں کہ ’’حق یہ ہےکہ دینِ اسلام اس خلافت سےبری ہےجسے مسلمانوں نےمتعارف کرایاہے اوراس کےاردگردان کےبنائےگئےرغبت و رہبت اور عزت و قوت کےتصورات سےبیزارہے۔خلافت ہرگزکوئی دینی اصطلاح نہیں،اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی اصطلاحات اورادارے ہیں دین کا ان سےکوئی تعلق نہیں۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں‘‘(صفحہ۱۳۷)۔
اس کی وضاحت دوسری جگہ اس طرح کرتے ہیں’’دین میں کوئی چیز ایسی نہیں جو مسلمانوں کو دوسرے اقوام پر اجتماعی اور سیاسی تمام علوم میں سبقت لے جانے  سے روکتی ہو اور اس پرانے نظام (خلافت) کے انہدام سے جس کے سامنے وہ ذلیل و خوار ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ اپنے مکمل اصول اور حکومتی نظام کو اس نئے  طرز پر بنائے جو انسانی عقل کا نتیجہ ہو اور اقوام کے تجربات نے  انھیں بہترین اصول حکومت قرار دیا ہو۔
جناب رشیدرضا صاحب﷫اس کے نقد  میں لکھتے ہیں’’مذکورہ وضاحت کا قضیہ اول حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے  جو ما بعد کی عبارت ہے ۔ انسانیت کے جانے ہوئے نظاموں میں بہترین  خلافت اسلامیہ کا نظام ہےاور جب مسلمانوں نے اسے قائم کیا تھا  تو وہ سب سے زیادہ معزز تھے،  وہ صرف اپنے رب کے آگے جھکے، کسی دوسرےکے سامنے  ذلیل و خوار نہیں ہوئے،  مگر جب انھوں نے اسے چھوڑ دیا تو ذلت و خواری  ان کا مقدر ٹھری۔کسی بااختیاراورعقلمندکےشایان شان نہیں کہ اپنے ملک کے اصول اور حکومتی نظام کی بنیادغیروں کےنئے تجربات پر رکھ کرگھڑسوارکی اس پیالی جیسا بنے جسے کسی حال میں بھی قرار نہ ہو۔اورآخرکونسی چیز ان کے لیے جمہوریت،ملوکیت، اشتراکیت،کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان افضل ہونے کا فیصلہ کرے گی؟ اور جب اسلامی(خلافت)حکومت کے بارے میں ان کا فیصلہ یہی ہے  تو قرآن و سنت میں واردشدہ احکام سیاسیہ جیسےمعاہدات،احکام حرب اورشخصی عدالتی احکام جیسےمیراث، زواج، طلاق، عدت،اور شہری حقوق سےمتعلق احکام جیسےربا،اکل مال باطل، اورحدود تعزیرات سےمتعلق احکام کے بارے میں ان کا کہنا کیا ہوگا؟ کیا نصب امام پر اجماع اور احادیثِ خلافت کی طرح ان کا بھی انکار کریں گے؟یا یہ کہ مذکورہ احکام میں اطاعتِ رسول اللہﷺ واجب تھی اور یہ ارشاد خداوندی أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ سے مستثنیٰ ہیں؟اور اس پر’’الاغانی‘‘ ’’العقد الفرید‘‘ اور شعرا  کےدیوانوں سےمنتخب اشعار کے ذریعے استدلال  کریں گے؟(مجلۃالمنارذولقعدہ ۱۳۴۳)۔
ازہری عالم کےظاہرعبارت سےتولگتاہے کہ احکام قرآنی مسلمانوں پران کےنظم حکومت کےبارےمیں کوئی قدغن لگاتےہیں اورنہ ہی اقوام عالم کےجدیدترین تجربات اختیارکرنےسےانھیں   روکتے ہیں،جب ہم اصول صرف کامیابی کوبنائیں گے کہ اگریہاں کمیونزم بھی کامیاب ہوجائےتواسےبھی اختیارکرنےمیں کوئی حرج نہیں ہے(جبکہ وہ خداکےوجودکےبھی منکرہیں)تو واضح ہے کہ کیا صورت حال ہوگی۔
پہلی بات جواس کتاب کےاوصاف میں کہی جاسکتی ہےیہی ہے کہ اس نےاسلام کےاقتداراوراس کی شریعت کو بنیاد سےاکھیڑ دیاہےاس کی جمعیت کومنتشرکیاہے اوردنیوی معاملات سےمتعلق انفرادی، اجتماعی، سیاسی، شہری اورجنایات کےحوالےسےشرعی احکام میں اللہ اور رسولﷺ کی نافرمانی کی کھلی چھوٹ دیدی ہے،صحابہ ،تابعین،ائمہ مجتہدین،محدثین اورمتکلمین﷭  کوجاہل قراردیاہے،مختصراًیہ کہ یہ غیرسبیل المومنین کااتباع ہے،پس اسلام جس کومسلمانوں نےعصراول سےلیکر اب تک سمجھاہے اس سےبیزارہے (ایضا)۔
جامعہ ازہرکوچاہیے کہ اس پرخاموشی اختیارنہ کرے،کیونکہ مصنف وہاں کےفاضل ہیں اس لیے ان پرلازم ہےکہ ان کی کتاب کےبارے میں شریعت کا حکم واضح کریں،تاکہ مصنف صاحب اوران کےہمنوا ازہرکےسکوت کواس کی طرف سےاجازت پرمحمول نہ کرسکیں اورساتھ یہ غلط فہمی بھی دورہو کہ علماے ازہر ان کاجواب دینےسےعاجزہیں(ایضا)۔
اسی طرح جب معروف مصری ادیب سعدزغلول کی رائےکتاب کےبارےمیں پوچھی گئی توکہنےلگے:’’میراخیال ہے،وہ (علی عبدالرزاق صاحب )اپنےدین کی بنیادوں سےجاہل ہیں بلکہ اس کےبالکل سادہ اورآسان نظریات سےبھی بےخبرہیں ورنہ یہ دعویٰ کیسےکر سکتےہیں کہ اسلام میں دنیوی معاملات سےمتعلق کوئی رہنمائی نہیں؟ اورنہ ہی وہ ایسانظام ہے جوحکومت کےلیےکافی اورمناسب ہو؟ انسانی زندگی کاکونساگوشہ ایساہےجس کےبارےمیں اسلام کی ہدایات موجودنہیں؟ بیع وشراع،ہبہ،اوردوسری نوعیت کےمعاملات سےمتعلق انھوں نےازہرمیں نہیں پڑھاہے؟ کیاوہ بھول گئےہیں کہ تاریخ کےطویل اوربہترین ادوارمیں بہت سی اقوام صرف اسلام کےمطابق حکومت کرتی رہیں،وہ ہمیشہ سےاسی کےاصول وقوانین کےمطابق فیصلےکرتی رہیں اورپرامن،پرسکون اورمطمئن زندگی گزارتی رہیں،پھراسلام کیسےدنیوی احکام اورحکمرانی والادین نہیں ہے؟
  میں نےکتاب کادقتِ نظرسےمطالعہ کیا،تاکہ اس پرکی گئی تنقید کےمعیارکااندازہ کرسکوں  پہلےتومیں حیران رہ گیاکہ ایک عالم دین بھی اس موضوع پراس اسلوب واندازسےلکھ سکتاہے؟ جبکہ میں بہت سےمستشرقین وغیرہ کی تحریریں پڑھ چکا ہوں میں نےان میں سے کسی کواسلام پراتناسخت طعن کرتا ہوانہیں پایا جس قدرتیزتعبیرکےساتھ شیخ علی عبد الرزاق نےکیاہے‘‘(سعدزغلول:ذکریات تاریخیہ طریفیہ‘‘ بحوالہ ’’معرکۃ الاسلام واصول الحکم‘‘ صفحہ ۱۵۰)۔
سابق شیخ الازہرجناب محمدالخضرحسین صاحب نے علی عبدالرزاق صاحب کی کتاب کےرد میں ’’نقض کتاب الاسلام واصول الحکم‘‘ تصنیف کی جس میں انھوں نےعلی صاحب کی ایک ایک بات کولے کرتفصیل سےرد کیاہے ذیل میں اسی کتاب کے متعلقہ حصےکے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
شیخ الازہرصاحب مصنف صاحب کی عبارت’’ خلیفہ ان مسلمانوں کے نزدیک بمنزلہ رسول ہے،اس کوولایت عامہ،اطاعت تامہ اوراقتدارکامل حاصل ہے ،اس کو انھیں دین پر قائم رکھنے کا حق حاصل ہے اس لیے وہ ان پرحدوددِین قائم کرےگا،وہی اس کےشرائع نافذکرےگا توان کے دنیوی معاملات کی انجام دہی کا بطریق اولی ذمے دارہوگا۔ان (مسلمانوں )پرلازم ہے کہ پوری عزت کےساتھ اس سےمحبت کریں کیو نکہ وہ رسول اللہﷺ  کا نائب ہے اورمسلمانوں کےیہاں رسول اللہﷺ کےمقام سےاشرف کوئی مقام نہیں ہوسکتا توجواس مقام کی طرف منسوب ہوجائےوہ اس انتہا کوپہنچ گیا جس کےاوپرمخلوق کےلیےکسی مقام کا تصورنہیں کیا جاسکتا(صفحہ۱۴)۔ پراستدراکاً لکھتےہیں:’’مؤلف صاحب  نےاپنےوضع کردہ معانی ومفاہیم دوسے زیادہ  صفحات پربکھیردیےہیں تاکہ ثابت کریں کہ مسلمان خلافت کوایک عادل حکومت کےحق سےاوپرکامقام اوراقتداردیتےہیں، وہ علما کی عبارات نقل کرنےمیں اس مقدارپراکتفانہیں کرتےجس کاتحمل ان کےالفاظ کرسکتے  ہیں جیساکہ انصاف کےساتھ حق کےمتلاشیوں کاطریقہ  ہے،  بلکہ ان کےقلم پرجو آتا ہے وہی لکھتےہیں اورمناسب الفاظ سےعدول کرکےایسےالفاظ کی طرف جاتےہیں جوبسااوقات ذہن میں غیرصحیح معانی تشکیل دیتےہیں۔مثلا علماے اسلام کہتےہیں کہ’’معروف (مباح کاموں )میں خلیفہ کی اطاعت واجب ہے‘‘اورمؤلف کہتےہیں ’’اس (خلیفہ)کی مکمل ااطاعت ان پرواجب ہے‘‘تو اطاعت کومعروف کےساتھ مقیدکرنےکی ان کی شرط کو حذف کرکہ ایسا لفظ استعمال کیا جو اندھی اطاعت کا معنی اداکرتاہے(صفحہ۱۴)۔علماکاکہناہے ’’لازمی ہے کہ( خلیفہ)لوگوں کےدرمیان معززہویعنی ذلیل نہ ہو تاکہ اس کی اطاعت ہوسکے‘‘(مطالع الانظار)۔
جبکہ مصنف صاحب لکھتےہیں کہ’’ان (مسلمانوں )پرلازم ہےکہ پوری عزت کےساتھ اس سےمحبت کریں‘‘، اس جملے سےان کی بیان کردہ علت سےمعنی کوحقیقی قوت حاصل ہوتی ہےصرف نظرکرکہ اس کی جگہ لفظ’’شمول‘‘رکھتےہیں جوقاری کے ذہن کواطاعت کی آخری انتہا تک لےجاتاہے، اہل علم کی عبارات میں اس طرح کاتصرف لکھنےوالے کی امانت میں خلل اندازہوجاتاہے ،اور ادب یاوعظ میں کبھی اس سے صرف  نظر توکیا جاسکتا  ہے مگرعلمی مباحث میں اسےنظراندازنہیں کیاجاسکتاخصوصاجب کسی رائےاورحکم پر تنقیداور اس کا مناقشہ کیاجاتاہو۔اس سےبھی عجیب ان کا یہ کہنا ہےکہ’’ کیو نکہ وہ (خلیفہ)رسول اللہﷺ کا نائب ہوتاہے اورمسلمانوں کےیہاں رسول اللہﷺ کےمقام سےاشرف کوئی مقام نہیں ہوسکتا توجواس مقام کی طرف منسوب ہوجائےوہ اس انتہا کوپہنچ گیا جس کےاوپرمخلوق کےلیےکسی مقام کا تصورنہیں کیا جاسکتا(صفحہ۱۴)۔
اس عبارت کو انھوں نے(جوکچھ خلافت کےبارےمیں مسلمانوں کی طرف منسوب کیاہے)اس کی علت کےطورپرذکرکیاہےاورنظم کلام کاتقاضہ یہ ہےکہ مسلمانوں کےنزدیک خلیفہ اس انتہا کوپہنچ چکاہے جس کے اوپرانسانوں کےلیےکوئی امکان نہیں،حالانکہ یہ کلمات مؤلف کےاپنےقلم کےوضع کردہ ہیں جن پر ان کی شعری مبالغہ آرائی کی مہرثبت ہے جبکہ مسلمان جس میزان کی طرف انسانوں کی درمیان افضلیت کےبارے میں رجوع کرتےہیں وہ اعمال صالحہ ہیں جس کی طرف إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ میں اشارہ کیا گیاہے،اس لیےوہ قائدجوامت کوحملہ آوردشمن سےبچاتاہواورایک حکمت والے عالم کامرتبہ جوانھیں آوارہ بدعتی کی گمراہیوں سےخبردارکرتاہواس خلیفہ کےمرتبےسےبہت اونچاہےجوعمل وکردارمیں ان دونوں کےبرابرنہ ہو۔
ان علما نےخلیفہ کےبارے میں اس سےزیادہ  کچھ نہیں کہاکہ وہ رسول اللہﷺ کا نائب ہےجس کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کےمقام پرفائزہوگیااوراس مقام  تک پہنچاجس کے اوپرکسی مخلوق کےلیےکوئی مقام نہیں۔اگراس طرزپرنتائج نکالےجانےلگےتو یہ  کہنادرست  ہوگا  کہ اللہ کا ارشاد ہے: يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ(کہ اےداود!ہم نےزمین میں آپ کواپناخلیفہ بنایاہے)لہذاوہ الوہیت کےمقام پرفائزہوگئےیا اس مقام پرپہنچے جس کےاوپرفردبشرکےلیےکوئی گنجائش نہیں۔اس طرح کااخذِنتائج بداہتاً غلط ہے،اس لیےمؤلف صاحب کااستدلال درست قیاس کےدائرےسےخارج ہے۔
اس کےبعدمصنف صاحب نے وہ اقتباسات ذکرکیے ہیں جوانھوں نےاحترام خلیفہ اوراس کی خیرخواہی میں کہےگئےعلما  کےاقوال  سےکاٹ کرجمع کر دیےہیں’’حاشیۃ باجوری علی الجوھرۃ‘‘کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ان(مسلمانوں )پراس (خلیفہ)کی اطاعت ظاہراًوباطناًلازم وواجب ہے‘‘اوراس کی علت ’’العقدالفرید‘‘سے ابوہریرہ  کاقول نقل کیاہے’’بےشک ائمہ کی اطاعت  اللہ کی اطاعت میں سےہےاوران کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی میں سےہے‘‘ابوہریرہ کی طرف  نسبت کےحوالےسےہم مؤلف صاحب کویاد دلائیں گے کہ ’’العقدالفرید‘‘ادب کی کتاب ہے دینی موضوع   پرگفتگوکرنےوالےکےلیے مناسب نہیں کہ ایسےکتابوں سےصحابہ  وغیرہ  کےبارے میں کچھ نقل کرے۔اورجب وہ اپنےلیے ’’العقدالفرید‘‘ سے استدلال کودرست سمجھتےہیں  اس کےبعد انھیں یہ  حق نہیں کہ جب بخاری اورمسلم کی احادیث کواپنی رائےکی راہ میں رکاوٹ سمجھیں تو کہیں ’’ہمیں اس کی صحت میں کلام کاحق حاصل ہے‘‘۔
’’العقدالفرید‘‘سےنقل کردہ ابوہریرہ  کی خبرکی اصل یہ ہےلَمَّانَزَلَتْ ھَذِہِ الآیَۃُ’ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ‘ أُمِرْنا بِطَاعَۃِ الأَئِمَّۃِ وطَاعَتُھُمْ مِنْ طاعَۃِ اللہِ وعِصْیانُھُمْ مِنْ عِصْیَانِ اللہِ، ترجمہ: اس آیت کے نزول کےبعدہمیں ائمہ کی اطاعت کا حکم دیاگیا اوریہ کہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت میں سےہے اوران کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی میں سےہے ۔ 
مؤلف صاحب نےاس میں تصرف کرکہ لفظ’’امرنا‘‘کوحذف کیاہے اورصحابی کےقول میں لفظ’’امرنا‘‘یاتوخبرکوحدیث نبوی بناتاہےجیساکہ جمہوراہل علم کی رائےہے کیونکہ ظاہریہی ہےکہ آمر(حکم دینےوالا)صاحب شریعت ہےیامحتمل رہتاہےکہ آمربعض خلفاءوامرا ہوں اوردونوں اقوال کےمطابق یاتوابوہریرہ  حدیثِ رسولﷺ نقل کرتےہیں یابعض خلفا وامرا کااثر،جبکہ خبرابوہریرہ  کےمعنی میں بخاری اورمسلم میں حدیث آئی ہےکہ’’جس نےمیری اطاعت کی اس نےاللہ کی اطاعت کی اورجس نےمیری نافرمانی کی اس نےاللہ کی نافرمانی کی۔اورجس نےمیرےامیرکی اطاعت کی اس نےمیری اطاعت کی اورجس نےمیرےامیرکی نافرمانی کی اس نےمیری نافرمانی کی‘‘اورابوہریرہ  کی دونوں روایتوں میں کوئی انوکھی بات نہیں جب تک ایساامیرجوامربالمعروف ونہی عن المنکرکرتاہواس کےبارےمیں یہ کہاجاتاہوکہ اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت میں سے ہےاوراس کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی میں سےہے اوراسی طرح اس کی اطاعت ظاہراً وباطناً دونوں طرح کی جائےگی (صفحہ۱۶)۔
مؤلف صاحب نے’’العقدالفرید‘‘کی طرف منسوب کرتےہوئے لکھاہے’’پس امام کی اطاعت اوراس کی خیرخواہی فرض و واجب اور امرلازم ہے،ایمان اس کے بغیرمکمل نہیں ہوتا اوراسلام  بدون اس کے ثابت نہیں ہوتا ‘‘جبکہ’’العقدالفرید‘‘کی عبارت یہ ہے:’’وقالﷺ الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ قالُوا لِمَنْ یارسولَ اللہِ؟ قال: لِلّٰہِ ولِرَسُوْلِہٖ ولِأُولِی الأَمْرِمِنْکُمْ، فَنَصْحُ الإِمَامِ ولُزُومُ طاعَتِہٖ فَرْضٌ واجِبٌ وأَمْرٌلازِمٌ ولایَتِمُّ الإِیْمَانُ إِلَّابِہٖ ولایَثْبُتُ الإِسلامُ إِلَّاعَلَیہِ‘‘۔  مذکورہ عبارت کوصاحب’’العقدالفرید‘‘نےحدیث کےلیےبیان کےطور پر  ذکرکیاہے جس پراشکال نہیں کیاجاسکتاکیونکہ جب امرا کی اطاعت حقائق دینیہ میں سے ہے یہاں تک  کہ اللہ اوررسولﷺ کی اطاعت اورنصح (خیرخواہی)کےساتھ ملی ہوئی ہے تویقینامکملات ایمان کی قبیل سےہوگی اوراسلام کی مضبوطی اس پرموقوف ہوگی  (مگر)اس کےساتھ یہ بھی واضح رہےکہ ’’العقدالفرید‘‘ادب کی کتاب ہےمباحث شرعیہ میں اس پراعتماد درست نہیں ۔اس لیےکتب سنت کی طرف رجوع ضروری ہےتاکہ مذکورہ حدیث کی صحت کااندازہ ہوسکے۔یہ حدیث صحیح مسلم میں تمیم داری سےمروی ہےجس کےالفاظ یہ ہیں: ’’ اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ،قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلّٰہِ ولِکِتابِہٖ وَلِرَسُوْلِہِ وَلِأ ئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِہِمْ‘‘۔
علی عبدالزاق صاحب لکھتے ہیں ’’مختصراً یہ کہ سلطان رسول اللہﷺ کا نائب ہوتا ہےوہ زمین میں اللہ کی حِمٰی (چراگاہ) ہے ،بندوں کےاوپر اللہ کاپھیلاہوا سایہ ہوتاہےاورجوزمین میں اللہ کاسایہ اوررسول اللہﷺ کاخلیفہ ہوتواس کی ولایت عام اورمطلق ہونی چاہیےجیسےاللہ اوررسولﷺ کی ولایت ہے‘‘موصوف نے مذکورہ عبارت مسلمانوں سےبطورحکایت ذکرکی ہے جبکہ وہ خوداس پریقین نہیں رکھتےپھرحاشیہ پر ابوجعفرمنصورکاقول نقل کیاہےجو انھوں نے مکہ میں کہاتھا، اس پرعلی عبدالرزاق صاحب نےنکیرکی ہے۔اس میں انھوں نےسلطان اللہ اور ظل اللہ الممدود پر رد کیا ہے۔عبارت ’’حِمٰی اللہِ فِی بِلَادِہ‘‘ کو انھوں نے کسی کی طرف بعینہ منسوب  نہیں کیا  ہے۔جبکہ عبارت کے ظاہری  معنی  پر اشکال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ’’حمی‘‘ اس مکان کو کہا جاتا ہےجس کی کوئی حفاظت کرتا ہواور دوسروں کو اس کے قریب  آنے سے روکتا ہو۔تواس کے معنی حرم اور کنیف کی طرف لوٹتے ہیں اور سلطان کے حمی اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محترم ہے،  ہر خوف زدہ اورمظلوم اس کی پناہ لیتا ہےاور وہ کنیف ہے کہ ہرصاحبِ خصومت اس سے فریاد کرتا ہے۔بندوں پر اللہ کا پھیلا ہوا سایہ  اور’’ظِلُّہُ الْمَمْدُوْدُعَلٰی عِبَادِہٖ‘‘کوئی غلط  بات نہیں کیونکہ اس کے مفہوم میں حدیثِ نبوی ﷺبھی ہے:’’السُّلْطَانُ ظِلُّ اللہِ فیِ الأرْضِ‘‘جس کا مطلب یہ ہے کہ  وہ لوگوں کی تکالیف کو دور کرتا ہےجیسا کہ سایہ سورج کی گرمی سے حفاظت کرتا ہے(صفحہ۱۸)۔   
ان کا کہنا کہ ’’اس  (خلیفہ)کی ولایت اللہ اور رسولﷺ کی طرح عام ہوتی ہے‘‘۔یہ اِن کی اُن مبالغہ آرائیوں  میں سے ایک ہے جو عام لوگوں کے ذہن میں خلافت کے مسخ شدہ تصور کو راسخ  کرنے کے لیے کی گئی ہیں ۔اگرمؤلف صاحب انصاف سے کام لیتے  تو مسلمانوں کی مطابقی عبارات نقل کرنےکی کوشش کرتے۔ ان(علما )کا کہنا یہ نہیں ہے کہ ’’خلیفہ کی ولایت اللہ کی طرح عام اور مطلق ہے‘‘۔کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے کیے کا پوچھا نہیں جا سکتا جبکہ خلیفہ  قانونِ شریعت کا پابند اور  اپنے تمام اعمال کا ذمےدار ہوتا ہے۔اسی طرح رسول اللہﷺ کو وہ خصوصیات حاصل ہیں جہاں پرندہ پر مار سکتا ہے نہ  ہی کسی کی نظر وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ان میں سے بعض یہ  ہیں کہ ان کے تصرفات نافذ ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا لازم ہے۔جبکہ خلیفہ کے تصرفات میں مناقشہ(مباحثہ)،تنقید اور انکار کی گنجائش  ہے۔
مؤلف صاحب نے’’ طوالع الانوار‘‘ اور اس کی شرح ’’مطالع الانظار‘‘کے حوالے سے لکھا ہے’’ولَا غَرْوَانَ یَکونُ لَہٗ حَقُّ التَّصَرُّفِ فیِ رِقَابِ النَّاسِ وأَمْوالِھِمْ وأَبْضَاعِھِمْ‘‘،ترجمہ:اورکوئی عجب نہیں کہ اسے(خلیفہ کو)لوگوں کےجان،مال اورشرمگاہوں میں تصرف کاحق حاصل ہو‘‘۔مؤلف نے اس جملے کو اپنی اصل سے کاٹ دیا ہے اور اپنی روح سے خالی کر دیا ہےجو عالی شان حکمت پر مبنی ہے۔صاحب المطالع نے  مذکورہ جملے کو شروط امامت میں شرطِ عدالت کے ضمن میں ذکر کیا ہےکہ ’’الرّابِعَۃ: أنْ یَکونَ عَدْلًا:لِأنَّہٗ یَتَصَرَّفُ فِی رِقَابِ الناسِ وأمْوالِھِم وأَبْضَاعِھِم‘‘  وقال شَارِحُہٗ فِی المَطالِع :لَو لَمْ یَکُنْ یَعْنِی الإِمَامُ عَدْلًا لَمْ یُؤمَنْ تَعَدِّیْہِ و صَرْفُ أَمْوَال ِالنَّاسِ فیِ مُشْتَھِیَاتِہٗ و تَضَیُّعُ حُقُوقِ المُسْلِمِینَ‘‘ترجمہ : چوتھی شرط یہ ہے کہ امام عادل ہوکیونکہ وہ لوگوں کے جان،مال اور شرمگاہوں میں تصرف کر تا ہے اور شارح نے لکھا ہے اگر امام عادل نہ ہو تو اس پر لوگوں کے اموال  اپنی خواہشات میں استعمال کرنے اور مسلمانوں کے حقوق کے ضیاع سے اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا ۔  
تو جان،مال اور شرمگاہوں  میں تصرف سے مراد حق کے ساتھ تصرف ہے جو قضا  کے طور پر یا دوسرے جائز طریقوں سے ہو جیسے اموالِ واجبہ کا چھڑوانا ، لوگوں کو لشکر میں بھیجنا اور جس کا ولی نہ ہو اس کا نکاح کرنا(صفحہ۱۸ تا ۱۹)۔
مؤلف لکھتے ہیں کہ اس موضوع سےمتعلق علما  کی عبارات کے استقرا سےپتہ چلتاہے کہ اس میں مسلمانوں کے دومذاہب ہیں ۔
اول :   اقتدارِخلیفہ کاماخذذات خداوندی ہےکہ خلیفہ اپنی قوت اللہ کی قوت سےحاصل کرتا ہے ۔’’اِسْتِمْدَادُ السَّلطانِ مِنَ اللہِ و قُوّتِہٖ‘‘  کے دو مطلب ہوسکتے ہیں  ایک یہ کہ استمداد(مددحاصل کرنا) بطور عدل و استقامت ہو جو کہ صحیح اور درست مطلب ہے  جس کے شواہد اللہ کے ان ارشادات میں پنہاں ہیں ’’ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ ۔۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا‘‘کہ جواللہ کے(دین کی )مددکرتاہےاللہ ضروراس کی مددکرےگا اورجولوگ ہم میں (ہماری رضاکی حصول کی)کوشش کرتےہیں لازماہم انھیں   اپنےراستوں کی رہنمائی کریں گے۔خلیفہ جب باکردار اورنیک سیرت ہوتا ہے اپنے قیمتی  اوقات کو امت کے معاملات کی اصلاح میں صرف کرتا ہے اور حکمت و ثابت قدمی کے ساتھ رعایاکے حقوق کے دفاع کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا (توظاہرہےکہ اللہ کی مدداور سلطان و قوت اسے حاصل ہوں گے)۔
دوم:    مطلب یہ ہے کہ غیبی راستے سے اللہ کی قوت اور سلطان سے مدد حاصل کرے جس کے لیے اس کے خلیفہ ہونےکےعلاوہ کوئی سبب  نہ ہو۔اسی کو مؤ لف صاحب اسلام میں ایک مذہب قرار دیتے ہیں اوریہ محض ایک دعوٰی ہے مؤلف ایسی کوئی چیز نہ پیش کر سکےجو اس کی تشنگی دور کر دے۔
مؤلف صاحب لکھتے ہیں اس رائے کی روح آپ کو علما  اور عام مسلمانوں کےدرمیان ظاہر نظرآئی گی، خلافت سے متعلق ان کےمباحث اسی طرف جاتے اوراسی عقیدے کی طرف اشارہ کرتےہیں‘‘ (صفحہ۲۰)۔
اس کےجواب میں شیخ الخضرحسین صاحب لکھتےہیں: ’’خلافت سے متعلقہ مفید مباحث کے مطالعہ میں طویل وقت صرف کرنے اور شدتِ اہتمام کے باوجود ہمیں ایک کلمہ بھی ایسا نہیں ملا جو اگرچہ بطورِ اشارہ بتلا دے کہ خلیفہ کے اقتدار کا ماخذ اقتدارِ خداوندی ہے۔خلافت سے متعلقہ ان (علما  ) کے کلام اور مباحث کا مختصر نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے لوگوں پر نصبِ امام واجب کیا ہے۔اور اس کی ولایت یا تو اہل حل و عقد کے ذریعے منعقد ہو گی یا خلیفہ سابق کے تعین سے،اور جب  وہ اپنی حکومت میں فساد کی کوشش کرتا ہے تو امت کو حق ہے کہ زمامِ اقتدار اس کے ہاتھ سے چھین کر اس شخص کے ہاتھ میں دےدیں  جو زیادہ عزم اور درست طریقے سے اسے چلانے والا ہو‘‘(صفحہ ۲۰)۔
مزیدلکھتےہیں :’’اور جو بات بطریقِ استنتاج معلوم ہوتی ہے (یہ ہے )کہ مؤلف نے جب اہلِ مغرب کے یہاں ماخذ اقتدار میں دو مذہب دیکھےتو مسلمانوں کے یہاں بھی اسے ڈھونڈنا شروع کیااور جب خلافت سے متعلق اہلِ علم کے کلام میں اپنےاس دعوےکے موافق یا قریب کچھ نہ پایا،کہ اقتدارِخلیفہ کا ماخذ اقتدارِ خداوندی ہے تو اس کو شعری اور نثری مدح میں تلاش کیا اور  خوش ہوئے  کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور اس کو ایسے مذہب کی تائید کے لیے بطورِ شواہد پیش کیا جس کا راسخین فی العلم میں نہ کوئی مبتدع ہے نہ پیروکار۔ اور میرا نہیں خیال  کہ اگر مؤلف صاحب کو مباحث خلافت میں ایسا کچھ بھی مل جاتا جس سے اس مذہب کی بُو تک آتی پھر وہ اسے چھوڑ کر شعرا  کے اشعار اور  مدح وتعریف  میں بطورِ مبالغہ وارد ہونے والے کلمات واقتباسات سے استدلال کرتے‘‘۔  مؤلف صاحب کاکہناہے’’ابھی ہم نےجوکچھ نقل کیا اس میں آپ نے دیکھا کہ انھوں نے خلیفہ کو ظل اللہ بنایا ہے اور یہ کہ ابو جعفر منصور  نے دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کی زمین میں اس کا سلطان ہے‘‘۔
  انھوں نے حدیث ’’اَلسُّلطانُ ظِلُّ اللہِ‘‘کی رو سےخلیفہ کو ظل اللہ قرار دیا ہے ۔پہلے اس کی شرح ہو چکی ہے کہ یہ بطورِ تشبیہ ہے کہ جس طرح سایہ سورج کی گرمی اور تپش سے اپنے اندر  آنے والے کو محفوظ کرتا ہےاس طرح خلیفہ لوگوں کی تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کی نسبت کی وجہ  اس کی طرف سے اقامتِ سلطان اور اس کی اطاعت کا حکم دینا ہے۔اب کہاں یہ معنی اور کہاں یہ مطلب نکالناکہ خلیفہ کے اقتدار کا ماخذ اقتدارِ خداوندی ہے؟
رہا ابو جعفر منصور کا قول کہ’’وہ زمین میں اللہ کا سلطان ہے‘‘تو اس کا مؤلف کے زیرِ بحث مسئلےسے کوئی تعلق نہیں۔اس کا مطلب جیسا کہ گذر گیا ہے یہ ہےکہ اللہ نے نصبِ امام اور اس کی اطاعت کا حکم دیا ہے اس حیثیت سے اس کی اضافت اللہ کی طرف درست ہے۔ جبکہ وہ شریعت کی حفاظت کر رہا ہو اور لوگوں پر صراطِ مستقیم کے مطابق حکومت کرتا ہو۔اور  اگرمنصور اس طرز پر عادل نہ ہو تو انھوں نے خود کو سلطان اللہ قرار دینےکادعویٰ کیاجبکہ وہ اس میں سچے نہیں تھے (صفحہ۲۱)۔                                                                                                                                                            
آگےعلی عبدالرزاق صاحب کی عبارت نقل کرتےہوئےلکھتے ہیں’’اورمذہب اول فلسفی’’تھامس ہابز‘‘کےموقف کےقریب ہےکہ’’بادشاہوں کااقتدارمقدس ہوتاہےاوران کا حق آسمانی ہوتا ہے‘‘۔
ہابز کہتا ہے’’ہر فردِ مملکت پر لازم ہے کہ اس کا ارادہ اقتدارِ حاکم کے سامنے سر نگوں ہو‘‘اور حاکم کا  رعایا میں سے کسی فرد کے سامنے  جھکنا  مقتضاے طبعیت کے خلاف ہےاور حاکم کے ارادے سے نکلنے کی کوشش  یا اس کو رد کرنا انقلاب اور سر کشی سمجھا جائے گا اور دین کے لیے لازم ہے کہ حاکم کے ارادے کےتابعداررہے۔
یہ ہابز کا مذہب (موقف) ہے جسے مؤلف صاحب اقتدارِ خلیفہ کے بارے میں جمہورعلما  و عام مسلمانوں کے مذہب کے لیے بطورِ مثال ذکر کرتے ہیں  انصاف کی نظر سے دیکھیے ہابز کہتا ہے  ہر فرد پر لازم ہے کہ اس کا ارادہ اقتدارِ حاکم کے سامنےسر نگوں ہو اورعلماے  اسلام کہتے ہیں کہ حاکم کی اطاعت معروف میں ہو گی۔ وہ کہتا ہے  حاکم کا کسی فرد کے سامنے جھکنا  مقتضاے طبعیت کے خلاف ہے جبکہ علماے اسلام کہتے ہیں کہ حاکم پر لازم ہے کہ لوگوں میں ادنیٰ شخص بھی جب اسے نیکی کا کہے  یا برائی سے روکے تو یہ جھک جائے۔ہابز کہتا ہےکہ حاکم کےارادےکومستردکرنا انقلاب اور سر کشی سمجھا جائےگا۔علماے اسلام کہتے ہیں کہ جب حاکم امت کے معاملات خلافِ مصلحت چلاتاہو  یا کسی مسئلے میں وہ قانونِ عدل کے خلاف فیصلہ کرے تو امت پر کوئی ملامت نہیں کہ اس کا ارادہ (فیصلہ) حکمت کے ساتھ مسترد کرے اور اس کو حق نہیں کہ ان کے اس اقدام کو انقلاب اور سر کشی کہہ دے ۔
بنو امیہ کے کسی حاکم نے بعض تابعین﷭ سے کہا !کیا اللہ نے ’’ أُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ‘‘سےتمھیں ہماری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے انھوں نے جواب دیا کہ جب تم حق کی مخالفت کرو تو اپنے اس ارشاد’’فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ‘‘کےذریعےتمہاری اطاعت سے نکالا نہیں ہے؟‘‘(فتح الباری لابن حجرج ۱۳صفحہ ۳۹۱ )۔
اور ہابز کہتا ہے ’’لازمی ہے کہ  دین ارادہ ٔحاکم کے سامنے تابعدارہو، جبکہ علما  کے نزدیک حاکم پر لازم ہے  کہ قانونِ اسلام کے سامنے سر تسلیمِ خم کردے خواہ وہ قانون نصاً ہو یا استنباطاً۔ اور اس پر لازم ہے کہ مخالف عقائد ونظریات رکھنے والوں کو  اجازت دے کہ وہ آزادی کےساتھ اپنے دین اور شعائردین پر عمل پیرا ہوں  اور کسی طرح بھی اس کو ان پر اعتراض کا حق نہیں (صفحہ۲۷ تا ۲۸)۔ 
شیخ الازہرخلافت پرقرآن وحدیث سےاستدلال کےبارےمیں علی عبدالرزاق صاحب کی عبارت نقل کرتےہوئے لکھتے ہیں ’’فرضیتِ اقامتِ امام کےقائل علما کےجتنےمباحث ہم پڑھ چکےہیں کسی کوہم نےاس کی فرضیت پرکتاب اللہ کی کسی آیت سےدلیل قائم کرتاہوانہیں پایا‘‘۔
بعض اہلِ علم نے امامت کے وجوب پر ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ‘‘سےاستدلال کیا ہے،خود مؤلف صاحب نے مذکورہ آیت سےعلامہ ابنِ حزم﷫ کا استدلال نقل کیا ہے  اورعلامہ سعد الدین تفتازانی﷫’’شرح المقاصد‘‘ میں اسے ذکرکرتےہوئےلکھتےہیں کہ’’اور کبھی اللہ تعالیٰ کے ارشاد’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ‘‘جیسی آیات اور ’’جو اس حالت میں مرے کہ اپنے امام کو نہ جانتا ہو وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘ جیسی احادیث سےاستدلال کیا جاتا ہے‘‘۔ صاحبِ مطالع الانظار وجوب امامت پردلیل نظری قائم کرنےکےبعدکہتے ہیں’’ کہ اس دلیل کا صغریٰ عقلی ہے جو حسن و قبح کے باب سے ہےاور کبریٰ صغریٰ سے عقلی  طور پر زیادہ واضح ہے اور بہتر یہی  ہے کہ اس بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ‘‘  پر اعتماد کیا جائے‘‘۔ان عبارات سے مؤلف صاحب کےقول کی قیمت کا اندازہ ہوجاتا ہےکہ’’ہم نے کوشش کرنے والوں کو امامت کی فرضیت پر کتاب اللہ کی کسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے نہیں پایا ‘‘۔آگے لکھتے ہیں’’لیکن ان کےتکلف اٹھانےوالے اورمعتدل  اپنی رائے کی حمایت میں کتاب اللہ سےحجت پانےمیں عاجزآگئے، اس لیےوہ کبھی اجماع کےمدعی بنتےہیں اورکبھی منطقی قیاسات  اور عقلی احکام  کاسہارا لیتےہیں ‘‘۔
مؤلف صاحب نے شیخ محمد بخیت اوران سےپہلے کےعلما  کے استدلال کو قیاسِ منطقی  اور حکمِ عقلی قرار دیا ہے جس سے قاری کو خیال ہوتا ہے کہ اس طرح  کا استدلال ادلۂ شرعیہ سے خارج ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ادلۂ شرعیہ کی طرف لوٹتا ہے۔اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے کہ نصبِ امام ہمارے نزدیک دو وجہ سے واجب ہے  اول اجماع ،دوم وہ دلیل جسے مؤلف صاحب حکمِ عقلی قرار دیتے ہیں اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ احکام کا  استنباط دو طریقوں  سے ہوتا ہے ایک کا تعلق ان ادلۂ نقلیہ سے ہے جن سے استنباط کیا جاتا ہے۔ دوسرے کا تعلق استعمال میں قابلِ اعتماد وجوہِ دلالت(دلالت کے طریقے) سے ہوتا ہے۔ادلۂ نقلیہ تو کتاب اللہ ،سنت اور اجماع ہیں اور وجوہِ دلالت یہ ہیں :منطوق کی دلالت،مفہوم کی دلالت،معقول کی دلالت اور اس آخری میں قیاس بھی شامل ہے ۔تو ادلۂ شرعیہ کتاب اللہ،سنت،اجماع اور قیاس میں منحصر ہو گئے،اس کے علاوہ کچھ دلائل ایسے ہیں جو مذکورہ اصولِ عالیہ کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ قطعی الصحۃ دلائل ہیں  جیسے الضرر یزال (نقصان کا ازالہ کیا جائے گا)،المشقۃ تجلب التیسیر (مشقت آسانی لاتی ہے)،العادۃ محکمۃ (عادت حکم ہوتی ہے)کیونکہ ان قواعد کو علما  نے محض عقل سے متعین نہیں کیا ہے بلکہ ان میں سےہر قاعدے کے لیے شریعت کے کثیر کلیات اور جزئیات کا استقرا  کر کے اس سے شارع کا مقصود  متعین کیا ہے۔جو یقین میں خبرِ متواتر کی طرح بن گئے ہیں ۔ابو اسحاق شاطبی نے المواقعات میں لکھا ہے’’جب مجتہد ادلۂ خاصہ سےمعنی عام کا استقرا  کرے اور وہ معنی مطرد ہو جائےاس کے بعد کسی جزوی واقعے کے ظہورکے وقت اس پر خاص دلیل سے استدلال کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ اس  کےذریعے حکم لگائے گا اگرچہ وہ عمومی معنی کے تحت داخل ہونے کی وجہ سے خاص ہو گیا ہو جیسے کہ صیغۂ عام  کے ساتھ منصوص کا معاملہ ہے‘‘۔
اس لیے وجوب نصبِ امام پر اس طرح استدلال کہ ’’لوگوں کوافراتفری میں چھوڑ دینا کہ کوئی انھیں حق پر جمع کرنے والا ہواورنہ ہی باطل سےروکنےوالاہو،انتشارجمعیت،ضیاع دین اورجان،مال اورعزت کی پامالی پرمنتج ہوتاہے۔وہ اس پرشرعی قاعدہ کی تطبیق کرتےہیں اوروہ ’’الضَّرَرُیُزَالُ‘‘اور’’مَالَایَتِمُّ الْوَاجِبُ الْمُطْلَقُ اِلَّابِہٖ وکانَ مَقْدُورًافَھُووَاجِبٌ‘‘ہیں(صفحہ۳۲)۔
مؤلف صاحب نے مسٹر تھامس آرنلڈ کی’’ کتاب الخلافہ‘‘ کا حوالہ دیا ہے کہ اس کے باب دوم اور سوم  میں کافی شافی بیان ہے۔ اگر وہ ہمیں خلافت سے متعلق تاریخی یا معاشرتی تحقیق کا حوالہ دیتے تو ہمیں ایک بلیغ مأخذ سے مطلع نہ ہونے کا افسوس ہوتا مگر انھوں نے حکمِ شرعی کی تحقیق کے لیے مسٹر آرنلڈ کا حوالہ دیا ہے جس سے لگتا ہے  انھوں نے سنجیدہ چیز کو مذاق بنایا ہے یا احکامِ شرعیہ کو راسخین فی العلم کے دائرے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ لازمی ہے کہ مؤلف صاحب کی نظر میں  احکامِ شرعیہ کی اہمیت اس سے زیادہ ہو اور انھیں ہمیں یہ باورکرانا زیبا نہیں کہ ہم واجب اور حرام جیسےاموردینیہ میں بھی مغربیوں کے عقول کے اقتداکے محتاج ہیں ۔ جب مؤلف صاحب جانتے ہیں کہ شریعت کےاپنے اصول و مقاصد ہیں جو مسٹر آرنلڈ نے  کما حقہ نہیں پڑھے ہیں پھربھی ان کی کتاب کا حوالہ دینا معرض گفتگومیں ناپختہ ذہنوں  کو شک و اِرْتِیاب میں ڈالنے   کےسوا کچھ بھی نہیں ہے(صفحہ۳۴)۔
علی عبدالرزاق صاحب نے لکھا ہے ’’جب یہ درست ہے کہ نبیﷺ نے ہمیں اس امام کی اطاعت کاحکم دیاہےجس کےساتھ ہم نےبیعت کی ہےتویقینا اللہ نےہمیں مشرک سےکیے گئے عہد کےپورا کرنےاور جس طرح  وہ قائم ہوہمیں بھی اسی طرح قائم رہنےکاحکم دیاہے۔(لیکن) یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ شرک پرراضی ہےاورنہ ہی مشرکین کےساتھ ایفاےعہد کاحکم ان کےشرک پر برقرار رکھنے کو مستلزم ہے‘‘۔
اس کےجواب میں شیخ الازہرصاحب لکھتےہیں یہ دعویٰ کہ اولی الامر کی اطاعت کا حکم اس کی ولایت کے مطالبے پر دلالت نہیں کرتا (جس طرح مشرک سےکیےگئےعہدکےایفا کاحکم شرک پررضایامطالبےپر دلالت نہیں کرتایہ ایک ایسی مثال ہے جو اپنے اوپر سوار کو بہت دور تک لے جاتی ہے کیونکہ پہلی صورت میں سب سے کم بات یہ ہے کہ مجتہد جب اولی الامر کی اطاعت میں غور کرے گا تو اندازہ ہو گا کہ اطاعت اولی الامر بذاتِ خود مقصود نہیں ہے اور نہ ہی محض امرا  کے سامنے جھکنا مقصود ہے بلکہ اس کے پیچھے جو مصلحت ہے وہ مقصود ہے  اور وہ حفاظت حقوق میں مدد اور اجتماعی معاملات کا انتظام ہے اور یہ مقصود بلا شبہہ امیر کے حسنِ اطاعت  کی طرح اس کے نصب پر بھی موقوف ہے تو یہ کہنا درست ہے کہ  اطاعت اولی الامر کے حکم میں ان کی طلبِ ولایت پر بھی تنبیہ ہے اور مجتہد نے نصبِ امام کے وجوب کا قول اطاعتِ امام کے حکم میں غور کرنے سے کیا ہے ۔اور مشرک کے ساتھ ایفاے  عہد کا حکم اس طریقے سے باہر ہے  کیونکہ  ایفاے  عہد مشرک کے حکم کی علت مکارمِ اخلاق اور اچھی خصلتوں کی حفاطت ہے اور وہ سچائی اور ثابت قدمی ہے جن پر نظامِ سیاسیات و معاملات کا مدار ہے جس سے صاف طور پر  واضح  ہوتا ہے کہ یہ حکمت ایفاے عہد کے ساتھ خاص ہے،جس میں مشرک باللہ کا کوئی حصہ نہیں ۔
صاحب کتاب ’’الاسلام واصول الحکم لکھتے ہیں‘‘ ’’جب آپ دیکھیں گےکہ ابوبکر کی بیعت کیسے ہوئی تومعلوم ہوجائےگاکہ وہ سیاسی بادشاہت کی بیعت تھی اس پر نئی مملکت کی تمام مہریں  ثبت تھیں  اورایسےہی قائم ہوگئی تھی  جس طرح عام حکومتیں قوت اور تلوارکےزورپرقائم ہوتی ہیں ‘‘۔
اس کاجواب شیخ الخضرحسین صاحب یہ دیتےہیں کہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد ہر بڑے معاملے کی طرح خلافت کے معاملے میں بھی بحث ومباحثہ  اور اختلاف پیدا ہو گئے  جس کا اختتام حضرت ابوبکر صدیق  کی بیعت پر ہوا اور منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد سب ان کے دست و بازو بن گئے۔اسی طرح دینِ حق اور اس کی سیاست راشدہ حکمت اور افہام وتفہیم پر قائم ہوتی ہے اور  تیر و تلوار اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن  مؤلف  صاحب تاریخی حقائق میں غلطی کر گئےاور سننِ کونیہ کے تقاضے کی درست تفہیم نہ کر سکے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ نبی کریمﷺ جانتے تھے کہ آپ کے صحابہ  حضرت ابوبکر کی فضیلت اور ان کی استقامت  اور درایت و تقویٰ میں اختلاف نہیں کریں گے اور اسی طرح لوگوں کی آرا خلافت کے لیے ان کے تعین پر متفق ہو جائیں گی۔اس لیے معاملہ ان کے اختیار پر چھوڑ دیا۔تاکہ ہمیشہ کے لیے سنت رہے، اور بعض انصار جن کا خیال تھا کہ ایک امیر انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین سے کے سوا کسی نے ان کی خلافت میں اختلاف نہیں کیا۔پھر تمام انصار  نے بھی سوائے سعد بن عبادۃ ،ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی،کیونکہ وہ خود ولایت چاہتے تھےاورنہ ہی صحابہ  میں سےکسی نےیہ کہاکہ قریش یابنی ہاشم یاغیربنی ہاشم میں ان سےبڑھ کرکوئی خلافت کاحقدار ہے یہی وہ بات ہےجسےآثار،سنت اورحدیث سےشغف رکھنےوالے سب  علما جانتےہیں۔لہٰذا مؤلف صاحب کا یہ خیال کہ بیعتِ ابوبکر تلوار کے زور پر  ہو گئی تھی ان کا اپنا وضع کردہ ہے جو امت میں تائید نہیں پا سکتا (صفحہ۱۸۳)۔
مؤلف صاحب   لکھتے ہیں’’اس لقب میں رعب،ہیبت،قوت اورجاذبیت(کشش )ہےتوعجب نہیں کہ اس کی وجہ سے صدیق نےاسےاختیارکیا ہوجبکہ وہ نئی مملکت کی  تعمیرکرنےاٹھےتھےاورچاہتےتھے کہ فتنوں کےسیلاب،متناقض خواہشات کی آندھیوں میں گھری ،نئی نئی جاہلیت سےنکلی ہوئی قوم کی شیرازہ بندی اس (لقب خلیفہ)کےذریعےکریں جن میں سخت قوت،دیہاتی پن اورعصبیت کی باقیات موجودتھیں لیکن چونکہ وہ عہدنبوی ﷺکےقریب،ان کےسامنےجھکنےوالےاوران کی بات کےسامنےمکمل طورپرگردن نہادتھے اس لیے یہ لقب ان کی سرکشی کوقابوکرنےاوربعض باغی قیادت کوقابو کرنےکےلیےزیادہ مناسب تھااورشایدانھوں(ابوبکر )نےایساکیا‘‘۔
صحابہ کرام اورخصوصاًحضرت ابوبکر کی اس کثرتِ شان کےمتعلق شیخ الازہرلکھتے ہیں: ’’مسلمانوں نے ان باکردار لوگوں کی تاریخ میں تحقیق کی ہے کہ یہ اپنے گفتار میں سچے اور کردار کے کھرے تھے۔اور پوری تاریخ کو چھان کرانھیں ہرطرف سےپلٹ پلٹ کرپرکھااور جانچامگران مَشْھُودٌ لَھُمْ بِالْخَیْرِوالصِّدْق ہستیوں میں سےکوئی ایسا نہیں پایا  جو لوگوں کو دینی القابات سے دھوکہ دینےوالا ہو یا ریاکاروں کی ظاہرپرستی اوردھوکےبازوں کی ملمع سازی سےفریب میں آنےوالاہو۔ ابوبکر صدیق  اس سے بہت اوپر  ہیں کہ لوگوں کو’’ خلیفۃالرسول‘‘کے لقب سے ورغلائیں اور ایسی امت جس میں عمر وعلی جیسے لوگ موجود ہوں ایسے لقب سے نہیں بہک سکتی جس کی اہلیت صاحبِ لقب میں نہ ہو۔اور دینی القابات کو دنیاوی  اور سیاسی اغراض کے لیے بطورِ جال  استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ د ےدیں(صفحہ ۱۹۴)۔ 
(اس پر مستزاد یہ کہ جو اوصاف خود علی عبدالرزاق صاحب  نے ابوبکر کے بیان کیے ہیں ایسے باکردار شخص سے بھلا یہ توقع کیسےکی جا سکتی ہے کہ وہ  دینی القاب کو  سیاسی اغراض  کے لیے استعمال کریں  گے؟ بلکہ اس سے بڑھ کر دینِ خداوندی میں ایسی چیز کا اضافہ کریں گے جو اس میں نہ ہو؟)۔ 
مؤلف صاحب فیصلہ سناتے ہیں’’ خلافت ہرگزکوئی دینی اصطلاح نہیں،اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی  اصطلاحات اورادارے ہیں،دین کا ان سےکوئی تعلق نہیں۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں ‘‘۔
علی عبدالرزاق صاحب نے اس خیالی نتیجے کی بناء پر ادلۂ  خلافت میں طعن کی کوشش کی ہے اور یہ واضح ہے کہ خلافت عملی احکامات میں سے ہے جس میں حدیث ،قاعدہ یا اجماع کی دلالت کافی ہوتی ہے اور یہ دلائل اس پر قائم ہیں(صفحہ۲۰۵)۔ 
شیخ خضرصاحب لکھتےہیں’’مؤلف صاحب نےیہ خیالی نتیجہ اپنےاس گمان پرقائم کیاہےکہ نبیﷺ نےاپنےبعدکسی حکومت کی طرف اشارہ نہیں کیااورنہ ہی مسلمانوں کےسامنےایسےاحکام پیش کیے جن کی طرف  وہ رجوع کریں۔ حالانکہ یہ معلوم ہےکہ احادیثِ خلافت خطبہ حجۃالوداع وغیرہ جس میں آپﷺ نے فرمایا: ’’اگرتم پرغلام حاکم بنایاجائےجوکتابُ اللہ کےمطابق تمہاری قیادت کرتاہو،توتم اس کی سنواور اطاعت کرو‘‘(صحیح مسلم)۔اسی طرح آیاتِ احکام کاصیغہ عام کےساتھ واردہوجاناجیسےاللہ کاارشاد: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ، ترجمہ: اورجواللہ کےنازل کردہ پرفیصلہ نہ کریں وہ کافر ہے۔ یہ سب دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺایسی شریعت لائےتھےجس سے ان کےبعدمسلمان اپنےحکومت میں رہنمائی لیتےرہےجس طرح آپ ﷺاپنی حیات میں  انھیں چلاتےتھے‘‘۔
مزیدلکھتےہیں’’مؤلف صاحب نےاس نتیجے کی بنیاداس پررکھی ہےکہ ابوبکر کی حکومت لادینی (سیکولر)تھی ،جبکہ ہم دلیل پہ دلیل پیش کرچکےہیں کہ ابوبکر ظالم،فاسق،اورکافرنہیں تھے(بلکہ مؤلف صاحب خودمانتےہیں کہ وہ نجی اورحکومتی دونوں معاملات میں رسول اللہ ﷺکےنقش قدم پرچلتےتھے)اوروہ کتابُ اللہ اورسنت رسولﷺ کےمطابق حکومت کرتےتھےاگرکتاب اللہ اورسنت رسولﷺمیں نص نہ پاتےتواصحاب رسول میں سےاہلِ علم سےمشورہ کرکہ اس رائےپرعمل کرتےجس کےاحق ہونے کے بارےمیں روح شریعت رہنمائی کرتی‘‘۔پس مؤلف صاحب کادعویٰ کہ’’ خلافت اورقضا وغیرہ کوئی دینی ادارے نہیں‘‘ اوریہ کہ’’دین نےاسےمتعارف کرایاہےاورنہ ہی اس سےمنع کیاہے‘‘لادینی(سیکولر)آرا کا  نچوڑ ہے،جس کےلیے کوئی دلیل ہےاورنہ ہی شبہ ظن اس کےساتھ کھڑاہوتاہے‘‘۔
یہ خاتمہ خلافت کےفوراً بعد کےحالات ہیں جس میں علما  نے اس تاریخی معرکےکو سرکرلیا جب سے وقتاً فوقتاً دین وسیاست کی جدائی کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں چند سال قبل سیکولروں کےلیے حالات کافی سازگار ہوگئے تھے مگرعالمی اورملکی حالات نے پھرایساپلٹا کھایا کہ اب خود مغرب میں ڈی سیکولرایزیشن آف دی ورلڈ(سیکولرازم کےزوال)کے مرثیے پڑھے جاتےہیں، مذہبی حلقےانتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں، اندرونِ ملک دیوار سے لگائے گئےمذہبی طبقےاب پھر اپنی اہمیت منوارہے ہیں اور سیکولروں  کی کوششیں ایک بارپھر صدا بصحرا  معلوم ہوتی ہیں، مگرہمارےدانشور اب بھی دوسروں کےتھوکےہوئےکی جگالی میں مصروف ہیں۔

Maqalaat

جوابی بیانہ ۔۔۔تاریخی اسباق

Jul 09 2019


مولانا معراج محمد(استاذ فقہ اکیڈمی)

۱۹۲۳ ء میں انہدام خلافت کے ساتھ مسلم دنیا میں ایک نئی کشمکش کا آغازہوا ۔ایک طرف حامیان خلافت تھے جوقیام خلافت کےلیے عملی طورپرسرگرم ہونے کےساتھ فکری اورعلمی میدان میں بھی خدمات انجام دیتے رہے ،ان میں سب سے پہلےمصرکے معروف عالم اور مفسرقرآن محمدرشید رضا صاحب﷫ ’’مصنف تفسیرالمنار‘‘تھے جنھوں نے ’’الخلافۃ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جس میں خلافت سےمتعلق شرعی مباحث ذکر کیے اس کےبعدتصانیف کا ایک سلسلہ شروع ہوا جن میں اسلام کی سیاسی تعلیمات پرتفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ مگراس کےساتھ کچھ ایسےلوگ بھی نمودارہوئے جو خلافت کی شرعی حیثیت بلکہ اسلام کےسیاست سے تعلق ہی کےمنکرہوئےاوراسے مسلمانوں کےدرمیان  شروفسادکامنبع  اورترقی کی راہ میں رکاوٹ قراردینےلگے،ان میں سب پر سبقت لے جانےوالےعلی عبدالرزاق صاحب تھے جو ۱۸۸۷ءکومصرمیں پیداہوئے ۱۹۱۲ءمیں جامعہ ازہرسےدینی تعلیم مکمل کی اس کے ساتھ ساتھ انھوں  نے  ۱۹۰۸ءمیں قائم ہونے والے ’’جامعۃالاہلیہ‘‘ سے عصری علوم حاصل کیے ،اس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبۂ اقتصادیات میں داخلہ لیا مگرپہلی جنگ عظیم کی وجہ سے ۱۹۱۵ءمیں وآپس آگئے اوراسی سال مصر کی شرعی عدالت میں قاضی مقرر کیےگئے ۔
 علی عبدالرزاق صاحب کئی کتب کے مصنف ہیں مگران کی شہرت کاسبب ۱۹۲۵ءمیں شائع ہونےوالی ان کی کتاب ’’الاسلام واصول الحکم‘‘ بنی ۔جس میں انھوں نےخلافت کی شرعی حیثیت کا انکار کیا،اسےشروفسادکامنبع قراردیا اور یہ کہا کہ قرآن وحدیث میں خلافت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔علما  نے خلافت وامامت  پر جن آیات واحادیث سے استدلال کیاہے مذکورہ کتاب میں ان کاردکیاگیا۔ان کادعویٰ تھا کہ نبی اکرمﷺ  کا کام محض پیغام الہی پہنچانا تھا، احکام کی تنفیذ ان کی شرعی ذمے داری نہیں تھی اورجوسیاسی نوعیت کے کام آپﷺ نے کیےوہ ان کےساتھ خاص ہیں جن میں کوئی ان کا شریک نہیں ہوسکتا ۔
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ خلافت بمعنیٰ’’نیابت رسول‘‘ کی غلطی صدراول میں ہوئی جب ابوبکر صدیق نے دینی طرزپرحکومت کرتے ہوئے’’خلیفۃرسول اللہ‘‘ کا لقب اختیار کیا اوروہی اس غلط فہمی کاباعث بنے کہ لوگ خلافت کودینی منصب سمجھ بیٹھے ،مصنف  نے آخر میں اپنا حتمی فیصلہ یہ سنا یا  کہ ’’حق یہ ہےکہ دین اسلام اس خلافت سےبَری ہےجسے مسلمانوں  نےمتعارف کرایاہے اوراس کےاردگران کےبنائےگئےرغبت ورہبت اورعزت وقوت کےتصورات سےبیزارہے۔خلافت ہرگزکوئی دینی اصطلاح نہیں اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز ہیں ۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی  اصطلاحات اورادارے ہیں دین کا ان سےکوئی تعلق نہیں  ۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل ،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں ‘‘(صفحہ۱۳۷)۔
’’الاسلام واصول الحکم‘‘خلافت کی شرعی حیثیت کو مسترد کرنے کے موضوع پربنیادی اوراہم کتاب ہے۔اس میں مصنف نے بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خلافت کوصدراول ہی سے ہاتھ ڈال کر غیر شرعی اور ناجائزقراردیا ہے اورمسلمانوں کو کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ جیسے چاہے اپناسیاسی نظام وضع کریں۔
کتاب پڑھتےہوئے لگتاہےجیسے یہ اپنےیہاں کے’’جوابی بیانیے‘‘ کی تائیدمیں لکھی گئی ہو،صرف اس فرق کے ساتھ کہ مصنف صاحب نے بات صدراول تک پہنچا کر اپنا مدعا واضح کیا ہے جبکہ یہاں اسے حال تک محدودرکھ کرماضی کونہیں چھیڑاجاتا تاکہ زودہضم رہے۔
مصنف صاحب پرخلافت کے غیرشرعی ہونے کے ساتھ مسلمانوں کےنظام قضا کاغیرشرعی ہونابھی کافی پہلے واضح ہوچکاتھا جیسےکہ انھوں نےخلافت کےعدل وانصاف کے بجائےطاقت کی بنیادپرقائم رہنےکےضمن میں سلطان محمدالخامس کاتذکرہ کیاہےجن کادورحکومت جنگ عظیم اول کےساتھ ختم ہوگیاتھا،جبکہ کتاب کاپیش لفظ یکم اپریل ۱۹۲۵ءکولکھاگیاہے،مگر اس کے باوجود آپ برابراس’’غیر شرعی‘‘منصب پربراجمان رہےیہاں تک کہ اشاعت کتاب کےبعد۱۲اگست۱۹۲۵ءکوجامعہ ازہرنےان کی ڈگری منسوخ کی جس کی بنیاد پروہ عہدےسےمعزول کیےگئے۔کتاب پرکی گئی بعض اہم تنقیدیں ہم بعدمیں ذکرکریں گے،سردست  مصنف صاحب کاموقف انھی کےاقتباسات کےذریعےپیش کیاجاتاہے۔
صاحب کتاب خلافت کی اصطلاح پربحث کرنےکےبعدلکھتے ہیں’’خلیفہ ان مسلمانوں کے نزدیک بمنزلۂ رسول ہے،اس کوولایت عامہ،اطاعت تامہ اوراقتدارکامل حاصل ہے،اس کو انھیں    دین پر قائم رکھنے کا حق حاصل ہے اس لیے وہ ان پرحدودِدین قائم کرےگاوہی اس کےشرائع نافذکرےگا توان کے دنیوی معاملات کی انجام دہی کا بطریق اولیٰ ذمے دارہوگا۔ان(مسلمانوں )پرلازم ہے کہ پوری عزت کےساتھ اس سےمحبت کریں کیو نکہ وہ رسولﷺ کانائب ہے اورمسلمانوں کےیہاں رسول اللہﷺ کےمقام سےاشرف کوئی مقام نہیں ہوسکتا توجواس مقام کی طرف منسوب ہوجائے،وہ اس انتہا کوپہنچ گیا جس کےاوپرمخلوق کےلیےکسی مقام کا تصورنہیں کیا جاسکتا(صفحہ۱۱)۔
’’حاشیۃ الباجوری علی الجوھرۃ‘‘کی طرف نسبت کرتےہوئے لکھتے ہیں’’ان مسلمانوں پراس کی اطاعت ظاہراًوباطناًلازم ہے کیونکہ اطاعتِ ائمہ  اطاعتِ خداوندی میں سے ہے اوران کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی سے‘‘(صفحہ۱۲)۔ آگے’’العقدالفرید‘‘کےحوالےسےلکھتے ہیں’’پس امام کی اطاعت اوراس کی خیرخواہی فرض و واجب اور امرلازم ہے،ایمان اس کے بغیرمکمل نہیں ہوتا اوراسلام  بدون اس کے ثابت نہیں ہوتا۔[ایضا]
مزیدلکھتےہیں’’مختصرا یہ کہ سلطان رسول اللہ ﷺکا نائب ہوتا ہےوہ زمین میں اللہ کی حِمیٰ (چراگاہ) ہے،بندوں کےاوپر اللہ کاپھیلاہوا سایہ ہےاورجوزمین میں اللہ کاسایہ اوررسول اللہﷺ کاخلیفہ ہوتواس کی ولایت عام اورمطلق ہونی چاہیے ۔جیسےاللہ اوررسول ﷺکی ولایت ہے۔’’طوالع الانوار وشرحہ مطالع الانظار‘‘ کاحوالہ دیتےہوئےلکھتےہیں اورکوئی عجب نہیں کہ اسے(خلیفہ کو)لوگوں کےجان ،مال اورشرمگاہوں میں تصرف کاحق حاصل ہو‘‘(صفحہ ۱۲تا۱۳)۔
خلیفہ کےماخذاقتدارکی بحث کے ضمن میں مسلمانوں پرتنقیدکرتےہوئےلکھتےہیں کہ’’انھوں نےدیگرسیاسی مباحث کی طرح اسےبھی مہمل چھوڑاہےلیکن اس موضوع سےمتعلق علما  کی عبارات کے استقرا سےپتہ چلتاہے کہ اس میں مسلمانوں کے دومذہب ہیں‘‘۔
اول :   اقتدارخلیفہ کاماخذذاتِ خداوندی ہےکہ خلیفہ اپنی قوت اللہ کی قوت سےحاصل کرتا ہے۔اس رائے کی روح آپ کو علما  اور عام مسلمانوں کےدرمیان ظاہر نظرآئی گی، خلافت سے متعلق ان کےمباحث اسی طرف جاتے اوراسی عقیدے کی طرف اشارہ کرتےہیں جیساکہ ابھی ہم نےذکرکیا کہ انھوں نےخلیفہ کوزمین میں اللہ کاسایہ بنایاہےاورابوجعفرمنصورنےخودکوزمین میں اللہ کاسلطان قراردیا تھا (صفحہ۱۶)۔ 
دوم :   کہ خلیفہ  کی قوت کاماخذ امت ہے امت ہی اسےاس منصب کےلیےمنتخب کرتی ہے(صفحہ ۲۰)۔
مصنف صاحب نےاپنےدعوے پرعلما اورفقہا کےاقوال کے بجائےاشعاراورمنطقی کتابوں کےدیباچوں سےاقتباسات پیش کیے ہیں جن میں بادشاہوں کی مدح مبالغہ آرائی کےساتھ کی گئی ہےاورمجتہدین کی جگہ مغربی فلسفیوں کی مثالیں دی ہیں،لکھتےہیں’’ماخذِاقتدارِخلیفہ میں مسلمانوں کی طرح یورپیوں میں بھی اختلاف ہواہےاورمذہب اول فلسفی’’تھامس ہابز‘‘کےموقف کےقریب ہےکہ’’بادشاہوں کااقتدارمقدس ہوتاہےاوران کا حق آسمانی ہوتا ہےجبکہ دوسرامذہب گویا بعینہ’’جان لاک‘‘کاموقف ہے‘‘(صفحہ۲۲)۔
نصب امام کے دلائل کوردکرتےہوئےلکھتےہیں’’فرضیتِ اقامتِ امام کےقائل علما کےجتنےمباحث ہم پڑھ چکےہیں کسی کوہم نےاس کی فرضیت پرکتاب اللہ کی کسی آیت سےدلیل قائم کرتاہوانہیں پایاولعمری(اورمیری عمرکی قسم )اگرکتاب اللہ میں ایک دلیل بھی ایسی ہوتی توعلما اس سےاستدلال میں تردد نہ کرتےاورخلافت کاتکلف اٹھانےوالےانصار(جن کی تعدادمیں کمی نہیں)میں سے کوئی شبہ دلیل سےدلیل پکڑنےکی کوشش کرتاہواپایا جاتا لیکن ان کےمتکلفین اورمنصفین  اپنی رائے کی حمایت میں کتاب اللہ سےحجت پانےمیں عاجزآگئے، اس لیےوہ کبھی اجماع کےمدعی بنتےہیں اورکبھی منطقی قیاسات  اور عقلی احکام  کاسہارا لیتے ہیں ‘‘ (صفحہ ۲۵)۔
بحث کوآگےبڑھاتےہوئےلکھتےہیں’’اگر آپ کومزیدتحقیق درکارہےتوعلامہ مسٹرتھامس آرنلڈکی کتاب’’الخلافہ‘‘کی طرف رجوع کیجیے،اس کےباب دوم اورسوم میں مفیداورقانع کرنےوالی تحقیق موجودہے‘‘ (صفحہ۲۶)۔
مزیدلکھتےہیں’’صرف قرآن نے خلافت کو مہمل نہیں چھوڑابلکہ سنت نے بھی قرآن کی طرح  اس سے تعرض نہیں کیا،اس کی دلیل یہ ہے کہ علما نےاس باب میں حدیث سے استدلال نہیں کیا،اگروہ حدیث میں دلیل پاتےتو اجماع سےپہلےوہی ذکرکرتے‘‘(صفحہ۲۷)۔
اصطلاح ’’خلافت‘‘ کی غلطی کیسےہوئی؟ اس کےلیے تمہیدباندھتےہوئے مصنف نے کہا کہ’’عربوں پر یہ بات  مخفی نہیں تھی کہ اللہ تعالی نے ان کےلیےنئی مملکت کےاسباب مہیاکیےہیں اوراس کےمقدمات ان کےلیےتیارکیےہیں بلکہ وہ رسول اللہﷺ کی مفارقت سےپہلےاس کومحسوس کرتےتھےلیکن جب نبی اکرمﷺ کاانتقال ہوگیاتوانھوں  نےبلاتردداس سیاسی مملکت میں مشاورت شروع کی جس کےلیےان کےپاس اسےدینی وحدت کی بنیادپرتعمیرکرنےکےسواکوئی چارہ نہ تھا جسےنبی اکرمﷺ نےان کےدرمیان چھوڑدیاتھا،اس دن وہ مملکت کے قیام اورحکومت سازی کےلیےمشورےکررہےتھےاس لیےان کی زبانوں پرامارت،امرا اوروزارت،وزرا کی باتیں آگئیں اور وہ قوت،تلوار،عزت،دولت،کثرت و منفعت کےتذکرےکرنےلگے،یہ سب کچھ مملکت کے قیام اورحکومت کےلیےتھا،اسی کااثرتھا کہ مہاجرین وانصار اورکبارصحابہ  ایک دوسرے سےآگےبڑھنے کی کوششوں میں لگ گئے یہاں تک کہ ابوبکر کےہاتھ پربیعت ہوگئی اوروہ اسلام کے پہلےبادشاہ بن گئے۔
جب آپ دیکھیں گےکہ ابوبکر کی بیعت کیسے ہوئی تومعلوم ہوجائےگا کہ وہ سیاسی بادشاہت کی بیعت تھی، اس پر نئی مملکت کی تمام مہریں  ثبت تھیں  اورایسےہی قائم ہوئی تھی  جس طرح عام حکومتیں قوت اور تلوارکےزورپرقائم ہوتی ہیں ۔یہ نئی مملکت تھی جسے عربوں نے قائم کیااور یہی عربی دولت اورعربی حکومت تھی جبکہ  اسلام دینِ انسانیت ہے،وہ عربی ہےنہ ہی عجمی(صفحہ۱۲۳ تا ۱۲۴)۔
آگے لکھتے ہیں ’’ابوبکر  اور دیگر خاصانِ قوم کا خیال نہیں تھا  کہ امارت المسلمین دینی منصب ہے اور اس کےخلاف خروج دین پر خروج ہے ،ابوبکر کہتے تھے: ’’اے لوگو !  میں تمہارے جیسا ہوں،  میں نہیں جانتا شاید تم مجھے ان (کاموں)کا مکلف بناؤ جس کی طاقت رسول اللہﷺ رکھتے تھے ۔یقینا اللہ نے محمدﷺ کو عالمین پر فضیلت دی ہے اور انھیں    غلطیوں سے معصوم بنایا تھا جبکہ میں (ان کا)متبع ہو ں  نہ کہ بدعتی(دین میں نئی بات داخل کرنےوالا)‘‘۔ لیکن ان دنوں  بہت سے ایسے اسباب پائےگئے جنھوں نے ابوبکر  پر کچھ دینی رنگ چڑھادیا جس سے بعض لوگوں کو لگا کہ وہ دینی منصب پر فائز ہیں اور رسول اللہﷺ کے نائب ہیں۔   اسی طرح یہ خیال پیدا ہوا کہ امارت علی المسلمین دینی مرکز ہے اور رسول اللہﷺ کی نیابت ہے ۔ان میں سب سے اہم سبب جس کی بنا پر یہ گمان پیدا ہوا ابوبکر کا ’’خلیفۃ رسول اللہ ﷺ‘‘ کا لقب اختیارکرناتھا ‘‘ (صفحہ۱۲۶)۔
مصنف صاحب لکھتے ہیں’’ یقین سے پتہ نہیں چلتا کہ ابوبکر کے لیے’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کے لقب کا اختراع کب ہوا مگر اتنا معلوم ہے کہ ابوبکر نے اس کی اجازت دی تھی اور اس کو پسند کیا تھا ‘‘(صفحہ ۱۲۷)۔اسی صفحہ پر آگے لکھتے ہیں’’اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہﷺ عرب کے سردار اور مدارِ وحدت تھے جیسا کہ ہم پہلے اس کی تشریح کرچکے ہیں جب ابوبکر  ان کے بعد عرب کے بادشاہ اور نئے سیاسی طرز پر ان کی وحدت کو مجتمع کرنے والے بنے تو عرب کے لغت میں انھیں    اس اعتبار سے’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کہنے کی گنجائش پیدا ہوگئی جیسا کہ علی الاطلاق خلیفہ کہنے کی ‘‘۔
اس لقب کے اختیار  کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’اس لقب میں رعب،ہیبت،قوت اورجاذبیت(کشش )ہےتوعجب نہیں کہ اس کی وجہ سے صدیق نےاسےاختیارکیا ہوجبکہ وہ نئی مملکت کی تعمیرکرنےاٹھےتھےاورچاہتےتھے کہ فتنوں کےسیلاب،متناقض خواہشات(ذاتی مفادات) کی آندھیوں میں گھری،نئی نئی جاہلیت سےنکلی ہوئی قوم کی شیرازہ بندی اس (لقب خلیفہ)کےذریعےکریں جن میں سخت قوت،دیہاتی پن اورعصبیت کی باقیات موجودتھیں لیکن چونکہ وہ عہدنبوی ﷺکےقریب،ان کےسامنےجھکنےوالےاوران کی بات کےسامنےمکمل طورپرگردن نہاد تھے اس لیے یہ لقب ان کی سرکشی کوقابوکرنےاوربعض باغی قیادت کوقابو کرنےکےلیےزیادہ مناسب تھااورشایدانھوں (ابوبکر )نے ایساکیا‘‘(صفحہ۱۲۸)۔
آگے لکھتے ہیں’’ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ابوبکر  کی خلافت اپنے تمام ترمعنی میں حقیقی خلافت ہے‘‘ (صفحہ ۱۲۸)۔مزید وضاحت کرتے ہیں’’یہاں ابوبکر  کے ساتھ ذاتی نوعیت کے کچھ ایسے عوامل شامل ہوگئے  جنھوں نے اس عام غلطی میں معاونت کی اور ان کے لیے امارت ابوبکر کو دینی  معنی پہنانا آسان کردیا  یقیناصدیق  کا مقام رسول اللہﷺ کے نزدیک بلند اور ممتاز تھا  ،اس کے ساتھ ابوبکر اپنےنجی اور عوامی معاملات میں  رسول اللہﷺ کے نقش قدم پر چلتے تھے اور بلا شبہہ حکومتی معاملات میں بھی ان کی یہی شان تھی،وہ اپنی انتہائی کوشش کے ساتھ حکومت کو دینی طریقے کے مطابق چلاتے تھے اور ہرممکن حد تک رسول اللہ ﷺ کے منہج پر چلتے تھے  تو کوئی عجب نہیں کہ ابوبکر  نے اپنی نئی مملکت کے مرکز پر (جس کے وہ پہلے بادشاہ تھے)تمام ممکن دینی مظاہر جاری کردیے‘‘(صفحہ ۱۳۴ تا ۱۳۵)۔
مگر اس کے باوجود مصنف صاحب  خلافت کے شرعی ہونے پر مطمئن نہیں ہیں اوراسےحضرت ابوبکر  کی غلطی گردانتےہیں ۔ لکھتے ہیں’’اس سے واضح ہوا کہ لقب خلیفہ رسول اللہﷺ اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے (جن میں سے بعض کی طرف ہم نے اشارہ کیا باقی کے طرف نہیں)غلطی کے اسباب میں سے تھا جو عامۃ المسلمین میں پھیل گئی، انھیں لگا کہ خلافت دینی مرکز ہے اور جو مسلمانوں کا والی بن جائے وہ رسول اللہ ﷺ کے مقام پر فائزہوگیا ۔اس طرح مسلمانوں میں  صدر اول سے یہ بات پھیل گئی کہ خلافت دینی منصب ہے اور صاحب الشریعۃﷺ کی نیابت ہے‘‘(صفحہ۱۳۵)۔
 مصف صاحب صفحہ ۵۰پرلکھ چکےہیں’’اگرفقہا کی مرادخلافت وامامت سےوہ ہوتی جسےماہرین سیاست حکومت کہتےہیں توان کی بات درست ہوتی کہ شعائردینیہ کاقیام اوراصلاح رعیت اس خلافت بمعنی حکومت پرموقوف ہےچاہےوہ  کسی بھی صورت میں اورجس نوعیت کی ہومطلق،مقید،استبدادی،جمہوری ہویادستوری،شورائی،اشتراکی اوربالشوک ازم۔ان کی دلیل اس سے زیادہ کافائدہ نہیں دیتی(لیکن)اگروہ خلافت سےاپنی متعارف کردہ خاص قسم کی حکومت مرادلیتےہیں تودلیل ان کےدعوے کےموافق نہیں اوران کی دلیل غلط ہے‘‘۔مگرگذشتہ ایک صدی نےواضح کردیاکہ فقہا کی دلیل درست تھی اورمسلمانوں کی دینی اوردنیوی اصلاح خلافت وامارت پرموقوف ہے،عالم اسلام مجموعی طورپرمندرجہ بالانظام ہائےحکومت آزماچکا ہےمگردنیامیں مسلمانوں کاکوئی مقام ہے نہ ہی شعائرِدین کما حقہ محفوظ ہیں مگرمصنف صاحب چونکہ قریب العہد بانہدام خلافت اورحدیث العہد بنظام الغرب  تھےاس لیےلکھتےہیں’’ مسلمانوں کی دنیوی اصلاح کسی طرح بھی اس پر موقوف نہیں،   پس ہم اپنےدینی اوردنیوی امور میں اس خلافت کے محتاج نہیں ہیں۔اگر ہم چاہتے تو اس سے بھی زیادہ کہتے،بےشک خلافت ہمیشہ سےاسلام اورمسلمانوں کےلیےآفت اورشروفساد کاسرچشمہ رہی ہے‘‘(صفحہ۵۰ تا ۵۱)۔
آخرمیں مصنف صاحب اپناحتمی فیصلہ سناتےہیں’’حق یہ ہےکہ دین اسلام اس خلافت سےبری ہےجسےمسلمانوں نےمتعارف کرایاہے اوراس کےاردگردان کےبنائےگئےرغبت ورہبت اورعزت وقوت کےتصورات سےبیزارہے۔خلافت ہرگزکوئی  دینی اصطلاح نہیں،اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی  اصطلاحات اورادارے ہیں دین کا ان سےکوئی  تعلق نہیں۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل ،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں‘‘(صفحہ۱۳۷)۔
کتاب’’الاسلام واصول الحکم‘‘ کی اشاعت کے بعد سب سے پہلے معروف مفسرقران محمد رشیدرضا صاحب﷫ نے ’’مجلۃالمنار ‘‘میں  کتاب پر تنقیدی مضامین لکھے،انھوں نےلکھا ’’ اعداے اسلام ہمیشہ سے اسلام کے تخت گرانے،  اس کی اقتدارو حکومت پر آخری فیصلہ کرنے، اور اس کی شریعت  مٹانے  اور مسلمانوں کو اس پر عمل سے دور  کرنے   کے آرزومند رہے ہیں۔اس کے لیے انھوں نے تیر و تلوار دھونس دھمکیوں  اور اخلاق و عقائد کے بگاڑ سے لے کر اسلام کی بنیادوں  پر طعن و تشنیع تک ہر طرح کا حربہ آزمایامگراسلام اور مسلمانوں کے خلاف موجودہ سیاسی اور علمی جنگ میں انھیں مسلح جنگوں سے زیادہ نقصان پہنچا کیونکہ صلیبی جنگیں مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد کا ذریعہ بنتی تھیں،جبکہ اس معنوی جنگ نے ان کی جمیعت کو پارپارا کردیا ۔اب وہ دشمن کے معاون بنے اپنے ہی ہاتھوں اپنا گھر بربا دکررہے ہیں مسلمانوں کے خلاف دشمنان اسلام کی آخری کامیابی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ تھا جس کے بعد ترکوں نے خلافت کو خیر باد کہہ کر سیکولر جمہوری حکومت بنائی جو اسلامی شریعت سے مکمل آزاد ہے اور دین و سیاسست کی مکمل آزادی کااعلان کیا ۔اس حادثے نے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ دیا اور فرنگیوں کی سیاست رائج کرنے والے مشرقی نصاریٰ اور مغرب زدہ  ملحدین نے جشن منایا،  اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لوگوں نے ترکوں کے لیے تالیاں بجاتے ہوئے  مصراور دیگر مسلم ممالک میں ان کا علم بلند کیا لیکن جب انھوں نے مصر کو بھی انقرہ کی طرح سیکولر بنانے کی کوشش  کی تو منصبِ خلافت کے احیا کے لیے  جس قدر اس وقت ممکن ہوا ایک عالمی اسلامی کانفرنس کی دعوت پھیل گئی۔اتنے میں جامعہ ازہر کےفاضل،شرعی عدالت کے قاضی،بلند اخلاق اور دینداری کے ساتھ معروف خانوادے کے ایک فرد شیخ علی عبدالرزاق نےانوکھی باتوں کا پرچارشروع کردیا کہ اسلام میں کوئی خلافت،امامت اورحکومت ہے نہ ہی قضا  اور سیاسی نوعیت کے احکام بلکہ اسلام  محض روحانی مذہب ہے جیسا کہ نصرانیت پروٹسٹنٹ تعبیر کے مطابق نہ کہ ان سے پچھلی تعبیر کے مطابق۔اور مسلمان عہدِ  ابوبکر  سےلے کر آج تک جس خلافت کے دعویدار رہے ہیں وہ قول باطل،عملی گمراہی اور  فساد فی الارض ہے کیونکہ انھوں نے خلیفہ کو  دینی اور الٰہی  اقتدار دیا ہے جس میں سب سے بڑھ کر گمراہ بادشاہ ہیں کیونکہ اقتدار ان ہی میں منحصر ہوتا ہے اور ابو بکر عرب کے بادشاہ تھے ۔
کتاب کے مندرجہ جات کا خلاصہ ذکر کرنے کے بعد علی عبدالرزاق صاحب کی عبارت نقل کرتے ہیں کہ ’’حق یہ ہےکہ دینِ اسلام اس خلافت سےبری ہےجسے مسلمانوں نےمتعارف کرایاہے اوراس کےاردگردان کےبنائےگئےرغبت و رہبت اور عزت و قوت کےتصورات سےبیزارہے۔خلافت ہرگزکوئی دینی اصطلاح نہیں،اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی اصطلاحات اورادارے ہیں دین کا ان سےکوئی تعلق نہیں۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں‘‘(صفحہ۱۳۷)۔
اس کی وضاحت دوسری جگہ اس طرح کرتے ہیں’’دین میں کوئی چیز ایسی نہیں جو مسلمانوں کو دوسرے اقوام پر اجتماعی اور سیاسی تمام علوم میں سبقت لے جانے  سے روکتی ہو اور اس پرانے نظام (خلافت) کے انہدام سے جس کے سامنے وہ ذلیل و خوار ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ اپنے مکمل اصول اور حکومتی نظام کو اس نئے  طرز پر بنائے جو انسانی عقل کا نتیجہ ہو اور اقوام کے تجربات نے  انھیں بہترین اصول حکومت قرار دیا ہو۔
جناب رشیدرضا صاحب﷫اس کے نقد  میں لکھتے ہیں’’مذکورہ وضاحت کا قضیہ اول حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے  جو ما بعد کی عبارت ہے ۔ انسانیت کے جانے ہوئے نظاموں میں بہترین  خلافت اسلامیہ کا نظام ہےاور جب مسلمانوں نے اسے قائم کیا تھا  تو وہ سب سے زیادہ معزز تھے،  وہ صرف اپنے رب کے آگے جھکے، کسی دوسرےکے سامنے  ذلیل و خوار نہیں ہوئے،  مگر جب انھوں نے اسے چھوڑ دیا تو ذلت و خواری  ان کا مقدر ٹھری۔کسی بااختیاراورعقلمندکےشایان شان نہیں کہ اپنے ملک کے اصول اور حکومتی نظام کی بنیادغیروں کےنئے تجربات پر رکھ کرگھڑسوارکی اس پیالی جیسا بنے جسے کسی حال میں بھی قرار نہ ہو۔اورآخرکونسی چیز ان کے لیے جمہوریت،ملوکیت، اشتراکیت،کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان افضل ہونے کا فیصلہ کرے گی؟ اور جب اسلامی(خلافت)حکومت کے بارے میں ان کا فیصلہ یہی ہے  تو قرآن و سنت میں واردشدہ احکام سیاسیہ جیسےمعاہدات،احکام حرب اورشخصی عدالتی احکام جیسےمیراث، زواج، طلاق، عدت،اور شہری حقوق سےمتعلق احکام جیسےربا،اکل مال باطل، اورحدود تعزیرات سےمتعلق احکام کے بارے میں ان کا کہنا کیا ہوگا؟ کیا نصب امام پر اجماع اور احادیثِ خلافت کی طرح ان کا بھی انکار کریں گے؟یا یہ کہ مذکورہ احکام میں اطاعتِ رسول اللہﷺ واجب تھی اور یہ ارشاد خداوندی أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ سے مستثنیٰ ہیں؟اور اس پر’’الاغانی‘‘ ’’العقد الفرید‘‘ اور شعرا  کےدیوانوں سےمنتخب اشعار کے ذریعے استدلال  کریں گے؟(مجلۃالمنارذولقعدہ ۱۳۴۳)۔
ازہری عالم کےظاہرعبارت سےتولگتاہے کہ احکام قرآنی مسلمانوں پران کےنظم حکومت کےبارےمیں کوئی قدغن لگاتےہیں اورنہ ہی اقوام عالم کےجدیدترین تجربات اختیارکرنےسےانھیں   روکتے ہیں،جب ہم اصول صرف کامیابی کوبنائیں گے کہ اگریہاں کمیونزم بھی کامیاب ہوجائےتواسےبھی اختیارکرنےمیں کوئی حرج نہیں ہے(جبکہ وہ خداکےوجودکےبھی منکرہیں)تو واضح ہے کہ کیا صورت حال ہوگی۔
پہلی بات جواس کتاب کےاوصاف میں کہی جاسکتی ہےیہی ہے کہ اس نےاسلام کےاقتداراوراس کی شریعت کو بنیاد سےاکھیڑ دیاہےاس کی جمعیت کومنتشرکیاہے اوردنیوی معاملات سےمتعلق انفرادی، اجتماعی، سیاسی، شہری اورجنایات کےحوالےسےشرعی احکام میں اللہ اور رسولﷺ کی نافرمانی کی کھلی چھوٹ دیدی ہے،صحابہ ،تابعین،ائمہ مجتہدین،محدثین اورمتکلمین﷭  کوجاہل قراردیاہے،مختصراًیہ کہ یہ غیرسبیل المومنین کااتباع ہے،پس اسلام جس کومسلمانوں نےعصراول سےلیکر اب تک سمجھاہے اس سےبیزارہے (ایضا)۔
جامعہ ازہرکوچاہیے کہ اس پرخاموشی اختیارنہ کرے،کیونکہ مصنف وہاں کےفاضل ہیں اس لیے ان پرلازم ہےکہ ان کی کتاب کےبارے میں شریعت کا حکم واضح کریں،تاکہ مصنف صاحب اوران کےہمنوا ازہرکےسکوت کواس کی طرف سےاجازت پرمحمول نہ کرسکیں اورساتھ یہ غلط فہمی بھی دورہو کہ علماے ازہر ان کاجواب دینےسےعاجزہیں(ایضا)۔
اسی طرح جب معروف مصری ادیب سعدزغلول کی رائےکتاب کےبارےمیں پوچھی گئی توکہنےلگے:’’میراخیال ہے،وہ (علی عبدالرزاق صاحب )اپنےدین کی بنیادوں سےجاہل ہیں بلکہ اس کےبالکل سادہ اورآسان نظریات سےبھی بےخبرہیں ورنہ یہ دعویٰ کیسےکر سکتےہیں کہ اسلام میں دنیوی معاملات سےمتعلق کوئی رہنمائی نہیں؟ اورنہ ہی وہ ایسانظام ہے جوحکومت کےلیےکافی اورمناسب ہو؟ انسانی زندگی کاکونساگوشہ ایساہےجس کےبارےمیں اسلام کی ہدایات موجودنہیں؟ بیع وشراع،ہبہ،اوردوسری نوعیت کےمعاملات سےمتعلق انھوں نےازہرمیں نہیں پڑھاہے؟ کیاوہ بھول گئےہیں کہ تاریخ کےطویل اوربہترین ادوارمیں بہت سی اقوام صرف اسلام کےمطابق حکومت کرتی رہیں،وہ ہمیشہ سےاسی کےاصول وقوانین کےمطابق فیصلےکرتی رہیں اورپرامن،پرسکون اورمطمئن زندگی گزارتی رہیں،پھراسلام کیسےدنیوی احکام اورحکمرانی والادین نہیں ہے؟
  میں نےکتاب کادقتِ نظرسےمطالعہ کیا،تاکہ اس پرکی گئی تنقید کےمعیارکااندازہ کرسکوں  پہلےتومیں حیران رہ گیاکہ ایک عالم دین بھی اس موضوع پراس اسلوب واندازسےلکھ سکتاہے؟ جبکہ میں بہت سےمستشرقین وغیرہ کی تحریریں پڑھ چکا ہوں میں نےان میں سے کسی کواسلام پراتناسخت طعن کرتا ہوانہیں پایا جس قدرتیزتعبیرکےساتھ شیخ علی عبد الرزاق نےکیاہے‘‘(سعدزغلول:ذکریات تاریخیہ طریفیہ‘‘ بحوالہ ’’معرکۃ الاسلام واصول الحکم‘‘ صفحہ ۱۵۰)۔
سابق شیخ الازہرجناب محمدالخضرحسین صاحب نے علی عبدالرزاق صاحب کی کتاب کےرد میں ’’نقض کتاب الاسلام واصول الحکم‘‘ تصنیف کی جس میں انھوں نےعلی صاحب کی ایک ایک بات کولے کرتفصیل سےرد کیاہے ذیل میں اسی کتاب کے متعلقہ حصےکے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
شیخ الازہرصاحب مصنف صاحب کی عبارت’’ خلیفہ ان مسلمانوں کے نزدیک بمنزلہ رسول ہے،اس کوولایت عامہ،اطاعت تامہ اوراقتدارکامل حاصل ہے ،اس کو انھیں دین پر قائم رکھنے کا حق حاصل ہے اس لیے وہ ان پرحدوددِین قائم کرےگا،وہی اس کےشرائع نافذکرےگا توان کے دنیوی معاملات کی انجام دہی کا بطریق اولی ذمے دارہوگا۔ان (مسلمانوں )پرلازم ہے کہ پوری عزت کےساتھ اس سےمحبت کریں کیو نکہ وہ رسول اللہﷺ  کا نائب ہے اورمسلمانوں کےیہاں رسول اللہﷺ کےمقام سےاشرف کوئی مقام نہیں ہوسکتا توجواس مقام کی طرف منسوب ہوجائےوہ اس انتہا کوپہنچ گیا جس کےاوپرمخلوق کےلیےکسی مقام کا تصورنہیں کیا جاسکتا(صفحہ۱۴)۔ پراستدراکاً لکھتےہیں:’’مؤلف صاحب  نےاپنےوضع کردہ معانی ومفاہیم دوسے زیادہ  صفحات پربکھیردیےہیں تاکہ ثابت کریں کہ مسلمان خلافت کوایک عادل حکومت کےحق سےاوپرکامقام اوراقتداردیتےہیں، وہ علما کی عبارات نقل کرنےمیں اس مقدارپراکتفانہیں کرتےجس کاتحمل ان کےالفاظ کرسکتے  ہیں جیساکہ انصاف کےساتھ حق کےمتلاشیوں کاطریقہ  ہے،  بلکہ ان کےقلم پرجو آتا ہے وہی لکھتےہیں اورمناسب الفاظ سےعدول کرکےایسےالفاظ کی طرف جاتےہیں جوبسااوقات ذہن میں غیرصحیح معانی تشکیل دیتےہیں۔مثلا علماے اسلام کہتےہیں کہ’’معروف (مباح کاموں )میں خلیفہ کی اطاعت واجب ہے‘‘اورمؤلف کہتےہیں ’’اس (خلیفہ)کی مکمل ااطاعت ان پرواجب ہے‘‘تو اطاعت کومعروف کےساتھ مقیدکرنےکی ان کی شرط کو حذف کرکہ ایسا لفظ استعمال کیا جو اندھی اطاعت کا معنی اداکرتاہے(صفحہ۱۴)۔علماکاکہناہے ’’لازمی ہے کہ( خلیفہ)لوگوں کےدرمیان معززہویعنی ذلیل نہ ہو تاکہ اس کی اطاعت ہوسکے‘‘(مطالع الانظار)۔
جبکہ مصنف صاحب لکھتےہیں کہ’’ان (مسلمانوں )پرلازم ہےکہ پوری عزت کےساتھ اس سےمحبت کریں‘‘، اس جملے سےان کی بیان کردہ علت سےمعنی کوحقیقی قوت حاصل ہوتی ہےصرف نظرکرکہ اس کی جگہ لفظ’’شمول‘‘رکھتےہیں جوقاری کے ذہن کواطاعت کی آخری انتہا تک لےجاتاہے، اہل علم کی عبارات میں اس طرح کاتصرف لکھنےوالے کی امانت میں خلل اندازہوجاتاہے ،اور ادب یاوعظ میں کبھی اس سے صرف  نظر توکیا جاسکتا  ہے مگرعلمی مباحث میں اسےنظراندازنہیں کیاجاسکتاخصوصاجب کسی رائےاورحکم پر تنقیداور اس کا مناقشہ کیاجاتاہو۔اس سےبھی عجیب ان کا یہ کہنا ہےکہ’’ کیو نکہ وہ (خلیفہ)رسول اللہﷺ کا نائب ہوتاہے اورمسلمانوں کےیہاں رسول اللہﷺ کےمقام سےاشرف کوئی مقام نہیں ہوسکتا توجواس مقام کی طرف منسوب ہوجائےوہ اس انتہا کوپہنچ گیا جس کےاوپرمخلوق کےلیےکسی مقام کا تصورنہیں کیا جاسکتا(صفحہ۱۴)۔
اس عبارت کو انھوں نے(جوکچھ خلافت کےبارےمیں مسلمانوں کی طرف منسوب کیاہے)اس کی علت کےطورپرذکرکیاہےاورنظم کلام کاتقاضہ یہ ہےکہ مسلمانوں کےنزدیک خلیفہ اس انتہا کوپہنچ چکاہے جس کے اوپرانسانوں کےلیےکوئی امکان نہیں،حالانکہ یہ کلمات مؤلف کےاپنےقلم کےوضع کردہ ہیں جن پر ان کی شعری مبالغہ آرائی کی مہرثبت ہے جبکہ مسلمان جس میزان کی طرف انسانوں کی درمیان افضلیت کےبارے میں رجوع کرتےہیں وہ اعمال صالحہ ہیں جس کی طرف إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ میں اشارہ کیا گیاہے،اس لیےوہ قائدجوامت کوحملہ آوردشمن سےبچاتاہواورایک حکمت والے عالم کامرتبہ جوانھیں آوارہ بدعتی کی گمراہیوں سےخبردارکرتاہواس خلیفہ کےمرتبےسےبہت اونچاہےجوعمل وکردارمیں ان دونوں کےبرابرنہ ہو۔
ان علما نےخلیفہ کےبارے میں اس سےزیادہ  کچھ نہیں کہاکہ وہ رسول اللہﷺ کا نائب ہےجس کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کےمقام پرفائزہوگیااوراس مقام  تک پہنچاجس کے اوپرکسی مخلوق کےلیےکوئی مقام نہیں۔اگراس طرزپرنتائج نکالےجانےلگےتو یہ  کہنادرست  ہوگا  کہ اللہ کا ارشاد ہے: يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ(کہ اےداود!ہم نےزمین میں آپ کواپناخلیفہ بنایاہے)لہذاوہ الوہیت کےمقام پرفائزہوگئےیا اس مقام پرپہنچے جس کےاوپرفردبشرکےلیےکوئی گنجائش نہیں۔اس طرح کااخذِنتائج بداہتاً غلط ہے،اس لیےمؤلف صاحب کااستدلال درست قیاس کےدائرےسےخارج ہے۔
اس کےبعدمصنف صاحب نے وہ اقتباسات ذکرکیے ہیں جوانھوں نےاحترام خلیفہ اوراس کی خیرخواہی میں کہےگئےعلما  کےاقوال  سےکاٹ کرجمع کر دیےہیں’’حاشیۃ باجوری علی الجوھرۃ‘‘کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ان(مسلمانوں )پراس (خلیفہ)کی اطاعت ظاہراًوباطناًلازم وواجب ہے‘‘اوراس کی علت ’’العقدالفرید‘‘سے ابوہریرہ  کاقول نقل کیاہے’’بےشک ائمہ کی اطاعت  اللہ کی اطاعت میں سےہےاوران کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی میں سےہے‘‘ابوہریرہ کی طرف  نسبت کےحوالےسےہم مؤلف صاحب کویاد دلائیں گے کہ ’’العقدالفرید‘‘ادب کی کتاب ہے دینی موضوع   پرگفتگوکرنےوالےکےلیے مناسب نہیں کہ ایسےکتابوں سےصحابہ  وغیرہ  کےبارے میں کچھ نقل کرے۔اورجب وہ اپنےلیے ’’العقدالفرید‘‘ سے استدلال کودرست سمجھتےہیں  اس کےبعد انھیں یہ  حق نہیں کہ جب بخاری اورمسلم کی احادیث کواپنی رائےکی راہ میں رکاوٹ سمجھیں تو کہیں ’’ہمیں اس کی صحت میں کلام کاحق حاصل ہے‘‘۔
’’العقدالفرید‘‘سےنقل کردہ ابوہریرہ  کی خبرکی اصل یہ ہےلَمَّانَزَلَتْ ھَذِہِ الآیَۃُ’ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ‘ أُمِرْنا بِطَاعَۃِ الأَئِمَّۃِ وطَاعَتُھُمْ مِنْ طاعَۃِ اللہِ وعِصْیانُھُمْ مِنْ عِصْیَانِ اللہِ، ترجمہ: اس آیت کے نزول کےبعدہمیں ائمہ کی اطاعت کا حکم دیاگیا اوریہ کہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت میں سےہے اوران کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی میں سےہے ۔ 
مؤلف صاحب نےاس میں تصرف کرکہ لفظ’’امرنا‘‘کوحذف کیاہے اورصحابی کےقول میں لفظ’’امرنا‘‘یاتوخبرکوحدیث نبوی بناتاہےجیساکہ جمہوراہل علم کی رائےہے کیونکہ ظاہریہی ہےکہ آمر(حکم دینےوالا)صاحب شریعت ہےیامحتمل رہتاہےکہ آمربعض خلفاءوامرا ہوں اوردونوں اقوال کےمطابق یاتوابوہریرہ  حدیثِ رسولﷺ نقل کرتےہیں یابعض خلفا وامرا کااثر،جبکہ خبرابوہریرہ  کےمعنی میں بخاری اورمسلم میں حدیث آئی ہےکہ’’جس نےمیری اطاعت کی اس نےاللہ کی اطاعت کی اورجس نےمیری نافرمانی کی اس نےاللہ کی نافرمانی کی۔اورجس نےمیرےامیرکی اطاعت کی اس نےمیری اطاعت کی اورجس نےمیرےامیرکی نافرمانی کی اس نےمیری نافرمانی کی‘‘اورابوہریرہ  کی دونوں روایتوں میں کوئی انوکھی بات نہیں جب تک ایساامیرجوامربالمعروف ونہی عن المنکرکرتاہواس کےبارےمیں یہ کہاجاتاہوکہ اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت میں سے ہےاوراس کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی میں سےہے اوراسی طرح اس کی اطاعت ظاہراً وباطناً دونوں طرح کی جائےگی (صفحہ۱۶)۔
مؤلف صاحب نے’’العقدالفرید‘‘کی طرف منسوب کرتےہوئے لکھاہے’’پس امام کی اطاعت اوراس کی خیرخواہی فرض و واجب اور امرلازم ہے،ایمان اس کے بغیرمکمل نہیں ہوتا اوراسلام  بدون اس کے ثابت نہیں ہوتا ‘‘جبکہ’’العقدالفرید‘‘کی عبارت یہ ہے:’’وقالﷺ الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ قالُوا لِمَنْ یارسولَ اللہِ؟ قال: لِلّٰہِ ولِرَسُوْلِہٖ ولِأُولِی الأَمْرِمِنْکُمْ، فَنَصْحُ الإِمَامِ ولُزُومُ طاعَتِہٖ فَرْضٌ واجِبٌ وأَمْرٌلازِمٌ ولایَتِمُّ الإِیْمَانُ إِلَّابِہٖ ولایَثْبُتُ الإِسلامُ إِلَّاعَلَیہِ‘‘۔  مذکورہ عبارت کوصاحب’’العقدالفرید‘‘نےحدیث کےلیےبیان کےطور پر  ذکرکیاہے جس پراشکال نہیں کیاجاسکتاکیونکہ جب امرا کی اطاعت حقائق دینیہ میں سے ہے یہاں تک  کہ اللہ اوررسولﷺ کی اطاعت اورنصح (خیرخواہی)کےساتھ ملی ہوئی ہے تویقینامکملات ایمان کی قبیل سےہوگی اوراسلام کی مضبوطی اس پرموقوف ہوگی  (مگر)اس کےساتھ یہ بھی واضح رہےکہ ’’العقدالفرید‘‘ادب کی کتاب ہےمباحث شرعیہ میں اس پراعتماد درست نہیں ۔اس لیےکتب سنت کی طرف رجوع ضروری ہےتاکہ مذکورہ حدیث کی صحت کااندازہ ہوسکے۔یہ حدیث صحیح مسلم میں تمیم داری سےمروی ہےجس کےالفاظ یہ ہیں: ’’ اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ،قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلّٰہِ ولِکِتابِہٖ وَلِرَسُوْلِہِ وَلِأ ئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِہِمْ‘‘۔
علی عبدالزاق صاحب لکھتے ہیں ’’مختصراً یہ کہ سلطان رسول اللہﷺ کا نائب ہوتا ہےوہ زمین میں اللہ کی حِمٰی (چراگاہ) ہے ،بندوں کےاوپر اللہ کاپھیلاہوا سایہ ہوتاہےاورجوزمین میں اللہ کاسایہ اوررسول اللہﷺ کاخلیفہ ہوتواس کی ولایت عام اورمطلق ہونی چاہیےجیسےاللہ اوررسولﷺ کی ولایت ہے‘‘موصوف نے مذکورہ عبارت مسلمانوں سےبطورحکایت ذکرکی ہے جبکہ وہ خوداس پریقین نہیں رکھتےپھرحاشیہ پر ابوجعفرمنصورکاقول نقل کیاہےجو انھوں نے مکہ میں کہاتھا، اس پرعلی عبدالرزاق صاحب نےنکیرکی ہے۔اس میں انھوں نےسلطان اللہ اور ظل اللہ الممدود پر رد کیا ہے۔عبارت ’’حِمٰی اللہِ فِی بِلَادِہ‘‘ کو انھوں نے کسی کی طرف بعینہ منسوب  نہیں کیا  ہے۔جبکہ عبارت کے ظاہری  معنی  پر اشکال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ’’حمی‘‘ اس مکان کو کہا جاتا ہےجس کی کوئی حفاظت کرتا ہواور دوسروں کو اس کے قریب  آنے سے روکتا ہو۔تواس کے معنی حرم اور کنیف کی طرف لوٹتے ہیں اور سلطان کے حمی اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محترم ہے،  ہر خوف زدہ اورمظلوم اس کی پناہ لیتا ہےاور وہ کنیف ہے کہ ہرصاحبِ خصومت اس سے فریاد کرتا ہے۔بندوں پر اللہ کا پھیلا ہوا سایہ  اور’’ظِلُّہُ الْمَمْدُوْدُعَلٰی عِبَادِہٖ‘‘کوئی غلط  بات نہیں کیونکہ اس کے مفہوم میں حدیثِ نبوی ﷺبھی ہے:’’السُّلْطَانُ ظِلُّ اللہِ فیِ الأرْضِ‘‘جس کا مطلب یہ ہے کہ  وہ لوگوں کی تکالیف کو دور کرتا ہےجیسا کہ سایہ سورج کی گرمی سے حفاظت کرتا ہے(صفحہ۱۸)۔   
ان کا کہنا کہ ’’اس  (خلیفہ)کی ولایت اللہ اور رسولﷺ کی طرح عام ہوتی ہے‘‘۔یہ اِن کی اُن مبالغہ آرائیوں  میں سے ایک ہے جو عام لوگوں کے ذہن میں خلافت کے مسخ شدہ تصور کو راسخ  کرنے کے لیے کی گئی ہیں ۔اگرمؤلف صاحب انصاف سے کام لیتے  تو مسلمانوں کی مطابقی عبارات نقل کرنےکی کوشش کرتے۔ ان(علما )کا کہنا یہ نہیں ہے کہ ’’خلیفہ کی ولایت اللہ کی طرح عام اور مطلق ہے‘‘۔کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے کیے کا پوچھا نہیں جا سکتا جبکہ خلیفہ  قانونِ شریعت کا پابند اور  اپنے تمام اعمال کا ذمےدار ہوتا ہے۔اسی طرح رسول اللہﷺ کو وہ خصوصیات حاصل ہیں جہاں پرندہ پر مار سکتا ہے نہ  ہی کسی کی نظر وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ان میں سے بعض یہ  ہیں کہ ان کے تصرفات نافذ ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا لازم ہے۔جبکہ خلیفہ کے تصرفات میں مناقشہ(مباحثہ)،تنقید اور انکار کی گنجائش  ہے۔
مؤلف صاحب نے’’ طوالع الانوار‘‘ اور اس کی شرح ’’مطالع الانظار‘‘کے حوالے سے لکھا ہے’’ولَا غَرْوَانَ یَکونُ لَہٗ حَقُّ التَّصَرُّفِ فیِ رِقَابِ النَّاسِ وأَمْوالِھِمْ وأَبْضَاعِھِمْ‘‘،ترجمہ:اورکوئی عجب نہیں کہ اسے(خلیفہ کو)لوگوں کےجان،مال اورشرمگاہوں میں تصرف کاحق حاصل ہو‘‘۔مؤلف نے اس جملے کو اپنی اصل سے کاٹ دیا ہے اور اپنی روح سے خالی کر دیا ہےجو عالی شان حکمت پر مبنی ہے۔صاحب المطالع نے  مذکورہ جملے کو شروط امامت میں شرطِ عدالت کے ضمن میں ذکر کیا ہےکہ ’’الرّابِعَۃ: أنْ یَکونَ عَدْلًا:لِأنَّہٗ یَتَصَرَّفُ فِی رِقَابِ الناسِ وأمْوالِھِم وأَبْضَاعِھِم‘‘  وقال شَارِحُہٗ فِی المَطالِع :لَو لَمْ یَکُنْ یَعْنِی الإِمَامُ عَدْلًا لَمْ یُؤمَنْ تَعَدِّیْہِ و صَرْفُ أَمْوَال ِالنَّاسِ فیِ مُشْتَھِیَاتِہٗ و تَضَیُّعُ حُقُوقِ المُسْلِمِینَ‘‘ترجمہ : چوتھی شرط یہ ہے کہ امام عادل ہوکیونکہ وہ لوگوں کے جان،مال اور شرمگاہوں میں تصرف کر تا ہے اور شارح نے لکھا ہے اگر امام عادل نہ ہو تو اس پر لوگوں کے اموال  اپنی خواہشات میں استعمال کرنے اور مسلمانوں کے حقوق کے ضیاع سے اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا ۔  
تو جان،مال اور شرمگاہوں  میں تصرف سے مراد حق کے ساتھ تصرف ہے جو قضا  کے طور پر یا دوسرے جائز طریقوں سے ہو جیسے اموالِ واجبہ کا چھڑوانا ، لوگوں کو لشکر میں بھیجنا اور جس کا ولی نہ ہو اس کا نکاح کرنا(صفحہ۱۸ تا ۱۹)۔
مؤلف لکھتے ہیں کہ اس موضوع سےمتعلق علما  کی عبارات کے استقرا سےپتہ چلتاہے کہ اس میں مسلمانوں کے دومذاہب ہیں ۔
اول :   اقتدارِخلیفہ کاماخذذات خداوندی ہےکہ خلیفہ اپنی قوت اللہ کی قوت سےحاصل کرتا ہے ۔’’اِسْتِمْدَادُ السَّلطانِ مِنَ اللہِ و قُوّتِہٖ‘‘  کے دو مطلب ہوسکتے ہیں  ایک یہ کہ استمداد(مددحاصل کرنا) بطور عدل و استقامت ہو جو کہ صحیح اور درست مطلب ہے  جس کے شواہد اللہ کے ان ارشادات میں پنہاں ہیں ’’ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ ۔۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا‘‘کہ جواللہ کے(دین کی )مددکرتاہےاللہ ضروراس کی مددکرےگا اورجولوگ ہم میں (ہماری رضاکی حصول کی)کوشش کرتےہیں لازماہم انھیں   اپنےراستوں کی رہنمائی کریں گے۔خلیفہ جب باکردار اورنیک سیرت ہوتا ہے اپنے قیمتی  اوقات کو امت کے معاملات کی اصلاح میں صرف کرتا ہے اور حکمت و ثابت قدمی کے ساتھ رعایاکے حقوق کے دفاع کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا (توظاہرہےکہ اللہ کی مدداور سلطان و قوت اسے حاصل ہوں گے)۔
دوم:    مطلب یہ ہے کہ غیبی راستے سے اللہ کی قوت اور سلطان سے مدد حاصل کرے جس کے لیے اس کے خلیفہ ہونےکےعلاوہ کوئی سبب  نہ ہو۔اسی کو مؤ لف صاحب اسلام میں ایک مذہب قرار دیتے ہیں اوریہ محض ایک دعوٰی ہے مؤلف ایسی کوئی چیز نہ پیش کر سکےجو اس کی تشنگی دور کر دے۔
مؤلف صاحب لکھتے ہیں اس رائے کی روح آپ کو علما  اور عام مسلمانوں کےدرمیان ظاہر نظرآئی گی، خلافت سے متعلق ان کےمباحث اسی طرف جاتے اوراسی عقیدے کی طرف اشارہ کرتےہیں‘‘ (صفحہ۲۰)۔
اس کےجواب میں شیخ الخضرحسین صاحب لکھتےہیں: ’’خلافت سے متعلقہ مفید مباحث کے مطالعہ میں طویل وقت صرف کرنے اور شدتِ اہتمام کے باوجود ہمیں ایک کلمہ بھی ایسا نہیں ملا جو اگرچہ بطورِ اشارہ بتلا دے کہ خلیفہ کے اقتدار کا ماخذ اقتدارِ خداوندی ہے۔خلافت سے متعلقہ ان (علما  ) کے کلام اور مباحث کا مختصر نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے لوگوں پر نصبِ امام واجب کیا ہے۔اور اس کی ولایت یا تو اہل حل و عقد کے ذریعے منعقد ہو گی یا خلیفہ سابق کے تعین سے،اور جب  وہ اپنی حکومت میں فساد کی کوشش کرتا ہے تو امت کو حق ہے کہ زمامِ اقتدار اس کے ہاتھ سے چھین کر اس شخص کے ہاتھ میں دےدیں  جو زیادہ عزم اور درست طریقے سے اسے چلانے والا ہو‘‘(صفحہ ۲۰)۔
مزیدلکھتےہیں :’’اور جو بات بطریقِ استنتاج معلوم ہوتی ہے (یہ ہے )کہ مؤلف نے جب اہلِ مغرب کے یہاں ماخذ اقتدار میں دو مذہب دیکھےتو مسلمانوں کے یہاں بھی اسے ڈھونڈنا شروع کیااور جب خلافت سے متعلق اہلِ علم کے کلام میں اپنےاس دعوےکے موافق یا قریب کچھ نہ پایا،کہ اقتدارِخلیفہ کا ماخذ اقتدارِ خداوندی ہے تو اس کو شعری اور نثری مدح میں تلاش کیا اور  خوش ہوئے  کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور اس کو ایسے مذہب کی تائید کے لیے بطورِ شواہد پیش کیا جس کا راسخین فی العلم میں نہ کوئی مبتدع ہے نہ پیروکار۔ اور میرا نہیں خیال  کہ اگر مؤلف صاحب کو مباحث خلافت میں ایسا کچھ بھی مل جاتا جس سے اس مذہب کی بُو تک آتی پھر وہ اسے چھوڑ کر شعرا  کے اشعار اور  مدح وتعریف  میں بطورِ مبالغہ وارد ہونے والے کلمات واقتباسات سے استدلال کرتے‘‘۔  مؤلف صاحب کاکہناہے’’ابھی ہم نےجوکچھ نقل کیا اس میں آپ نے دیکھا کہ انھوں نے خلیفہ کو ظل اللہ بنایا ہے اور یہ کہ ابو جعفر منصور  نے دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کی زمین میں اس کا سلطان ہے‘‘۔
  انھوں نے حدیث ’’اَلسُّلطانُ ظِلُّ اللہِ‘‘کی رو سےخلیفہ کو ظل اللہ قرار دیا ہے ۔پہلے اس کی شرح ہو چکی ہے کہ یہ بطورِ تشبیہ ہے کہ جس طرح سایہ سورج کی گرمی اور تپش سے اپنے اندر  آنے والے کو محفوظ کرتا ہےاس طرح خلیفہ لوگوں کی تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کی نسبت کی وجہ  اس کی طرف سے اقامتِ سلطان اور اس کی اطاعت کا حکم دینا ہے۔اب کہاں یہ معنی اور کہاں یہ مطلب نکالناکہ خلیفہ کے اقتدار کا ماخذ اقتدارِ خداوندی ہے؟
رہا ابو جعفر منصور کا قول کہ’’وہ زمین میں اللہ کا سلطان ہے‘‘تو اس کا مؤلف کے زیرِ بحث مسئلےسے کوئی تعلق نہیں۔اس کا مطلب جیسا کہ گذر گیا ہے یہ ہےکہ اللہ نے نصبِ امام اور اس کی اطاعت کا حکم دیا ہے اس حیثیت سے اس کی اضافت اللہ کی طرف درست ہے۔ جبکہ وہ شریعت کی حفاظت کر رہا ہو اور لوگوں پر صراطِ مستقیم کے مطابق حکومت کرتا ہو۔اور  اگرمنصور اس طرز پر عادل نہ ہو تو انھوں نے خود کو سلطان اللہ قرار دینےکادعویٰ کیاجبکہ وہ اس میں سچے نہیں تھے (صفحہ۲۱)۔                                                                                                                                                            
آگےعلی عبدالرزاق صاحب کی عبارت نقل کرتےہوئےلکھتے ہیں’’اورمذہب اول فلسفی’’تھامس ہابز‘‘کےموقف کےقریب ہےکہ’’بادشاہوں کااقتدارمقدس ہوتاہےاوران کا حق آسمانی ہوتا ہے‘‘۔
ہابز کہتا ہے’’ہر فردِ مملکت پر لازم ہے کہ اس کا ارادہ اقتدارِ حاکم کے سامنے سر نگوں ہو‘‘اور حاکم کا  رعایا میں سے کسی فرد کے سامنے  جھکنا  مقتضاے طبعیت کے خلاف ہےاور حاکم کے ارادے سے نکلنے کی کوشش  یا اس کو رد کرنا انقلاب اور سر کشی سمجھا جائے گا اور دین کے لیے لازم ہے کہ حاکم کے ارادے کےتابعداررہے۔
یہ ہابز کا مذہب (موقف) ہے جسے مؤلف صاحب اقتدارِ خلیفہ کے بارے میں جمہورعلما  و عام مسلمانوں کے مذہب کے لیے بطورِ مثال ذکر کرتے ہیں  انصاف کی نظر سے دیکھیے ہابز کہتا ہے  ہر فرد پر لازم ہے کہ اس کا ارادہ اقتدارِ حاکم کے سامنےسر نگوں ہو اورعلماے  اسلام کہتے ہیں کہ حاکم کی اطاعت معروف میں ہو گی۔ وہ کہتا ہے  حاکم کا کسی فرد کے سامنے جھکنا  مقتضاے طبعیت کے خلاف ہے جبکہ علماے اسلام کہتے ہیں کہ حاکم پر لازم ہے کہ لوگوں میں ادنیٰ شخص بھی جب اسے نیکی کا کہے  یا برائی سے روکے تو یہ جھک جائے۔ہابز کہتا ہےکہ حاکم کےارادےکومستردکرنا انقلاب اور سر کشی سمجھا جائےگا۔علماے اسلام کہتے ہیں کہ جب حاکم امت کے معاملات خلافِ مصلحت چلاتاہو  یا کسی مسئلے میں وہ قانونِ عدل کے خلاف فیصلہ کرے تو امت پر کوئی ملامت نہیں کہ اس کا ارادہ (فیصلہ) حکمت کے ساتھ مسترد کرے اور اس کو حق نہیں کہ ان کے اس اقدام کو انقلاب اور سر کشی کہہ دے ۔
بنو امیہ کے کسی حاکم نے بعض تابعین﷭ سے کہا !کیا اللہ نے ’’ أُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ‘‘سےتمھیں ہماری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے انھوں نے جواب دیا کہ جب تم حق کی مخالفت کرو تو اپنے اس ارشاد’’فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ‘‘کےذریعےتمہاری اطاعت سے نکالا نہیں ہے؟‘‘(فتح الباری لابن حجرج ۱۳صفحہ ۳۹۱ )۔
اور ہابز کہتا ہے ’’لازمی ہے کہ  دین ارادہ ٔحاکم کے سامنے تابعدارہو، جبکہ علما  کے نزدیک حاکم پر لازم ہے  کہ قانونِ اسلام کے سامنے سر تسلیمِ خم کردے خواہ وہ قانون نصاً ہو یا استنباطاً۔ اور اس پر لازم ہے کہ مخالف عقائد ونظریات رکھنے والوں کو  اجازت دے کہ وہ آزادی کےساتھ اپنے دین اور شعائردین پر عمل پیرا ہوں  اور کسی طرح بھی اس کو ان پر اعتراض کا حق نہیں (صفحہ۲۷ تا ۲۸)۔ 
شیخ الازہرخلافت پرقرآن وحدیث سےاستدلال کےبارےمیں علی عبدالرزاق صاحب کی عبارت نقل کرتےہوئے لکھتے ہیں ’’فرضیتِ اقامتِ امام کےقائل علما کےجتنےمباحث ہم پڑھ چکےہیں کسی کوہم نےاس کی فرضیت پرکتاب اللہ کی کسی آیت سےدلیل قائم کرتاہوانہیں پایا‘‘۔
بعض اہلِ علم نے امامت کے وجوب پر ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ‘‘سےاستدلال کیا ہے،خود مؤلف صاحب نے مذکورہ آیت سےعلامہ ابنِ حزم﷫ کا استدلال نقل کیا ہے  اورعلامہ سعد الدین تفتازانی﷫’’شرح المقاصد‘‘ میں اسے ذکرکرتےہوئےلکھتےہیں کہ’’اور کبھی اللہ تعالیٰ کے ارشاد’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ‘‘جیسی آیات اور ’’جو اس حالت میں مرے کہ اپنے امام کو نہ جانتا ہو وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘ جیسی احادیث سےاستدلال کیا جاتا ہے‘‘۔ صاحبِ مطالع الانظار وجوب امامت پردلیل نظری قائم کرنےکےبعدکہتے ہیں’’ کہ اس دلیل کا صغریٰ عقلی ہے جو حسن و قبح کے باب سے ہےاور کبریٰ صغریٰ سے عقلی  طور پر زیادہ واضح ہے اور بہتر یہی  ہے کہ اس بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ‘‘  پر اعتماد کیا جائے‘‘۔ان عبارات سے مؤلف صاحب کےقول کی قیمت کا اندازہ ہوجاتا ہےکہ’’ہم نے کوشش کرنے والوں کو امامت کی فرضیت پر کتاب اللہ کی کسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے نہیں پایا ‘‘۔آگے لکھتے ہیں’’لیکن ان کےتکلف اٹھانےوالے اورمعتدل  اپنی رائے کی حمایت میں کتاب اللہ سےحجت پانےمیں عاجزآگئے، اس لیےوہ کبھی اجماع کےمدعی بنتےہیں اورکبھی منطقی قیاسات  اور عقلی احکام  کاسہارا لیتےہیں ‘‘۔
مؤلف صاحب نے شیخ محمد بخیت اوران سےپہلے کےعلما  کے استدلال کو قیاسِ منطقی  اور حکمِ عقلی قرار دیا ہے جس سے قاری کو خیال ہوتا ہے کہ اس طرح  کا استدلال ادلۂ شرعیہ سے خارج ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ادلۂ شرعیہ کی طرف لوٹتا ہے۔اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے کہ نصبِ امام ہمارے نزدیک دو وجہ سے واجب ہے  اول اجماع ،دوم وہ دلیل جسے مؤلف صاحب حکمِ عقلی قرار دیتے ہیں اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ احکام کا  استنباط دو طریقوں  سے ہوتا ہے ایک کا تعلق ان ادلۂ نقلیہ سے ہے جن سے استنباط کیا جاتا ہے۔ دوسرے کا تعلق استعمال میں قابلِ اعتماد وجوہِ دلالت(دلالت کے طریقے) سے ہوتا ہے۔ادلۂ نقلیہ تو کتاب اللہ ،سنت اور اجماع ہیں اور وجوہِ دلالت یہ ہیں :منطوق کی دلالت،مفہوم کی دلالت،معقول کی دلالت اور اس آخری میں قیاس بھی شامل ہے ۔تو ادلۂ شرعیہ کتاب اللہ،سنت،اجماع اور قیاس میں منحصر ہو گئے،اس کے علاوہ کچھ دلائل ایسے ہیں جو مذکورہ اصولِ عالیہ کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ قطعی الصحۃ دلائل ہیں  جیسے الضرر یزال (نقصان کا ازالہ کیا جائے گا)،المشقۃ تجلب التیسیر (مشقت آسانی لاتی ہے)،العادۃ محکمۃ (عادت حکم ہوتی ہے)کیونکہ ان قواعد کو علما  نے محض عقل سے متعین نہیں کیا ہے بلکہ ان میں سےہر قاعدے کے لیے شریعت کے کثیر کلیات اور جزئیات کا استقرا  کر کے اس سے شارع کا مقصود  متعین کیا ہے۔جو یقین میں خبرِ متواتر کی طرح بن گئے ہیں ۔ابو اسحاق شاطبی نے المواقعات میں لکھا ہے’’جب مجتہد ادلۂ خاصہ سےمعنی عام کا استقرا  کرے اور وہ معنی مطرد ہو جائےاس کے بعد کسی جزوی واقعے کے ظہورکے وقت اس پر خاص دلیل سے استدلال کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ اس  کےذریعے حکم لگائے گا اگرچہ وہ عمومی معنی کے تحت داخل ہونے کی وجہ سے خاص ہو گیا ہو جیسے کہ صیغۂ عام  کے ساتھ منصوص کا معاملہ ہے‘‘۔
اس لیے وجوب نصبِ امام پر اس طرح استدلال کہ ’’لوگوں کوافراتفری میں چھوڑ دینا کہ کوئی انھیں حق پر جمع کرنے والا ہواورنہ ہی باطل سےروکنےوالاہو،انتشارجمعیت،ضیاع دین اورجان،مال اورعزت کی پامالی پرمنتج ہوتاہے۔وہ اس پرشرعی قاعدہ کی تطبیق کرتےہیں اوروہ ’’الضَّرَرُیُزَالُ‘‘اور’’مَالَایَتِمُّ الْوَاجِبُ الْمُطْلَقُ اِلَّابِہٖ وکانَ مَقْدُورًافَھُووَاجِبٌ‘‘ہیں(صفحہ۳۲)۔
مؤلف صاحب نے مسٹر تھامس آرنلڈ کی’’ کتاب الخلافہ‘‘ کا حوالہ دیا ہے کہ اس کے باب دوم اور سوم  میں کافی شافی بیان ہے۔ اگر وہ ہمیں خلافت سے متعلق تاریخی یا معاشرتی تحقیق کا حوالہ دیتے تو ہمیں ایک بلیغ مأخذ سے مطلع نہ ہونے کا افسوس ہوتا مگر انھوں نے حکمِ شرعی کی تحقیق کے لیے مسٹر آرنلڈ کا حوالہ دیا ہے جس سے لگتا ہے  انھوں نے سنجیدہ چیز کو مذاق بنایا ہے یا احکامِ شرعیہ کو راسخین فی العلم کے دائرے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ لازمی ہے کہ مؤلف صاحب کی نظر میں  احکامِ شرعیہ کی اہمیت اس سے زیادہ ہو اور انھیں ہمیں یہ باورکرانا زیبا نہیں کہ ہم واجب اور حرام جیسےاموردینیہ میں بھی مغربیوں کے عقول کے اقتداکے محتاج ہیں ۔ جب مؤلف صاحب جانتے ہیں کہ شریعت کےاپنے اصول و مقاصد ہیں جو مسٹر آرنلڈ نے  کما حقہ نہیں پڑھے ہیں پھربھی ان کی کتاب کا حوالہ دینا معرض گفتگومیں ناپختہ ذہنوں  کو شک و اِرْتِیاب میں ڈالنے   کےسوا کچھ بھی نہیں ہے(صفحہ۳۴)۔
علی عبدالرزاق صاحب نے لکھا ہے ’’جب یہ درست ہے کہ نبیﷺ نے ہمیں اس امام کی اطاعت کاحکم دیاہےجس کےساتھ ہم نےبیعت کی ہےتویقینا اللہ نےہمیں مشرک سےکیے گئے عہد کےپورا کرنےاور جس طرح  وہ قائم ہوہمیں بھی اسی طرح قائم رہنےکاحکم دیاہے۔(لیکن) یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ شرک پرراضی ہےاورنہ ہی مشرکین کےساتھ ایفاےعہد کاحکم ان کےشرک پر برقرار رکھنے کو مستلزم ہے‘‘۔
اس کےجواب میں شیخ الازہرصاحب لکھتےہیں یہ دعویٰ کہ اولی الامر کی اطاعت کا حکم اس کی ولایت کے مطالبے پر دلالت نہیں کرتا (جس طرح مشرک سےکیےگئےعہدکےایفا کاحکم شرک پررضایامطالبےپر دلالت نہیں کرتایہ ایک ایسی مثال ہے جو اپنے اوپر سوار کو بہت دور تک لے جاتی ہے کیونکہ پہلی صورت میں سب سے کم بات یہ ہے کہ مجتہد جب اولی الامر کی اطاعت میں غور کرے گا تو اندازہ ہو گا کہ اطاعت اولی الامر بذاتِ خود مقصود نہیں ہے اور نہ ہی محض امرا  کے سامنے جھکنا مقصود ہے بلکہ اس کے پیچھے جو مصلحت ہے وہ مقصود ہے  اور وہ حفاظت حقوق میں مدد اور اجتماعی معاملات کا انتظام ہے اور یہ مقصود بلا شبہہ امیر کے حسنِ اطاعت  کی طرح اس کے نصب پر بھی موقوف ہے تو یہ کہنا درست ہے کہ  اطاعت اولی الامر کے حکم میں ان کی طلبِ ولایت پر بھی تنبیہ ہے اور مجتہد نے نصبِ امام کے وجوب کا قول اطاعتِ امام کے حکم میں غور کرنے سے کیا ہے ۔اور مشرک کے ساتھ ایفاے  عہد کا حکم اس طریقے سے باہر ہے  کیونکہ  ایفاے  عہد مشرک کے حکم کی علت مکارمِ اخلاق اور اچھی خصلتوں کی حفاطت ہے اور وہ سچائی اور ثابت قدمی ہے جن پر نظامِ سیاسیات و معاملات کا مدار ہے جس سے صاف طور پر  واضح  ہوتا ہے کہ یہ حکمت ایفاے عہد کے ساتھ خاص ہے،جس میں مشرک باللہ کا کوئی حصہ نہیں ۔
صاحب کتاب ’’الاسلام واصول الحکم لکھتے ہیں‘‘ ’’جب آپ دیکھیں گےکہ ابوبکر کی بیعت کیسے ہوئی تومعلوم ہوجائےگاکہ وہ سیاسی بادشاہت کی بیعت تھی اس پر نئی مملکت کی تمام مہریں  ثبت تھیں  اورایسےہی قائم ہوگئی تھی  جس طرح عام حکومتیں قوت اور تلوارکےزورپرقائم ہوتی ہیں ‘‘۔
اس کاجواب شیخ الخضرحسین صاحب یہ دیتےہیں کہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد ہر بڑے معاملے کی طرح خلافت کے معاملے میں بھی بحث ومباحثہ  اور اختلاف پیدا ہو گئے  جس کا اختتام حضرت ابوبکر صدیق  کی بیعت پر ہوا اور منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد سب ان کے دست و بازو بن گئے۔اسی طرح دینِ حق اور اس کی سیاست راشدہ حکمت اور افہام وتفہیم پر قائم ہوتی ہے اور  تیر و تلوار اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن  مؤلف  صاحب تاریخی حقائق میں غلطی کر گئےاور سننِ کونیہ کے تقاضے کی درست تفہیم نہ کر سکے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ نبی کریمﷺ جانتے تھے کہ آپ کے صحابہ  حضرت ابوبکر کی فضیلت اور ان کی استقامت  اور درایت و تقویٰ میں اختلاف نہیں کریں گے اور اسی طرح لوگوں کی آرا خلافت کے لیے ان کے تعین پر متفق ہو جائیں گی۔اس لیے معاملہ ان کے اختیار پر چھوڑ دیا۔تاکہ ہمیشہ کے لیے سنت رہے، اور بعض انصار جن کا خیال تھا کہ ایک امیر انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین سے کے سوا کسی نے ان کی خلافت میں اختلاف نہیں کیا۔پھر تمام انصار  نے بھی سوائے سعد بن عبادۃ ،ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی،کیونکہ وہ خود ولایت چاہتے تھےاورنہ ہی صحابہ  میں سےکسی نےیہ کہاکہ قریش یابنی ہاشم یاغیربنی ہاشم میں ان سےبڑھ کرکوئی خلافت کاحقدار ہے یہی وہ بات ہےجسےآثار،سنت اورحدیث سےشغف رکھنےوالے سب  علما جانتےہیں۔لہٰذا مؤلف صاحب کا یہ خیال کہ بیعتِ ابوبکر تلوار کے زور پر  ہو گئی تھی ان کا اپنا وضع کردہ ہے جو امت میں تائید نہیں پا سکتا (صفحہ۱۸۳)۔
مؤلف صاحب   لکھتے ہیں’’اس لقب میں رعب،ہیبت،قوت اورجاذبیت(کشش )ہےتوعجب نہیں کہ اس کی وجہ سے صدیق نےاسےاختیارکیا ہوجبکہ وہ نئی مملکت کی  تعمیرکرنےاٹھےتھےاورچاہتےتھے کہ فتنوں کےسیلاب،متناقض خواہشات کی آندھیوں میں گھری ،نئی نئی جاہلیت سےنکلی ہوئی قوم کی شیرازہ بندی اس (لقب خلیفہ)کےذریعےکریں جن میں سخت قوت،دیہاتی پن اورعصبیت کی باقیات موجودتھیں لیکن چونکہ وہ عہدنبوی ﷺکےقریب،ان کےسامنےجھکنےوالےاوران کی بات کےسامنےمکمل طورپرگردن نہادتھے اس لیے یہ لقب ان کی سرکشی کوقابوکرنےاوربعض باغی قیادت کوقابو کرنےکےلیےزیادہ مناسب تھااورشایدانھوں(ابوبکر )نےایساکیا‘‘۔
صحابہ کرام اورخصوصاًحضرت ابوبکر کی اس کثرتِ شان کےمتعلق شیخ الازہرلکھتے ہیں: ’’مسلمانوں نے ان باکردار لوگوں کی تاریخ میں تحقیق کی ہے کہ یہ اپنے گفتار میں سچے اور کردار کے کھرے تھے۔اور پوری تاریخ کو چھان کرانھیں ہرطرف سےپلٹ پلٹ کرپرکھااور جانچامگران مَشْھُودٌ لَھُمْ بِالْخَیْرِوالصِّدْق ہستیوں میں سےکوئی ایسا نہیں پایا  جو لوگوں کو دینی القابات سے دھوکہ دینےوالا ہو یا ریاکاروں کی ظاہرپرستی اوردھوکےبازوں کی ملمع سازی سےفریب میں آنےوالاہو۔ ابوبکر صدیق  اس سے بہت اوپر  ہیں کہ لوگوں کو’’ خلیفۃالرسول‘‘کے لقب سے ورغلائیں اور ایسی امت جس میں عمر وعلی جیسے لوگ موجود ہوں ایسے لقب سے نہیں بہک سکتی جس کی اہلیت صاحبِ لقب میں نہ ہو۔اور دینی القابات کو دنیاوی  اور سیاسی اغراض کے لیے بطورِ جال  استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ د ےدیں(صفحہ ۱۹۴)۔ 
(اس پر مستزاد یہ کہ جو اوصاف خود علی عبدالرزاق صاحب  نے ابوبکر کے بیان کیے ہیں ایسے باکردار شخص سے بھلا یہ توقع کیسےکی جا سکتی ہے کہ وہ  دینی القاب کو  سیاسی اغراض  کے لیے استعمال کریں  گے؟ بلکہ اس سے بڑھ کر دینِ خداوندی میں ایسی چیز کا اضافہ کریں گے جو اس میں نہ ہو؟)۔ 
مؤلف صاحب فیصلہ سناتے ہیں’’ خلافت ہرگزکوئی دینی اصطلاح نہیں،اور نہ ہی قضا وغیرہ دیگرحکومتی ادارے اور ریاستی مراکز۔بلکہ یہ سب خالص سیاسی  اصطلاحات اورادارے ہیں،دین کا ان سےکوئی تعلق نہیں۔اس نےان کاحکم دیاہےنہ ہی منع کیاہے بلکہ ہمیں آزادچھوڑاہے کہ ہم اس میں احکام عقل،قوموں کےتجربات اورسیاست کےاصولوں سےاستفادہ کریں ‘‘۔
علی عبدالرزاق صاحب نے اس خیالی نتیجے کی بناء پر ادلۂ  خلافت میں طعن کی کوشش کی ہے اور یہ واضح ہے کہ خلافت عملی احکامات میں سے ہے جس میں حدیث ،قاعدہ یا اجماع کی دلالت کافی ہوتی ہے اور یہ دلائل اس پر قائم ہیں(صفحہ۲۰۵)۔ 
شیخ خضرصاحب لکھتےہیں’’مؤلف صاحب نےیہ خیالی نتیجہ اپنےاس گمان پرقائم کیاہےکہ نبیﷺ نےاپنےبعدکسی حکومت کی طرف اشارہ نہیں کیااورنہ ہی مسلمانوں کےسامنےایسےاحکام پیش کیے جن کی طرف  وہ رجوع کریں۔ حالانکہ یہ معلوم ہےکہ احادیثِ خلافت خطبہ حجۃالوداع وغیرہ جس میں آپﷺ نے فرمایا: ’’اگرتم پرغلام حاکم بنایاجائےجوکتابُ اللہ کےمطابق تمہاری قیادت کرتاہو،توتم اس کی سنواور اطاعت کرو‘‘(صحیح مسلم)۔اسی طرح آیاتِ احکام کاصیغہ عام کےساتھ واردہوجاناجیسےاللہ کاارشاد: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ، ترجمہ: اورجواللہ کےنازل کردہ پرفیصلہ نہ کریں وہ کافر ہے۔ یہ سب دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺایسی شریعت لائےتھےجس سے ان کےبعدمسلمان اپنےحکومت میں رہنمائی لیتےرہےجس طرح آپ ﷺاپنی حیات میں  انھیں چلاتےتھے‘‘۔
مزیدلکھتےہیں’’مؤلف صاحب نےاس نتیجے کی بنیاداس پررکھی ہےکہ ابوبکر کی حکومت لادینی (سیکولر)تھی ،جبکہ ہم دلیل پہ دلیل پیش کرچکےہیں کہ ابوبکر ظالم،فاسق،اورکافرنہیں تھے(بلکہ مؤلف صاحب خودمانتےہیں کہ وہ نجی اورحکومتی دونوں معاملات میں رسول اللہ ﷺکےنقش قدم پرچلتےتھے)اوروہ کتابُ اللہ اورسنت رسولﷺ کےمطابق حکومت کرتےتھےاگرکتاب اللہ اورسنت رسولﷺمیں نص نہ پاتےتواصحاب رسول میں سےاہلِ علم سےمشورہ کرکہ اس رائےپرعمل کرتےجس کےاحق ہونے کے بارےمیں روح شریعت رہنمائی کرتی‘‘۔پس مؤلف صاحب کادعویٰ کہ’’ خلافت اورقضا وغیرہ کوئی دینی ادارے نہیں‘‘ اوریہ کہ’’دین نےاسےمتعارف کرایاہےاورنہ ہی اس سےمنع کیاہے‘‘لادینی(سیکولر)آرا کا  نچوڑ ہے،جس کےلیے کوئی دلیل ہےاورنہ ہی شبہ ظن اس کےساتھ کھڑاہوتاہے‘‘۔
یہ خاتمہ خلافت کےفوراً بعد کےحالات ہیں جس میں علما  نے اس تاریخی معرکےکو سرکرلیا جب سے وقتاً فوقتاً دین وسیاست کی جدائی کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں چند سال قبل سیکولروں کےلیے حالات کافی سازگار ہوگئے تھے مگرعالمی اورملکی حالات نے پھرایساپلٹا کھایا کہ اب خود مغرب میں ڈی سیکولرایزیشن آف دی ورلڈ(سیکولرازم کےزوال)کے مرثیے پڑھے جاتےہیں، مذہبی حلقےانتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں، اندرونِ ملک دیوار سے لگائے گئےمذہبی طبقےاب پھر اپنی اہمیت منوارہے ہیں اور سیکولروں  کی کوششیں ایک بارپھر صدا بصحرا  معلوم ہوتی ہیں، مگرہمارےدانشور اب بھی دوسروں کےتھوکےہوئےکی جگالی میں مصروف ہیں۔