Menu

Blog

تصوراتِ جنس اور اسلام کا لا مذہبی ایڈیشن اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ

Dec 30 2018

تصوراتِ جنس اور اسلام کا  لا مذہبی ایڈیشن
اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ
محمد بلال
گزشتہ مہینے عالم اسلام میں ایک بہت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سیران آتش  نامی ایک خاتون نے برلن  میں ایک مسجد قائم کی۔ یہ مسجد ابن رشد گویئتے مسجد کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں مرد و زن برابر کھڑے ہو کر نماز  ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امامت بھی انھی خاتون نے کی ۔  امامت کے وقت دو مصلے برابر بچھے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے ایک پر مرد اور دوسرے پر خاتون ساتھ ساتھ کھڑے ہو کر امامت کرتے ہیں۔ اس مسجد میں ہم جنس پرست برادری (LGBTQ )کو بھی آنے کی مکمل  آزادی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کا ہر فرقہ مثلا سنی، شیعہ اور علوی بھی آکر اپنی عبادات ادا کرسکتا ہے۔جہاں اس مسجد میں اتنی آزادیاں ہیں وہاں ایک پابندی بھی ہے اور وہ  ہےحجاب ونقاب پر پا بندی ۔ 

اس واقعے کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بھی منکشف ہوئی کہ  اس طرح کے اور بھی واقعات وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔اگست  ۲۰۱۶ ء میں کوپن ہیگن، ڈنمارک  میں ایک فیمنسٹ خاتون نے جامع مسجد برائے خواتین قائم کی ۔وہاں بھی امامت  و خطابت دو خواتین نے ہی انجام دی ۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۵ء میں  امریکا لاس انجیلس  میں رابعہ کِیبل نامی خاتون نے  قلبُ مریم نامی مسجد قائم کی، اس مسجد میں بھی خاتون مردوں کی امامت کر سکتی ہیں  ۔مزید برآں، سنہ ۲۰۰۵ء میں صرف خواتین  کے لئے ایمسٹر ڈیم، نیدر لینڈ  میں ایک مسجد قائم کی گئی تھی  ۔واشنگٹن ڈی سی میں داعی عبداللہ نامی ایک شخص  نے خواتین و حضرات کے علاوہ ہم جنس پرست برادری یعنی LGBTQ کے لئے بھی مسجد قائم کی ہے۔ داعی عبداللہ جو اس مسجد کے امام ہیں خود بھی ایک ہم جنس پرست (Gay) ہیں ۔ اسی نوعیت کی مسجد محسن ہینڈرکس نامی ایک آدمی نے کیپ ٹاؤن میں قائم کی ہے ۔ یہ بھی ایک ہم جنس پرست (Gay) ہیں ۔ لوڈوؤک محمد زاہد  بھی داعی عبداللہ اور محسن ہینڈرکس کی مانند ہی ایک شخصیت ہیں۔ انھوں نے بھی پیرس میں ایسی ہی ایک مسجد قائم کی ہے  ۔ایسے واقعات کے پیچھے عموماً‘‘Liberal’’ اور ‘‘Feminist’’مرد و خواتین پائے جاتے ہیں۔ سیران آتش ہوں یا ڈنمارک میں مسجد قائم کرنے والی شیریں خانقن ہوں یا امینہ ودود صاحبہ ہوں  یا  پھر ان مذکورہ واقعات میں موجود شخصیات ہوں سب اپنے آپ کو   عموماً‘‘Liberal’’ اور ‘‘Feminist’’ بتلاتے ہیں۔

غورطلب بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

اس طرح کے واقعات کی ایک واضح وجہ مغرب کو دین اسلام کی ایک قابل قبول صورت پیش کرنا معلوم ہوتی ہے۔سیران آتش نامی خاتون  بھی اسی (Feminist)نظریے کی حامل ہیں اور اس کے اظہار میں کوئی باک محسوس نہیں کرتیں۔ دی گارجین (The Guardian) نامی مجلے کو دیے گئے  ایک انٹرویو میں خاتون نے اپنے نظریات کو واضح  کرتے ہوئے کہا  کہ ’’ہمارا لبرل اسلام کا نظریہ   روایتی مسلمانوں کے  نظریے سے مختلف ہے، ہمارا ہرگز  یہ یقین نہیں ہے  کہ پوراقرآن اکیسویں صدی میں بیان کیا جائے بلکہ ہمارے  لئے  اہم سوال یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ اسکا  کا کونسا حصہ  اکیسویں صدی میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔‘‘

عموماً اس طرح کے سارے واقعات کے پیچھے یہ ذہنیت کارفرما ہوتی ہے کہ خواتین کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی آئی ہے  اور اب خواتین کو  اپنے ’’حقوق‘‘کیلئے باہر نکلنا  چاہیے اور صرف یہی نہیں باہر نکل کر دنیا کو دکھانا چاہیےکہ خواتین کسی  سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ بات بھی ان مذکورہ حضرات وخواتین کے انٹرویوز میں بتصریح موجود ہے۔

اس طرح کے اقدامات کرنے والے عموماً ہمدردانہ و مخلصانہ جذبے کے تحت بھی ایسا کرجاتے ہیں۔ یہ متجددین بھی  مجددین کی طرح مسلمانوں کی زبوں حالی دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں۔ لیکن مجددین کے برخلاف متجدد ین مسلمانوں کے زوال  کی وجہ دینی و اخلاقی کمزوری کے بجائے سکہ رائج الوقت تہذیب کے موافق نہ ہونا تشخیص کرتے ہیں۔  اس کا ایک اشارہ سیران آتش صاحبہ کے مذکورہ انٹرویو میں بھی ملتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ۵۴ سالہ ترکی نژاد  خاتون نے کہا  کہ ’’ہم قدامت پرست(conservatives)حضرات کے ساتھ مل کر اس اسلامی دہشت گردی کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم اسلام کو بہت پر امن، متصوفانہ اور روحانی مذہب کے طور پر پیش کر سکیں۔‘‘ ظاہر ہے متصوفانہ سےخاتون کی مراد وہ تصوف نہیں ہے جو  اہل حق کے یہاں مروج ہے کیونکہ اس  تصوف  کی بنیاد اتباع ِ سنت ہے بلکہ خاتون کے اصل الفاظ کے مطابق ‘‘Mystical’’ ہے، جس سے ظاہر ہےوہ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کو دین سے خارج کوئی شے دکھانا چاہتی ہیں۔ یہ بات پر امن کے لفظ کے ساتھ استعمال ہونے سے بھی ایک خاص معنی دیتی معلوم ہو رہی ہے۔

 ابھی تک تو ذہنی کیفیت کا بیان تھا، غور کیا جائے تو ابھی بھی ایک سوال برقرار رہتا ہے کہ عملا ًوہ کون سی پگڈنڈی ہے جواس راستے تک لاتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ تواترِ امت سے اپنے آپ کو مستغنی سمجھنا معلوم ہوتی ہے۔ دین اسلام کی اس روایت سے ادنی درجے کی علیحدگی اور جماعت ِعلماء پر عدم اعتماد  کا نتیجہ ہمیشہ خوفناک ہی ہوتا ہے۔پھر دین کا بقیہ نظام تو درکنار اصول دین ہی شکوک و شبہات کا موضوع  بن کر رہ جاتے ہیں۔ ابنِ رشد گویتے مسجد میں نمازِجمعہ کی ادائیگی کیلئے آنے والے ایک برطانوی نژاد ،جو صوفی بھی کہلائے  جاتے ہیں ، کا ’’دی گارجین‘‘ کو دیا گیا بیان عبرت ناک ہے۔ دی گارجین (The Guardian )کے مطابق ۳۰ سالہ  برطانوی نژاد عمر نے کہا کہ’’اس بات کا دعوی کرنا کہ کسی بات کیلئے قطعی تعلیمات موجود ہیں خطرناک بات ہے۔ ہمارے درمیان اب نبی موجود نہیں ہیں، یہ وقت مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے یکساں طور پر الجھانے والا ہےاب  مذہب کی رسائی کو عام لوگوں تک ممکن بنانے کیلئے  کیا جانے والا ہر کام اچھا ہے ۔‘‘ اس کے علاوہ رابعہ کیبل  جو قلب مریم (لاس انجیلس) نامی مسجد کی بانیہ ہیں،نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ’’شروع شروع میں، میں ہر روایتی تعلیم کو قبول کرتی گئی، پھر مجھے اس طریقے میں  ایک عدم توازن نظر آیا ‘‘۔
مزید برآں یہ سوال بھی حل طلب ہے  کہ ابن رشد گویتے  مسجد کا قیام چرچ  کی عمارت میں کیسے ممکن ہوا؟ ایک ایسے ملک  میں جس کے متعلق اگر یہ دعوی کیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہاں مسلمان  مجموعی طور پر اپنی عبادات آزادانا سر انجام نہیں دے سکتے۔   گزشتہ کچھ سالوں  میں برلن(Berlin)، ہاناو(Hanau) اور ہانوور(Hannover) میں واقع مساجد کو جلانے کی کوششیں کثرت سے کی گئیں ہیں۔ ایندر شیتن (Ender Cetin) جو برلن میں واقع مسجد کی ایسوسیشن (Association)کے  سربراہ ہیں، متعدد بار قتل کی دھمکیوں اورحملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے حفاظتی انتظامات کا سوال کیا تو کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔پھر متعدد بار مذکورہ مسجد کو جلانے کی کوششیں بھی کی گئیں ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ۲۰۱۶ء میں ستائیس اور ۲۰۱۷ء  کے ابتدائی تین مہینوں میں پندرہ مساجد حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹی یو برلن(Technical University of Berlin) کے علاوہ ٹی یو ڈورٹمنڈ(Technical University of Dortmund)، اور یونیورسٹی آف ایسسین ڈائسبرگ (University of Essen Duisburg) میں مسلمانوں کی عبادات کے لئے مختص کردہ کمروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ٹی یو برلن کے صدر سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ’’ جس کو عبادت کرنی ہے وہ قریبی مسجد میں جا کر کرلے ، پیدل نہ جا سکے تو بس میں چلا جائے‘‘ ۔مزید برآں، مسلمان خواتین پر نقاب پہننے کی جزوی پابندی بھی ایسی ہی ایک مثال ہے  ۔اور صرف چرچ میں قیام ہی قابل اشکال نہیں ہےبلکہ حکومت کا اس مسجد کو  اور اس مسجد کی بانیہ کو مکمل حفاظتی انتظامات فراہم کرنا بھی  معنی خیز معلوم ہوتا ہے۔ ایک سطحی مشاہداتی قوت رکھنے والا  فرد بھی یہ بات با ٓاسانی  بتا سکتا ہے کہ خاتون دانستہ یا نادانستہ طور پر استعمار کی آلۂ کار بنی ہوئیں ہیں۔ نقاب پر پابندی لگانا اور ہم جنس پرست برادری کیلئے مکمل  قبولیت رکھنا وہ اقدار ہیں جو ہر لبرل آزاد خیال مملکت کا شعار بنتی جا رہی ہیں۔
ممکن ہے ان باتوں کے بعد کسی قاری کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوکہ خواتین کی امامت کا مسئلہ تو أئمہ اربعہ میں بھی زیرِ گفتگو  رہا اور  فقہ اسلامی  میں بھی بہرحال کسی نا کسی صورت  میں  اس کا وجود رہا ہے۔ممکن ہے کوئی صاحب اس کا وجود بھی پیش کر دیں۔ مگر شریعت اسلامیہ میں  ادنی تامل سے یہ بات سمجھ میں ا ٓجاتی ہے کہ اس مسئلے میں کچھ نہ کچھ تفصیل ضرور ہونی چاہیے۔ ایک طرف تو شارع خواتین کو سمٹ کر نماز ادا کرنے کا حکم دے رہے ہیں، خواتین سے (دورانِ طواف) رمل ساقط فرما رہے ہیں، امام کو متوجہ کرنے کا طریقہ مردوں کی تسبیح کے برخلاف تالی کے ذریعے سے متوجہ  کرنا بتا رہے ہوں اور دوسری طرف وہی شریعت خواتین کو امامت کرنے کی اجازت دے رہی ہو تو یقینا  ً کچھ تفصیل ہونی چاہیے۔ چونکہ یہ مسئلہ فقہ اسلامی میں بھی زیر گفتگو رہا ہے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ضمنی طور پر اس مسئلے کی حقیقت واضح کر دی جائے۔
یہ بات تو أئمہ اربعہ کے یہاں اتفاقی ہے کہ  خاتون کیلئے مردوں یا خنثے کی امامت کرواناجائز نہیں۔  اگلی صورت یہ ہے کہ خاتون  عورتوں کی امامت کروائے۔اس صورت کو مالکیہ نا جائز اور حنفیہ مکروہ تحریمی  بتلاتے ہیں(واضح رہے کہ مکروہ تحریمی کا عملی حکم نا جائز ہی ہوتا ہے)۔ شافعیہ اور حنابلہ اس کو اس کو جائز بتلاتے ہیں۔ شافعیہ کے نزدیک   یہ عمل مستحب ہے۔ نیز أئمہ اربعہ کے نزدیک خواتین کا  اذان دینا بھی جائزنہیں ہے ۔
ان آراء ِفقہیہ کے بیان سے کسی کو یہ التباس نہیں ہونا چاہیے کہ کم از کم دو مسالک حقہ کے  نزدیک تو یہ فعل جائز ہے پھر اس قدر واویلہ مچانے کی کیا ضرورت ہے؟  دنیا کے ہر کونے سے کیوں مخالفت ہو رہی ہے؟ کم ازکم ساداتنا شافعیہ و حنابلہ کو تو اس کی تائید کرنی چاہیے! جاننا  چاہیے کہ اس قدر تنقید و مخالفت کی وجہ فعل کے فی نفسہ ناجائز ہونے کے علاوہ پس منظر میں کار فرما فلسفہ بھی ہے۔ کسی فعل کے فاعل کا  جذبہ محرکہ بھی عموما ً اس فعل کے قابل مذمت ہونے کا سبب بنا  کرتا ہے۔ یہ بات مثالوں سے مزید واضح  ہو جائے گی انشاءاللہ۔
حنفیہ کے نزدیک  دوران ِنماز  قہقہہ مار کر ہنسنا ناقض ِوضوء ہے، جبکہ شافعیہ کے نزدیک نہیں ہے۔ اب اگر کوئی شافعی المسلک آدمی تقوے اور احتیاط  کی وجہ سے دوبارہ وضوء کرتا ہے تو اسکا یہ فعل قابل ستائش ہے لیکن اگر کوئی حنفی المسلک آدمی سستی و تن  آسانی کی وجہ سے  یہ کہے کہ شوافع کے نزدیک تو یہ فعل ناقض ِوضوء  نہیں ہے اور وضو نہ کرے  تو یہ بات قابل مذمت ہے اور نا جائز ہے۔ اب دیکھا جائے تو فعل ایک ہی ہے یعنی تلفیق بین المذاہب لیکن  عمل کے پیچھے کار فرما جذبہ مختلف ہے تو حکم بھی تبدیل ہو جائے گا۔(یہ مثال بغرض تفہیم پیش کی گئی ہے اور اس مثال کو اسی محل پر رکھنا مفید ہوگا انشاءاللہ)
موجودہ دور میں خواتین کا معاش کیلیے نکلنا بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔ استثنائی صورتحال میں  اسلامی حدود  کی پا بندی کرتے ہوئے  شریعت اسلامیہ بھی کسی خاتون  کو اکتسابِ معاش کی اجازت دے سکتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں کسی خاتون کاحقوق نسواں کےنعرے کے  زیرِ اثر  ، بلا ضرورت شرعی  گھر سے نکلنا قابل ِمذمت ہوگا خواہ پردے ہی میں کیوں نہ نکلے۔ فعل ’’ گھر سے نکلنا‘‘مشترک ہے لیکن فعل کے پیچھے نظریہ مختلف ہو جانے کی وجہ سے نگاہِ شریعت میں اس کا مقام بدل جائے گا۔

اسی طرح اس فعل کے فی نفسہ نا جائز  ہونے کے علاوہ پس منظر میں موجود  ‘‘feminism’’کا  نظریہ بھی قابل تنقید ہے۔ ‘‘feminism’’ اپنے جوہر میں مردوں کی بالا دستی کے خلاف اور خواتین  کو معاشرتی، معاشی اور سیاسی اعتبار سے برابر لانے کی بات کرتا ہے۔  مزید برآں، یہ نظریہ صرف خواتین ہی کے ساتھ مخصوص  نہیں رہا بلکہ   اب مردوں کی بالادستی کے خلاف خواتین کے ساتھ ساتھ Trans/Homosexuals  کو بھی برابر لانے کی بات کرتا ہے۔ یہ فلسفہ، جنس کے تمام  روایتی تصورات کو پامال کر چکا ہے۔یہ باتیں اس فلسفے کے کل نظریات نہیں ہیں ۔ اتنی باتیں ہمارے موضوع سے متعلق ہیں اس لئے نقل کی جا رہی ہیں۔

اس تحریک کا مذہبی  اور بالخصوص مسلمانوں میں مقبولیت حاصل کرنا نہایت تشویش  کا باعث ہے۔  اس نظریے کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ فضیلت کا معیار  اللہ سبحانہ و تعالی کی بارگاہ میں مقبولیت کے بجائے مردکی برابری کرنے کو بنا دیا گیا ہے۔ گویا اللہ سبحانہ و تعالی کو اور ان کے اوامر و نواہی کو قصے سے خارج کر دیا ہے۔  ظاہر ہے جب اللہ  تعالی کی نظر میں پسندیدہ نہیں بننا تو ان احکامات کی پابندی کرنا کہاں سے عقلمندی ہے۔نتیجۃً، اس نظریے کی حامل خواتین  ایک کھوکھلے مقدمے کو تسلیم کر کے اس محنت میں مصروف ہیں کہ ایک مکمل شخصیت کیلئے ہر نسوانی صفت فروتر ہے  اور اپنی تکمیل کےلیے اسے  مردوں کی برابری  کرنالازم ہے۔ نتیجۃً، اب اگر ایک مرد چھوٹے بال کٹواتا ہے تو عورت بھی اس کی تقلید کرے گی۔ مرد اگر سپاہیانہ زندگی منتخب کرتا ہے تو عورت بھی اسی ’’سعادت‘‘کے حصول میں ایڑی چوٹی کا زور لگادے گی۔ جاننا چاہیے کہ غلام کی قیمت تو وہ ہوتی ہے جو آقا لگائے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے جس چیز کی قیمت لگائی ہے وہ اس برابری کی نہیں ہے بلکہ دائرہ کار کے فرق کو ملحوظ رکھ کر کی جانے والی بندگی کی ہے۔ مثلاً، اگر اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لئے  اگر مرد صوم و صلوۃ  کی پابندی کے علاوہ ، کسب معاش کے ساتھ ساتھ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے  تو ایک خاتون یہی انعام اپنے شوہر کو راضی کر کے پا سکتی ہے۔پھر اس بات کا کون انکاری ہو سکتا ہے کہ بحیثیت ماں ،خاتون مرد پر  تین گنا  فضیلت  کی حامل ہے۔   اس کے علاوہ اور بہت ساری صورتوں میں اللہ تعالی نے اپنی اس مخلوق کو امتیازی شان  بخشی ہے۔
ایسا انسانی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی مرد کی امامت کو نا انصافی قرار دیا جائے، ماں بننے کو بے عزتی شمار کیا جائے، جذباتی طور پر حساس ہونے کو  تحقیر سمجھا جائے، غرض کہ ہر نسوانی صفت کمتر اور ہر مردانہ صفت بالا تر مانی جائے۔اس مفروضے کو مان کر صادر ہونے والا ہر فعل  اضطراری رد عمل(Knee Jerk Reaction )سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا ۔ پھر  ضمنی طور پر یہ بات بھی غور طلب ہے  کہ اس سارے عمل کے پیچھے یہ سوچ بھی مضمر ہے کہ شاید سیادت و قیادت  ہی سب کچھ ہے۔یہ قیادت خواہ کسی دنیوی  فیلڈ میں ہو یا پھر مذہب ہی کے میدان  میں ہو، بالادستی کا معیار قیادت ہے۔ امامت پانے کی خواہش بھی رب سے قربت بڑھانے کے بجائے اسی بالا دستی  کے حصول کا ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔
انفرادی اثر انگیزی کے علاوہ اس نوعیت کے واقعات اجتماعیت پر بھی بہت گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔کچھ عرصے پہلے تک سیکولرزم اور مذہب کو دو گانہ چیزیں تصور کیا جاتا تھا لیکن حال میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دوگانہ اشیاء کے درمیان کی خط فاصل بہت تیزی سے دھندلاتی جا رہی ہے۔یعنی سیکولرزم نے اپنے حدود سے تجاوز  کر کے مذہب میں  مداخلت  شروع کردی ہے گویا کہ مذہب اب ’’سیکولرائز‘‘ ہو  تا جا رہا ہے۔پرانے زمانوں میں گناہگار، کج فطرت آدمی اپنے آپ کو شرمندہ محسوس کرتا تھا اور اپنی اصلاح کےلئے  گھلا جا رہا ہوتا تھا۔ موجودہ وقتوں میں گناہگار صاحب بہادر کی طرح اپنے گناہ کو نہ صرف اعلانیہ    قبول کرتا ہے بلکہ اگر فرصت زیادہ ہو تو   انسانی حقوق  کے نام پر ایک دلکش  عنوان کے تحت  تنظیم بھی   بنا ڈالتا ہے۔یہاں ٹھہر کر اس بات کو خوب ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ  کسی  گناہ کا سر زد ہو جانا اور بات ہے، رائج ہوجانا ، اجازت دے دیا جانا اور بات  ہے۔
ان دونوں صورتوں کیلئے جناب نبی کریم ﷺ کے ارشادات گرامی سے رہ نمائی حاصل کرنا نہایت مفید ہوگا۔
مقدم الذکر صورت میں جناب نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ(مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول التوبة من الذنوب وإن تكررت الذنوب والتوبة). ترجمہ:’’ ایک  بندہ گناہ کرتا ہے پھر اللہ کو پکارتا  ہے کہ اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما دیجیے، تو اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں: میرے بندے نے گناہ کیا  پھر خیال آیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف فرماتا ہے اور گناہ پر پکڑ بھی فرماتا ہے، پھر وہ بندہ  گناہ کر بیٹھتا ہے، پھر اللہ کو پکارتا ہے کہ اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما دیجیے، تو اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں : میرے بندے نے گناہ کیا  پھر خیال آیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف فرماتا ہے اور گناہ پر پکڑ بھی فرماتا ہے، پھر وہ بندہ گناہ کر بیٹھتا ہے پھر اللہ کو پکارتا ہے کہ اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما دیجیے، تو اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں : میرے بندے نے گناہ کیا  پھر خیال آیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف فرماتا ہے اور گناہ پر پکڑ بھی فرماتا ہے، جا آج سے تو جو چاہے عمل کرے(بشرطیکہ سچی توبہ کا عمل جاری رکھے)میں نے تجھے معاف فرما دیا ہے‘‘۔
اب کسی گناہ کا معاشرے میں عام ہو جانا کس قدر بھیانک ہو سکتا ہے، اس  کا  اندازہ نبیﷺ کے نسبتا طویل فرمان مبارک  کے اس اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے۔
وظھرت الفینات والمعازف و شربت الخمور و لعن أخر ھذہ الامۃ اولھا  فارتقبوا عند ذلک ریحا حمراء و زلزلۃ و خسفا ومسخا و قذفا(مشکاۃ المصابیح، کتاب الفتن، باب اشراط الساعۃ)ترجمہ:’’ اور جب گانے والیاں عام ہو جائیں، گانا بجانے کے آلات عام ہو جائیں، شراب پی جانے لگے اور اس امت کے اگلے پچھلوں پر لعنت کرنے لگیں، تو ایسے وقت میں تم سرخ آندھیوں کا، زلزلے کا، دھنسا دئے جانے کا،چہروں کے بگاڑ دئے جانے کا اور آسمان سے سنگ باری کا انتظار کرو‘‘۔ 
اب واضح طور پہ گناہوں کے دونوں پہلو ؤں کو دیکھا جا سکتا ہے، ایک جانب شہوانی دباؤ کے ساتھ ندامت ہے تو غیر مشروط توبہ کا وعدہ کیا گیا ، دوسری جانب بغاوت  اور ڈھٹائی کے ساتھ گناہ کا عام ہو جانا پایا جا رہا ہے تو اس قدر دردناک عذابوں کی وعید سنائی گئی ہے۔
پھر مذکورہ واقعہ عورت کی امامت کے علاوہ جس بڑی آفت کا مقدمہ معلوم ہوتی ہے وہ ہم جنس پرست برادری کو عالم اسلام میں قبول کروانا ہے۔ یہ فتنہ بھی اولین فرصت میں اپنی سرکوبی کا متقاضی ہے۔چونکہ یہ فتنہ اولاً مغربی ممالک میں اٹھا تھا تو سب سے پہلا سامنا اس کو عیسائیت کا تھا۔چرچ کی طرف سے خاطر خواہ مخالفت ہونے کے باوجود یہ فتنہ  کسی رسولی کی مانند بڑھتا اور پھیلتا       گیا۔ البتہ اب چرچ بھی اپنے ہاتھ پیر ڈھیلے چھوڑ رہا ہے اور مخالفت میں کافی کمی آچکی ہے۔برطانوی مجلے ’’دی ٹیلی گراف‘‘(The Telegraph ) کے مطابق  پوپ فرانسس نے ۴ اکتوبر ۲۰۱۶ ءکو آذربائیجان کے سفر   سے لوٹتے ہوئے  اپنے ایک بیان میں کہا کہ کیتھولک چرچ کو چاہیے کہ   Transsexual اور ہم جنس  پرستوں (Homosexuals )کو قبول کرلے ۔پھر فروری ۲۰۱۷ء     میں  برطانیہ کے ایک چرچ میں ایک اسقف (Bishop )کی طرف سے بل پیش کیا گیا جس کا عنوان یہ تھا : چرچ کے اندر  شادی ایک مرد اور ایک عورت ہی کے درمیان ہو سکتی ہے۔ یہ بل بھی اکثریت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ 
اب ہم مسلمانوں کیلئے چوکنّے ہو جانے اور ڈر جانے کا مقام ہے۔ ایسے قبیح امور کا کسی مذہب میں اجازت دے دیا جانا اس مذہب کے مردار ہو جانے کی دلیل ہوا کرتا ہے۔موجودہ دور میں  ایسے واقعات کا عالم اسلام میں رو نما ہونا بہت افسوسناک ہےاور اس  بات کی کوشش معلوم ہوتی ہے کہ ایک  Rainbow Religion وجود میں آجائے۔ ایسے واقعات  کے نتیجے میں ’’مذہب اسلام کا ایک لا مذہبی ایڈیشن تیار ہو رہا ہے جس کا اگر کوئی فائدہ ہے تو ان لوگوں کو  جو ذہن و فکر کے اعتبار سے ہی نہیں تہذیب و تمدن کے لحاظ سے بھی  خالص یورپین بن چکے ہیں، اپنے اوپر سے اسلام کا لیبل اتارنے کی بھی ضرورت نہیں پڑ رہی اور وہ مسلم قومیت کے حلقے میں شامل ہو کر رہ گئے ہیں ۔‘‘
یہ واقعہ اپنی تاثیر میں ایک  اور جہت سے متاثر کرتا ہے۔ عالم اسلام کے جمیع اہل علم مکاتب فکر کی طرف سے مخالفت کے باوجود ، اس جسارت پر اصرار کرنا علماء کے سلطہ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ خاتون نے اسلام کے رائج نظریات کو  موجودہ دور کے ساتھ غیر متعلق بتایا ہے۔ رائج نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں: یا تو عوام کی سطح پر یا پھر خواص اہل علم کی سطح پر۔خواص اہل علم کے یہاں رائج نظریات عموما  چودہ صدیوں کے تسلسل پر کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ چودہ صدیوں کا تسلسل دین کو صورت دیتا ہے۔جب اہل علم  کی روایت کو موجودہ دور کے ساتھ غیر متعلق بتایا جاتا ہے تو یہ اہل علم پر تنقید نہیں ہوتی بلکہ چودہ صدیوں کے اس تسلسل پر ہوتی ہے اور اس پر تنقید کرنا گویا فتنوں کے آگے موجود آخری کواڑ کو بھی توڑ دینے کے مترادف ہے۔ اس بات کو خوب واضح رہنا چاہیے کہ جمیع اہل علم کی روایت کے انکار سے جہاں نفس اجماع کا انکار ظاہر ہے  وہیں دراصل مصادر اصلیہ یعنی قران و سنت کی من چاہی تشریح کا جذبہ بھی مضمر معلوم ہوتا ہے۔جاننا چاہیے کہ نصِ قرآن و حدیث کی صورت گری  تو اصلا ً تعامل امت یا اجماع امت سے ہوتی ہے۔اگر اس تواتر عملی کو کاٹ دیا جائے  تو فقط قرآن و حدیث کا متن رہ جاتا ہے اور پھر اس پر عقل حاکم  بن جاتی ہے۔ پھر اصلا تو عقل  ہی  کا زور رہ  جاتا ہے  اور اس کے زریعے سے  قرآن وحدیث پر طبع آزمائی کی جاتی ہے۔اس طبع آزمائی سے جو چیز وجود میں آتی ہے  اس کا دین سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں رہتا۔ پہلے عیسائیت اس کا شکار ہوئی  اور اب اگر اس مزاج کو ہم لوگ بھی در آمد کر لیتے ہیں تو کچھ بعید نہیں  کہ ہم بھی اس کا شکار ہو جائیں۔(اعاذنا اللہ من ذلک)

ماضی میں بھی مغل بادشاہ اکبر  کے دین الہی کی صورت میں  ایسی کوششیں کی جاتی رہیں ہیں؛ مگر وہ کوششیں دین کےلئے اس  وجہ سے  اتنی خطرناک نہیں تھیں کیونکہ اس نے دین اسلام کے بالمقابل ایک نیا دین ایجاد کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ Rainbow Religion کے قیام کی سازش (شعوری سطح پر ہو یا غیر شعوری سطح پر) اسلئے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ نظام دین ہی کو مسخ کرنے کی خوفناک کوشش ہے۔  انفرادی سطح پر  ہم لوگوں کو چاہیے کہ  انتہائی شعور کے ساتھ دین میں در آنے والے  ہر نئے نظرئے کو تنقید کی چھلنی سے گزاریں۔مزید برآں ، اللہ سبحانہ و تعالی سے اس بات کی دعا کریں  کہ نظام  دین پر اس  درجے قطعی ایمان  ہو جائے  کہ آج دین کی تعلیمات ہمارے لئے اتنی ہی محکم اور قطعی ہو جائیں جتنی اس صورت میں ہوتیں کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے دور ِمبارک میں زندہ ہوتے۔ نظام ِدین کے بارے میں یہ صورت کبھی پیش نہیں آنی چاہیے کہ اس پر زمانے اور زمانے کے چال چلن کو حاکم بنا دیا جائے بلکہ دین کو زمانے اور زمانے کے کل نظام ِزندگی پر ہمیشہ عملا ً وذہنا ً غالب  رکھنے کی کوشش جاری رکھی جائے۔ اللہم من أحییتہ منا فاحیہ علی الاسلام و من توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان

Maqalaat

تصوراتِ جنس اور اسلام کا لا مذہبی ایڈیشن اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ

Dec 30 2018

تصوراتِ جنس اور اسلام کا  لا مذہبی ایڈیشن
اسباب و نتائج کا ایک علمی تجزیہ
محمد بلال
گزشتہ مہینے عالم اسلام میں ایک بہت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سیران آتش  نامی ایک خاتون نے برلن  میں ایک مسجد قائم کی۔ یہ مسجد ابن رشد گویئتے مسجد کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں مرد و زن برابر کھڑے ہو کر نماز  ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امامت بھی انھی خاتون نے کی ۔  امامت کے وقت دو مصلے برابر بچھے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے ایک پر مرد اور دوسرے پر خاتون ساتھ ساتھ کھڑے ہو کر امامت کرتے ہیں۔ اس مسجد میں ہم جنس پرست برادری (LGBTQ )کو بھی آنے کی مکمل  آزادی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کا ہر فرقہ مثلا سنی، شیعہ اور علوی بھی آکر اپنی عبادات ادا کرسکتا ہے۔جہاں اس مسجد میں اتنی آزادیاں ہیں وہاں ایک پابندی بھی ہے اور وہ  ہےحجاب ونقاب پر پا بندی ۔ 

اس واقعے کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بھی منکشف ہوئی کہ  اس طرح کے اور بھی واقعات وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔اگست  ۲۰۱۶ ء میں کوپن ہیگن، ڈنمارک  میں ایک فیمنسٹ خاتون نے جامع مسجد برائے خواتین قائم کی ۔وہاں بھی امامت  و خطابت دو خواتین نے ہی انجام دی ۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۵ء میں  امریکا لاس انجیلس  میں رابعہ کِیبل نامی خاتون نے  قلبُ مریم نامی مسجد قائم کی، اس مسجد میں بھی خاتون مردوں کی امامت کر سکتی ہیں  ۔مزید برآں، سنہ ۲۰۰۵ء میں صرف خواتین  کے لئے ایمسٹر ڈیم، نیدر لینڈ  میں ایک مسجد قائم کی گئی تھی  ۔واشنگٹن ڈی سی میں داعی عبداللہ نامی ایک شخص  نے خواتین و حضرات کے علاوہ ہم جنس پرست برادری یعنی LGBTQ کے لئے بھی مسجد قائم کی ہے۔ داعی عبداللہ جو اس مسجد کے امام ہیں خود بھی ایک ہم جنس پرست (Gay) ہیں ۔ اسی نوعیت کی مسجد محسن ہینڈرکس نامی ایک آدمی نے کیپ ٹاؤن میں قائم کی ہے ۔ یہ بھی ایک ہم جنس پرست (Gay) ہیں ۔ لوڈوؤک محمد زاہد  بھی داعی عبداللہ اور محسن ہینڈرکس کی مانند ہی ایک شخصیت ہیں۔ انھوں نے بھی پیرس میں ایسی ہی ایک مسجد قائم کی ہے  ۔ایسے واقعات کے پیچھے عموماً‘‘Liberal’’ اور ‘‘Feminist’’مرد و خواتین پائے جاتے ہیں۔ سیران آتش ہوں یا ڈنمارک میں مسجد قائم کرنے والی شیریں خانقن ہوں یا امینہ ودود صاحبہ ہوں  یا  پھر ان مذکورہ واقعات میں موجود شخصیات ہوں سب اپنے آپ کو   عموماً‘‘Liberal’’ اور ‘‘Feminist’’ بتلاتے ہیں۔

غورطلب بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

اس طرح کے واقعات کی ایک واضح وجہ مغرب کو دین اسلام کی ایک قابل قبول صورت پیش کرنا معلوم ہوتی ہے۔سیران آتش نامی خاتون  بھی اسی (Feminist)نظریے کی حامل ہیں اور اس کے اظہار میں کوئی باک محسوس نہیں کرتیں۔ دی گارجین (The Guardian) نامی مجلے کو دیے گئے  ایک انٹرویو میں خاتون نے اپنے نظریات کو واضح  کرتے ہوئے کہا  کہ ’’ہمارا لبرل اسلام کا نظریہ   روایتی مسلمانوں کے  نظریے سے مختلف ہے، ہمارا ہرگز  یہ یقین نہیں ہے  کہ پوراقرآن اکیسویں صدی میں بیان کیا جائے بلکہ ہمارے  لئے  اہم سوال یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ اسکا  کا کونسا حصہ  اکیسویں صدی میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔‘‘

عموماً اس طرح کے سارے واقعات کے پیچھے یہ ذہنیت کارفرما ہوتی ہے کہ خواتین کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی آئی ہے  اور اب خواتین کو  اپنے ’’حقوق‘‘کیلئے باہر نکلنا  چاہیے اور صرف یہی نہیں باہر نکل کر دنیا کو دکھانا چاہیےکہ خواتین کسی  سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ بات بھی ان مذکورہ حضرات وخواتین کے انٹرویوز میں بتصریح موجود ہے۔

اس طرح کے اقدامات کرنے والے عموماً ہمدردانہ و مخلصانہ جذبے کے تحت بھی ایسا کرجاتے ہیں۔ یہ متجددین بھی  مجددین کی طرح مسلمانوں کی زبوں حالی دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں۔ لیکن مجددین کے برخلاف متجدد ین مسلمانوں کے زوال  کی وجہ دینی و اخلاقی کمزوری کے بجائے سکہ رائج الوقت تہذیب کے موافق نہ ہونا تشخیص کرتے ہیں۔  اس کا ایک اشارہ سیران آتش صاحبہ کے مذکورہ انٹرویو میں بھی ملتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ۵۴ سالہ ترکی نژاد  خاتون نے کہا  کہ ’’ہم قدامت پرست(conservatives)حضرات کے ساتھ مل کر اس اسلامی دہشت گردی کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم اسلام کو بہت پر امن، متصوفانہ اور روحانی مذہب کے طور پر پیش کر سکیں۔‘‘ ظاہر ہے متصوفانہ سےخاتون کی مراد وہ تصوف نہیں ہے جو  اہل حق کے یہاں مروج ہے کیونکہ اس  تصوف  کی بنیاد اتباع ِ سنت ہے بلکہ خاتون کے اصل الفاظ کے مطابق ‘‘Mystical’’ ہے، جس سے ظاہر ہےوہ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کو دین سے خارج کوئی شے دکھانا چاہتی ہیں۔ یہ بات پر امن کے لفظ کے ساتھ استعمال ہونے سے بھی ایک خاص معنی دیتی معلوم ہو رہی ہے۔

 ابھی تک تو ذہنی کیفیت کا بیان تھا، غور کیا جائے تو ابھی بھی ایک سوال برقرار رہتا ہے کہ عملا ًوہ کون سی پگڈنڈی ہے جواس راستے تک لاتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ تواترِ امت سے اپنے آپ کو مستغنی سمجھنا معلوم ہوتی ہے۔ دین اسلام کی اس روایت سے ادنی درجے کی علیحدگی اور جماعت ِعلماء پر عدم اعتماد  کا نتیجہ ہمیشہ خوفناک ہی ہوتا ہے۔پھر دین کا بقیہ نظام تو درکنار اصول دین ہی شکوک و شبہات کا موضوع  بن کر رہ جاتے ہیں۔ ابنِ رشد گویتے مسجد میں نمازِجمعہ کی ادائیگی کیلئے آنے والے ایک برطانوی نژاد ،جو صوفی بھی کہلائے  جاتے ہیں ، کا ’’دی گارجین‘‘ کو دیا گیا بیان عبرت ناک ہے۔ دی گارجین (The Guardian )کے مطابق ۳۰ سالہ  برطانوی نژاد عمر نے کہا کہ’’اس بات کا دعوی کرنا کہ کسی بات کیلئے قطعی تعلیمات موجود ہیں خطرناک بات ہے۔ ہمارے درمیان اب نبی موجود نہیں ہیں، یہ وقت مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے یکساں طور پر الجھانے والا ہےاب  مذہب کی رسائی کو عام لوگوں تک ممکن بنانے کیلئے  کیا جانے والا ہر کام اچھا ہے ۔‘‘ اس کے علاوہ رابعہ کیبل  جو قلب مریم (لاس انجیلس) نامی مسجد کی بانیہ ہیں،نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ’’شروع شروع میں، میں ہر روایتی تعلیم کو قبول کرتی گئی، پھر مجھے اس طریقے میں  ایک عدم توازن نظر آیا ‘‘۔
مزید برآں یہ سوال بھی حل طلب ہے  کہ ابن رشد گویتے  مسجد کا قیام چرچ  کی عمارت میں کیسے ممکن ہوا؟ ایک ایسے ملک  میں جس کے متعلق اگر یہ دعوی کیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہاں مسلمان  مجموعی طور پر اپنی عبادات آزادانا سر انجام نہیں دے سکتے۔   گزشتہ کچھ سالوں  میں برلن(Berlin)، ہاناو(Hanau) اور ہانوور(Hannover) میں واقع مساجد کو جلانے کی کوششیں کثرت سے کی گئیں ہیں۔ ایندر شیتن (Ender Cetin) جو برلن میں واقع مسجد کی ایسوسیشن (Association)کے  سربراہ ہیں، متعدد بار قتل کی دھمکیوں اورحملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے حفاظتی انتظامات کا سوال کیا تو کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔پھر متعدد بار مذکورہ مسجد کو جلانے کی کوششیں بھی کی گئیں ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ۲۰۱۶ء میں ستائیس اور ۲۰۱۷ء  کے ابتدائی تین مہینوں میں پندرہ مساجد حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹی یو برلن(Technical University of Berlin) کے علاوہ ٹی یو ڈورٹمنڈ(Technical University of Dortmund)، اور یونیورسٹی آف ایسسین ڈائسبرگ (University of Essen Duisburg) میں مسلمانوں کی عبادات کے لئے مختص کردہ کمروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ٹی یو برلن کے صدر سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ’’ جس کو عبادت کرنی ہے وہ قریبی مسجد میں جا کر کرلے ، پیدل نہ جا سکے تو بس میں چلا جائے‘‘ ۔مزید برآں، مسلمان خواتین پر نقاب پہننے کی جزوی پابندی بھی ایسی ہی ایک مثال ہے  ۔اور صرف چرچ میں قیام ہی قابل اشکال نہیں ہےبلکہ حکومت کا اس مسجد کو  اور اس مسجد کی بانیہ کو مکمل حفاظتی انتظامات فراہم کرنا بھی  معنی خیز معلوم ہوتا ہے۔ ایک سطحی مشاہداتی قوت رکھنے والا  فرد بھی یہ بات با ٓاسانی  بتا سکتا ہے کہ خاتون دانستہ یا نادانستہ طور پر استعمار کی آلۂ کار بنی ہوئیں ہیں۔ نقاب پر پابندی لگانا اور ہم جنس پرست برادری کیلئے مکمل  قبولیت رکھنا وہ اقدار ہیں جو ہر لبرل آزاد خیال مملکت کا شعار بنتی جا رہی ہیں۔
ممکن ہے ان باتوں کے بعد کسی قاری کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوکہ خواتین کی امامت کا مسئلہ تو أئمہ اربعہ میں بھی زیرِ گفتگو  رہا اور  فقہ اسلامی  میں بھی بہرحال کسی نا کسی صورت  میں  اس کا وجود رہا ہے۔ممکن ہے کوئی صاحب اس کا وجود بھی پیش کر دیں۔ مگر شریعت اسلامیہ میں  ادنی تامل سے یہ بات سمجھ میں ا ٓجاتی ہے کہ اس مسئلے میں کچھ نہ کچھ تفصیل ضرور ہونی چاہیے۔ ایک طرف تو شارع خواتین کو سمٹ کر نماز ادا کرنے کا حکم دے رہے ہیں، خواتین سے (دورانِ طواف) رمل ساقط فرما رہے ہیں، امام کو متوجہ کرنے کا طریقہ مردوں کی تسبیح کے برخلاف تالی کے ذریعے سے متوجہ  کرنا بتا رہے ہوں اور دوسری طرف وہی شریعت خواتین کو امامت کرنے کی اجازت دے رہی ہو تو یقینا  ً کچھ تفصیل ہونی چاہیے۔ چونکہ یہ مسئلہ فقہ اسلامی میں بھی زیر گفتگو رہا ہے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ضمنی طور پر اس مسئلے کی حقیقت واضح کر دی جائے۔
یہ بات تو أئمہ اربعہ کے یہاں اتفاقی ہے کہ  خاتون کیلئے مردوں یا خنثے کی امامت کرواناجائز نہیں۔  اگلی صورت یہ ہے کہ خاتون  عورتوں کی امامت کروائے۔اس صورت کو مالکیہ نا جائز اور حنفیہ مکروہ تحریمی  بتلاتے ہیں(واضح رہے کہ مکروہ تحریمی کا عملی حکم نا جائز ہی ہوتا ہے)۔ شافعیہ اور حنابلہ اس کو اس کو جائز بتلاتے ہیں۔ شافعیہ کے نزدیک   یہ عمل مستحب ہے۔ نیز أئمہ اربعہ کے نزدیک خواتین کا  اذان دینا بھی جائزنہیں ہے ۔
ان آراء ِفقہیہ کے بیان سے کسی کو یہ التباس نہیں ہونا چاہیے کہ کم از کم دو مسالک حقہ کے  نزدیک تو یہ فعل جائز ہے پھر اس قدر واویلہ مچانے کی کیا ضرورت ہے؟  دنیا کے ہر کونے سے کیوں مخالفت ہو رہی ہے؟ کم ازکم ساداتنا شافعیہ و حنابلہ کو تو اس کی تائید کرنی چاہیے! جاننا  چاہیے کہ اس قدر تنقید و مخالفت کی وجہ فعل کے فی نفسہ ناجائز ہونے کے علاوہ پس منظر میں کار فرما فلسفہ بھی ہے۔ کسی فعل کے فاعل کا  جذبہ محرکہ بھی عموما ً اس فعل کے قابل مذمت ہونے کا سبب بنا  کرتا ہے۔ یہ بات مثالوں سے مزید واضح  ہو جائے گی انشاءاللہ۔
حنفیہ کے نزدیک  دوران ِنماز  قہقہہ مار کر ہنسنا ناقض ِوضوء ہے، جبکہ شافعیہ کے نزدیک نہیں ہے۔ اب اگر کوئی شافعی المسلک آدمی تقوے اور احتیاط  کی وجہ سے دوبارہ وضوء کرتا ہے تو اسکا یہ فعل قابل ستائش ہے لیکن اگر کوئی حنفی المسلک آدمی سستی و تن  آسانی کی وجہ سے  یہ کہے کہ شوافع کے نزدیک تو یہ فعل ناقض ِوضوء  نہیں ہے اور وضو نہ کرے  تو یہ بات قابل مذمت ہے اور نا جائز ہے۔ اب دیکھا جائے تو فعل ایک ہی ہے یعنی تلفیق بین المذاہب لیکن  عمل کے پیچھے کار فرما جذبہ مختلف ہے تو حکم بھی تبدیل ہو جائے گا۔(یہ مثال بغرض تفہیم پیش کی گئی ہے اور اس مثال کو اسی محل پر رکھنا مفید ہوگا انشاءاللہ)
موجودہ دور میں خواتین کا معاش کیلیے نکلنا بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔ استثنائی صورتحال میں  اسلامی حدود  کی پا بندی کرتے ہوئے  شریعت اسلامیہ بھی کسی خاتون  کو اکتسابِ معاش کی اجازت دے سکتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں کسی خاتون کاحقوق نسواں کےنعرے کے  زیرِ اثر  ، بلا ضرورت شرعی  گھر سے نکلنا قابل ِمذمت ہوگا خواہ پردے ہی میں کیوں نہ نکلے۔ فعل ’’ گھر سے نکلنا‘‘مشترک ہے لیکن فعل کے پیچھے نظریہ مختلف ہو جانے کی وجہ سے نگاہِ شریعت میں اس کا مقام بدل جائے گا۔

اسی طرح اس فعل کے فی نفسہ نا جائز  ہونے کے علاوہ پس منظر میں موجود  ‘‘feminism’’کا  نظریہ بھی قابل تنقید ہے۔ ‘‘feminism’’ اپنے جوہر میں مردوں کی بالا دستی کے خلاف اور خواتین  کو معاشرتی، معاشی اور سیاسی اعتبار سے برابر لانے کی بات کرتا ہے۔  مزید برآں، یہ نظریہ صرف خواتین ہی کے ساتھ مخصوص  نہیں رہا بلکہ   اب مردوں کی بالادستی کے خلاف خواتین کے ساتھ ساتھ Trans/Homosexuals  کو بھی برابر لانے کی بات کرتا ہے۔ یہ فلسفہ، جنس کے تمام  روایتی تصورات کو پامال کر چکا ہے۔یہ باتیں اس فلسفے کے کل نظریات نہیں ہیں ۔ اتنی باتیں ہمارے موضوع سے متعلق ہیں اس لئے نقل کی جا رہی ہیں۔

اس تحریک کا مذہبی  اور بالخصوص مسلمانوں میں مقبولیت حاصل کرنا نہایت تشویش  کا باعث ہے۔  اس نظریے کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ فضیلت کا معیار  اللہ سبحانہ و تعالی کی بارگاہ میں مقبولیت کے بجائے مردکی برابری کرنے کو بنا دیا گیا ہے۔ گویا اللہ سبحانہ و تعالی کو اور ان کے اوامر و نواہی کو قصے سے خارج کر دیا ہے۔  ظاہر ہے جب اللہ  تعالی کی نظر میں پسندیدہ نہیں بننا تو ان احکامات کی پابندی کرنا کہاں سے عقلمندی ہے۔نتیجۃً، اس نظریے کی حامل خواتین  ایک کھوکھلے مقدمے کو تسلیم کر کے اس محنت میں مصروف ہیں کہ ایک مکمل شخصیت کیلئے ہر نسوانی صفت فروتر ہے  اور اپنی تکمیل کےلیے اسے  مردوں کی برابری  کرنالازم ہے۔ نتیجۃً، اب اگر ایک مرد چھوٹے بال کٹواتا ہے تو عورت بھی اس کی تقلید کرے گی۔ مرد اگر سپاہیانہ زندگی منتخب کرتا ہے تو عورت بھی اسی ’’سعادت‘‘کے حصول میں ایڑی چوٹی کا زور لگادے گی۔ جاننا چاہیے کہ غلام کی قیمت تو وہ ہوتی ہے جو آقا لگائے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے جس چیز کی قیمت لگائی ہے وہ اس برابری کی نہیں ہے بلکہ دائرہ کار کے فرق کو ملحوظ رکھ کر کی جانے والی بندگی کی ہے۔ مثلاً، اگر اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لئے  اگر مرد صوم و صلوۃ  کی پابندی کے علاوہ ، کسب معاش کے ساتھ ساتھ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے  تو ایک خاتون یہی انعام اپنے شوہر کو راضی کر کے پا سکتی ہے۔پھر اس بات کا کون انکاری ہو سکتا ہے کہ بحیثیت ماں ،خاتون مرد پر  تین گنا  فضیلت  کی حامل ہے۔   اس کے علاوہ اور بہت ساری صورتوں میں اللہ تعالی نے اپنی اس مخلوق کو امتیازی شان  بخشی ہے۔
ایسا انسانی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی مرد کی امامت کو نا انصافی قرار دیا جائے، ماں بننے کو بے عزتی شمار کیا جائے، جذباتی طور پر حساس ہونے کو  تحقیر سمجھا جائے، غرض کہ ہر نسوانی صفت کمتر اور ہر مردانہ صفت بالا تر مانی جائے۔اس مفروضے کو مان کر صادر ہونے والا ہر فعل  اضطراری رد عمل(Knee Jerk Reaction )سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا ۔ پھر  ضمنی طور پر یہ بات بھی غور طلب ہے  کہ اس سارے عمل کے پیچھے یہ سوچ بھی مضمر ہے کہ شاید سیادت و قیادت  ہی سب کچھ ہے۔یہ قیادت خواہ کسی دنیوی  فیلڈ میں ہو یا پھر مذہب ہی کے میدان  میں ہو، بالادستی کا معیار قیادت ہے۔ امامت پانے کی خواہش بھی رب سے قربت بڑھانے کے بجائے اسی بالا دستی  کے حصول کا ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔
انفرادی اثر انگیزی کے علاوہ اس نوعیت کے واقعات اجتماعیت پر بھی بہت گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔کچھ عرصے پہلے تک سیکولرزم اور مذہب کو دو گانہ چیزیں تصور کیا جاتا تھا لیکن حال میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دوگانہ اشیاء کے درمیان کی خط فاصل بہت تیزی سے دھندلاتی جا رہی ہے۔یعنی سیکولرزم نے اپنے حدود سے تجاوز  کر کے مذہب میں  مداخلت  شروع کردی ہے گویا کہ مذہب اب ’’سیکولرائز‘‘ ہو  تا جا رہا ہے۔پرانے زمانوں میں گناہگار، کج فطرت آدمی اپنے آپ کو شرمندہ محسوس کرتا تھا اور اپنی اصلاح کےلئے  گھلا جا رہا ہوتا تھا۔ موجودہ وقتوں میں گناہگار صاحب بہادر کی طرح اپنے گناہ کو نہ صرف اعلانیہ    قبول کرتا ہے بلکہ اگر فرصت زیادہ ہو تو   انسانی حقوق  کے نام پر ایک دلکش  عنوان کے تحت  تنظیم بھی   بنا ڈالتا ہے۔یہاں ٹھہر کر اس بات کو خوب ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ  کسی  گناہ کا سر زد ہو جانا اور بات ہے، رائج ہوجانا ، اجازت دے دیا جانا اور بات  ہے۔
ان دونوں صورتوں کیلئے جناب نبی کریم ﷺ کے ارشادات گرامی سے رہ نمائی حاصل کرنا نہایت مفید ہوگا۔
مقدم الذکر صورت میں جناب نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ(مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول التوبة من الذنوب وإن تكررت الذنوب والتوبة). ترجمہ:’’ ایک  بندہ گناہ کرتا ہے پھر اللہ کو پکارتا  ہے کہ اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما دیجیے، تو اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں: میرے بندے نے گناہ کیا  پھر خیال آیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف فرماتا ہے اور گناہ پر پکڑ بھی فرماتا ہے، پھر وہ بندہ  گناہ کر بیٹھتا ہے، پھر اللہ کو پکارتا ہے کہ اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما دیجیے، تو اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں : میرے بندے نے گناہ کیا  پھر خیال آیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف فرماتا ہے اور گناہ پر پکڑ بھی فرماتا ہے، پھر وہ بندہ گناہ کر بیٹھتا ہے پھر اللہ کو پکارتا ہے کہ اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما دیجیے، تو اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں : میرے بندے نے گناہ کیا  پھر خیال آیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف فرماتا ہے اور گناہ پر پکڑ بھی فرماتا ہے، جا آج سے تو جو چاہے عمل کرے(بشرطیکہ سچی توبہ کا عمل جاری رکھے)میں نے تجھے معاف فرما دیا ہے‘‘۔
اب کسی گناہ کا معاشرے میں عام ہو جانا کس قدر بھیانک ہو سکتا ہے، اس  کا  اندازہ نبیﷺ کے نسبتا طویل فرمان مبارک  کے اس اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے۔
وظھرت الفینات والمعازف و شربت الخمور و لعن أخر ھذہ الامۃ اولھا  فارتقبوا عند ذلک ریحا حمراء و زلزلۃ و خسفا ومسخا و قذفا(مشکاۃ المصابیح، کتاب الفتن، باب اشراط الساعۃ)ترجمہ:’’ اور جب گانے والیاں عام ہو جائیں، گانا بجانے کے آلات عام ہو جائیں، شراب پی جانے لگے اور اس امت کے اگلے پچھلوں پر لعنت کرنے لگیں، تو ایسے وقت میں تم سرخ آندھیوں کا، زلزلے کا، دھنسا دئے جانے کا،چہروں کے بگاڑ دئے جانے کا اور آسمان سے سنگ باری کا انتظار کرو‘‘۔ 
اب واضح طور پہ گناہوں کے دونوں پہلو ؤں کو دیکھا جا سکتا ہے، ایک جانب شہوانی دباؤ کے ساتھ ندامت ہے تو غیر مشروط توبہ کا وعدہ کیا گیا ، دوسری جانب بغاوت  اور ڈھٹائی کے ساتھ گناہ کا عام ہو جانا پایا جا رہا ہے تو اس قدر دردناک عذابوں کی وعید سنائی گئی ہے۔
پھر مذکورہ واقعہ عورت کی امامت کے علاوہ جس بڑی آفت کا مقدمہ معلوم ہوتی ہے وہ ہم جنس پرست برادری کو عالم اسلام میں قبول کروانا ہے۔ یہ فتنہ بھی اولین فرصت میں اپنی سرکوبی کا متقاضی ہے۔چونکہ یہ فتنہ اولاً مغربی ممالک میں اٹھا تھا تو سب سے پہلا سامنا اس کو عیسائیت کا تھا۔چرچ کی طرف سے خاطر خواہ مخالفت ہونے کے باوجود یہ فتنہ  کسی رسولی کی مانند بڑھتا اور پھیلتا       گیا۔ البتہ اب چرچ بھی اپنے ہاتھ پیر ڈھیلے چھوڑ رہا ہے اور مخالفت میں کافی کمی آچکی ہے۔برطانوی مجلے ’’دی ٹیلی گراف‘‘(The Telegraph ) کے مطابق  پوپ فرانسس نے ۴ اکتوبر ۲۰۱۶ ءکو آذربائیجان کے سفر   سے لوٹتے ہوئے  اپنے ایک بیان میں کہا کہ کیتھولک چرچ کو چاہیے کہ   Transsexual اور ہم جنس  پرستوں (Homosexuals )کو قبول کرلے ۔پھر فروری ۲۰۱۷ء     میں  برطانیہ کے ایک چرچ میں ایک اسقف (Bishop )کی طرف سے بل پیش کیا گیا جس کا عنوان یہ تھا : چرچ کے اندر  شادی ایک مرد اور ایک عورت ہی کے درمیان ہو سکتی ہے۔ یہ بل بھی اکثریت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ 
اب ہم مسلمانوں کیلئے چوکنّے ہو جانے اور ڈر جانے کا مقام ہے۔ ایسے قبیح امور کا کسی مذہب میں اجازت دے دیا جانا اس مذہب کے مردار ہو جانے کی دلیل ہوا کرتا ہے۔موجودہ دور میں  ایسے واقعات کا عالم اسلام میں رو نما ہونا بہت افسوسناک ہےاور اس  بات کی کوشش معلوم ہوتی ہے کہ ایک  Rainbow Religion وجود میں آجائے۔ ایسے واقعات  کے نتیجے میں ’’مذہب اسلام کا ایک لا مذہبی ایڈیشن تیار ہو رہا ہے جس کا اگر کوئی فائدہ ہے تو ان لوگوں کو  جو ذہن و فکر کے اعتبار سے ہی نہیں تہذیب و تمدن کے لحاظ سے بھی  خالص یورپین بن چکے ہیں، اپنے اوپر سے اسلام کا لیبل اتارنے کی بھی ضرورت نہیں پڑ رہی اور وہ مسلم قومیت کے حلقے میں شامل ہو کر رہ گئے ہیں ۔‘‘
یہ واقعہ اپنی تاثیر میں ایک  اور جہت سے متاثر کرتا ہے۔ عالم اسلام کے جمیع اہل علم مکاتب فکر کی طرف سے مخالفت کے باوجود ، اس جسارت پر اصرار کرنا علماء کے سلطہ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ خاتون نے اسلام کے رائج نظریات کو  موجودہ دور کے ساتھ غیر متعلق بتایا ہے۔ رائج نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں: یا تو عوام کی سطح پر یا پھر خواص اہل علم کی سطح پر۔خواص اہل علم کے یہاں رائج نظریات عموما  چودہ صدیوں کے تسلسل پر کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ چودہ صدیوں کا تسلسل دین کو صورت دیتا ہے۔جب اہل علم  کی روایت کو موجودہ دور کے ساتھ غیر متعلق بتایا جاتا ہے تو یہ اہل علم پر تنقید نہیں ہوتی بلکہ چودہ صدیوں کے اس تسلسل پر ہوتی ہے اور اس پر تنقید کرنا گویا فتنوں کے آگے موجود آخری کواڑ کو بھی توڑ دینے کے مترادف ہے۔ اس بات کو خوب واضح رہنا چاہیے کہ جمیع اہل علم کی روایت کے انکار سے جہاں نفس اجماع کا انکار ظاہر ہے  وہیں دراصل مصادر اصلیہ یعنی قران و سنت کی من چاہی تشریح کا جذبہ بھی مضمر معلوم ہوتا ہے۔جاننا چاہیے کہ نصِ قرآن و حدیث کی صورت گری  تو اصلا ً تعامل امت یا اجماع امت سے ہوتی ہے۔اگر اس تواتر عملی کو کاٹ دیا جائے  تو فقط قرآن و حدیث کا متن رہ جاتا ہے اور پھر اس پر عقل حاکم  بن جاتی ہے۔ پھر اصلا تو عقل  ہی  کا زور رہ  جاتا ہے  اور اس کے زریعے سے  قرآن وحدیث پر طبع آزمائی کی جاتی ہے۔اس طبع آزمائی سے جو چیز وجود میں آتی ہے  اس کا دین سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں رہتا۔ پہلے عیسائیت اس کا شکار ہوئی  اور اب اگر اس مزاج کو ہم لوگ بھی در آمد کر لیتے ہیں تو کچھ بعید نہیں  کہ ہم بھی اس کا شکار ہو جائیں۔(اعاذنا اللہ من ذلک)

ماضی میں بھی مغل بادشاہ اکبر  کے دین الہی کی صورت میں  ایسی کوششیں کی جاتی رہیں ہیں؛ مگر وہ کوششیں دین کےلئے اس  وجہ سے  اتنی خطرناک نہیں تھیں کیونکہ اس نے دین اسلام کے بالمقابل ایک نیا دین ایجاد کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ Rainbow Religion کے قیام کی سازش (شعوری سطح پر ہو یا غیر شعوری سطح پر) اسلئے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ نظام دین ہی کو مسخ کرنے کی خوفناک کوشش ہے۔  انفرادی سطح پر  ہم لوگوں کو چاہیے کہ  انتہائی شعور کے ساتھ دین میں در آنے والے  ہر نئے نظرئے کو تنقید کی چھلنی سے گزاریں۔مزید برآں ، اللہ سبحانہ و تعالی سے اس بات کی دعا کریں  کہ نظام  دین پر اس  درجے قطعی ایمان  ہو جائے  کہ آج دین کی تعلیمات ہمارے لئے اتنی ہی محکم اور قطعی ہو جائیں جتنی اس صورت میں ہوتیں کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے دور ِمبارک میں زندہ ہوتے۔ نظام ِدین کے بارے میں یہ صورت کبھی پیش نہیں آنی چاہیے کہ اس پر زمانے اور زمانے کے چال چلن کو حاکم بنا دیا جائے بلکہ دین کو زمانے اور زمانے کے کل نظام ِزندگی پر ہمیشہ عملا ً وذہنا ً غالب  رکھنے کی کوشش جاری رکھی جائے۔ اللہم من أحییتہ منا فاحیہ علی الاسلام و من توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان