Dec
30
2018
ڈونلڈ ٹرمپ کی سبق آموز کامیابی اور اسلامی انقلابی تحریکیں
محمد ایاز
۹ نومبر ۲۰۱۶ءکو امریکا میں صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔بدتمیز،بد تہذیب،جھوٹا،دغاباز،نسل پرست،مسلم دشمن اور متعصب کہلانے والے ڈونلڈ ٹرمپ مرد میدان قرار پائے اور امن پسند،نمونہ اخلاق،انسان دوست اور مہذب کہلانے والی خاتون کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔امریکہ کے۲۰۱۶ءکے انتخابات کوکئی اعتبارات سے اہمیت حاصل ہے۔امریکہ کے صدارتی انتخابات نے عالمی میڈیا اور خاص کر امریکن میڈیا کی ساکھ کو زمین بوس کردیا۔ایک طرف الیکشن مہم (Election Campaign)میں دو سو سے زائد اخبارات نے ہیلری کلنٹن کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ کھلی حمایت کا اعلان بھی کیایہاں تک کہ CNN جیسے نیوز چینل کو کلنٹن نیوز نیٹ ورک کہا گیا۔ریاست کے معروف ایڈیٹوریل بورڈ (Editorial Boards) ہیلری کلنٹن کی خدمت میں دن رات کوشاں رہے۔دوسرے طرف صرف ۱۹ اخبارات ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں سامنے آئے اور کچھ گنے چنے غیر معروف ایڈیٹوریل بورڈز (Editorial Boards) نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دیا۔ لیکن حیران کن طور پر انتخابات والے دن امریکہ کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے دیہاتی ووٹرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کرا کے صحافت کے نام پر بزنس کرنے والے میڈیا کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین کے طرف سےاربوں ڈالر زانتخابی مہم پر خرچ کئے گئے اور مختلف کارپوریشنز(Corporations)کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جبکہ اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی کارپوریشن (Corporation)سے معاہدہ کیا نہ کسی سے مہم(Campaign) چلانے کے لئے ڈالر لئے بلکہ اپنی جیب سے انتخابی مہم کی مد میں خرچ کرتے رہے۔مخالفینِ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کامیابی کےتمام تر مروجہ طریقہ ہائے سیاست(کامیابی کے گر) استعمال کئے گئے لیکن اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کے مسائل اور نفسیات کا ادراک کرکے ان کے اندر موجود غیر ملکی باشندوں سے نفرت،سب سے پہلے امریکہ،عام آدمی کے مفاداورسفید فام کی برتری جیسے جذبات کو فروغ دےکر ان کو مقصد کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران ایک مثبت کام اپنے حق میں یہ کیا کہ ہیلری کلنٹن کو سٹیٹس کو(Statues que) کا حصہ ثابت کیا۔اور لوگوں کو یہ باور کرایا کہ میں نہ کوئی روایتی سیاستدان ہواور نہ کسی سٹیٹس کو کا حصہ ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے (white supremacy) کا نعرہ صرف اس بنیاد پر بلند کیا کہ اکثریت کے جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرسکے چونکہ امریکہ میں اکثریت گوروں کی ہے اس لئے ان کے جذبات کو اپنے حق میں استعال کرنے کے لئے ان کی(supremacy)کا نعرہ لگایا گیا۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت میں جو فضا پیداکی گئی تھی اس سے پوری دنیا نے یہ عام تاثر لیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار یقینی ہےلیکن ان حالات اور محدود نشرواشاعت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے نہ کسی کی طعن و تشنیع کی کوئی پرواہ کی ،نہ مروجہ عالمی نعروں ،خواتین کے حقوق،مذہبی رواداری،انسانی مساوات وغیرہ کو خاطر میں لائے نہ کسی کی ملامت پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا ۔اور اس سب کچھ کے باوجود صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے بہت ساری چیزوں پر سوالیہ نشان لگا دئیے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ میڈیاکی حمایت،کارپوریشنزکے فنڈز،سیاسی اثرورسوخ،معاشروں کے عمومی نظریات کو لجاجت اور معذرت خواہانہ انداز کے ساتھ اپیل کرنا،مروجہ فیشن پر چلناوغیرہ کامیابی کی لازمی شرائط نہیں ہیں۔ہماری دینی جماعتوں میں عام طور پریہ خطرات پائے جاتے ہیں کہ اگر میڈیا نے ہمارے جلسے جلوس، اچھل کود وغیرہ کی نشریات پیش نہیں کیں تو ہمارا سارا کام ناکام ہوجائے گا،یا اگر ہم نے آزادی یا انسانی حقوق کے مغربی تصورات کے خلاف کوئی بات کہی تو ہم دنیا بھر میں مطعون ہوجائیں گےیا اگر ہم نے Feminist نمائندوں کو برا کہا تو عوام ہم سے ناراض ہوجائےگی وغیرہ وغیرہ اور نتیجۃً ہم پیچھے رہ جائیں گے۔لیکن ٹرمپ کی کامیابی نے ان تمام وہمی بتوں کو چکنا چور کردیا۔
اسلامی انقلابی تحریکوں کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں ایک سبق
یہ بات غلط ہے کہ ڈونلڈٹرمپ جو کچھ کررہا تھا صحیح کررہا تھا اور اس کی تقلید اب اسلامی انقلابی تحریکوں کی کامیاب ہونے کے لئے لازمی شرط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس نے جس انداز میں لوگوں کے نفسیات اور مسائل کا ادراک کیا اور جس انداز میں عوام کے جذبات کو ابھارا اور اپنی کامیابی کے لئےاستعمال کیا،بالکل اسی طرح اگر اسلامی انقلابی تحریکیں عوام کی نبض کو سمجھیں پھر ان کے تحت الشعور میں موجود جذبات کی تطہیر کریں اور ان کو اسلام کی سر بلندی کے لئے تربیت وتزکیے کے مراحل سے گزاریں تو نصرتِ الٰہی سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔وہ جذبۂ محرکہ جس کی بنیاد پر تحریک پاکستان چلائی گئی اور اس کے بعد بھی نبض شناس علماء نے قراردادمقاصد،ناموس رسالت،اور ردِقادیانیت وغیرہ کے لئے اس جذبہ کو بیدار کیا،اس جذبہ نایاب کی مثال آج بھی اقبال کے اس شعر کی مانند ہے کہ
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی
چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ مذہبی بنیادوں پر سیاست نہیں کرر ہا تھا اس لئے اس کے جذبات ابھارنے کے عوامل مختلف تھے ۔ اسلامی انقلابی تحریکیں جب یہ کا م کریں گی تو ان کے عوامل مختلف ہوں گے۔ لیکن اس کام کے لئے جو بنیادی شرط ہے وہ اسلامی تحریکوں کا آپس میں اتفاق ہے، جب تک یہ شرط پوری نہیں ہوتی تب تک یہ نسخہ نہ صرف یہ کہ کار گر نہیں ہوگا بلکہ خانہ جنگی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔جب یہ شرط پوری ہوجائے تو پھر اسلامی تحریکوں کے پاس کامیابی کےبہترین مواقع موجود ہوں گے۔پھر مسلمانوں کے دلوں میں موجود غبار آلود اسلامی جذبے کو اُجاگر کرنے میں تھوڑی سی بھی دشواری نہیں ہوگی۔ٹرمپ کو تو اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے لئے سڑکوں پر آنا پڑا اور جلسے جلوس کرنےپڑے جبکہ اسلامی تحریکوں کو اس کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ ہر مہینے چار سے پانچ مرتبہ تمام مسلمان ان کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھ جاتے ہیں، نہ ان پر کچھ پیسہ خرچ ہوتا ہے نہ ان کے لئے خاطر خواہ انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے اور انتہائی آسانی کے ساتھ ان تک اسلام کاانقلابی تصور پہچایاجا سکتا ہے اور اس کے بارے ان کی ذہن سازی کی جاسکتی ہے ان کو اس کام کے لیے متحرک کیا جاسکتا ہے۔
عوام کے جذبات کو صرف اور صرف اسلامی ایثار وقربانی کی بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے۔اور ان کے اندر سے مفاد پرستی اورحبِ دنیاجیسی مذموم خواہشات کا خاتمہ کرکے تحریک کو کامیاب اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ جذبۂ جہاد سے ہٹ کر اگر مفاد ،حرص ،طمع اور لالچ جیسی بنیادوں پر اور ترقی،آزادی،آسائش اور خوشحالی جیسے لجلجاتے نعروں سے ان کے جذبات کو متحرک کیا گیا تو اس کا نتیجہ خیر سے زیادہ شر کی صورت میں نکلے گا۔