Menu

Blog

بے خدا تہذیب، اسباب واثرات

Jul 11 2019

بے خدا تہذیب، اسباب واثرات
اَ
لْحَمْدُ لِلّٰه رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاة وَ السَّلَامُ عَلٰي أَشْرَفِ خَلْقِ الله وَ سَيدِ الْمُرْسَلِينَ وَ عَلٰي آلِهٖ وَ أَصْحَابِهٖ أَجْمَعِينَ۔ لَا إِلٰه إِلَّا الله الْمَلِك الْحَقُّ الْمُبِينُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله صَادِقُ الْوَعْدِ الْأَمِينُ۔

مَوْلَايَ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أبداً

عَلٰي حَبِيبِك خَيرِ الْخَلْقِ كلِّهمٖ
ثُمَّ الرِّضَا عَنْ أَبِي بَكرٍ وَعَنْ عُمَرَ
وَعَنْ عَلِيٍّ وَ عَنْ عُثْمَانَ ذِيْ الْكرَمٖ

أعوذ بالله من الشيطٰن الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
﴿ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا﴾ (الكهف:7-8)
﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾ (الحشر:19-20)
 ﴿يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ﴾ (الروم:7)
قالَ النَبِيُّﷺ: ((يحْمِلُ هذَا الْعِلْمَ مِنْ كلِّ خَلَفٍ عُدُوْلُهُ ينْفُوْنَ عَنْه تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَ انْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ الْجَاهلِينَ)) (أخرجه البيهقي في المدخل إلي السن) أو كما قال رسولُ اللهﷺ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِيْ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِيْ،اللّٰهمَّ انْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا وَ عَلِّمْنَا مَا ينْفَعُنَا وَ زِدْنَا عِلْمًا، اللّٰهمَّ لَا سَهلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهلًا وَ نأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهلًا۔آمِين يا رَبَّ الْعٰلَمِينَ
۔
تمہید
دین کا عالم وہ ہوتا ہے جسےنصوص کے ساتھ ساتھ اپنے پیش و عقب کاعلم بھی حاصل ہو۔ یعنی فرامین خدا و رسول اور ان کے صحیح مطالب کے ساتھ اپنے معاشرے بلکہ اپنے مخاطَب معاشروں کی واقفیت بھی اسے حاصل ہو، کہ ان معاشروں کے اقدار و آثار یا ہیں چنانچہ اس ضرورت کے تحت خادمان دین و علم دین کے لیے تہذیب حاضر کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ 
دین کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے میں بھی طویل عرصے سے ،جدیدیت (Modernity)، مابعد جدیدیت (Postmodernity)،شہری /سول سرمایہ داریت (Civil-Capitalism)، سماجیات (Sociology)، مواصلات Media) (، صنعتی فنیات Technology) )کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔
 میرے لیے یہ موضوع دقت و مشکل کا باعث ہے ۔اس مشکل کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ موضوع کئی اطراف و جوانب پر وسیع و محیط ہے اور دوسرے یہ کہ بحمدہ تعالی اس موضوع پر میرا مطالعہ بھی ایک طویل عرصے پر محیط ہے۔ چنانچہ ایک وسیع موضوع پر سالوں کے مطالعے کو ایک مختصر مضمون میں پیش کرنا ایک مشکل امر ہے ۔ مشکل کا تیسرا پہلو جذبات سے متعلق ہے اگرچہ یہ ایک فکری بحث ہے لیکن ان نقصانات کے سبب جو ہمیں تہذیب جدید نے پہنچائے ،ایک جذباتی موضوع بھی بن چکا ہے ۔احمد مشتاقؔ کا ایک بڑا اچھا شعر ہے۔اس نے کہا تھا:
اس لیے حالِ دل نہیں کہتا

کہیں جذبات میں نہ بہہ جاؤں

تو کوشش کی جائے گی کہ طوالت و جذباتیت دونوں سے بچتے ہوئے ، اپنے طویل مطالعے اور تفکر کا ایک خلاصہ آپ کے سامنے رکھا جائے جو عصر حاضر کی بناوٹ اور اس کے اصول و آثار کو سامنے لا سکے۔
تہذیب جدید کی ہمہ گیریت 
مولانا ظفرعلی خان رحمہ اللہ کی نعت کامصرعہ ہے :
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم ہی تو ہو
اگرچہ ظاہر ہے کہ مصرعہ رسول اللہﷺکے بارے میں کہا گیا تھا لیکن اس میں کہی گئی بات ہم پر اور ہماری تہذیب پر بھی صادق آتی ہے۔ فی الواقع ہم جس دنیا میں بس رہے ہیں وہ اپنی بنیادوں سے لے کر اپنے میناروں تک ساری کی ساری مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔ تخلیق کے اعتبار سے یقینا اللہ ہی نے دنیا بنائی ہے لیکن تشکیل کے اعتبار سے یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں وہ ساری کی ساری اپنے اندر باہر سے مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔یعنی وہ تہذیب و معاشرت جس کے ہم باسی و عادی ہیں، اس کے اصول و اطلاق مغرب کے طے کردہ ہیں ۔ جمیل الدین عالیؔ کے دوہے کا ایک مصرعہ ہے، انھوں نے کہا تھا کہ :
مچھلی بچ کہ جائے کہاں جب جَل ہی سارا جال !
یعنی جو ندی ہے وہ ہی سب جال ہے تو مچھلی کے بچنےکا کیا سوال، تو چونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ ساری کی ساری مغرب کی بنائی ہوئی ہے، اس وجہ سے کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں مغرب کے اثرات سے بچا ہوا ہوں۔ 
۱۹۶۰ کی دہائی میں ایک ایرانی سکالر جلال آل احمد کی ایک کتاب چھپی تھی۔ اس کتاب کا نام تھا غرب زدگی۔اس کا ترجمہ کیا گیا تھا ’’Westoxification‘‘۔ توہم سب ہی غرب گزیدہ (Westoxified ) ہیں، کوئی کم گزیدہ ہے تو کوئی زیادہ گزیدہ ہے۔ تبدیلی کی سب سے کامل شکل وہ ہوتی ہے جو محسوس نہ ہو،یعنی مغرب کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنی فکر کو ہمارے لیے Internalize کر دیا ہے۔وہ ہمارے تحت الشعور میں ہے۔وہ جو شعور کا ایک ایسا حصہ ہوتا ہے جس کو ہم خود نہیں پہچانتے،اس سطح پر مغرب کی مار ہے۔اور ابھی کچھ باتوں سے آپ کواندازہ ہوجائے گا کہ مغرب کی رسائی کہاں تک ہے، یعنی یہ موضوع اس اعتبار سے بھی مشکل ہے کہ ہم اگر یہ کہیں کہ ’’جدید مغرب کے یا بے خدا تہذیب کے اثرات‘‘،تو گویا ہمیں یہ بتانا ہوگا کہ جدید دنیا یا بے خدا تہذیب ہےکیا!
بے خدا تہذیب کیا ہے؟
ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ تہذیب ہے کیا؟اس کے نمایاں خدوخال کیا ہیں؟ اس کے اثرات کیا ہیں ؟دراصل اس موضوع کے Frame-Work میں ڈاکٹر اسرار احمدصاحب رحمہ اللہ کی بھی کچھ تصنیفات شامل ہیں جن میں ’اسلام کی نشأۃ ثانیہ۔ کرنے کا اصل کام‘،’اسلام اور پاکستان‘ کے کچھ مضامین؛عقل اور نقل کی کشمکش اور دیگر کچھ مضامین بھی ہیں جو مل کر اس Frame-Work کی تشکیل کرتے ہیں۔چنانچہ میں اس موضوع کے حوالے سے ابتدائی باتیں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے حوالے سے ہی کروں گا، یعنی میری اس گفتگو کا بنیادی Frame-Work تو ڈاکٹر صاحب ہی سےماخوذ ہو گا لیکن مثالیں میری اپنی ہوں گی۔
’’اسلام کی نشأۃ ثانیہ ۔کرنے کا اصل کام ‘‘ نامی کتابچے میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ تین باتیں بتاتے ہیں۔ایک تو انھوں نے اس میں بتایا ہے کہ گزشتہ ۲۰۰سال سے ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس کی تشکیل مغرب نے کی ہے۔مغرب میں کچھ تاریخی معاملات ہوئے جو اس تبدیلی کا باعث بنے، ان مراحل کو ہم بالترتیب ذکر کرتے ہیں :
Renaissance 
فرانسیسی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی دوبارہ پیدائش کے ہیں، اسے اصطلاحاً تحریکِ احیاءِ علوم بھی کہتے ہیں،احیاء علوم یورپ کی تاریخ کا ایک عہد ہے، جس کا آغاز قرون وسطی کے بعد لگ بھگ ۱۴۰۰ عیسوی میں ہوا۔
 Scientific revolution یا سائنسی انقلاب
 عہد جدید کے آغاز میں ایسے واقعات کے سلسلے کا نام ہےجس کے نتیجے میں جدید سائنس رونما ہوئی، جب ریاضیات، طبیعیات، علمِ نجوم، حیاتیات بشمول تشریح الاعضاء (human anatomy)، اور علمِ کیمیا میں ترقی نے قدرت سے متعلق معاشرتی تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔
Reformation یا تحریکِ اصلاح
مغربی عیسائیت میں اس تفریق کو کہا جاتا ہے جس کا آغاز سولہویں صدی میں یورپ میں مارٹن لوتھر نے کیا، اور جسے ہلڈرچ زونگلی، جون کیلون اور دیگر پروٹیسٹنٹ اصلاح پسندوں نے جاری رکھا۔
Industrial revolution یا صنعتی انقلاب
نئے صنعتی طریقہ کار کی طرف منتقلی کا نام ہے، جو ۱۷۶۰ سے ۱۸۲۰ اور ۱۸۴۰ کے درمیان کے زمانے میں واقع ہوا۔
French revolution یا فرانسیسی انقلاب
 ۱۷۸۹ میں شروع ہونے والے دور رس معاشرتی اور سیاسی ہنگاموں کا دورہے، جو فرانس اور اس کی نو آبادیات میں واقع ہوا۔
Enlightenment یاتحریک تنویر
جسے عہد تنویر اور عہد دانش بھی کہا جاتاہے یورپ کی ایک علمی اور فلسفیانہ تحریک کا نام ہے، جس نے تصورات کی دنیا میں اٹھارہویں صدی میں اپنا لوہا منوایا، وہ صدی جو فلسفے کی صدی سے موسوم ہے۔
یہ وہ تمام مراحل تھے جن میں مغرب کے یہاں ، ان کے لوگوں کی فکر میں ایک بنیادی تبدیلی آئی،اور ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے ایک اہم بات یہ کہی کہ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی چیز بالکل ہی ختم ہوجائے بلکہ وہ کہا کرتے تھے کہ Shift Of Emphasis ہوا ہے۔کچھ چیزوں پر نگاہ زیادہ مرتکز ہوگئی اور کچھ چیزوں سے نگاہ ہٹ گئی۔اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے ایک بہت اہم بات لکھی ہے کہ مغرب میں تین چیزوں کو تین پر فوقیت و ترجیح دی گئی ،تین چیزوں کے مقابل میں تین چیزیں آگئیں۔پہلے تو یہ ہوا کہ مغرب میں خدا کے بجائے کائنات پر توجہ مرتکز ہوگئی۔
 ظاہر بات ہے کہ کائنات کو بہت سجا بنا دیا گیا،بہت زینت دے دی گئی۔سورۂ کہف کی آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے::
﴿إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ﴾ (الكهف:7)
جو کچھ اس زمین پر ہے اسے ہم نے اس کے لیےمزین کردیا ہے تاکہ ہم جانچیں کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے زیادہ خوبصورت ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ دنیا کی بڑی کشش ہے،اس میں بڑی چمک دمک ہے لیکن اصل بات اگلی آیت میں ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے جسے ہم بھلا دیتے ہیں۔
﴿وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا﴾ (الكهف: 8)
اور بیشک ہم اِن (تمام) چیزوں کو جو اس (روئے زمین) پر ہیں (نابود کر کے) بنجر میدان بنا دینے والے ہیں۔ایک تو یہ تغیر( Shift ) ہوا کہ خدا کے بجائے کائنات پر توجہ مرتکز ( Focus ) ہوگئی۔
دوسرے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ روحِ انسانی کی جگہ جسم پر توجہ مرتکز ہوگئی۔سورۂ حشر میں فرمایا:
﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾ (الحشر:19-20)
ان لوگوں کے مانند نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انھیں اپنے آپ ہی سے غافل کردیا۔ تو جب اللہ تعالی پر کائنات کو ترجیح دی گئی اور گویا اللہ کی ذات و قدرت کو فراموش کر دیا گیا اور اللہ کو بھلا دیا گیا تو اس کے نتیجے میں ہم اپنی حقیقت سے غافل ہو گئے ہماری وہ حقیقت جو انسان کا اصل جوہر ہے جس کو اقبالؔ نے کہا کہ:
نقطۂ نوری کہ نامِ او خودی است

زیرِ خاکِ ما شرارِ زندگی است

وہ ایک نقطۂ نوری ہے جس کا نام خودی ہے،میری اس خاک کے اندر زندگی کا شرار اس کا جوہر ہے،اور وہ روح ربانی ہے۔ وہ Divine Sparkہے۔تو ہوا یہ کہ اس روح سے توجہ ہٹ گئی اور جسم پر مرکوزہوگئی۔اورپھر ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے بتایا کہ تیسرا Shift Of Emphasis یہ ہوا کہ حیات اخروی کے بجائے حیات دنیوی پر Focus ہوگیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ﴾ (سورة الروم: 7)
یعنی یہ لوگ دنیا کی زندگی کے بس ظاہر ہی کو جانتے ہیں اور آخرت سے محجوب ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر دنیا کی زندگی کی بھی حقیقت کو پہچان لیں،کنہ کو جان لیں تو ممکن نہیں ہے کہ آخرت سے غافل ہوں۔دنیا کی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟اور انسان کی حقیقت کیا ہے؟یہ انسان بھی اور یہ دنیا بھی مخلوق ہیں۔سب سے پہلی حقیقت یہ ہے۔ اور دوسری حقیقت کیا ہے؟یہ سب عبد ہیں؛یہ انسان بھی اور یہ کائنات بھی۔ اور تیسری حقیقت کیا ہے ؟ انسان بھی اور یہ کائنات بھی فانی ہیں،لا فانی نہیں۔ایک خاص وقت تک کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔کہا گیا کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، اگر اس کے بھی باطن سے آشنا ہوجاتے تو کبھی ایسا رویہ اختیار نہ کرتے۔ تو چونکہ اہل مغرب پہلے تو یہ طے کر چکے تھے کہ ماننا اس چیز کو ہے جو ہمارے تجربے میں آسکے اور جو چیزیں تجربے یا حواس میں نہ آسکیں وہ ناقابل التفات ہیں۔ چاہے وہ ذات باری ہو یا روح ربانی ، اسی پر پھبتی کسی جناب اکبر نے :
کیونکر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز

جغرافیے میں عرش کا نقشہ نہیں ملا


جغرافیے میں عرش کا نقشہ آپ کو نہیں ملے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ نقشے میں جو کچھ ہے ان کے مطابق بس وہی وجود رکھتا ہے۔اسی طرح سے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ انسان کا آپ اندر باہر سے سارا Scan لے لیں تو حسی طور پر تو ساری چیزیں ظاہر ہو جائیں گی،لیکن روح کسے کہتے ہیں یہ معلوم نہیں ہوگا،یہ اس میں Detect نہیں ہوسکتی ، اگرچہ ہمارے یہاں ایسے لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جو ایک خاص طرح کی مرعوبیت کا شکار ہیں؛کچھ عرصے پہلے کہیں پر خبر آئی تھی کہ روح Detect ہوگئی ہے،اس کا وزن بھی انھوں نے نکال لیا ہے،لیکن یہ بچکانہ باتیں ہیں۔کچھ چیزیں غیب ہیں اور غیب ہی میں رہیں گی،ایک قسم تو ان چیزوں کی ہے جو Relative غیب ہیں۔بہت سے پرانے لوگوں کے لیے وہ غیب تھیں اب وہ شہود ہوگئیں۔وہ اصل میں غیب تھیں ہی نہیں،لیکن کچھ چیزیں غیب ہیں ،ان کا غیب میں ہونا ہمیشہ متحقق رہے گا۔ وہ کبھی شہود میں نہیں ہو سکتیں۔کوئی ایسی دور بین نہیں ایجاد کی جاسکتی کہ اللہ کی ذات کو دیکھ لیا جائے۔کوئی ایسی خوردبین ایجاد نہیں ہوسکتی کہ روح کو دریافت کر لیا جائے۔یہ ایک آزمائش ہے جس میں ہمیں ڈالا گیاہے۔پس جب خدا کے مقابلے میں کائنات کو توجہ کا مرکز بنا لیا گیا اور جب روح کے مقابلے میں جسم و مادے کو اصل حیثیت دی گئی اور جب حیات اخروی کے مقابلےمیں حیات دنیوی کو فیصلہ کن ترجیح دی گئی ، ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ پس جب اہل مغرب نے خدا ، روح اور آخرت سے نظر ہٹا کر پوری توجہ کائنات، مادے و جسم اور دنیا پر مرکوز کر لی تو پہلے پہل طبیعی علوم (Physical Sciences) اور قدرتی علوم(Natural Sciences) میں ترقی ہوئی اور غیر معمولی ترقی ہوئی۔ایسی ترقی ہوئی کہ: 
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

اس ترقی نے حیات دنیا کو اتنا مزین کر دیا کہ آخرت بالکل بھول ہی گئی اور تہذیب حاضر کی چمک نے نظر کو آخرت کی طرف سے بالکل ہی خیرہ کر دیا اور دنیا اور دنیا کی زندگی پر توجہ اور بڑھی اور جب حیات دنیوی پر Focus اتنا بڑھ گیا تو Social Sciences میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیےگئے۔ نت نئے نظریات قائم کر لیے گئے ، تہذیب جدید کےاصول و قواعد مرتب ہونے لگے ۔ چونکہ مادی اور سائنسی ترقی نے آرام و آسائش اور چکا چوند میں نہایت اضافہ کیا تو یہ ترقی ایک طرح سے تہذیب جدید اور اصول و قواعد کے درست ہونے کی دلیل بن گئی اور ان اصولوں کا عقیدے اور ایمان کا رتبہ دیا جانے لگا۔
بے خدا تہذیب کا اسمِ اعظم
اگر یہ کہا جائے کہ مغربی تہذیب کا اسمِ اعظم کیا ہے۔ان کے نزدیک سب سے بڑی چیز کیا ہے؟تو وہ ایک لفظ ہے اور وہ ہے آزادی(Freedom)۔یہ اسِم اعظم ہےجدید تہذیب کا اور باقی سب اس کی تفصیلات ہیں،باقی سب اس کے مظاہر ہیں ۔ جب Political Theory میں یہ لفظ آتا ہے تو اسے لبرلزم کہتے ہیں۔ہم خیال کرتے ہیں کہ مغرب کو شاید Democracy بہت عزیز ہے۔نہیں، ایسا نہیں ہے؛ یہ آدھی بات ہے۔ مغرب کا اصل مسئلہ ہے لبرلزم ۔
اگر آپ ، لوگوں کے ووٹوں اور ان کے مشورے سے حکومت قائم کرلیں اور اس کے بعد آپ یہ کوشش کریں کہ جو Liberal-Order ہے اس پر کچھ قدغنیں لگائیں تو آپ کے تمام ووٹوں کو Undo کردیا جائے گا۔الجزائر میں کیا ہوا؟ یہ تو پرانی بات ہے؛مصر کےمحمد مرسی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔مرسی کیسے آیا تھا؟اسی چیز کے ذریعے آیا تھاناں جس کا ڈھول پیٹتے ہیں یہ لوگ۔ لیکن اگر آپ آکر اسی شاخ کو کاٹنے لگیں جس پر وہ آشیانہ ہے تو وہ آپ کو برداشت نہیں کریں گے۔وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے آپ کو فارغ کردیں گے۔وہ انھی ووٹوں کے ذریعے آیا تھا لیکن فرید زکریا اسے کہتا ہے کہ یہ Illiberal Democracy ہے،ہمیں جو Democracy چاہیے وہ Liberal Democracy ہے۔آج طیب اردغان کو کیا گالی دی جارہی ہے؟ یہی گالی دی جارہی ہے کہ یہ دوبارہ سے خلافت قائم کرنے لگے ہیں۔اس کے ایسےخاکے (Caricature) بنائے بھی جاتے ہیں جس میں اس نے تاج پہنا ہوا ہے اور قبا پہنی ہوئی ہے۔ وہ آدمی بہت سمجھداری سے چل رہا ہے ،اس کو یہ بات پتا ہے کہ اس جمہوریت کے ذریعے کچھ بھی ہونے کا نہیں ہے۔جمہوریت کے ذریعے قائم آپ کو آمریت ہی کرنی پڑے گی، اگر آپ دین چاہتے ہیں ۔یہ بات ہمیں سمجھ لینی چاہیے؛جمہوریت کے ذریعےنہ کبھی دین آسکتا ہے نہ کبھی دین چل سکتا ہے۔بس یہ ایک ننگی سی بات ہے کہ دین آمریت سے چلے گا۔لوگوں سے پوچھ پوچھ کر چلیں گے تو کچھ بھی نہیں بنے گا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مغرب کا مسئلہ اصل میں ہے آزادی ۔ 
آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ
ہمارے ایک استاد کہتے ہیں کہ اس سارے Discourse میں صرف ایک چیز مقدس ہے اور وہ آزادی ہے۔ اسی لیے میں نے عرض کیا کہ مغرب کا مسئلہ Democracy بھی نہیں ہے۔ان کا اصل مسئلہ ہے Freedom۔ لبرلزم کا مطلب کیا ہے؟ہر طرح کے تقدس کو ختم کرنا۔ یہ میڈیا اصلاً یہی خدمت انجام دےرہا ہے؟اگر اس آزادی کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہے تو وہ طاقت ہے اوربس! اس ملک میں جب سے مشرف صاحب کے دور میں میڈیا آیا،ہر آدمی کا خاکہ(Caricature) بن گیا،ہر آدمی کی ڈمی بن گئی۔ایک آدمی کی ڈمی نہیں بن پا رہی تھی۔معلوم ہے کس کی ؟وہ ہیں کراچی والے بھائی ،ان کی ڈمی نہیں بن سکی۔۵،۴ سال پہلے وہ ڈمی بنی ہے پہلی مرتبہ۔کیوں نہیں بنی تھی؟ وجہ طاقت ہے ۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کی زبان یہ سمجھتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ علماء کرام کی جو توہین ہوتی ہے؛مولانا فضل الرحمان صاحب کی جو ڈمی بنائی جاتی ہے وہ بہرحال ڈاڑھی، پگڑی والے ایک کردار ہیں۔ ان کو ذلیل کرنا ،ان کو رسوا کرنا۔۔۔ اصل میں کھیل یہی ہے کہ ہر طرح کے تقدس کو ختم کرو،کوئی تقدس نہ رہے۔بس ایک چیز کا تقدس باقی رہے اور وہ کیا ہے؟وہ آزادی ہے۔اور آپ کی آزادی پر اتنی ہی قدغن ہوگی جب آپ کسی دوسرے کی آزادی کو محدود (Curtail) کررہے ہیں۔بس اس وقت آپ کی آزادی کو روکا جائے گا ورنہ نہیں۔تو میں یہ عرض کررہا ہوں کہ یہ جو آزادی ہے ،اس کے کچھ مظاہر ہیں۔آپ دیکھیے کہ آپ سے یہ مطالبہ ہے کہ یہ جو سارے ناموس (Blasphemy) کےLaws وغیرہ ہیں ان کو ختم کیا جائے،یہ ٹھیک نہیں ہیں۔اور آپ کو معلوم ہے کہ ڈنمارک اور ناروے نے جو بھی کیا، مغرب نے اسے Support کیاکیونکہ وہ مغرب کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کر رہے ہیں۔اگر ہمارے کچھ عقائد ہیں،تو مغرب کے بھی کچھ عقائد ہیں، جس میں سب سے بڑا عقیدہ ’’آزادی‘‘ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے نبی،جس کو ہم نبی نہیں کہتے،ہم اسے Son of Godکہتے ہیں،ہم نے اس کے خاکے بھی بنائے،ہم نے اس کے کارٹون بھی بنائے۔وہاں پر جن باتوں پر بہت بڑےAward ملتے ہیں اس میں سے ایک یہ بھی ہے۔کئی سال پہلے ایک ’’شاہ کار‘‘ کو انھوں نےبہت بڑا Award دیا۔وہ کیا تھا؟وہ ایک بوتل تھی اس کے اندر پیشاب تھا اور اس کے اندر ایک صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ اس کو انھوں نے بہت بڑا اعزاز دیا۔یہ ہے لبرلزم۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے خدا کی توہین ہنستے ہوئے برداشت کی،تم سے اپنی پیغمبر ﷺکی توہین برداشت نہیں ہورہی۔ انھوں نے جھیلا ہے اس کو،وہ کھڑے ہوگئےاورکہا کہ نہیں!ہم اس کے لیے جان بھی دے دیں گے۔اور عقیدہ اسی کو کہتے ہیں جس کے لیے آپ کسی کی جان لے بھی سکتے ہیں،اپنی جان دے بھی سکتے ہیں۔تو مغرب اس آزادی کے لیے جان لے بھی سکتا ہے اور جان دے بھی سکتا ہے۔ اس کا عقیدہ لبرلزم ہے۔اس پر وہ کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
سیکولرزم
اس کے علاوہ جدید تہذیب کا ایک مظہر سیکولرزم ہے۔ سیکولرزم کیا ہے؟یہ بات کہ مذہب کو انسان کی ذاتی زندگی تک محدود (Curtail) کر دیا جائے،یہ صرف اس کاسیاسی) (Political حصہ ہے۔اصل میں سیکولرزم کیا چاہتا ہے؟اس کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ مذہب ایک لعنت ہے (نعوذ بالله)، اس کو دنیا سے ختم کرنا ہے۔یہ Theory کا ایک حصہ ہے کہ آپ سماجی دائرے) (Public Sphere سے اسے پیچھے کردیں، آخر کار تو اسے ختم کرنا ہی ہے۔Richard Dawkins بہت مشہور Atheist ہے،اس کی کتاب God Delusion بہت مشہور ہوئی۔BBC پر اس کا ایک انٹرویو تھا۔ Interviewer نے اس سے سوال کیا کہ آپ نے اتنی باتیں کرلیں ،آخر میں آپ ان کو کیا پیغام دیں گے جو ابھی تک خدا کے نام لیوا ہیں؟اس نے ایک جملہ کہا۔اس نے کہا ’’Grow Up‘‘۔اب بڑے ہو جاؤ، دنیا بہت آگے جاچکی۔یہ Primitive دور کی باتیں تھیں کہ کوئی اللہ ہے،کوئی آخرت ہے،کوئی روح ہے۔اب بالغ ہوجاؤ،کب تک ایسے کاکے رہو گے اب بڑے ہوجاؤ اور یعنی اس طرح کے تمام توہمات کوچھوڑ دو۔ جاننا چاہیے کہ سیکولرزم صرف Political Theory نہیں ہے۔Ultimately اس کی زد کہاں تک جاتی ہے؟اس کی زد یہیں تک جاتی ہے کہ مذہب کا خاتمہ ہونا چاہیے۔یہ پسماندگی کی علامت ہے،یہ جہل کی علامت ہے،یہ دنیا کو آگے لے جانا نہیں چاہتے۔اسی بے خدا تہذیب کا ایک اور اثر Inclusivism ہے۔یہ جو تمExclusive ہوگئے ہو کہ نجات صرف عیسائیوں کی ہے،نجات صرف یہودیوں کی ہے،نجات صرف مسلمانوں کی ہے،اس خبط سے نکل جاؤ۔Karen Armstrong بہت مشہور خاتون ہیں، ان کی ایک کتاب ہے۔ ’’The Great Transformation‘‘جس کے آخر میں وہ لکھتی ہیں کہ مسلمانوں میں بڑی خرابی پیدا ہوگئی؛پہلے مسلمان بڑے اچھے تھے، کہتے تھے کہ سب کے لیے نجات ہے۔جدید دور میں آکر یہ Exclusive ہوگئے؛انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نجات منحصر ہے محمد رسول اللہﷺ پر ایمان اور ان کی اتباع پر۔ اب اس بیوقوف خاتون کو کون سمجھائے کہ معاملہ تو الٹا ہے۔اسلام چھوڑ دیں،ہر دین جو الحق ہونے کا دعوی کرتا تھا وہ ہمیشہ سے Exclusive رہا ہے۔آپ Bible اٹھا کر دیکھ لیجیے،اس کی Quotation عیسائی عام بیان کیا کرتے تھے۔سیدنا عیسیؑ نے فرمایا:
I am the Way and the Path and the Truth. No one comes to the Father except through Me. (John, 14:6)
’’میں ہی رستہ ہوں، میں ہی جادہ ہوں،میں ہی منزل ہوں،کوئی خدا تک نہیں پہنچ سکتا سوائے میرے واسطے کے ‘‘۔
آپ کو پتا ہے Protestants تک کتنے exclusive تھے؟وہ کہا کرتے تھے کہ Salvation صرف Christ کے ذریعے ہوگی۔لیکن اب آپ دیکھتے نہیں کہ عیسائی بہت تیزی سے اس Claim کو چھوڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوگئے جو Validity Of All Religions کے قائل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ سب مذاہب ٹھیک ہیں۔یہ ہیں جدیدیت کے آثار،کہ مذہبی لوگ،مذہبی پیشوا اس طرح کی باتیں کرنے لگ گئے۔اب کسی کو کافر کہنا محال ہوگیا ہے۔وحید الدین خان صاحب نے پہلی بار یہ بات کہی تھی کہ کسی کوInfidel نہ کہو،کسی کو کافر نہ کہو۔یہ ایسا لفظ ہے کہ اسے لوگ Mind کرتے ہیں،غیر مسلم کہو۔لہذا اب ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ غیر مسلم کہہ سکتے ہیں ہم،کافر کہنے کا حق صرف پیغمبرﷺ کو ہے۔یہ فکر آپ کے یہاں پھیلائی جا رہی ہے،عام کی جارہی ہے۔تو یہ جو Inclusivity ہے کہ سب کی نجات ہے،یہ کیا ہے؟یہ اسی بے خدا تہذیب کے اثرات ہیں۔اسی کا اثر ہے جس کی وجہ سے یہ Pluralism دیکھنے میں آرہی ہے۔Peter Berger ایک بہت بڑا ماہر عمرانیات ہے۔اس نے کہا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ ''Modernity Necessarily Leads To Secularity'' یعنی ہمارا خیال تھا کہ جدیدیت کے ذریعے لازمًا Secularity آئے گی،خدا بے دخل ہوجائے گا۔انھوں نے ہی کہا کہ ہماری Theory غلط تھی،Fundamentalism پیدا ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا واپس آگیا؛ ہم سے غلطی ہوئی،اصل بات کیا تھی ،کہ ''Modernity Necessarily Leads To Plurality'' ۔ پہلے Plurality اور طرح کی تھی اب اور طرح کی ہے۔ اب Plurality کی صورت یہ ہے کہ مغرب میں لوگ اس طریقے سے رہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں کوئی یہودی ہے، عیسائی ہے یا بدھ مت ہے اور یہ تمام حضرات باہم مل جل کر رہ رہے ہیں۔ کیا یہ ہمارے یہاں ہونے نہیں لگ گیا؟یعنی میں ایک Public University میں پڑھاتا ہوں تو کیا میں یہ نہیں جانتا کہ ہر کلاس میں دوتین لڑکےAtheist ہیں۔یعنی اب یہ نہیں ہے کہ سنی شیعہ کو یا مسلمان اور ہندو کو ساتھ رہنا پڑھتا ہے،بلکہ اب آپ کے گھر آنگن میں ، آپ کے اداروں میں،ہر جگہ ایک نہ ایک لڑکا یا لڑکی Atheist ہے۔ اسی طرح جب کوئی آدمی بیرونِ ملک جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہم بلا وجہ غلطی کر رہے ہیں؛ یہ عیسائی، یہودی بہت اچھے لوگ ہیں، یہ ہم سے بھی اچھے لوگ ہیں۔تو تھوڑی دیر میں آپ اپنے ’’الحق‘‘ ہونے والے Claim کو چھوڑ دیتے ہیں۔یہClaim کہ محمد رسول اللہ ﷺ مدارِ نجات ہیں،اس کو چھوڑنا پڑے گا۔بلکہ اب تو اس کو بھی چھوڑنا پڑے گا کہ خدا کو ماننا کوئی نجات کی شرط ہے۔کتنے اچھے لوگ ہیں،کتنے بھلے لوگ ہیں،ہم سے بہتر انسان ہیں مگر کسی خدا کو نہیں مانتے۔یہ اثر ہے جو ہمارے ہرطرف پھیلا ہوا ہے،ہمیں اگر اس کا ادراک نہیں ہے تو یہ ہمارا بھول پن ہے۔
بے خدا تہذیب کے اثرات کی دو قسمیں:
اب میں اس بے خدا تہذیب کے کچھ اثرات آپ کے سامنے رکھتا ہوں بے خدا تہذیب کے اثرات میں سے کچھ تو ظاہری اور سطحی ہیں جبکہ کچھ کسی قدر چھپے ہوئے اور فکری نوعیت کے ہیں ۔میں بالکل صفائی سے عرض کردوں کہ مجھے وہ اثرات بیان نہیں کرنے کہ جو بالکل ظاہری ہیں، بالکل منکشف ہیں؛ مجھے Fashion Shows اور Catwalks کا تذکرہ نہیں کرنا، مجھے بینکوں کا تذکرہ نہیں کرنا، مجھے عریانی و فحاشی کا تذکرہ نہیں کرنا۔مجھے تذکرہ کرنا ہے اِس بےخدا تہذیب کے اُن اثرات کا جو دینی فکر اور دینی اعمال میں در آئے ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے کسی غزالی رحمہ اللہ کی،کسی ابنِ جوزی رحمہ اللہ کی،کسی ابنِ قیم رحمہ اللہ کی،کسی شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی،کسی مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ کی ؛ جو یہ بتا سکے کہ اہل ِمذہب کے یہاں کیا مسئلے پیدا ہوگئے ہیں۔اہلِ مذہب کے یہاں کس طرح شیطان نے دراندازی کی ہے۔کس طریقے سے معاملات کو خراب کیا ہے۔ ہم اسی کو پیٹتے رہیں کہ امریکہ میں اتنے ناجائز بچے پیدا ہوتے ہیں،ادھر اتنے گھر ٹوٹ گئے اور یہ ہوا وہ ہوا،ان باتوں کو چھوڑیں اب! اپنے گریبان میں جھانکیں۔یہ دیکھیں کہ اس جدیدیت نے اہلِ مذہب کو کہاں کہاں ڈسا ہے،کدھر کدھر نقب لگائی ہے اور کیسے کیسے ہمیں اندر باہر سے بدل دیا۔ہمارا Metamorphosis ہو گیا ہے،ہماری قلب ماہیئت ہوگئی ہے،اور تبدیلی وہی کامل ہوتی ہے کہ جس کا احساس ختم ہوجائے۔مغرب کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہےکہ اس نے اپنے آپ کو ہمارے لیے Internalize کردیا ہے۔ ہمارے شعور کی سطح پر ہی اس کے اثرات نہیں ہیں،ہمارے اعماق ِدل میں اس کے اثرات ہیں اور بالکل اندر تک اس نے ہمیں بدل دیا ہے۔ یہ اس تہذیب کی مار ہے۔بہت اچھا کہا تھا اکبرؔ نے:
مشرقی تو سر دشمن کو کچل دیتے ہیں

مغربی اس کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں

ہماری طبیعتیں بدل گئیں ہیں، ابھی ہمیں اس کی اطلاع نہیں ہے لیکن واقعتًابدل گئیں ہیں۔مغربی تہذیب کے یہ اثرات کہ آدمی نے کوٹ پینٹ پہننا شروع کردیا اور ٹائی لگا لی،اورکموڈ استعمال کرنا شروع کردیا یہ سب بہت چھوٹی چیزیں ہیں۔اکبرؔ ہی نے کہا تھا کہ:
نظر ان کی رہی کالج میں بس علمی فوائد پر

گرا کیں چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر

جو اصل غدر مچا ہے وہ اس پہ تھوڑی ہے کہ آپ نے کموڈ استعمال کرنا شروع کردیا اور آپ نے کوٹ پینٹ اور ٹائی لگا لی۔اصل صدمہ تو یہ ہے کہ دین کو غارت کردیا۔دین کے عقائد کو بدل دیا ، دین کی ترجیحات اور ترتیبات کو بدل دیا۔ میں نے عرض کیا کہ وہ چیزیں جو بالکل ظاہر و باہر ہیں بالکل آشکار ہیں وہ ہمارا موضوعِ بیان نہیں ہیں۔
علم الکلام ، فقہ اور تصوف کا انکار
جدیدیت کا جو اثر دینی فکر میں آیا ہے،اس کے لیے کچھ عملی مثالیں ملاحظہ ہوں:دین کے تین بڑے شعبےتھے۔ اگر آپ حدیث جبرائیل علیہ السلام کا مطالعہ کریں تو اس کی شرح میں علماء نے صاف لکھا ہے کہ اسلام ،ایمان اور احسان ، سے تین بڑے شعبے پیدا ہوئے۔اسلام سے فقہ پیدا ہوئی،ایمان کی تفصیلات سے کلام،عقیدے کی بحثیں پیدا ہوئیں اور احسان؛اس کی تفصیل سے تصوف پیدا ہوا۔تو ہم دیکھ نہیں رہے کہ جدیدیت کے اثر سے مسلمانوں کے مذہبی لوگوں میں یہ فکر پیدا ہو رہی ہے کہ ان تینوں شعبوں کا انکار کردیا جائے۔یعنی کہ یہ فقہ وغیرہ بھی غلط ہے،یہ قیاس ہے اور’’أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ‘‘ سب سے پہلے قیاس ابلیس نے کیا تھا کہ اللہ کو کہا ’’أَنَا خَيرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ‘‘ لہذا فقہ غلط ہے،یہ اصحاب الرائے ہیں، اصل بات تب ہے کہ جب نص دکھاؤ ۔ ہمارے ایک دوست ہیں ،وہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارا تو بھائی نعرہ یہ ہے کہ نص لاؤ یا نَس جاؤ۔(یعنی بھاگ جاؤ )تو یہ جو ایکLiteralism ہے کہ نص دکھاؤ۔۔۔خدا کے بندو! امت کی ایک تاریخ ہے۔کہاں گئےامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے کارنامے؟زندگی ضائع کردی امام شافعی رحمہ اللہ نے؟اپنے آپ کو ضائع کیا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے،امام مالک رحمہ اللہ نے؟تو کیااس ساری روایت کا انکار کردیں؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں! ہم یوں کہیں کہ جی ہم تو نص کو خود سمجھیں گےیہ قرآن ہے،یہ حدیث ہے اور ہم نے عربی گرامر پڑھ لی ہے، ہم نے عربی کا معلم بھی پڑھ لیا اور ہم عالم بن گئے ، اب ہم قرآن مجید کی تفسیر خود کریں گے، خود اجتہاد فرمائیں گے۔۔۔یہ ہے جدیدیت کا اثر۔اور یہ تصوف کہاں سے آگیا ہے،یہ کیا ضلالت ہے،یہ ایک عالمگیر ضلالت ہے،یہ ایک متوازی دین ہے وغیرہ وغیرہ (أستغفر الله)۔ جب آپ یہ کہہ رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ اس پوری امت کی تغلیط کررہے ہیں!آپ جنید رحمہ اللہ کا انکار کر رہے ہیں،آپ بایزید رحمہ اللہ کا انکار کر رہے ہیں، آپ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا انکار کر رہے ہیں۔ہم پیٹتے رہتے ہیں کہ امت کے مجددین،امت کے مجددین۔کون تھے امت کے مجددین ؟ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کون تھے؟شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کون تھے؟سید احمد شہید رحمہ اللہ کون تھے؟محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کون تھے؟مولانا الیاس رحمہ اللہ کون تھے؟ان میں سے کون ہے جو سکہ بند) (Bonafide صوفی نہیں ہے؟ اور ہم ان لوگوں پر زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے نہیں شرماتے؟اکبر ؔنے کہا تھا:
کہاں کے قبلہ کہاں کے قبلی
 جنید کیسے کہاں کے شبلی
عوض تصوف کے ہم نے طب لی
 بنیں گے سرجن مزا کریں گے

کہاں کے جنید رحمہ اللہ ،کہاں کے شبلی رحمہ اللہ ، اس امت کی پوری روایت پر پانی پھیر دیں کہ یہ بدعتی ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیخ محمود آفندی نقشبندی مجددی حفظہ اللہ (ترکی) بدعتی ہیں، کیا محمود آفندی بدعتی ہیں؟یوٹیوب پر ویڈیو موجود ہے؛دیکھیں ذرا! وہ حج کے سلسلے میں مدینے گئے،آپ دیکھیں تو ایسا معلوم ہو گا کہ کوئی بادشاہ آرہا ہے۔ میں نے وہ منظر دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ ایک مرتبہ خلیفہ اور اس کی بیگم حرم میں آئے تو کوئی متوجہ ہی نہیں ہو رہا تھا۔ایک دم ایک آدمی آیا اور اس کے گرد ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے ۔پوچھا گیا یہ کون ہے؟بتایا گیا کہ یہ رسول اللہﷺ کا صاحبزادہ ہے،یہ علی بن حسین رحمہ اللہ ہے،یہ زین العابدین رحمہ اللہ ہے۔اس پر اس نے کہا کہ سچ ہے کہ دلوں پر تو حکومت ان کی ہے،ہم تو جسموں پر حکومت کرتے ہیں۔
 یہ ہمارے تین Disciplines ہیں؛ کلام تصوف اور فقہ ۔یہ جدیدیت ہے کہ ان سب کو Undo کریں اور Jump لگاکرکہیں اوپر پہنچ جائیں۔ ایک زمانے میں ایکReader آیا تھا۔Fundamentalist اورModernist تحریریں ساتھ ساتھ تھیں ۔ میں نے کچھ تحریریں پڑھیں غلام احمد پرویز کی، ڈاکٹرفضل الرحمان کی اور مولانا مودودی رحمہ اللہ کی؛ مجھے بہت یکسانیت محسوس ہوئی۔یہ میں عرض کردوں کہ وہ لوگ جو مولانا مودودی رحمہ اللہ ، ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ ، ڈاکٹر ذاکر نائک اور میڈم فرحت ہاشمی سے متاثر ہیں یہ پرویزی اور خاص طرح کی جدید فکر کے لیے سب سے نرم چارہ ہیں۔ان کی طبیعتیں آزاد ہیں۔ بعض اوقات میں اس قسم کے لوگوں کی گفتگو سنتا ہوں تو ہکا بکا رہ جاتا ہوں،مجھے لگتا ہے پرویز صاحب بھی رشک کریں گے ان پر کہ یہ کیا گفتگو کر رہے ہیں۔یعنی الف کا ب ان کو پتا نہیں اور وہ قرآن و سنت پر ہاتھ صاف کررہے ہیں،یہ ہے جدیدیت۔
تواترِ امت کا انکار
کیا یہ جدیدیت ہی کا مظہر نہیں کوئی بھی مسخرہ پگڑی لگا کر بیٹھ جائے اور انٹرنیشنل نمبر کہہ کر جو چاہے چورن بیچ دے ۔ مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ آدمی بڑی اچھی باتیں کرتا ہے ۔کون ہے وہ آدمی؟ اس کا کوئی حسب ونسب ہے؟ اس کے استاد کون ہیں؟کہاں سے اس نے دین سیکھا ہے؟ ایک صاحب نے مجھے ویڈیوبھیجی،بڑے متأثر ہوئے کہ اس میں تو لکھا ہوا ہے کہ اہل سنت کے یہاں تو بخاری میں بھی روایت ہے کہ مغرب عشاء اور ظہر عصر اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔میں نے کہا کہ اس میں انکشاف کی کیا بات ہے؟ میں حدیث کا طالب علم ہوں،روز مرہ ہم یہ حدیثیں پڑھتے ہیں۔تو کیا ( محض )حدیث پڑھ کر عمل کرنا ہے یا امت کا تواتر بھی کچھ ہے۔ بِغَيرِ سَفَرٍ وَلَا َمدَرٍ وَلَا مَطَرٍ وَلَا عُذْرٍ پیغمبر ﷺنے جمع کی نمازیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دیکھیں یہ بات آپ کو آپ کا مولوی نہیں بتاتا۔ کیوں نہیں بتاتا ! جائیے دینی تعلیم حاصل کیجیے ہر مولوی بتائے گا۔کیا ایک روایت سے دین لینا ہے یا پوری امت کے تواتر سے دین لینا ہے؟ ایک صاحب نے انھی کی ایک ویڈیو بھیجی اوراس میں انھوں نے کہا کہ امام مسلم کی ایک روایت نے تصوف کا گلا کاٹ دیا۔تصوف کا گلا کاٹ دیا یعنی جنید رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا،با یزید رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا،حسن بصری رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا،عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا۔ اس طرح کے مسخروں سے ہمارے لوگ متأثر ہوجاتے ہیں۔ وجہ وہی ہے،کہ ہماری تربیت صحیح نہیں ہے۔
یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے
بعض حضرات یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ دیکھیں ہمیں تو بات کو دیکھنا چاہیے کہ بات کیا ہو رہی ہے، آدمی اہم نہیں ہے؛یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ یہ جو تصور ہے کہ ہمیں بس بات کو دیکھنا چاہیے، تو باتیں تو رمضان میں میڈیا پر آ کر ناچنے والی طوائفیں بھی بہت اچھی کرتی ہیں۔ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ کا استاد کون ہے، دینی روایت میں اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو کوئی بھی مسخرہ آئے گا،کوئی بھی دجال آئے گا اور آپ کواپنے تابع کر لے گا۔ میں فقہ پڑھا رہا ہوں،مجھے پتا ہونا چاہیے کہ میرا استاد کون ہے، مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ حدیث میں میرا استاد کون ہے،میں فلسفہ پڑھا رہا ہوں،فلسفے میں مجھے میرا استاد معلوم ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تویہ ہے جدیدیت،یہ ہیں بے خدا تہذیب کے اثرات۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے اس کا Context بالکل اور ہے کہ یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے،یہ دیکھو کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب کچھ اور ہے۔ہاں فلسفے میں Kant کیا تھاKant ہم جنس پرست تھاتو ہوتا رہے،ہمیں اس سے فلسفہ سیکھنا ہے۔جس سے ہم دین سیکھیں گے اس کی شخصیت کو بھی دیکھیں گے۔اس کا دینی، علمی اور روحانی شجرۂ نسب بھی دیکھیں گے۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو ہم جدیدیت کا شکار ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ جدید فکر کی بنیادیں یہ ہیں کہ کلام،تصوف اور فقہ کا رد کردینا اور سیدھا کسی موہوم علاقے میں چھلانگ لگا لینا۔ میں آپ سے یہ عرض کردوں کہ ہمارے یہاں جو Fundamentalists ہیں اور جو Modernists ہیں ان میں کچھ فرق نہیں ہے؛ دونوں اس امت کی روایت کا انکار کرتے ہیں۔فرق صرف Interpretation کا ہے۔جو Fundamentalists ہیں وہ نصوص کی Literal Reading کرتے ہیں اور جو Modernists ہیں وہLiberal Reading کرتے ہیں؛ باقی کوئی فرق نہیں ہے۔اگر کوئی چیز ہمیں بچا سکتی ہے تو وہ اس دین کی پوری روایت ہے۔شیخ حبیب علی جفری سے کسی نے کہا کہ تم سادات ہو تم نے اپنے باپ دادا کا دین کیوں چھوڑ دیا ہے؟ تم شیعہ کیوں نہیں ہوئے؟انھوں نے کچھ جوابات دیے اور پھر کہا کہ دیکھو یہ جو میں نے خرقہ پہنا ہوا ہے اور یہ جو عمامہ میرے سر پر ہے یہ میرے استاد نے مجھے پہنایا ہے،ان کو ان کے استاد نے،ان کو ان کے استاد نے،ان کو ان کے استاد نے۔۔۔یہاں تک کہ حضرت جعفر صادق، حضرت علی بن حسین رحمہما اللہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ،یہاں تک کہ محمد رسول اللہﷺ! یہ ہے دین کی روایت کہ اس دین کے تمام اجزاء مسلسل اور متوازن ہیں۔
خود نمائی: جدیدیت کا سب سے مضر اثر
جدیدیت کے فروغ میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، اسی ٹیکنالوجی کا ایک مظہر سوشل میڈیا اور فیس بک وغیرہ ہیں۔ فیس بک اصل میں ایک Tool ہے،لوگ اسے کاروبار کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اورNetworking کے لیے بھی۔لیکن ٹیکنالوجی کے بارے میں ہمیں زیادہ خوش فہمی کا شکار (Euphoric) ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ فیس بک اصل میں کیا ہے،اس دور کی جو قدر (Ethos) ہے وہ دکھائی دینا یا خود مرئیت(Visibility) ہے ؛ ہر چیز Visible ہو، اپنے آپ کو دیکھتے رہنا اور اپنا تذکرہ ہر وقت کرنا۔Facebook اپنے آپ کو دیکھتے رہنے اور اپنے آپ پر فدا ہونے کا آلہ ہے۔
اورنگزیب رحمہ اللہ کی ایک بیٹی تھی،اس کا نام تھا زیب النساء،مخفی اس کا تخلص تھا۔ اورنگزیب کو خاقانِ چین نے ایک آئینہ دیا،بڑا خوبصورت آئینہ تھا۔ ایک روز کسی باندی کے ہاتھ سے ٹوٹ گیا،تو باندی آئی اور اس نے کہا کہ:

از قضا آئینۂ چینی شکست

قضا سے چینی آئینہ ٹوٹ گیا۔ تو زیب النساء وہیں کھڑی تھیں،انہوں نے کہا:
خوب شد اسبابِ خود بینی شکست

بہت اچھا ہوا اپنے آپ کو دیکھنے کا سبب ہی ختم ہوگیا۔
جدیدیت کا حل: رسول اللہﷺ سے شخصی تعلق
اس دفعہ میرا حرمین جانا ہوا تواللہ تعالیٰ نے یہ بات میرے دل میں راسخ کردی کہ تعلق مع الرسولﷺ کے بغیر کوئی دین نہیں ۔ آپ توحید توحید کی رٹ لگائے رہیں،پیغمبر ﷺسے آپ کا شخصی تعلق نہیں ہے تو آپ کا وہی حال ہوگا جو ان توحید توحید کی رٹ لگانے والوں کا ہو گیا ہے۔کچھ عرصے میں آپ دیکھیں گے کتنی تیزی سے یہ لوگ لبرلزم کی طرف جائیں گے۔میں نے خود سنا کہ میں مواجہہ شریف سے گزر رہا ہوں تو ایک عرب نے ایک بابا جی کو جو روضۂ مبارک کی دیوار کو چومنے کی کوشش کر رہے تھے ان کو روکتے ہوئے کہا کہ تم کیا ہر دیوار کو چومتے ہو؟اس بدتمیز کو یہ نہیں پتا کہ یہ ہر دیوار ہے؟یہ پیغمبرﷺ کا روضہ ہے!ٹھیک ہے وہ بے چارہ سادگی میں ایک کام کررہا ہے، اس حوالے سے ایک روایت ملاحظہ ہو: ’’حضرت داؤد بن ابو صالح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز (خلیفۂ وقت) مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور نبی اکرﷺکی قبرِ انور پر اپنا چہرہ جھکائے ہوئے ہے، تو اس نے اس آدمی سے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ (صحابی رسولﷺ) حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انھوں نے (جواب میں) فرمایا : ہاں (میں جانتا ہوں) میں رسول اﷲﷺکی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا ہوں اور کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا : میں کسی تاریک جگہ پر نہیں آیا) میں نے رسولِ خدا ﷺکو یہ فرماتے سنا ہے : دین پر مت رو جب اس کا ولی اس کا اہل ہو، ہاں دین پر اس وقت رو جب اس کا ولی نا اہل ہو‘‘۔(اس حدیث کو امام احمد، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے)۔
ایسا ہی ایک واقعہ مسندِ احمد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل ہوا: ’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کعبے کا طواف کر رہے تھے تو ہر ہر رکن کو بوسہ دے رہے تھے،کسی نے کہا کہ یہ کیوں کر رہے ہیں،تو انھوں نے کہا کہ اس گھر کا کوئی حصہ چھوڑنے والا نہیں ہے۔کسی نے کہا کہ پیغمبرﷺ تو بس رکن یمانی کا استلام کرتے تھے اورحجر اسود کا بوسہ لیتے تھے تو انھیں تنبہ ہوا۔لیکن محبت بھی تو کوئی چیز ہے، پیغمبرﷺ سے تعلق بھی تو کوئی چیز ہے ۔ایک صاحب ریاض سے آئے تھے،وہ بتا رہے تھے کہ میں روضے پر سلام پڑھ رہا تھا تو ایک صاحب نے کہا کہ کوئی فرق نہیں ہے،یہاں آکر کیوں پڑھتے ہو کہیں سے بھی پڑھ لو۔۔۔کوئی فرق نہیں ہے؟یعنی رسول اللہ ﷺ فرمائیں یہاں آکر مخاطب کیا جاسکتا ہے اور انھی میں ایسے جاہل لوگ بھی پیدا ہوگئے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہاں جا کر بھی مخاطب کرنا جائز نہیں ہے۔انھوں نے تأویل یہ نکال لی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تو قبر مبارک پر جا کر مخاطب کرتے تھے جالی کے باہر سے مخاطب کرنا جائز نہیں ہے ، واضح رہنا چاہیے یہ محض کوئی جذباتی بات نہیں، نہ ہی یہ کسی قسم کا شرک اور بے ادبی ہے،بلکہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے آداب میں سے یہ بات ہے آپﷺ کے روضۂ انور پر حاضری کےوقت چہرہ آپﷺ کے روضے کی طرف ہو اور پیٹھ قبلے کی طرف، با ادب کھڑا ہو اور کہے: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ( )۔
میں عرض کردوں کہ نبیﷺ سے ذاتی تعلق ہو۔صرف امر سے نہیں بلکہ ذات سے تعلق ہو۔اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ لوگوں کوپیغمبرﷺ کی مبارک ذات سے جوڑا جائے۔صرف امر سے نہیں ذات سے،ورنہ وہ ظاہریت پیدا ہوگی جس نے امت کو غارت کردیا۔تین فتنے ہیں،جدیدیت،ظاہریت اور خارجیت۔اور بقیہ دو بھی اصلًا جدیدیت ہی کے بچے ہیں۔اصل فتنہ تو جدیدیت اور اس کا حل صرف یہی ہے کہ نبیﷺ سے تعلق قائم کیا جائے۔ اقبالؔ کا ایک شعر ہے:
عصر ما مارا از ما بیگانہ کرد

از جمالِ مصطفی بیگانہ کرد

اس زمانے نے ہمیں اپنے آپ سے بیگانہ کردیا،ہمیں جمال مصطفی ﷺسے بیگانہ کردیا۔
کسی رسالے میں اقبال کا یہ مصرع چھپ گیا تھا:
نگاہے یا رسول اللہ نگاہے
اس پر ایک طوفان بدتمیزی مچا کہ یہ شرک ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں لوگوں کو سِکھانا چاہیے کہ اپنی اوقات میں رہیں۔یا تو دین سیکھیں یا ان لوگوں سے پوچھیں جو دین جانتے ہیں۔حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کی ایک نعت ہے،مناجات ہے، اس کو ملاحظہ فرمائیے،ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ حکیم الاسلام قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کو نہیں پتا تھا کہ توحید کسے کہتے ہیں۔میں اپنی اس گفتگو کو حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کے نعتیہ اشعار پر ختم کرتا ہوں، ذرا دیکھیے تو رسالت مآبﷺ سے شخصی تعلق کیا ہوتا ہے :
نبی اکرم شفیعِ اعظم دکھے دلوں کا پیام لے لو
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا نظر سے روپوش ہے کنارا
نہیں کوئی ناخدا ہمارا خبر تو عالی مقامؐ لے لو
قدم قدم پہ ہے خوفِ رہزن زمیں بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہم سے ہوا ہے بدظن تم ہی محبت سے کام لے لو
کبھی تقاضا وفا کا ہم سے کبھی مذاقِ جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفا ہے ہم سے خبر تو عالی مقامؐ لے لو
یہ کیسی منزل پہ آ گئے ہیں نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا تمام اپنے غلام لے لو
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزارِ اقدس پہ جا کے اک دن
سناؤں ان کومیں حال دل کا کہوں میں ان سے سلام لے لو
اور افتخار عارف کے یہ اشعار دیکھیں:
دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے

میں بس یونہی تو نہیں آگیا ہوں محفل میں
کہیں سے اذن ملا ہے تو حاضری ہوئی ہے

جہانِ کن سے ادھر کیا تھا، کون جانتا ہے
مگر وہ نور کہ جس سے یہ زندگی ہوئی ہے

ہزار شکر غلامانِ شاہِ بطحا میں
شروع دن سے مری حاضری لگی ہوئی ہے

بہم تھے دامنِ رحمت سے جب تو چین سے تھے
جدا ہوئے ہیں تو اب جان پر بنی ہوئی ہے

سر اٹھائے جو میں جارہا ہوں جانبِ خلد
مرے لیے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے

مجھے یقیں ہے وہ آئیں گے وقتِ آخر بھی
میں کہہ سکوں گا زیارت ابھی ابھی ہوئی ہے

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين.

Maqalaat

بے خدا تہذیب، اسباب واثرات

Jul 11 2019

بے خدا تہذیب، اسباب واثرات
اَ
لْحَمْدُ لِلّٰه رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاة وَ السَّلَامُ عَلٰي أَشْرَفِ خَلْقِ الله وَ سَيدِ الْمُرْسَلِينَ وَ عَلٰي آلِهٖ وَ أَصْحَابِهٖ أَجْمَعِينَ۔ لَا إِلٰه إِلَّا الله الْمَلِك الْحَقُّ الْمُبِينُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله صَادِقُ الْوَعْدِ الْأَمِينُ۔

مَوْلَايَ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أبداً

عَلٰي حَبِيبِك خَيرِ الْخَلْقِ كلِّهمٖ
ثُمَّ الرِّضَا عَنْ أَبِي بَكرٍ وَعَنْ عُمَرَ
وَعَنْ عَلِيٍّ وَ عَنْ عُثْمَانَ ذِيْ الْكرَمٖ

أعوذ بالله من الشيطٰن الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
﴿ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا﴾ (الكهف:7-8)
﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾ (الحشر:19-20)
 ﴿يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ﴾ (الروم:7)
قالَ النَبِيُّﷺ: ((يحْمِلُ هذَا الْعِلْمَ مِنْ كلِّ خَلَفٍ عُدُوْلُهُ ينْفُوْنَ عَنْه تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَ انْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ الْجَاهلِينَ)) (أخرجه البيهقي في المدخل إلي السن) أو كما قال رسولُ اللهﷺ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِيْ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِيْ،اللّٰهمَّ انْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا وَ عَلِّمْنَا مَا ينْفَعُنَا وَ زِدْنَا عِلْمًا، اللّٰهمَّ لَا سَهلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهلًا وَ نأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهلًا۔آمِين يا رَبَّ الْعٰلَمِينَ
۔
تمہید
دین کا عالم وہ ہوتا ہے جسےنصوص کے ساتھ ساتھ اپنے پیش و عقب کاعلم بھی حاصل ہو۔ یعنی فرامین خدا و رسول اور ان کے صحیح مطالب کے ساتھ اپنے معاشرے بلکہ اپنے مخاطَب معاشروں کی واقفیت بھی اسے حاصل ہو، کہ ان معاشروں کے اقدار و آثار یا ہیں چنانچہ اس ضرورت کے تحت خادمان دین و علم دین کے لیے تہذیب حاضر کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ 
دین کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے میں بھی طویل عرصے سے ،جدیدیت (Modernity)، مابعد جدیدیت (Postmodernity)،شہری /سول سرمایہ داریت (Civil-Capitalism)، سماجیات (Sociology)، مواصلات Media) (، صنعتی فنیات Technology) )کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔
 میرے لیے یہ موضوع دقت و مشکل کا باعث ہے ۔اس مشکل کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ موضوع کئی اطراف و جوانب پر وسیع و محیط ہے اور دوسرے یہ کہ بحمدہ تعالی اس موضوع پر میرا مطالعہ بھی ایک طویل عرصے پر محیط ہے۔ چنانچہ ایک وسیع موضوع پر سالوں کے مطالعے کو ایک مختصر مضمون میں پیش کرنا ایک مشکل امر ہے ۔ مشکل کا تیسرا پہلو جذبات سے متعلق ہے اگرچہ یہ ایک فکری بحث ہے لیکن ان نقصانات کے سبب جو ہمیں تہذیب جدید نے پہنچائے ،ایک جذباتی موضوع بھی بن چکا ہے ۔احمد مشتاقؔ کا ایک بڑا اچھا شعر ہے۔اس نے کہا تھا:
اس لیے حالِ دل نہیں کہتا

کہیں جذبات میں نہ بہہ جاؤں

تو کوشش کی جائے گی کہ طوالت و جذباتیت دونوں سے بچتے ہوئے ، اپنے طویل مطالعے اور تفکر کا ایک خلاصہ آپ کے سامنے رکھا جائے جو عصر حاضر کی بناوٹ اور اس کے اصول و آثار کو سامنے لا سکے۔
تہذیب جدید کی ہمہ گیریت 
مولانا ظفرعلی خان رحمہ اللہ کی نعت کامصرعہ ہے :
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم ہی تو ہو
اگرچہ ظاہر ہے کہ مصرعہ رسول اللہﷺکے بارے میں کہا گیا تھا لیکن اس میں کہی گئی بات ہم پر اور ہماری تہذیب پر بھی صادق آتی ہے۔ فی الواقع ہم جس دنیا میں بس رہے ہیں وہ اپنی بنیادوں سے لے کر اپنے میناروں تک ساری کی ساری مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔ تخلیق کے اعتبار سے یقینا اللہ ہی نے دنیا بنائی ہے لیکن تشکیل کے اعتبار سے یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں وہ ساری کی ساری اپنے اندر باہر سے مغرب کی بنائی ہوئی ہے۔یعنی وہ تہذیب و معاشرت جس کے ہم باسی و عادی ہیں، اس کے اصول و اطلاق مغرب کے طے کردہ ہیں ۔ جمیل الدین عالیؔ کے دوہے کا ایک مصرعہ ہے، انھوں نے کہا تھا کہ :
مچھلی بچ کہ جائے کہاں جب جَل ہی سارا جال !
یعنی جو ندی ہے وہ ہی سب جال ہے تو مچھلی کے بچنےکا کیا سوال، تو چونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ ساری کی ساری مغرب کی بنائی ہوئی ہے، اس وجہ سے کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں مغرب کے اثرات سے بچا ہوا ہوں۔ 
۱۹۶۰ کی دہائی میں ایک ایرانی سکالر جلال آل احمد کی ایک کتاب چھپی تھی۔ اس کتاب کا نام تھا غرب زدگی۔اس کا ترجمہ کیا گیا تھا ’’Westoxification‘‘۔ توہم سب ہی غرب گزیدہ (Westoxified ) ہیں، کوئی کم گزیدہ ہے تو کوئی زیادہ گزیدہ ہے۔ تبدیلی کی سب سے کامل شکل وہ ہوتی ہے جو محسوس نہ ہو،یعنی مغرب کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنی فکر کو ہمارے لیے Internalize کر دیا ہے۔وہ ہمارے تحت الشعور میں ہے۔وہ جو شعور کا ایک ایسا حصہ ہوتا ہے جس کو ہم خود نہیں پہچانتے،اس سطح پر مغرب کی مار ہے۔اور ابھی کچھ باتوں سے آپ کواندازہ ہوجائے گا کہ مغرب کی رسائی کہاں تک ہے، یعنی یہ موضوع اس اعتبار سے بھی مشکل ہے کہ ہم اگر یہ کہیں کہ ’’جدید مغرب کے یا بے خدا تہذیب کے اثرات‘‘،تو گویا ہمیں یہ بتانا ہوگا کہ جدید دنیا یا بے خدا تہذیب ہےکیا!
بے خدا تہذیب کیا ہے؟
ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ تہذیب ہے کیا؟اس کے نمایاں خدوخال کیا ہیں؟ اس کے اثرات کیا ہیں ؟دراصل اس موضوع کے Frame-Work میں ڈاکٹر اسرار احمدصاحب رحمہ اللہ کی بھی کچھ تصنیفات شامل ہیں جن میں ’اسلام کی نشأۃ ثانیہ۔ کرنے کا اصل کام‘،’اسلام اور پاکستان‘ کے کچھ مضامین؛عقل اور نقل کی کشمکش اور دیگر کچھ مضامین بھی ہیں جو مل کر اس Frame-Work کی تشکیل کرتے ہیں۔چنانچہ میں اس موضوع کے حوالے سے ابتدائی باتیں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے حوالے سے ہی کروں گا، یعنی میری اس گفتگو کا بنیادی Frame-Work تو ڈاکٹر صاحب ہی سےماخوذ ہو گا لیکن مثالیں میری اپنی ہوں گی۔
’’اسلام کی نشأۃ ثانیہ ۔کرنے کا اصل کام ‘‘ نامی کتابچے میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ تین باتیں بتاتے ہیں۔ایک تو انھوں نے اس میں بتایا ہے کہ گزشتہ ۲۰۰سال سے ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس کی تشکیل مغرب نے کی ہے۔مغرب میں کچھ تاریخی معاملات ہوئے جو اس تبدیلی کا باعث بنے، ان مراحل کو ہم بالترتیب ذکر کرتے ہیں :
Renaissance 
فرانسیسی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی دوبارہ پیدائش کے ہیں، اسے اصطلاحاً تحریکِ احیاءِ علوم بھی کہتے ہیں،احیاء علوم یورپ کی تاریخ کا ایک عہد ہے، جس کا آغاز قرون وسطی کے بعد لگ بھگ ۱۴۰۰ عیسوی میں ہوا۔
 Scientific revolution یا سائنسی انقلاب
 عہد جدید کے آغاز میں ایسے واقعات کے سلسلے کا نام ہےجس کے نتیجے میں جدید سائنس رونما ہوئی، جب ریاضیات، طبیعیات، علمِ نجوم، حیاتیات بشمول تشریح الاعضاء (human anatomy)، اور علمِ کیمیا میں ترقی نے قدرت سے متعلق معاشرتی تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔
Reformation یا تحریکِ اصلاح
مغربی عیسائیت میں اس تفریق کو کہا جاتا ہے جس کا آغاز سولہویں صدی میں یورپ میں مارٹن لوتھر نے کیا، اور جسے ہلڈرچ زونگلی، جون کیلون اور دیگر پروٹیسٹنٹ اصلاح پسندوں نے جاری رکھا۔
Industrial revolution یا صنعتی انقلاب
نئے صنعتی طریقہ کار کی طرف منتقلی کا نام ہے، جو ۱۷۶۰ سے ۱۸۲۰ اور ۱۸۴۰ کے درمیان کے زمانے میں واقع ہوا۔
French revolution یا فرانسیسی انقلاب
 ۱۷۸۹ میں شروع ہونے والے دور رس معاشرتی اور سیاسی ہنگاموں کا دورہے، جو فرانس اور اس کی نو آبادیات میں واقع ہوا۔
Enlightenment یاتحریک تنویر
جسے عہد تنویر اور عہد دانش بھی کہا جاتاہے یورپ کی ایک علمی اور فلسفیانہ تحریک کا نام ہے، جس نے تصورات کی دنیا میں اٹھارہویں صدی میں اپنا لوہا منوایا، وہ صدی جو فلسفے کی صدی سے موسوم ہے۔
یہ وہ تمام مراحل تھے جن میں مغرب کے یہاں ، ان کے لوگوں کی فکر میں ایک بنیادی تبدیلی آئی،اور ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے ایک اہم بات یہ کہی کہ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی چیز بالکل ہی ختم ہوجائے بلکہ وہ کہا کرتے تھے کہ Shift Of Emphasis ہوا ہے۔کچھ چیزوں پر نگاہ زیادہ مرتکز ہوگئی اور کچھ چیزوں سے نگاہ ہٹ گئی۔اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے ایک بہت اہم بات لکھی ہے کہ مغرب میں تین چیزوں کو تین پر فوقیت و ترجیح دی گئی ،تین چیزوں کے مقابل میں تین چیزیں آگئیں۔پہلے تو یہ ہوا کہ مغرب میں خدا کے بجائے کائنات پر توجہ مرتکز ہوگئی۔
 ظاہر بات ہے کہ کائنات کو بہت سجا بنا دیا گیا،بہت زینت دے دی گئی۔سورۂ کہف کی آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے::
﴿إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ﴾ (الكهف:7)
جو کچھ اس زمین پر ہے اسے ہم نے اس کے لیےمزین کردیا ہے تاکہ ہم جانچیں کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے زیادہ خوبصورت ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ دنیا کی بڑی کشش ہے،اس میں بڑی چمک دمک ہے لیکن اصل بات اگلی آیت میں ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے جسے ہم بھلا دیتے ہیں۔
﴿وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا﴾ (الكهف: 8)
اور بیشک ہم اِن (تمام) چیزوں کو جو اس (روئے زمین) پر ہیں (نابود کر کے) بنجر میدان بنا دینے والے ہیں۔ایک تو یہ تغیر( Shift ) ہوا کہ خدا کے بجائے کائنات پر توجہ مرتکز ( Focus ) ہوگئی۔
دوسرے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ روحِ انسانی کی جگہ جسم پر توجہ مرتکز ہوگئی۔سورۂ حشر میں فرمایا:
﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾ (الحشر:19-20)
ان لوگوں کے مانند نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انھیں اپنے آپ ہی سے غافل کردیا۔ تو جب اللہ تعالی پر کائنات کو ترجیح دی گئی اور گویا اللہ کی ذات و قدرت کو فراموش کر دیا گیا اور اللہ کو بھلا دیا گیا تو اس کے نتیجے میں ہم اپنی حقیقت سے غافل ہو گئے ہماری وہ حقیقت جو انسان کا اصل جوہر ہے جس کو اقبالؔ نے کہا کہ:
نقطۂ نوری کہ نامِ او خودی است

زیرِ خاکِ ما شرارِ زندگی است

وہ ایک نقطۂ نوری ہے جس کا نام خودی ہے،میری اس خاک کے اندر زندگی کا شرار اس کا جوہر ہے،اور وہ روح ربانی ہے۔ وہ Divine Sparkہے۔تو ہوا یہ کہ اس روح سے توجہ ہٹ گئی اور جسم پر مرکوزہوگئی۔اورپھر ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے بتایا کہ تیسرا Shift Of Emphasis یہ ہوا کہ حیات اخروی کے بجائے حیات دنیوی پر Focus ہوگیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ﴾ (سورة الروم: 7)
یعنی یہ لوگ دنیا کی زندگی کے بس ظاہر ہی کو جانتے ہیں اور آخرت سے محجوب ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر دنیا کی زندگی کی بھی حقیقت کو پہچان لیں،کنہ کو جان لیں تو ممکن نہیں ہے کہ آخرت سے غافل ہوں۔دنیا کی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟اور انسان کی حقیقت کیا ہے؟یہ انسان بھی اور یہ دنیا بھی مخلوق ہیں۔سب سے پہلی حقیقت یہ ہے۔ اور دوسری حقیقت کیا ہے؟یہ سب عبد ہیں؛یہ انسان بھی اور یہ کائنات بھی۔ اور تیسری حقیقت کیا ہے ؟ انسان بھی اور یہ کائنات بھی فانی ہیں،لا فانی نہیں۔ایک خاص وقت تک کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔کہا گیا کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، اگر اس کے بھی باطن سے آشنا ہوجاتے تو کبھی ایسا رویہ اختیار نہ کرتے۔ تو چونکہ اہل مغرب پہلے تو یہ طے کر چکے تھے کہ ماننا اس چیز کو ہے جو ہمارے تجربے میں آسکے اور جو چیزیں تجربے یا حواس میں نہ آسکیں وہ ناقابل التفات ہیں۔ چاہے وہ ذات باری ہو یا روح ربانی ، اسی پر پھبتی کسی جناب اکبر نے :
کیونکر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز

جغرافیے میں عرش کا نقشہ نہیں ملا


جغرافیے میں عرش کا نقشہ آپ کو نہیں ملے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ نقشے میں جو کچھ ہے ان کے مطابق بس وہی وجود رکھتا ہے۔اسی طرح سے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ انسان کا آپ اندر باہر سے سارا Scan لے لیں تو حسی طور پر تو ساری چیزیں ظاہر ہو جائیں گی،لیکن روح کسے کہتے ہیں یہ معلوم نہیں ہوگا،یہ اس میں Detect نہیں ہوسکتی ، اگرچہ ہمارے یہاں ایسے لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جو ایک خاص طرح کی مرعوبیت کا شکار ہیں؛کچھ عرصے پہلے کہیں پر خبر آئی تھی کہ روح Detect ہوگئی ہے،اس کا وزن بھی انھوں نے نکال لیا ہے،لیکن یہ بچکانہ باتیں ہیں۔کچھ چیزیں غیب ہیں اور غیب ہی میں رہیں گی،ایک قسم تو ان چیزوں کی ہے جو Relative غیب ہیں۔بہت سے پرانے لوگوں کے لیے وہ غیب تھیں اب وہ شہود ہوگئیں۔وہ اصل میں غیب تھیں ہی نہیں،لیکن کچھ چیزیں غیب ہیں ،ان کا غیب میں ہونا ہمیشہ متحقق رہے گا۔ وہ کبھی شہود میں نہیں ہو سکتیں۔کوئی ایسی دور بین نہیں ایجاد کی جاسکتی کہ اللہ کی ذات کو دیکھ لیا جائے۔کوئی ایسی خوردبین ایجاد نہیں ہوسکتی کہ روح کو دریافت کر لیا جائے۔یہ ایک آزمائش ہے جس میں ہمیں ڈالا گیاہے۔پس جب خدا کے مقابلے میں کائنات کو توجہ کا مرکز بنا لیا گیا اور جب روح کے مقابلے میں جسم و مادے کو اصل حیثیت دی گئی اور جب حیات اخروی کے مقابلےمیں حیات دنیوی کو فیصلہ کن ترجیح دی گئی ، ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ پس جب اہل مغرب نے خدا ، روح اور آخرت سے نظر ہٹا کر پوری توجہ کائنات، مادے و جسم اور دنیا پر مرکوز کر لی تو پہلے پہل طبیعی علوم (Physical Sciences) اور قدرتی علوم(Natural Sciences) میں ترقی ہوئی اور غیر معمولی ترقی ہوئی۔ایسی ترقی ہوئی کہ: 
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

اس ترقی نے حیات دنیا کو اتنا مزین کر دیا کہ آخرت بالکل بھول ہی گئی اور تہذیب حاضر کی چمک نے نظر کو آخرت کی طرف سے بالکل ہی خیرہ کر دیا اور دنیا اور دنیا کی زندگی پر توجہ اور بڑھی اور جب حیات دنیوی پر Focus اتنا بڑھ گیا تو Social Sciences میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیےگئے۔ نت نئے نظریات قائم کر لیے گئے ، تہذیب جدید کےاصول و قواعد مرتب ہونے لگے ۔ چونکہ مادی اور سائنسی ترقی نے آرام و آسائش اور چکا چوند میں نہایت اضافہ کیا تو یہ ترقی ایک طرح سے تہذیب جدید اور اصول و قواعد کے درست ہونے کی دلیل بن گئی اور ان اصولوں کا عقیدے اور ایمان کا رتبہ دیا جانے لگا۔
بے خدا تہذیب کا اسمِ اعظم
اگر یہ کہا جائے کہ مغربی تہذیب کا اسمِ اعظم کیا ہے۔ان کے نزدیک سب سے بڑی چیز کیا ہے؟تو وہ ایک لفظ ہے اور وہ ہے آزادی(Freedom)۔یہ اسِم اعظم ہےجدید تہذیب کا اور باقی سب اس کی تفصیلات ہیں،باقی سب اس کے مظاہر ہیں ۔ جب Political Theory میں یہ لفظ آتا ہے تو اسے لبرلزم کہتے ہیں۔ہم خیال کرتے ہیں کہ مغرب کو شاید Democracy بہت عزیز ہے۔نہیں، ایسا نہیں ہے؛ یہ آدھی بات ہے۔ مغرب کا اصل مسئلہ ہے لبرلزم ۔
اگر آپ ، لوگوں کے ووٹوں اور ان کے مشورے سے حکومت قائم کرلیں اور اس کے بعد آپ یہ کوشش کریں کہ جو Liberal-Order ہے اس پر کچھ قدغنیں لگائیں تو آپ کے تمام ووٹوں کو Undo کردیا جائے گا۔الجزائر میں کیا ہوا؟ یہ تو پرانی بات ہے؛مصر کےمحمد مرسی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔مرسی کیسے آیا تھا؟اسی چیز کے ذریعے آیا تھاناں جس کا ڈھول پیٹتے ہیں یہ لوگ۔ لیکن اگر آپ آکر اسی شاخ کو کاٹنے لگیں جس پر وہ آشیانہ ہے تو وہ آپ کو برداشت نہیں کریں گے۔وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے آپ کو فارغ کردیں گے۔وہ انھی ووٹوں کے ذریعے آیا تھا لیکن فرید زکریا اسے کہتا ہے کہ یہ Illiberal Democracy ہے،ہمیں جو Democracy چاہیے وہ Liberal Democracy ہے۔آج طیب اردغان کو کیا گالی دی جارہی ہے؟ یہی گالی دی جارہی ہے کہ یہ دوبارہ سے خلافت قائم کرنے لگے ہیں۔اس کے ایسےخاکے (Caricature) بنائے بھی جاتے ہیں جس میں اس نے تاج پہنا ہوا ہے اور قبا پہنی ہوئی ہے۔ وہ آدمی بہت سمجھداری سے چل رہا ہے ،اس کو یہ بات پتا ہے کہ اس جمہوریت کے ذریعے کچھ بھی ہونے کا نہیں ہے۔جمہوریت کے ذریعے قائم آپ کو آمریت ہی کرنی پڑے گی، اگر آپ دین چاہتے ہیں ۔یہ بات ہمیں سمجھ لینی چاہیے؛جمہوریت کے ذریعےنہ کبھی دین آسکتا ہے نہ کبھی دین چل سکتا ہے۔بس یہ ایک ننگی سی بات ہے کہ دین آمریت سے چلے گا۔لوگوں سے پوچھ پوچھ کر چلیں گے تو کچھ بھی نہیں بنے گا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مغرب کا مسئلہ اصل میں ہے آزادی ۔ 
آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ
ہمارے ایک استاد کہتے ہیں کہ اس سارے Discourse میں صرف ایک چیز مقدس ہے اور وہ آزادی ہے۔ اسی لیے میں نے عرض کیا کہ مغرب کا مسئلہ Democracy بھی نہیں ہے۔ان کا اصل مسئلہ ہے Freedom۔ لبرلزم کا مطلب کیا ہے؟ہر طرح کے تقدس کو ختم کرنا۔ یہ میڈیا اصلاً یہی خدمت انجام دےرہا ہے؟اگر اس آزادی کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہے تو وہ طاقت ہے اوربس! اس ملک میں جب سے مشرف صاحب کے دور میں میڈیا آیا،ہر آدمی کا خاکہ(Caricature) بن گیا،ہر آدمی کی ڈمی بن گئی۔ایک آدمی کی ڈمی نہیں بن پا رہی تھی۔معلوم ہے کس کی ؟وہ ہیں کراچی والے بھائی ،ان کی ڈمی نہیں بن سکی۔۵،۴ سال پہلے وہ ڈمی بنی ہے پہلی مرتبہ۔کیوں نہیں بنی تھی؟ وجہ طاقت ہے ۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کی زبان یہ سمجھتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ علماء کرام کی جو توہین ہوتی ہے؛مولانا فضل الرحمان صاحب کی جو ڈمی بنائی جاتی ہے وہ بہرحال ڈاڑھی، پگڑی والے ایک کردار ہیں۔ ان کو ذلیل کرنا ،ان کو رسوا کرنا۔۔۔ اصل میں کھیل یہی ہے کہ ہر طرح کے تقدس کو ختم کرو،کوئی تقدس نہ رہے۔بس ایک چیز کا تقدس باقی رہے اور وہ کیا ہے؟وہ آزادی ہے۔اور آپ کی آزادی پر اتنی ہی قدغن ہوگی جب آپ کسی دوسرے کی آزادی کو محدود (Curtail) کررہے ہیں۔بس اس وقت آپ کی آزادی کو روکا جائے گا ورنہ نہیں۔تو میں یہ عرض کررہا ہوں کہ یہ جو آزادی ہے ،اس کے کچھ مظاہر ہیں۔آپ دیکھیے کہ آپ سے یہ مطالبہ ہے کہ یہ جو سارے ناموس (Blasphemy) کےLaws وغیرہ ہیں ان کو ختم کیا جائے،یہ ٹھیک نہیں ہیں۔اور آپ کو معلوم ہے کہ ڈنمارک اور ناروے نے جو بھی کیا، مغرب نے اسے Support کیاکیونکہ وہ مغرب کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کر رہے ہیں۔اگر ہمارے کچھ عقائد ہیں،تو مغرب کے بھی کچھ عقائد ہیں، جس میں سب سے بڑا عقیدہ ’’آزادی‘‘ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے نبی،جس کو ہم نبی نہیں کہتے،ہم اسے Son of Godکہتے ہیں،ہم نے اس کے خاکے بھی بنائے،ہم نے اس کے کارٹون بھی بنائے۔وہاں پر جن باتوں پر بہت بڑےAward ملتے ہیں اس میں سے ایک یہ بھی ہے۔کئی سال پہلے ایک ’’شاہ کار‘‘ کو انھوں نےبہت بڑا Award دیا۔وہ کیا تھا؟وہ ایک بوتل تھی اس کے اندر پیشاب تھا اور اس کے اندر ایک صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ اس کو انھوں نے بہت بڑا اعزاز دیا۔یہ ہے لبرلزم۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے خدا کی توہین ہنستے ہوئے برداشت کی،تم سے اپنی پیغمبر ﷺکی توہین برداشت نہیں ہورہی۔ انھوں نے جھیلا ہے اس کو،وہ کھڑے ہوگئےاورکہا کہ نہیں!ہم اس کے لیے جان بھی دے دیں گے۔اور عقیدہ اسی کو کہتے ہیں جس کے لیے آپ کسی کی جان لے بھی سکتے ہیں،اپنی جان دے بھی سکتے ہیں۔تو مغرب اس آزادی کے لیے جان لے بھی سکتا ہے اور جان دے بھی سکتا ہے۔ اس کا عقیدہ لبرلزم ہے۔اس پر وہ کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
سیکولرزم
اس کے علاوہ جدید تہذیب کا ایک مظہر سیکولرزم ہے۔ سیکولرزم کیا ہے؟یہ بات کہ مذہب کو انسان کی ذاتی زندگی تک محدود (Curtail) کر دیا جائے،یہ صرف اس کاسیاسی) (Political حصہ ہے۔اصل میں سیکولرزم کیا چاہتا ہے؟اس کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ مذہب ایک لعنت ہے (نعوذ بالله)، اس کو دنیا سے ختم کرنا ہے۔یہ Theory کا ایک حصہ ہے کہ آپ سماجی دائرے) (Public Sphere سے اسے پیچھے کردیں، آخر کار تو اسے ختم کرنا ہی ہے۔Richard Dawkins بہت مشہور Atheist ہے،اس کی کتاب God Delusion بہت مشہور ہوئی۔BBC پر اس کا ایک انٹرویو تھا۔ Interviewer نے اس سے سوال کیا کہ آپ نے اتنی باتیں کرلیں ،آخر میں آپ ان کو کیا پیغام دیں گے جو ابھی تک خدا کے نام لیوا ہیں؟اس نے ایک جملہ کہا۔اس نے کہا ’’Grow Up‘‘۔اب بڑے ہو جاؤ، دنیا بہت آگے جاچکی۔یہ Primitive دور کی باتیں تھیں کہ کوئی اللہ ہے،کوئی آخرت ہے،کوئی روح ہے۔اب بالغ ہوجاؤ،کب تک ایسے کاکے رہو گے اب بڑے ہوجاؤ اور یعنی اس طرح کے تمام توہمات کوچھوڑ دو۔ جاننا چاہیے کہ سیکولرزم صرف Political Theory نہیں ہے۔Ultimately اس کی زد کہاں تک جاتی ہے؟اس کی زد یہیں تک جاتی ہے کہ مذہب کا خاتمہ ہونا چاہیے۔یہ پسماندگی کی علامت ہے،یہ جہل کی علامت ہے،یہ دنیا کو آگے لے جانا نہیں چاہتے۔اسی بے خدا تہذیب کا ایک اور اثر Inclusivism ہے۔یہ جو تمExclusive ہوگئے ہو کہ نجات صرف عیسائیوں کی ہے،نجات صرف یہودیوں کی ہے،نجات صرف مسلمانوں کی ہے،اس خبط سے نکل جاؤ۔Karen Armstrong بہت مشہور خاتون ہیں، ان کی ایک کتاب ہے۔ ’’The Great Transformation‘‘جس کے آخر میں وہ لکھتی ہیں کہ مسلمانوں میں بڑی خرابی پیدا ہوگئی؛پہلے مسلمان بڑے اچھے تھے، کہتے تھے کہ سب کے لیے نجات ہے۔جدید دور میں آکر یہ Exclusive ہوگئے؛انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نجات منحصر ہے محمد رسول اللہﷺ پر ایمان اور ان کی اتباع پر۔ اب اس بیوقوف خاتون کو کون سمجھائے کہ معاملہ تو الٹا ہے۔اسلام چھوڑ دیں،ہر دین جو الحق ہونے کا دعوی کرتا تھا وہ ہمیشہ سے Exclusive رہا ہے۔آپ Bible اٹھا کر دیکھ لیجیے،اس کی Quotation عیسائی عام بیان کیا کرتے تھے۔سیدنا عیسیؑ نے فرمایا:
I am the Way and the Path and the Truth. No one comes to the Father except through Me. (John, 14:6)
’’میں ہی رستہ ہوں، میں ہی جادہ ہوں،میں ہی منزل ہوں،کوئی خدا تک نہیں پہنچ سکتا سوائے میرے واسطے کے ‘‘۔
آپ کو پتا ہے Protestants تک کتنے exclusive تھے؟وہ کہا کرتے تھے کہ Salvation صرف Christ کے ذریعے ہوگی۔لیکن اب آپ دیکھتے نہیں کہ عیسائی بہت تیزی سے اس Claim کو چھوڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوگئے جو Validity Of All Religions کے قائل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ سب مذاہب ٹھیک ہیں۔یہ ہیں جدیدیت کے آثار،کہ مذہبی لوگ،مذہبی پیشوا اس طرح کی باتیں کرنے لگ گئے۔اب کسی کو کافر کہنا محال ہوگیا ہے۔وحید الدین خان صاحب نے پہلی بار یہ بات کہی تھی کہ کسی کوInfidel نہ کہو،کسی کو کافر نہ کہو۔یہ ایسا لفظ ہے کہ اسے لوگ Mind کرتے ہیں،غیر مسلم کہو۔لہذا اب ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ غیر مسلم کہہ سکتے ہیں ہم،کافر کہنے کا حق صرف پیغمبرﷺ کو ہے۔یہ فکر آپ کے یہاں پھیلائی جا رہی ہے،عام کی جارہی ہے۔تو یہ جو Inclusivity ہے کہ سب کی نجات ہے،یہ کیا ہے؟یہ اسی بے خدا تہذیب کے اثرات ہیں۔اسی کا اثر ہے جس کی وجہ سے یہ Pluralism دیکھنے میں آرہی ہے۔Peter Berger ایک بہت بڑا ماہر عمرانیات ہے۔اس نے کہا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ ''Modernity Necessarily Leads To Secularity'' یعنی ہمارا خیال تھا کہ جدیدیت کے ذریعے لازمًا Secularity آئے گی،خدا بے دخل ہوجائے گا۔انھوں نے ہی کہا کہ ہماری Theory غلط تھی،Fundamentalism پیدا ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا واپس آگیا؛ ہم سے غلطی ہوئی،اصل بات کیا تھی ،کہ ''Modernity Necessarily Leads To Plurality'' ۔ پہلے Plurality اور طرح کی تھی اب اور طرح کی ہے۔ اب Plurality کی صورت یہ ہے کہ مغرب میں لوگ اس طریقے سے رہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں کوئی یہودی ہے، عیسائی ہے یا بدھ مت ہے اور یہ تمام حضرات باہم مل جل کر رہ رہے ہیں۔ کیا یہ ہمارے یہاں ہونے نہیں لگ گیا؟یعنی میں ایک Public University میں پڑھاتا ہوں تو کیا میں یہ نہیں جانتا کہ ہر کلاس میں دوتین لڑکےAtheist ہیں۔یعنی اب یہ نہیں ہے کہ سنی شیعہ کو یا مسلمان اور ہندو کو ساتھ رہنا پڑھتا ہے،بلکہ اب آپ کے گھر آنگن میں ، آپ کے اداروں میں،ہر جگہ ایک نہ ایک لڑکا یا لڑکی Atheist ہے۔ اسی طرح جب کوئی آدمی بیرونِ ملک جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہم بلا وجہ غلطی کر رہے ہیں؛ یہ عیسائی، یہودی بہت اچھے لوگ ہیں، یہ ہم سے بھی اچھے لوگ ہیں۔تو تھوڑی دیر میں آپ اپنے ’’الحق‘‘ ہونے والے Claim کو چھوڑ دیتے ہیں۔یہClaim کہ محمد رسول اللہ ﷺ مدارِ نجات ہیں،اس کو چھوڑنا پڑے گا۔بلکہ اب تو اس کو بھی چھوڑنا پڑے گا کہ خدا کو ماننا کوئی نجات کی شرط ہے۔کتنے اچھے لوگ ہیں،کتنے بھلے لوگ ہیں،ہم سے بہتر انسان ہیں مگر کسی خدا کو نہیں مانتے۔یہ اثر ہے جو ہمارے ہرطرف پھیلا ہوا ہے،ہمیں اگر اس کا ادراک نہیں ہے تو یہ ہمارا بھول پن ہے۔
بے خدا تہذیب کے اثرات کی دو قسمیں:
اب میں اس بے خدا تہذیب کے کچھ اثرات آپ کے سامنے رکھتا ہوں بے خدا تہذیب کے اثرات میں سے کچھ تو ظاہری اور سطحی ہیں جبکہ کچھ کسی قدر چھپے ہوئے اور فکری نوعیت کے ہیں ۔میں بالکل صفائی سے عرض کردوں کہ مجھے وہ اثرات بیان نہیں کرنے کہ جو بالکل ظاہری ہیں، بالکل منکشف ہیں؛ مجھے Fashion Shows اور Catwalks کا تذکرہ نہیں کرنا، مجھے بینکوں کا تذکرہ نہیں کرنا، مجھے عریانی و فحاشی کا تذکرہ نہیں کرنا۔مجھے تذکرہ کرنا ہے اِس بےخدا تہذیب کے اُن اثرات کا جو دینی فکر اور دینی اعمال میں در آئے ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے کسی غزالی رحمہ اللہ کی،کسی ابنِ جوزی رحمہ اللہ کی،کسی ابنِ قیم رحمہ اللہ کی،کسی شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی،کسی مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ کی ؛ جو یہ بتا سکے کہ اہل ِمذہب کے یہاں کیا مسئلے پیدا ہوگئے ہیں۔اہلِ مذہب کے یہاں کس طرح شیطان نے دراندازی کی ہے۔کس طریقے سے معاملات کو خراب کیا ہے۔ ہم اسی کو پیٹتے رہیں کہ امریکہ میں اتنے ناجائز بچے پیدا ہوتے ہیں،ادھر اتنے گھر ٹوٹ گئے اور یہ ہوا وہ ہوا،ان باتوں کو چھوڑیں اب! اپنے گریبان میں جھانکیں۔یہ دیکھیں کہ اس جدیدیت نے اہلِ مذہب کو کہاں کہاں ڈسا ہے،کدھر کدھر نقب لگائی ہے اور کیسے کیسے ہمیں اندر باہر سے بدل دیا۔ہمارا Metamorphosis ہو گیا ہے،ہماری قلب ماہیئت ہوگئی ہے،اور تبدیلی وہی کامل ہوتی ہے کہ جس کا احساس ختم ہوجائے۔مغرب کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہےکہ اس نے اپنے آپ کو ہمارے لیے Internalize کردیا ہے۔ ہمارے شعور کی سطح پر ہی اس کے اثرات نہیں ہیں،ہمارے اعماق ِدل میں اس کے اثرات ہیں اور بالکل اندر تک اس نے ہمیں بدل دیا ہے۔ یہ اس تہذیب کی مار ہے۔بہت اچھا کہا تھا اکبرؔ نے:
مشرقی تو سر دشمن کو کچل دیتے ہیں

مغربی اس کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں

ہماری طبیعتیں بدل گئیں ہیں، ابھی ہمیں اس کی اطلاع نہیں ہے لیکن واقعتًابدل گئیں ہیں۔مغربی تہذیب کے یہ اثرات کہ آدمی نے کوٹ پینٹ پہننا شروع کردیا اور ٹائی لگا لی،اورکموڈ استعمال کرنا شروع کردیا یہ سب بہت چھوٹی چیزیں ہیں۔اکبرؔ ہی نے کہا تھا کہ:
نظر ان کی رہی کالج میں بس علمی فوائد پر

گرا کیں چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر

جو اصل غدر مچا ہے وہ اس پہ تھوڑی ہے کہ آپ نے کموڈ استعمال کرنا شروع کردیا اور آپ نے کوٹ پینٹ اور ٹائی لگا لی۔اصل صدمہ تو یہ ہے کہ دین کو غارت کردیا۔دین کے عقائد کو بدل دیا ، دین کی ترجیحات اور ترتیبات کو بدل دیا۔ میں نے عرض کیا کہ وہ چیزیں جو بالکل ظاہر و باہر ہیں بالکل آشکار ہیں وہ ہمارا موضوعِ بیان نہیں ہیں۔
علم الکلام ، فقہ اور تصوف کا انکار
جدیدیت کا جو اثر دینی فکر میں آیا ہے،اس کے لیے کچھ عملی مثالیں ملاحظہ ہوں:دین کے تین بڑے شعبےتھے۔ اگر آپ حدیث جبرائیل علیہ السلام کا مطالعہ کریں تو اس کی شرح میں علماء نے صاف لکھا ہے کہ اسلام ،ایمان اور احسان ، سے تین بڑے شعبے پیدا ہوئے۔اسلام سے فقہ پیدا ہوئی،ایمان کی تفصیلات سے کلام،عقیدے کی بحثیں پیدا ہوئیں اور احسان؛اس کی تفصیل سے تصوف پیدا ہوا۔تو ہم دیکھ نہیں رہے کہ جدیدیت کے اثر سے مسلمانوں کے مذہبی لوگوں میں یہ فکر پیدا ہو رہی ہے کہ ان تینوں شعبوں کا انکار کردیا جائے۔یعنی کہ یہ فقہ وغیرہ بھی غلط ہے،یہ قیاس ہے اور’’أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ‘‘ سب سے پہلے قیاس ابلیس نے کیا تھا کہ اللہ کو کہا ’’أَنَا خَيرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ‘‘ لہذا فقہ غلط ہے،یہ اصحاب الرائے ہیں، اصل بات تب ہے کہ جب نص دکھاؤ ۔ ہمارے ایک دوست ہیں ،وہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارا تو بھائی نعرہ یہ ہے کہ نص لاؤ یا نَس جاؤ۔(یعنی بھاگ جاؤ )تو یہ جو ایکLiteralism ہے کہ نص دکھاؤ۔۔۔خدا کے بندو! امت کی ایک تاریخ ہے۔کہاں گئےامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے کارنامے؟زندگی ضائع کردی امام شافعی رحمہ اللہ نے؟اپنے آپ کو ضائع کیا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے،امام مالک رحمہ اللہ نے؟تو کیااس ساری روایت کا انکار کردیں؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں! ہم یوں کہیں کہ جی ہم تو نص کو خود سمجھیں گےیہ قرآن ہے،یہ حدیث ہے اور ہم نے عربی گرامر پڑھ لی ہے، ہم نے عربی کا معلم بھی پڑھ لیا اور ہم عالم بن گئے ، اب ہم قرآن مجید کی تفسیر خود کریں گے، خود اجتہاد فرمائیں گے۔۔۔یہ ہے جدیدیت کا اثر۔اور یہ تصوف کہاں سے آگیا ہے،یہ کیا ضلالت ہے،یہ ایک عالمگیر ضلالت ہے،یہ ایک متوازی دین ہے وغیرہ وغیرہ (أستغفر الله)۔ جب آپ یہ کہہ رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ اس پوری امت کی تغلیط کررہے ہیں!آپ جنید رحمہ اللہ کا انکار کر رہے ہیں،آپ بایزید رحمہ اللہ کا انکار کر رہے ہیں، آپ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا انکار کر رہے ہیں۔ہم پیٹتے رہتے ہیں کہ امت کے مجددین،امت کے مجددین۔کون تھے امت کے مجددین ؟ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کون تھے؟شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کون تھے؟سید احمد شہید رحمہ اللہ کون تھے؟محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کون تھے؟مولانا الیاس رحمہ اللہ کون تھے؟ان میں سے کون ہے جو سکہ بند) (Bonafide صوفی نہیں ہے؟ اور ہم ان لوگوں پر زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے نہیں شرماتے؟اکبر ؔنے کہا تھا:
کہاں کے قبلہ کہاں کے قبلی
 جنید کیسے کہاں کے شبلی
عوض تصوف کے ہم نے طب لی
 بنیں گے سرجن مزا کریں گے

کہاں کے جنید رحمہ اللہ ،کہاں کے شبلی رحمہ اللہ ، اس امت کی پوری روایت پر پانی پھیر دیں کہ یہ بدعتی ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیخ محمود آفندی نقشبندی مجددی حفظہ اللہ (ترکی) بدعتی ہیں، کیا محمود آفندی بدعتی ہیں؟یوٹیوب پر ویڈیو موجود ہے؛دیکھیں ذرا! وہ حج کے سلسلے میں مدینے گئے،آپ دیکھیں تو ایسا معلوم ہو گا کہ کوئی بادشاہ آرہا ہے۔ میں نے وہ منظر دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ ایک مرتبہ خلیفہ اور اس کی بیگم حرم میں آئے تو کوئی متوجہ ہی نہیں ہو رہا تھا۔ایک دم ایک آدمی آیا اور اس کے گرد ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے ۔پوچھا گیا یہ کون ہے؟بتایا گیا کہ یہ رسول اللہﷺ کا صاحبزادہ ہے،یہ علی بن حسین رحمہ اللہ ہے،یہ زین العابدین رحمہ اللہ ہے۔اس پر اس نے کہا کہ سچ ہے کہ دلوں پر تو حکومت ان کی ہے،ہم تو جسموں پر حکومت کرتے ہیں۔
 یہ ہمارے تین Disciplines ہیں؛ کلام تصوف اور فقہ ۔یہ جدیدیت ہے کہ ان سب کو Undo کریں اور Jump لگاکرکہیں اوپر پہنچ جائیں۔ ایک زمانے میں ایکReader آیا تھا۔Fundamentalist اورModernist تحریریں ساتھ ساتھ تھیں ۔ میں نے کچھ تحریریں پڑھیں غلام احمد پرویز کی، ڈاکٹرفضل الرحمان کی اور مولانا مودودی رحمہ اللہ کی؛ مجھے بہت یکسانیت محسوس ہوئی۔یہ میں عرض کردوں کہ وہ لوگ جو مولانا مودودی رحمہ اللہ ، ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ ، ڈاکٹر ذاکر نائک اور میڈم فرحت ہاشمی سے متاثر ہیں یہ پرویزی اور خاص طرح کی جدید فکر کے لیے سب سے نرم چارہ ہیں۔ان کی طبیعتیں آزاد ہیں۔ بعض اوقات میں اس قسم کے لوگوں کی گفتگو سنتا ہوں تو ہکا بکا رہ جاتا ہوں،مجھے لگتا ہے پرویز صاحب بھی رشک کریں گے ان پر کہ یہ کیا گفتگو کر رہے ہیں۔یعنی الف کا ب ان کو پتا نہیں اور وہ قرآن و سنت پر ہاتھ صاف کررہے ہیں،یہ ہے جدیدیت۔
تواترِ امت کا انکار
کیا یہ جدیدیت ہی کا مظہر نہیں کوئی بھی مسخرہ پگڑی لگا کر بیٹھ جائے اور انٹرنیشنل نمبر کہہ کر جو چاہے چورن بیچ دے ۔ مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ آدمی بڑی اچھی باتیں کرتا ہے ۔کون ہے وہ آدمی؟ اس کا کوئی حسب ونسب ہے؟ اس کے استاد کون ہیں؟کہاں سے اس نے دین سیکھا ہے؟ ایک صاحب نے مجھے ویڈیوبھیجی،بڑے متأثر ہوئے کہ اس میں تو لکھا ہوا ہے کہ اہل سنت کے یہاں تو بخاری میں بھی روایت ہے کہ مغرب عشاء اور ظہر عصر اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔میں نے کہا کہ اس میں انکشاف کی کیا بات ہے؟ میں حدیث کا طالب علم ہوں،روز مرہ ہم یہ حدیثیں پڑھتے ہیں۔تو کیا ( محض )حدیث پڑھ کر عمل کرنا ہے یا امت کا تواتر بھی کچھ ہے۔ بِغَيرِ سَفَرٍ وَلَا َمدَرٍ وَلَا مَطَرٍ وَلَا عُذْرٍ پیغمبر ﷺنے جمع کی نمازیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دیکھیں یہ بات آپ کو آپ کا مولوی نہیں بتاتا۔ کیوں نہیں بتاتا ! جائیے دینی تعلیم حاصل کیجیے ہر مولوی بتائے گا۔کیا ایک روایت سے دین لینا ہے یا پوری امت کے تواتر سے دین لینا ہے؟ ایک صاحب نے انھی کی ایک ویڈیو بھیجی اوراس میں انھوں نے کہا کہ امام مسلم کی ایک روایت نے تصوف کا گلا کاٹ دیا۔تصوف کا گلا کاٹ دیا یعنی جنید رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا،با یزید رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا،حسن بصری رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا،عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا گلا کاٹ دیا۔ اس طرح کے مسخروں سے ہمارے لوگ متأثر ہوجاتے ہیں۔ وجہ وہی ہے،کہ ہماری تربیت صحیح نہیں ہے۔
یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے
بعض حضرات یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ دیکھیں ہمیں تو بات کو دیکھنا چاہیے کہ بات کیا ہو رہی ہے، آدمی اہم نہیں ہے؛یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ یہ جو تصور ہے کہ ہمیں بس بات کو دیکھنا چاہیے، تو باتیں تو رمضان میں میڈیا پر آ کر ناچنے والی طوائفیں بھی بہت اچھی کرتی ہیں۔ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ کا استاد کون ہے، دینی روایت میں اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو کوئی بھی مسخرہ آئے گا،کوئی بھی دجال آئے گا اور آپ کواپنے تابع کر لے گا۔ میں فقہ پڑھا رہا ہوں،مجھے پتا ہونا چاہیے کہ میرا استاد کون ہے، مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ حدیث میں میرا استاد کون ہے،میں فلسفہ پڑھا رہا ہوں،فلسفے میں مجھے میرا استاد معلوم ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تویہ ہے جدیدیت،یہ ہیں بے خدا تہذیب کے اثرات۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے اس کا Context بالکل اور ہے کہ یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے،یہ دیکھو کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب کچھ اور ہے۔ہاں فلسفے میں Kant کیا تھاKant ہم جنس پرست تھاتو ہوتا رہے،ہمیں اس سے فلسفہ سیکھنا ہے۔جس سے ہم دین سیکھیں گے اس کی شخصیت کو بھی دیکھیں گے۔اس کا دینی، علمی اور روحانی شجرۂ نسب بھی دیکھیں گے۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو ہم جدیدیت کا شکار ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ جدید فکر کی بنیادیں یہ ہیں کہ کلام،تصوف اور فقہ کا رد کردینا اور سیدھا کسی موہوم علاقے میں چھلانگ لگا لینا۔ میں آپ سے یہ عرض کردوں کہ ہمارے یہاں جو Fundamentalists ہیں اور جو Modernists ہیں ان میں کچھ فرق نہیں ہے؛ دونوں اس امت کی روایت کا انکار کرتے ہیں۔فرق صرف Interpretation کا ہے۔جو Fundamentalists ہیں وہ نصوص کی Literal Reading کرتے ہیں اور جو Modernists ہیں وہLiberal Reading کرتے ہیں؛ باقی کوئی فرق نہیں ہے۔اگر کوئی چیز ہمیں بچا سکتی ہے تو وہ اس دین کی پوری روایت ہے۔شیخ حبیب علی جفری سے کسی نے کہا کہ تم سادات ہو تم نے اپنے باپ دادا کا دین کیوں چھوڑ دیا ہے؟ تم شیعہ کیوں نہیں ہوئے؟انھوں نے کچھ جوابات دیے اور پھر کہا کہ دیکھو یہ جو میں نے خرقہ پہنا ہوا ہے اور یہ جو عمامہ میرے سر پر ہے یہ میرے استاد نے مجھے پہنایا ہے،ان کو ان کے استاد نے،ان کو ان کے استاد نے،ان کو ان کے استاد نے۔۔۔یہاں تک کہ حضرت جعفر صادق، حضرت علی بن حسین رحمہما اللہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ،یہاں تک کہ محمد رسول اللہﷺ! یہ ہے دین کی روایت کہ اس دین کے تمام اجزاء مسلسل اور متوازن ہیں۔
خود نمائی: جدیدیت کا سب سے مضر اثر
جدیدیت کے فروغ میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، اسی ٹیکنالوجی کا ایک مظہر سوشل میڈیا اور فیس بک وغیرہ ہیں۔ فیس بک اصل میں ایک Tool ہے،لوگ اسے کاروبار کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اورNetworking کے لیے بھی۔لیکن ٹیکنالوجی کے بارے میں ہمیں زیادہ خوش فہمی کا شکار (Euphoric) ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ فیس بک اصل میں کیا ہے،اس دور کی جو قدر (Ethos) ہے وہ دکھائی دینا یا خود مرئیت(Visibility) ہے ؛ ہر چیز Visible ہو، اپنے آپ کو دیکھتے رہنا اور اپنا تذکرہ ہر وقت کرنا۔Facebook اپنے آپ کو دیکھتے رہنے اور اپنے آپ پر فدا ہونے کا آلہ ہے۔
اورنگزیب رحمہ اللہ کی ایک بیٹی تھی،اس کا نام تھا زیب النساء،مخفی اس کا تخلص تھا۔ اورنگزیب کو خاقانِ چین نے ایک آئینہ دیا،بڑا خوبصورت آئینہ تھا۔ ایک روز کسی باندی کے ہاتھ سے ٹوٹ گیا،تو باندی آئی اور اس نے کہا کہ:

از قضا آئینۂ چینی شکست

قضا سے چینی آئینہ ٹوٹ گیا۔ تو زیب النساء وہیں کھڑی تھیں،انہوں نے کہا:
خوب شد اسبابِ خود بینی شکست

بہت اچھا ہوا اپنے آپ کو دیکھنے کا سبب ہی ختم ہوگیا۔
جدیدیت کا حل: رسول اللہﷺ سے شخصی تعلق
اس دفعہ میرا حرمین جانا ہوا تواللہ تعالیٰ نے یہ بات میرے دل میں راسخ کردی کہ تعلق مع الرسولﷺ کے بغیر کوئی دین نہیں ۔ آپ توحید توحید کی رٹ لگائے رہیں،پیغمبر ﷺسے آپ کا شخصی تعلق نہیں ہے تو آپ کا وہی حال ہوگا جو ان توحید توحید کی رٹ لگانے والوں کا ہو گیا ہے۔کچھ عرصے میں آپ دیکھیں گے کتنی تیزی سے یہ لوگ لبرلزم کی طرف جائیں گے۔میں نے خود سنا کہ میں مواجہہ شریف سے گزر رہا ہوں تو ایک عرب نے ایک بابا جی کو جو روضۂ مبارک کی دیوار کو چومنے کی کوشش کر رہے تھے ان کو روکتے ہوئے کہا کہ تم کیا ہر دیوار کو چومتے ہو؟اس بدتمیز کو یہ نہیں پتا کہ یہ ہر دیوار ہے؟یہ پیغمبرﷺ کا روضہ ہے!ٹھیک ہے وہ بے چارہ سادگی میں ایک کام کررہا ہے، اس حوالے سے ایک روایت ملاحظہ ہو: ’’حضرت داؤد بن ابو صالح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز (خلیفۂ وقت) مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور نبی اکرﷺکی قبرِ انور پر اپنا چہرہ جھکائے ہوئے ہے، تو اس نے اس آدمی سے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ (صحابی رسولﷺ) حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انھوں نے (جواب میں) فرمایا : ہاں (میں جانتا ہوں) میں رسول اﷲﷺکی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا ہوں اور کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا : میں کسی تاریک جگہ پر نہیں آیا) میں نے رسولِ خدا ﷺکو یہ فرماتے سنا ہے : دین پر مت رو جب اس کا ولی اس کا اہل ہو، ہاں دین پر اس وقت رو جب اس کا ولی نا اہل ہو‘‘۔(اس حدیث کو امام احمد، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے)۔
ایسا ہی ایک واقعہ مسندِ احمد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل ہوا: ’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کعبے کا طواف کر رہے تھے تو ہر ہر رکن کو بوسہ دے رہے تھے،کسی نے کہا کہ یہ کیوں کر رہے ہیں،تو انھوں نے کہا کہ اس گھر کا کوئی حصہ چھوڑنے والا نہیں ہے۔کسی نے کہا کہ پیغمبرﷺ تو بس رکن یمانی کا استلام کرتے تھے اورحجر اسود کا بوسہ لیتے تھے تو انھیں تنبہ ہوا۔لیکن محبت بھی تو کوئی چیز ہے، پیغمبرﷺ سے تعلق بھی تو کوئی چیز ہے ۔ایک صاحب ریاض سے آئے تھے،وہ بتا رہے تھے کہ میں روضے پر سلام پڑھ رہا تھا تو ایک صاحب نے کہا کہ کوئی فرق نہیں ہے،یہاں آکر کیوں پڑھتے ہو کہیں سے بھی پڑھ لو۔۔۔کوئی فرق نہیں ہے؟یعنی رسول اللہ ﷺ فرمائیں یہاں آکر مخاطب کیا جاسکتا ہے اور انھی میں ایسے جاہل لوگ بھی پیدا ہوگئے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہاں جا کر بھی مخاطب کرنا جائز نہیں ہے۔انھوں نے تأویل یہ نکال لی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تو قبر مبارک پر جا کر مخاطب کرتے تھے جالی کے باہر سے مخاطب کرنا جائز نہیں ہے ، واضح رہنا چاہیے یہ محض کوئی جذباتی بات نہیں، نہ ہی یہ کسی قسم کا شرک اور بے ادبی ہے،بلکہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے آداب میں سے یہ بات ہے آپﷺ کے روضۂ انور پر حاضری کےوقت چہرہ آپﷺ کے روضے کی طرف ہو اور پیٹھ قبلے کی طرف، با ادب کھڑا ہو اور کہے: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ( )۔
میں عرض کردوں کہ نبیﷺ سے ذاتی تعلق ہو۔صرف امر سے نہیں بلکہ ذات سے تعلق ہو۔اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ لوگوں کوپیغمبرﷺ کی مبارک ذات سے جوڑا جائے۔صرف امر سے نہیں ذات سے،ورنہ وہ ظاہریت پیدا ہوگی جس نے امت کو غارت کردیا۔تین فتنے ہیں،جدیدیت،ظاہریت اور خارجیت۔اور بقیہ دو بھی اصلًا جدیدیت ہی کے بچے ہیں۔اصل فتنہ تو جدیدیت اور اس کا حل صرف یہی ہے کہ نبیﷺ سے تعلق قائم کیا جائے۔ اقبالؔ کا ایک شعر ہے:
عصر ما مارا از ما بیگانہ کرد

از جمالِ مصطفی بیگانہ کرد

اس زمانے نے ہمیں اپنے آپ سے بیگانہ کردیا،ہمیں جمال مصطفی ﷺسے بیگانہ کردیا۔
کسی رسالے میں اقبال کا یہ مصرع چھپ گیا تھا:
نگاہے یا رسول اللہ نگاہے
اس پر ایک طوفان بدتمیزی مچا کہ یہ شرک ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں لوگوں کو سِکھانا چاہیے کہ اپنی اوقات میں رہیں۔یا تو دین سیکھیں یا ان لوگوں سے پوچھیں جو دین جانتے ہیں۔حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کی ایک نعت ہے،مناجات ہے، اس کو ملاحظہ فرمائیے،ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ حکیم الاسلام قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کو نہیں پتا تھا کہ توحید کسے کہتے ہیں۔میں اپنی اس گفتگو کو حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کے نعتیہ اشعار پر ختم کرتا ہوں، ذرا دیکھیے تو رسالت مآبﷺ سے شخصی تعلق کیا ہوتا ہے :
نبی اکرم شفیعِ اعظم دکھے دلوں کا پیام لے لو
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا نظر سے روپوش ہے کنارا
نہیں کوئی ناخدا ہمارا خبر تو عالی مقامؐ لے لو
قدم قدم پہ ہے خوفِ رہزن زمیں بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہم سے ہوا ہے بدظن تم ہی محبت سے کام لے لو
کبھی تقاضا وفا کا ہم سے کبھی مذاقِ جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفا ہے ہم سے خبر تو عالی مقامؐ لے لو
یہ کیسی منزل پہ آ گئے ہیں نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا تمام اپنے غلام لے لو
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزارِ اقدس پہ جا کے اک دن
سناؤں ان کومیں حال دل کا کہوں میں ان سے سلام لے لو
اور افتخار عارف کے یہ اشعار دیکھیں:
دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے

میں بس یونہی تو نہیں آگیا ہوں محفل میں
کہیں سے اذن ملا ہے تو حاضری ہوئی ہے

جہانِ کن سے ادھر کیا تھا، کون جانتا ہے
مگر وہ نور کہ جس سے یہ زندگی ہوئی ہے

ہزار شکر غلامانِ شاہِ بطحا میں
شروع دن سے مری حاضری لگی ہوئی ہے

بہم تھے دامنِ رحمت سے جب تو چین سے تھے
جدا ہوئے ہیں تو اب جان پر بنی ہوئی ہے

سر اٹھائے جو میں جارہا ہوں جانبِ خلد
مرے لیے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے

مجھے یقیں ہے وہ آئیں گے وقتِ آخر بھی
میں کہہ سکوں گا زیارت ابھی ابھی ہوئی ہے

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين.