Jul
09
2019
مترجم: مولانامعراج محمد (استاذ فقہ اکیڈمی)
کہتے ہیں انگریزی زبان کے کچھ الفاظ لکھے تو جاتے ہیں مگر پڑھے نہیں جاتے اور کچھ پڑھے تو جاتے ہیں پر لکھے نہیں جاتے،اور کچھ حروف کبھی کسی طرح پڑھے جاتے ہیں کبھی کسی طرح، البتہ اس زبان کے ہر طالبِ علم کے لیے یہ جانے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ اس کے کلمات کیسے لکھے جاتے ہیں اور ان کا درست تلفظ کیا ہے؟ علاوہ ازیں یہ سمعی زبان ہےجس پر نہ قیاس پوری طرح منطبق ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے اصول کسی ضابطے میں سما سکتے ہیں۔ پھر اس زبان کا کوئی ثابت نسب ہے اور نہ ہی کوئی معروف بنیاد۔ اس کا حاضر(حال)ماضی پر لعنت کرتا ہے اور اس کا آج اس کے کل کو کوستا ہے۔آج کا انگریز معری،شریف اور رضی کے زمانے میں اپنے بلغا کا کلام نہیں جانتا چہ جائے کہ امروالقیس زہیر کا زمانہ۔اس کے الفاظ لمامۃ(عوامی زبان میں ذرا فصیح)ہیں اس میں کچھ کلمات جرمنی کے ہیں کچھ فرانسیسی اور کچھ عربی کے(بلکہ)اس میں کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔
اپنی ضعف و کمزوری اور تمام تر عیوب کے باوجود اس کے بولنے والوں کی ہمت نےاسے اتنے بلندمقام تک پہنچادیا کہ ایک چوتھائی زمین پر اسے نافذ کردیا اور انھیں یہ زبان بلوائی،جب کے عربی انسانی زبانوں مین سب سے کامل سب سے اچھےمخارج سب سے منضبط قواعد، مطرد قیاس والی اور سب سے زیادہ معروف اوزان والی زبان ہےجو تاریخی طور پر سب سے پرانی ہے۔تاریخ نے اسے مکمل ترقی یافتہ اور انتہائی پختہ پایا ہےکہ اس کا آغاز کب ہوا،کب ابتدائی ادوار میں تھی اور کب اپنے تاریخی مراحل طے کرکےہم تک اپنی مکمل صورت میں پہنچی، جبکہ پوری تاریخ میں یہ تغیر وتبدل کی محتاج نہیں رہی بلکہ اپنے الفاظ کی کثرت سے اعتبار سےدنیا کی تمام زبانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔اس نے ہر ایک میں اثر ڈالا ہے ایسی عظیم زبان کواپنے بولنے والوں نے مہمل بنا کر ضائع کردیا۔انھوں نے صرف اس کی اشاعت اور لوگوں کو اس کے سکھانے میں سستی نہیں کی(جیسے کہ ان کے آباؤاجداد نے اس کی خدمت کی تھی)بلکہ وہ اس سے اجنبی بن گئے اور اس سے منہ موڑ لیا یہاں تک کہ کثیر تعداد اس کو تعلیمی اداروں میں سیکھتی ہےاس سے اتنے جاہل (بے خبر)ہوگئےکہ بہت سوں کوجنھیں ادیب سمجھا جاتا ہے(اس کی حالت)جاہلوں سے بدتر ہےاس لیے کہ یہ(بزعم خویش)ادیب محسنات کلام کی برائی کرتے ہیں،بلغا پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اس جیسا کلام پیش کرنے سےعاجز آنے کی وجہ سےاس کی بلاغت سے جھگڑتے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ قرآن کا اسلوب ہےاور یہ اسلام کے ساتھ ہر اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں جس کا سبب اسلام بنا ہو، ان کی تمنا ہے کہ لوگ قرآن کا اسلوب چھوڑ کر تورات اور انجیل کا اسلوب اختیار کریں اور نابغہ،حطیہ اور بحتری کے بیان کو چھوڑ کرمغرب زدہ شعرا کو اپنالیں، آپ عوام نما گروہ (جنھیں لوگ لکھاری اور دانشور سمجھتے ہیں) کے مقالات اور کتابیں پڑھتے جائیے جو فاعل اور مفعول میں بھی غلطی کر جاتے ہیں حالانکہ وہ ادب کے ائمہ اور ادیبوں کے سردار سمجھے جاتےہیں۔ انھوں نے کسی دن نحو،صرف پڑھنے کی زحمت گوارا کی،اسالیب عرب کی ممارست کی اور نہ ہی اس کے مدارسِ فکر سے واقف ہوئےپھر بھی سیکنڈری اور یونیورسٹی سطح کی سرکاری اداروں میں ادب کے اساتذہ بنے بیٹھے ہیں۔اس کی عربیت کے دعووں اور بڈھے ساطع الحصری کی عرب قوم پرستی کے بارے میں ہذیان گوئی پر دھوکا مت کھائیں جب دانتوں کا ڈاکٹر نائی،عطار(عطرفروش)فارمیسٹ اور مکاتب ریاض الاطفال ہوا کرتے تھے تو انھیں مفکر سمجھا جاتا تھا پھر زمانہ بدل گیاحجام ڈاکٹر رہا،عطار فارمیسٹ رہا اور نہ ہی مکتب باغ تو ۔۔۔ حصری صاحب مربی رہے نہ مفکر۔
عربیت بلکہ دنیا کی تمام قومیں اپنی زبان،تاریخ اور رسم ورواج کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے جبکہ ان عناصر کی عادات عربوں کی ہیں نہ ہی اس کی تاریخ جانتے ہیں اور نہ ہی اس کی زبان۔میری مراد صرف یہ بڈھا(الحصری) نہیں جس نے عراق کے معارف کو بگاڑا پھر شام کی معارف برباد کردی اورمصر چلاگیا تاکہ اس کے معارف خراب کرے اور اب عرتکیہ(عرب ترکی مرکب)کی بات کرتا ہے بلکہ میری مراد تمام عارفیسہ (عربی فرانس مرکب)عرکنزیہ(عربی انگریزی مرکب) کی بات کرنے والے ہیں اور جس کو میری اس بات میں کوئی شبہہ ہوتو آئے مجھے ان تمام قوم پرستوں میں ایک بلیغ آدمی دکھائیں۔
عربی پر ان کی غیرت جھوٹا دعویٰ ہےمیں نے پچھلے سال انھیں آزمایا تھا جب میں پاکستان میں تھا اور وہ لوگ اپنے لیے عربی اور انگریزی میں سے کسی ایک زبان کواپنی سرکاری زبان بنانے میں مترود تھے۔عربی اس لیے کہ ان کے قرآن کی زبان ہے اور وہاں دارالعلوم کراچی،دہلی کے دیوبند،لکھنؤ کے ندوۃ العلماء اور ہندوپاک کے درجنوں مدارس میں عربی کے اتنے علما موجود ہیں جن کے برابر آپ مصر وشام میں کم پائیں گےاورانگریزی اس لیے کہ آسان ہے جب کہ اردو کو سرکاری زبان نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ مشرقی پاکستان کے لوگ اردو نہیں جانتے اور بنگالی اس لیے کہ مغربی پاکستان اسے نہیں سمجھتا۔جب کے وہاں چون ملین اور یہاں 35 ملین آبادی ہے مزید یہ کہ دونوں زبانوں میں بنیادی فرق ہے، یہ سنسکرتی ہے اور اردو فارسی و عربی مرکب اس (بنگالی)کے حروف ہندی کے ہین جبکہ اردو کے عربی ہے۔
اس سے بڑا کوئی موقع نہیں ہوسکتا کہ ہم تھوڑی سی محنت صرف کر کےموجودہ عربوں سے زیادہ تعداد میں اسی ملین عربی بولنے والوں کو ساتھ ملاتے، میں نے ان قوم پرستوں کو لکھا مگر کسی ایک نےکوئی اہتمام نہیں کیا۔ میں نے حکومتوں کو لکھا مگر کہیں سے جنبش نہ ہوئی سوائے سوریا(شامی) کمیشن اور وہاں کی وزارت معارف جنھوں نے کراچی میں عربی کی تعلیم کے لیے چارمدرّسین بھیجے، انھوں نے بیس مدارس کھولے جن میں 70 سال کا بابا سات سال کے بچے کے ساتھ عربی سیکھتا۔اس کے ساتھ ایک مدرسہ عربی سکھانے والے مدرّسین کے لیے تھا۔اس انمول موقعے کا زیاں ہمیشہ حادثہ رہے گا کیونکہ ایسے مواقعے روز ہاتھ نہیں آتے۔ ایسا موقع سلطان سلیم کے دور میں ان کے ہاتھ آیا تھا جب انھوں نے عربی کو مملکت کا سرکاری زبان بنانے کا ارادہ کیا مگر ان کا ارادہ رو بہ عمل نہ ہوسکا اگر ایسا ہوجاتا تو آج سارے ترک عرب ہوتے۔
پورا عالم اسلام عربی کے استقبال اور اسے سیکھنے کے لیے تیار ہے اگر ہم دین کے نام پر ان کے پاس جائے اور اگر ہم اسے عربی قومیت کے نام پر لے جائے تو کوئی خیر ہاتھ نہیں آئے گا۔اللہ جانتا ہے کہ ہندوستان ملایا اور انڈونیشیا کے اسفار کے دوران ہمارے دل کتنے زخمی اور ہمیں کتنی شرمندگی ہوتی ہے جب وہ اپنے بڑھائے گئے ہاتھ کے بدلے ہمارے ہاتھ کھینچ لینے اور ان کے ہمارے لیے چھپائے ہوئے بھائی چارے میں ہماری بے رغبتی پر ہمیں نرمی کے ساتھ ملامت کرتے ہیں۔ہم نے(یا ہم میں سے بعض نے)اسلام کے اس رابطے کو جس کے ذریعے سے ہم 360 ملین بھائیوں کو اپنا سکتے تھے اس قوم پرستی کے بدلے چھوڑدیا جس کے ذریعے آج تک ہم کسی ایک کو بھی نہیں اپنا سکے اور شاید بعد میں بھی نہیں اپنا سکتے ہیں۔
انڈونیشیا،سلطنت جوہورم،ملائیشیا اور ہر وہ جگہ جہاں مسلمان آباد ہیں وہاں عربی مدارس طلبہ سے بھرے ہوئے ہیں اگر ہم اپنی زبان کی اہمیت پہچان لیں اور اس کے لیے سرگرمی دکھا کران طلبہ کے پاس جاکر انھیں سکھادیں جو اسے چاہتے ہیں تو پورا عالم اسلام صرف سو سال میں عربی بولے گا جیسا کہ تیسری صدی ہجری میں بولتا تھا۔
مگر افسوس کے ساتھ عربی کو اس کے اہل نے ضائع کردیا، وہ کمزور ہوگئی حالانکہ یہ بہترین زبان ہے اور وہ زبان (یعنی انگریزی)جواس کی خادم بننے کی بھی لائق نہیں تھی وہ اور معززہوگئی۔
المصدر(فصول الثقافۃ والادب الشیخ علی الطنطاوی)۔
جمع و ترتیب مجاہد مامون دار المنارۃ طبع اول 2007 رقم الصفحۃ :169۔