Dec
30
2018
پاکستان کے ہمدرد دانشوروں کا اجتماع
محمد ایاز
پاکستان سے دور لندن میں پاکستانی سیکولر، لبرل، ترقی پسند، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور قوم پرست دانشوروں کا ایک اجتماع SAATH فورم یعنی (South Asians Against Terrorism & For Human Rights) کے زیر نگرانی ہوا۔ اس کانفرنس کی میزبانی پاکستانی دانشور ڈاکٹر محمد تقی (معروف کمیونسٹ) اور سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے مشترکہ طور پر کی۔ تقریباً سو کے قریب تعداد میں موجود ان دانشوروں میں سرمایادارانہ نظام کے حامی، کمیونسٹ، لبرل، ہیومن رائیٹس ایکٹوسٹس، سیکولر جماعتوں کے ارکان، میڈیا کے آزاد خیال حضرات وغیرہ سب ہی موجود تھے۔مجلس میں موجود نمایاں شخصیات ماروی سرمد، لطیف آفریدی، بینا سرور، فرحت تاج، تیمور الرحمٰن (لال)، عارف جمال، عباس ناصر وغیرہ تھے۔الغرض مذہب مخالف جذبات کے تحت کمیونسٹ اور سرمایہ دار حضرات بھی اکھٹے ہوگئے۔ اس اجتماع میں پاکستان سے متعلق چند باتوں پر اظہارِ خیال کیا گیا جن کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
سب سے پہلے جس شے کے بارے میں اظہارِ تشویش کیا گیا وہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پراکسی وار میں ملوث ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو عالمی تنہائی Isolation کا سامنا ہے اور اس کا یہ عمل خطے میں امن و امان کے قیام میں رکاوٹ کا باعث ہے (واضح رہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو محبِ وطن کہلاتے ہیں)۔ شرکاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی بیانیے کے خلاف بولنے پر لبرل، سیکولر اور ترقی پسند نظریات کو دبایا جاتا ہے اور Pluralism کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ کے پی کے اور بلوچستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے یہ علاقے انتہائی غیر محفوظ اور خطرناک ہیں۔ ان علاقوں میں قوم پرستوں اور عالمی اداروں کے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس اجتماع میں پاکستانی سیاست میں دو نئی جماعتوں کے حالیہ اضافے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا مذہبی دہشت گردوں کے ساتھ اچھا برتاؤ ہے۔ ان کے ساتھ نہ صرف مذاکرات کیے جاتے ہیں بلکہ انہیں پیرا ملٹری اسٹرکچر کا حصہ بنایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں قومی سیاسی دھارے میں شامل کیا جارہا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس آزاد خیال اور سیکولر عناصر کے ساتھ ریاست کا رویہ قابلِ تشویش ہے۔ ان کا مزید یہ کہنا ہے کہ ریاست Conspiracy theories کے ذریعے قوم کو الجھائے رکھتی ہے مثلاً یہ کہ ہمارے ملک کی سالمیت کو پڑوسی ممالک سے خطرہ ہے یا ہمارے اثاثوں پر دیگر ممالک کی نظر ہے وغیرہ۔ نیز یہ کہ اقلیتوں کے ساتھ ریاست کا رویہ انتہائی جانب دارانہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ موقع ہے کہ پاکستان کا با اثر طبقہ بجائے یہ کہ میڈیا کے ذریعے Conspiracy theories پھیلائے اور سوشل میڈیا پراور آزادی پر قدغن لگائے ، اپنے جرائم کا اقرار کرے۔ ذیل میں دانشورں کے لگائے گئے الزامات کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کیا جاتا ہے ۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، اسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔ اسلام ہی کے لیے قربانیاں دی گئیں تھیں۔ قراردادِ مقاصد اس کی زندہ مثال ہےجو بغیر کسی مخالفت کے منظور کی گئی تھی، جس میں ریاست کو اسلامی قرار دیا گیا ہے۔ مملکت کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کا پابند بنایا گیا تھا ۔آئین و دستور میں ریاست کو اسلامی قرار دیا جاچکا ہے، جب کہ اس کے بر خلاف جس قدر آزادی پاکستان میں لبرل اور سیکولر عناصر کو میسر ہے کسی اور طبقے کو نہیں۔ مگر یہاں کے حکمران حلقے نے اسلامی دفعات کو ائین میں قید کر رکھا ہے اور کبھی بھی اس پر عمل نہیں ہونے دیا ۔یہاں تو کسی بھی معاملے میں رائے عامہ ہموار کرنے میں اس کم ترین اقلیت کو کوئی دشواری پیش نہیں آتی کیونکہ میڈیا پر ان کا کنٹرول ہے، سوشل میڈیا ان کی گرفت میں ہے، ملک کے اہم اخبارات و جرائد پر ان کا قبضہ ہے، مختلف جامعات اور عوامی مراکز میں سیمینار اور کانفرنسز روز مرہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ جبکہ ان کی مزاحمت میں جو مذہبی اکثریت موجود ہے ان کو اس قدر بے دست و پا کردیا گیا ہے کہ وہ اکثریت میں ہونے کے باوجوداس طرح کی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر ہیں۔ اہلِ مذہب کا دائرہِ کار اس قدر تنگ ہوچکا ہے کہ ان کے بنیادی شعار (داڑھی، برقعہ وغیرہ) آج اجنبی بن گئے ہیں ۔
شرکاء کا یہ الزام بے بنیاد ہے کہ پاکستان کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرہ ہے اور پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ پراکسی وار میں ملوث ہے، کیونکہ پاکستان تو خود اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔الزام لگانے والوں کو ہندوستان کے پاکستان میں موجود جاسوس کلبھوشن یادیو اور اس پہلے سربجیت سنگھ ، آئے روز کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی؟ یا ان کے نزدیک یہ اقدامات خطے میں امن کے قیام کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان افغانستان کوکس طرح اپنی سرزمینِ پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اس سے پوری دنیا واقف ہے۔ جنرل اسمبلی میں پاکستان بھارت کی کشمیر میں کی گئی بربریت کے ثبوت مسلسل پیش کرتا رہا جس کو عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔مسئلہ کشمیر پر بھارت اقوام متحدہ کی قرارداد کو ہمیشہ سے مسترد کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے مبصر وفد کو کشمیر میں جانے نہیں دیتا ۔
پاکستانی ریاست پر دہشت گردوں اور مذہبی انتہاپسندوں کے ساتھ اچھےبرتاؤ کا الزام لگانادراصل پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کی گئی کوششوں کو Underestimate کرکے پاکستان کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے سے سوا کچھ بھی نہیں حالانکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں کسی اور ملک نے نہیں دی۔ ستر ہزار جانی نقصان اور اربوں روپے کا مالی نقصان کر کے پاکستان نے شرپسند عناصر کا خاتمہ کیاپھر بھی اگر کسی کو یہ نظر نہیں آتا تو اس کی کور چشمی ہے ۔ اور اگر بالفرض کوئی ’’دہشت گرد‘‘ تنظیم تشدد سے کنارہ کش ہو کر جمہوریت کے راستے یا پرامن طریقے سے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اکثریت اس کا ساتھ دیتی ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ کیا جمہوریت کے لیے یہ شرط ہے کہ صرف سیکولر اور لبرل لوگ ہی اپنے نظریات لوگوں کے سامنے رکھیں گے اور بس؟
پاکستان پر اقلیتوں سے زیادتی اور ان کی حق تلفی کا الزام بھی حقائق کی منافی ہے ملک کے مقدس ترین ادارے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان (چیف جسٹس رانا بھگوان داس) اقلیت میں سے تھے کیسے آسکتےتھے؟ اگر پاکستان میں عقیدوں کی بنیاد پر لوگ تعینات ہوتے تو اے ڈی خواجہ جو کہ اسماعیلی ہیں اور جن کی پرورش ایک ہندو گھرانے میں ہوئی وہ کبھی آئی جی سندھ نہ بنتے، نہ صرف آئی جی سندھ بلکہ ایسا آئی جی کہ اس جیسی شہرت شاید ہی سندھ میں کسی پولیس آفسیر نے پائی ہو۔ ڈاکٹر دلشاد نجم الدین سندھ کے آئی جی اور پھر پاکستان کے سفیر بھی رہے ہیں ان کا تعلق لاہور کی مشہور عیسائی فیملی نجم الدین سے تھا۔ انہیں آئی جی سندھ جنرل ضیاء الحق کی خواہش پر لگایا گیا۔ میجر جنرل نویل اسرائیل کھوکھر حال ہی میں پاک فوج سے ریٹائر ہوئے ہیں، جنرل صاحب فوج کے تمام اعلیٰ اور اہم عہدوں پر فائض رہے جن پر ان ریکنس کے مطابق بہترین آفیسرز کو فائز کیا جاتا ہے۔ بطور بریگیڈئیر چھمب سیکٹر میں بریگیڈ کمانڈ کیا، جو پاکستان کا سب سے بڑا اور حساس برگیڈ تصور کیا جاتا ہے، بطور برگیڈئیر ہی کور ہیڈ کوارٹر میں چیف آف اسٹاف رہے۔ میجر جنرل پروموٹ ہوئے تو کشمیر میں ۲۳ ڈویژن (کشمیر میں دو ہی ڈویژن ہیں ۲۳ اور ۱۲) کے جنرل آفیسر کمانڈنگ تعینات ہوئے۔ کمانڈ کے بعد تھنک ٹینک ’’انسٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز، ریسرچ اینڈ اینالیسز‘‘کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ جمہوری ممالک میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں مگر پاکستان واحد ملک ہے جس میں قادیانیوں کے اس وقت کے بڑے مرزا ناصر کو پارلیمنٹ کا رکن نہ ہوتے ہوئے بھی بلاکر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا اور اس نے اپنے کفریہ عقائد کا برملا اعتراف کیا ، ان کے خلاف قانون مکمل اتفاق سے بنا مگر قادیانی اس کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس کے باوجود ان کے ساتھ باغیوں کے بجائے معزز شہریوں والا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرعبدالسلام نے بطور احتجاج ۱۹۷۴ء میں پاکستان چھوڑ دیا تھا، لیکن جب انہیں ۱۹۷۹ء میں نوبل انعام ملا تو پاکستان تشریف لائے تو بھی انہیں سرکاری مہمان کا پروٹوکول دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کو سرکاری ہیلی کاپٹر میں ربوہ (قادیانی مرکز) پہنچایا گیا اور انہیں سب سے بڑے سول ایوارڈ نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ یہ دور جنرل ضیاءالحق کا تھا، جو ان ’’اقلیتوں کے ہمدردوں‘‘ کی آنکھوں میں سب سے زیادہ کھٹکتا ہے۔ حالانکہ اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس طرح کے اسلام دشمن لوگوں کو اس قدر آزادیاں دی جائے مگریہ امر واقعہ ہے کہ ان لوگوں کو اس قدر آزادیاں حاصل ہے اس کے باوجود بھی گلہ کرنا نرا پروپیگنڈا ہے ۔
پاکستان میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کو جو حقوق حاصل ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ کراچی میں گزشتہ ۲۰ سال سے بلا شرکتِ غیرے ایک قوم پرست جماعت کی حکومت قائم ہے۔اس نے جو خون کی ہولی کھیلی وہ سب کے سامنے ہے ۔کے پی کے میں کئی بار قوم پرستوں کی حکومت رہی۔ بلوچستان میں قوم پرست ہمیشہ سے حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ تمام قوم پرست جماعتیں بارہا اعلانیہ طور پر ملک مخالف اور بھارت نواز پالیسیاں اور بیانات دے چکی ہیں۔ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو جو خود مختاری دی گئی ہے اس کے باوجود اگر کسی کو قوم پرستوں پر ظلم نظر آتا ہے تو اس کا کیا مداوا کیا جائے ۔
خیبر پختون خواہ سے لے کر کراچی تک، پاکستان میں مختلف اقوام آباد ہیں اور ان کے اتحاد کی واحد بنیاد اسلام ہے۔ قوم پرستی کی بنیاد پر پاکستان ایک اکائی نہیں بن سکتا بلکہ قوم پرستی تقسیم در تقسیم کے ایک لامتناہی سلسلے کی بنیاد ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے جائز حقوق کا ضامن بھی صرف اور صرف اسلامی نظام ہی ہے۔ لبرل، سیکولر اور قوم پرست نظریے پاکستان کے باغی ہیں۔ نظریۂ پاکستان اصلاً نظریۂ اسلام ہے۔ آج اگر ہم Pluralism کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ذرا سوچنا چاہیے کہ ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانی کیوں دی؟ کیوں گھر بار کو چھوڑا؟ کیوں محلات سے صحرا میں آگئے؟ اگر اتنے بنیادی سوالات بھی ہم حل نہ کرسکیں تو اپنی دانشوری پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ نظریۂ پاکستان کے محافظین اس وقت بھی اسلامیان تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ ان شاءاللہ