Dec
30
2018
تزکیۂ نفس اور جہاد فی سبیل اللہ
ہوش محمد
دینِ اسلام ہر دور میں مختلف نوعیت کے حملوں اور فتنوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ مادی ترقی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے اسلا م کی عمارت کو شدید زک پہنچائی اوردین سے دوری کی راہیں ہموار کیں جس کے سبب کئی فتنے رونما ہوئے تاآنکہ اس دور کا نام دورِ فتن پڑ گیا۔ انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ ’’دین کو زندگی کے بعض شعبوں تک محدود کرنے کی کوشش‘‘ کی صورت میں پیش آیا ۔ اس دور کے فتنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر اس فتنے کو ’’اُم الفتن‘‘ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ اس فتنے نے دینِ اسلام کے کئی بڑے اور اہم شعبوں پر ضرب لگائی۔ مثلاً خدمتِ خلق میں کل دین کو پنہاں دکھایا اور حقوق اللہ سے بےگانہ کر کے محض حقوق العباد پر زور دیا۔تصوف وسلوک کے شعبے میں دراڑیں پیدا کیں ۔ جہاد کے روایتی تصور کو مسخ کر دیا وغیرہ، پھر اسی فتنے کی کوکھ سے یہ تصور بھی برآمدہوا کہ جن کا شیوہ جہاد فی سبیل اللہ ہو وہ میدان کارزار میں تو کارآمد ہوا کرتے ہیں لیکن تعلق مع اللہ میں وہ کسی خاص مقام کے حامل نہیں ہوتے، اس کے برعکس مجاہدہ مع النفس جن کا شیوہ ہو، وہ اللہ کے ذکر اور تزکیے میں لگے رہتے ہیں اور تحریکی معاملات سے بے بہرہ ہوتے ہیں ۔ غرض جہاد و مجاہدہ دو ایسی شاہراہوں کی مانند ہیں جن میں سے ایک کا رخ اگر مشرق کی جانب ہے تو دوسری کا مغرب کی جانب ۔ جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دونوں آپس میں اس درجےمربوط ہیں کہ اگر اول کو ثانی سے جدا کردیا جائے تو ہر دو کا مقصد فوت ہو جائے ۔ ان کے مابین ایک ربط یہ ہے کہ جہاد ایک قربانی ہے اور اللہ تعالیٰ صرف متقین ہی کی قربانی قبول کرتے ہیں جیسا کہ قرآن میں وارد ہوا إنما یتقبل اللہ من المتقین (المائدۃ ۲۷) (ترجمہ: اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی ہی قربانی قبول کرتا ہے)۔ دوسرے یہ کہ تزکیۂ نفس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر اس امرسےنفرت ہو جو حدود اللہ سے تجاوز کرے اوراس کو تبدیل کرنے کا داعیہ دل میں پیدا ہو۔اگربالفعل اس کو تبدیل کرنے پر قادر ہو تو اس کو تبدیل کرے اور اس کا نقطۂ عروج جہادہے کیونکہ جہاد ہمیشہ غیر اللہ کی حاکمیت کے خلاف ہوتا ہے ۔ گویا جہاد فی سبیل اللہ تزکیۂ نفس کی تکمیل کو لازم ہے ۔ اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ صحیح معنی میں ادا نہیں ہوسکتا جب تک تزکیۂ نفس کی منازل نہ طے کی جائیں ۔گویا تزکیۂ نفس فریضۂ جہاد کی ادائیگی کےلیے لازم ہے چنانچہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار پاتے ہیں۔ حضرت ابو درداءؓ اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ: أيها الناس اعملوا صالحا قبل الغزوة فإنما تقاتلون بأعمالكم (اے لوگو!جنگ سے قبل نیک اعمال کیا کرو کیونکہ تم اپنے اعمال کی بدولت ہی قتال کرتے ہو)۔ یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا براہ راست تعلق اعمال سےہے اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور اصلاحِ نیت تزکیۂِ نفس کا پہلا سبق ہے۔
تیسرے یہ کہ جس طرح نبی اکرم ﷺکی اتباع ہم پر لازم ہے ، اسی طرح آپ ﷺ کے مقصد کو اپنانا بھی لازم ہے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر جواساسی منہج انہوں نے اختیار کیا اس کو اپنانا بھی لازم ہے۔ ان دونوں کا ذکر قرآن میں بایں الفاظ وارد ہوا :هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الفتح:28، التوبۃ:33، الصف:9) (وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر ﷺکو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے) اور هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعۃ:2) (وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں ان ہی میں سے (محمدﷺ کو) پیغمبر (بنا کر) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کا تزکیہ کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں)۔ آیاتِ مبارکہ سے ظاہر ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد دینِ حق یعنی اسلام کو دیگر تمام ادیان پر غالب کردینا تھا جو کہ جہاد کے بغیر ممکن نہیں اور جس کے حصول کی خاطر اختیار کردہ منہج کا ایک اہم اور ابتدائی سنگ میل تزکیۂ نفس ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کئی افراد نے ’’ مجاہد ے اور جہاد ‘‘کو دو مراحل سے تعبیر کیا ، جن کو بالترتیب طے کرنا لازم ہے۔ اگر پہلا مرحلہ طے نہ کیا جائے تو دوسرے تک رسائی غلط نتائج برآمد کرے گی،بقولِ جگرؔ:
مری طرف سے کوئی یہ کہہ دے مجاہدِ بے خبر سے پہلے
صفائے قلب و نظر ہے لازم جہادِ تیغ و تبر سے پہلے
اسی ترتیبِ مراحل کی رعایت کی ایک واضح مثال ہمیں سورۃ البقرۃ کے اختتام میں ملتی ہے ۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ بادشاہ حضرت طالوت نے جہاد فی سبیل اللہ کے آغازسے قبل اپنی قوم کو تزکیے کے مراحل سے گزارا اور مجاہدہ مع النفس کے طور پر انہیں چلو بھر پانی سے زائد پینے سے روکا ۔ بفحوائے قرآن:
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّـهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ ۚفَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ۚ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو اللَّـهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرۃ : 249) (غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پیے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے ،( جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے)۔
ترتیبِ مراحل کی اسی اہمیت کو علامہ اقؔبال اس طرح بیان کرتے ہیں :
تو خاک میں مل اور آگ میں جل جب خشت بنے تب کام چلے
ان خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ تعمیر نہ کر
اگر ماضی کے اوراق کو پلٹا جائے تو ہماری تاریخ میں کئی ایسی بیش بہا شخصیات نظر آتی ہیں جن میں ان دونوں خصوصیات کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ جہاں وہ تحریکی امور میں مردِ مجاہد نظر آتے ہیں وہیں راتوں کو اپنے حجروں میں بطور زاہد رب العالمین کے حضور سر بسجود نظر آتے ہیں ۔یہ باکل وہ ہی صورت ہے کہ جس کی تصویر کشی کی تھی رومی جاسوس نے بایں الفاظ وجدت قوما رهبانا بالليل فرسانا بالنهار (ترجمہ: میں نے (صحابہؓ کی) ایسی قوم کو پایا جو رات کو راہب اور دن کو شہسوار ہوتے ہیں) اور جس کا نقشہ کھینچا حضرت ابن مسعودؓ نے اصحابِ امام مہدیؓ کے حوالے سے کہ قوم أسد بالنهار رهبان بالليل (ترجمہ: ایسی قوم جو دن کوشیر اور رات کو راہب ہونگے)۔ پیشِ نظر مضمون میں ہمارے اسلاف میں سے ایسی جامع الصفات چند ہستیوں کا تذکرہ بطورِ نمونہ کیا جارہا ہے :
امام ابن تیمیہ ؒ
آپ کا نام احمد بن عبد الحلیم الحرانی تھا ۔ آپ ۶۶۱ھ میں شام کے تاریخی شہر حران میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان پشت ہا پشت سے سے علم و فضل اور زہد و ورع میں ممتاز چلا آرہا تھا ۔ آپ کے دادا عبد السلام ؒ فقہ حنبلی کے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ آپ کے والد شیخ عبد الحلیم مدرسہ نوریہ کے استاذ تھے ۔آپ سات سال کے ہی تھے کہ تاتاریوں نے جوکہ مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہے تھے، آپ کے شہر پر قبضہ کرلیا لہٰذا آپ کے تمام خاندان نے دمشق ہجرت کی۔دمشق جہاں علم کی فراوانی تھی، وہاں بھی آپ کے والدکو ممتاز مقام حاصل رہا ۔ چند روز میں ہی آپ کے والد کو دار الحدیث السکریہ کے استاذ اور جامع مسجد اموی کے خطیب کی حیثیت سے منتخب کرلیا گیا ۔آپ نے ابتدائی تعلیم حران میں حاصل کی ۔ پھر دمشق میں دارالحدیث السکریہ سے مختلف علوم کا درس لیا ۔آپ بڑے قوی الحافظہ تھے۔ آپ کے والد ایک مرتبہ اپنے دیگر بیٹوں کو باغ کی سیر کو لےگئے اور جب واپس آئے تو اتنی دیر میں آپ ایک کتاب لفظ بہ لفظ یا دکرچکے تھے ۔ حافظ ذہبی اپنی کتاب میں جب آپ ؒ کی مدح لکھتے لکھتے تھک گئے تو کہا ’’ان کا مقام اس سےکہیں ارفع و اعلیٰ ہے کہ مجھ جیسا شخص ان کی سیرت و فضیلت بیان کرے ۔ خدا کی قسم اگر میں خانۂِ کعبہ میں عین رکنِ یمانی و مقامِ ابراہیم کے درمیان کھڑے ہوکر قسم کھاؤں کہ نہ تو میری آنکھوں نے ان کا مثل دیکھا ، نہ خود انہوں نے اپنا ثانی تو میری قسم سچی ہوگی اور میرے لیے کفارہ نہیں ۔‘‘ ابن تیمیہ ؒ کے معاصرین کی شہادتوں سے ان کے تعلق مع اللہ ، عبادات ، مجاہدات اور زہد کا بخوبی علم ہوتا ہے ۔
امام ذہبی ؒفرماتے ہیں لم أر مثلہ فی ابتہالہ و استغاثتہ و کثرۃ توجھہ (ترجمہ: میں نے خشوع و خضوع ،آہ وزاری اور لو لگانے میں ان کا مثل نہیں دیکھا )۔ امام ابن قیم ؒ لکھتے ہیں و کان إذا صلی الفجر یجلس فی مکانہ حتی یتعالی النھار جدا۔ یقول ھذہ غدوتی لو لم نغد ھذہ الغدوۃ سقطت قوای (ترجمہ: جب وہ فجر پرھتے تو اپنے جگہ بیٹھے رہتے ، یہاں تک کہ دن خوب چڑھ آتا ، وہ فرماتے : ’’یہ میرا ناشتہ ہے، اگر میں یہ ناشتہ نہ کروں تو مجھ میں طاقت نہ رہے گی‘‘) ۔
حافظ ابن فضل اللہ العمری ؒان کے متعلق فرماتے ہیں کانت تأتیہ القناطیر المقنطرۃ من الذھب و الفضۃ و الخیل و الأنعام و الحرث فیھب ذلک بأجمعہ و یضعہ عند أھل الحاجۃ فی موضعہ لا یأخذ منہ شیئا إلا لیھبہ و لا یحفظہ إلا لیذھبہ (ترجمہ : ان کے پاس سونے اور چاندی کے سکے ، گھوڑے ، چوپائے اور فصل آیا کرتے تھے۔ آپ جملہ اشیاء ہبہ کردیا کرتے تھے اورانہیں حاجت مندوں کے پاس اپنے مقام پر رکھوادیا کرتے اور ان میں سے کچھ لیتےتو اس لیے کہ ہبہ کردیں اور کچھ بچاتےتو اس لیے کہ آگے بڑھادیں )۔
خود امامؒ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ إنہ لیقف خاطری فی المسئلۃ أو الشیء أو الحالۃ التی تشکل علی فأستغفر اللہ تعالیٰ ألف مرۃ أو أکثر أو أقل حتی ینشرح الصدر و ینجلی إشکال ما أشکل (ترجمہ : جب میرا دل کسی مشکل مسئلے ، چیز یا حالت میں اٹک جاتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے ہزار دفعہ یا کم و بیش استغفار کرتا ہوں تا آنکہ انشراحِ صدر ہوجاتا ہے اور وہ مشکل ختم ہوجاتی ہے) ۔ آپ ؒ نے تصوف و اخلاق کے موضوع پر ۷۸ چھوٹی بڑی کتابیں اور رسالے تصنیف کیے ۔
علم اور تصوف کے علاوہ امام ابن تیمیہؒ سیاست اور جہاد کے میدانوں میں بھی مصروفِ کار رہے ۔ آپؒ نے حکمرانوں کو ہمیشہ مفید مشورے دیے ۔ آپ ؒ ہی کے ایماء پر امیر شمس الدین افرم کو طرابلس کا حاکم بنایا گیا تھا ۔ امام صاحب ؒ نے ان مفسدوں کے خلاف بھی مسلح جہاد کیا جو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے ۔ ان میں باطنی اور نصیری قبائل شامل تھے۔ ہلاکو خان کے پڑپوتے قازان خان نے قبول اسلام کے بعد شام پر قبضہ کرنا چاہا اوردمشق میں جنگ ہوئی ، جس کے نتیجے میں امام صاحب ؒ علماء کی ایک جماعت کے ہمراہ قازان خان کے پاس گئے اور اس سے نہایت جرأت مندانہ انداز میں غیرت دلاتے ہوئے فرمایا : ’’تمہارا دعوی ہے کہ تم مسلمان ہو ، لیکن تم نے ہم مسلمانوں پر حملہ کیا حالانکہ تمہارے باپ اور دادا نے غیر مسلم ہونے کے باوجود جو کچھ عہد کیا اسے پورا کیا ور تم نے جو کچھ عہد کیا اسے توڑدیا ۔‘‘ آپؒ نے ۱۳۰۳ء میں تاتاریوں کے خلاف ہونے والی جنگ میں حصہ لیا جو رمضان کے مہینے میں ہوئی ۔ اس جنگ میں انہوں نے امیر سے کہا کہ مجھے شہادت کی جگہ دکھاؤ ۔ امیر نے ایسی جگہ لے جاکر کھڑا کردیا جہاں تاتاریوں کے تیروں کی بارش ہورہی تھی ۔ امام صاحب نے کچھ دیر دعا کی پھر تلوار سنبھال کر دشمن کی صفوں پر ٹوٹ پڑے۔آپؒ نے حق گوئی کی پاداش میں کئی سزائیں برداشت کیں مگر کبھی حق گوئی کا دامن نہ چھوڑا ۔ جس بات کو حق جانا اس کا ببانگِ دہل اعلان کیا ۔اس ہی حق گوئی کی پاداش میں عمر کے آخری ایام میں آپ کو قید کردیا گیا اور لکھنے پڑھنے کی سہولتیں چھین لی گئیں ۔ اس پابندی کے بعد آپ صرف چار ماہ تک بقیدِ حیات رہے اور ۲۸ ذی قعدہ ۷۲۸ھ کی شب سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے ۔
سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ
آپ کا نام یوسف تھا اور اپنے والد ایوب نجم الدین کی نسبت سے ایوبی کہلائے ۔قاضی ابن شداد ؒ جو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے ہم عصر اور رفیقِ کار ہونے کے باعث ان کی زندگی کے حالات سے واقف تھے، ’’النوادر السلطانیۃ و المحاسن الیوسفیۃ ‘‘میں آپؒ کی خصوصیات کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’کان ؒ حسن العقیدۃ کثیر الذکر للہ تعالیٰ‘‘ ترجمہ :عقیدے میں پختہ تھے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ۔مزید رقم کرتے ہیں : ’’و کان ؒ خاشع القلب ، رقیقہ ، غزیر الدمعۃ ، إذا سمع القرآن یخشع قلبہ ، و تدمع عینہ فی معظم أوقاتہ ‘‘ترجمہ :آپؒ خشوعِ قلب کے حامل ، نرم دل والے اور (خشیت الہٰی کے باعث ) کثرت سے رونے والے تھے۔جب قرآن سنتے تو آپؒ کے دل پر خشیت طاری ہوجاتی تھی اور آپؒ کی آنکھیں اکثر اوقات نم ہوا کرتی تھیں ۔شیخ عرسان نےاپنی تصنیف’’ ھکذا ظھر جیل صلاح الدین و ھکذا عادت القدس‘‘ میں بیان کیا کہ العماد الکاتبؒ نے آپؒ کے حکم سے امام غزالیؒ کی تصوف کے باب میں شہرۂ آفاق کتاب ’’کیمیائے سعادت‘‘ کا فارسی سے عربی میں ترجمہ کیا ۔
سید ابو الحسن علی الندوی آپؒ کی صفات کے بیان میں لکھتے ہیں :
’’سلطان(۱۱۳۷ء/۵۳۲ھ) …نماز و واجب کے بڑے پابند تھے ، ایک موقع پر فرمایا کہ سالہا سال ہوگئے ، میں نے ایک نماز بھی بے جماعت نہیں پڑھی …سننِ رواتب پر مداومت تھی ، رات کو حتی الامکان نوافل پڑھتے …ان کو آخری بیماری میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا ، صرف تین دن جن میں ان پر بے ہوشی طاری رہی ، نماز فوت ہوئی ، زکوٰۃ فرض ہونے کی ساری عمر نوبت نہیں آئی اس لیے کہ انہوں نے کبھی اتنا پس انداز ہی نہیں کیا جس پر زکوٰۃ فرض ہو ، ان کی ساری دولت صدقات و خیرات میں خرچ ہوئی ‘‘۔
آپؒ جہاد و مجاہدے کے باہمی لزوم سے اس درجے واقف تھے کہ اپنے مجاہدین کو پہلے تزکیے کی غرض سے خانقاہ بھیجتے اور جب ان کا خوب تزکیہ ہوجاتا تب انہیں میدانِ کارزار میں اتارتے اور یہی طریقہ راستی کا حامل ہے ، بقولِ شاعر :
خدا کے کام دیکھو بعد کیاہے اور کیا پہلے
نظر آتا ہے مجھ کو بدر سے غارِ حرا پہلے
مزید برآں خود بھی جہاد و مجاہدے کا اس درجہ حسین امتزاج تھے کہ جب انہیں قیادت سونپی گئی تو انہوں نے مجاہدین کی خوب تربیت کی ، حتی کہ امراء و وزراء جن میں سرِ فہرست صلاح الدین خود تھے ، رات کو خود اپنے حفاظت کے لیے اپنے اسلحے کے ساتھ سوتے ، بقیہ سپاہیوں کی مانند خیموں میں رہتے اور اپنے لیے کوئی علیحدہ گھر تعمیر نہ کراتے ۔
میر بابر مشتاق لکھتے ہیں : ’’اس عظیم رہنما نے مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ، انہیں ’’جہاد ‘‘ جیسے اہم ترین فریضے کی جانب متوجہ کیا اور اپنی باتوں سے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کردی ۔ اب صلاح الدین ایوبی ؒ کے پاس جوش جہاد سے سرشار جوانوں کی فوج تھی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت تیاررہتے تھے ۔ ۱۱۷۷ء میں صلاح الدین ایوبی نے فلسطین کا رخ کیا اور معرکۂ خیر و شر کا آغاز ہوگیا ۔ ‘‘
اس ہی معرکۂ خیر و شر میں بیت المقدس کو یہودیوں کے شکنجے سے چھڑانے کا وہ خواب پورا ہوا جو کبھی نور الدین زنگیؒنے دیکھا تھا ۔ان کے جہادی کردار کے بیان میں یہ بات کافی ہے کہ جب بیت المقدس کی فتح کے بعد پاپائے روما کی نوید پر فرانس اور انگلستان کے بادشاہوں نے آپس کی رنجشیں فراموش کردیں اور بیت المقدس کی بازیابی کے لیے یکجا ہوئے تو صلاح الدین ایوبی ؒ نے ان کے خلاف جنگ کی جو تین سال جاری رہی جس کے دوران ۱۰۰ سے زائد لڑائیاں اور ۹ بڑے معرکے ہوئے ۔ یہ ازمنۂ وسطی کی سب سے بڑی جنگ تھی ، جس کو آج بھی تیسری صلیبی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اے کاش کہ آج بھی کوئی مرد مجاہد اٹھ کھڑا ہو اور بیت المقدس کی یہودیوں سے حفاظت کرے ۔
قاضی بہاء الدین ابن شداد ؒ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی وفات کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’شیخ ابو جعفر الکلاسہ کو جو کہ نہایت صالح اور بزرگ شخص تھے مقرر کیا گیا کہ سلطان کو آخری وقت تلقین کریں اور اللہ کا ذکر کریں ،وہ سلطان کے پاس تلاوت و ذکر میں مشغول رہتے ، جب وہ تلاوت کرتے ہوئے ھو اللہ الذی لا إلہ إلا ھو عالم الغیب و الشھادۃ پر پہنچے تو سلطان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور چہرہ کھل گیا اور کہا صحیح ہے اور یہ کہہ کر جان جانِ آفریں کے سپرد کردی ‘‘۔
شیخ احمد سرہندی ؒ
ہندوستان کی تاریخ میں دیکھا جائے تو حضرت مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ اس امتزاج میں انتہائی نمایاں نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے سلوک و احسان کے کئی شیوخ سے نسبت پائی ۔ حضرت مجدد صاحب ؒ ۹۷۱ھ میں پیدا ہوئے جو عہدِ اکبری کا شباب تھا ۔ سترہ سال تعلیم و تربیت کے بعد اس فریضے کی ادائیگی میں مشغول ہوئے جس کا نتیجہ مجددیت کا خطاب تھا۔ ابتداءً آپ سلسلۂِ چشتیہ میں والد بزرگوار سے بیعت ہوئے اور اس کا سلوک تمام کیا۔ پھر سلسلۂِ قادریہ پر تربیت حاصل کی ۔ اس کے مرشد بھی والد بزرگوار ہی تھے ، مگر خرقہ خلافت حضرت شاہ سکندر ؒ (نبیرۂ حضرت شاہ کمال صاحب کیتھلی ؒ) سےعطا ہوا ۔ سلسلۂ کبرویہ کے مشہور ولی حضرت مولانا یعقوب صاحب صرفی ؒتھے ۔ آپ سے مجدد صاحبؒ نے طریقہ ٔکبرویہ بھی حاصل کیا اورنسبتِ نقشبندیہ خواجہ باقی باللہ نقشبندی احراری ؒ سے حاصل کی ۔
مزید برآں دینِ اکبری جو گیارھویں صدی ہجری کا سب سے بڑا فتنہ شمار کیا جاتا ہے اور جس کی پشت پر خود بادشاہ اکبر تھا ، اس کی سر کوبی کا سہرا بھی مجدد الفِ ثانی ؒ کے سر ہے ۔ یہ دین اس بات کا مدعی تھا کہ دینِ محمدی ﷺدر اصل ایک ہزار سال تک کار آمد تھا ، اب وہ زمانہ پورا ہوچکا ، لہٰذا دینِ محمدی ﷺکی ہر اصل و فرع اور جزو کل غرض ہر شے میں ترمیم کی جاسکتی ہے ۔ اس دعوے کے ذریعے اکبر نے دینِ اسلام کا مختلف ادیان کے ساتھ ملاپ کرادینا چاہا جو کہ ہمیشہ سے باطل کی منشا رہی ہے :
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
اس فتنے کی راہ میں حضرت مجدد ؒسیسہ پلائی ہوئی دیوار کی صور ت کھڑے ہوگئے اور اس طوفان کا رخ موڑدیا ۔ اس راہ میں مجدد الفِ ثانی ؒ کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، حتی کہ قید تک کی نوبت آئی ۔ حضرت مجدد حق گوئی میں کبھی خوف محسوس نہ کرتے تھے، تا آنکہ بادشاہ کے سامنے بھی حق کہنے سے کبھی نہ کتراتے تھے۔وہ اس حدیث کا مصداق ثابت ہوئے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ (ترجمہ : جان رکھو ! یقیناً افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے )۔
اسی کی ایک مثال یہ ہے کہ اکبر نے قبل از رؤیتِ ہلال عید کا اعلان کرکے لوگوں کے روزے تڑوادیے لیکن حضرت مجددؒ نے اس شاہی حکم کے باوجود روزہ رکھا ۔ جب ابو الفضل نے وجہ دریافت کی اور یہ جواب پایا کہ’’شرعی شہادت مہیا نہیں ہوئی ‘‘تو کہا کہ’’ بادشاہ نےخود چاند دیکھا ہے ‘‘۔ جس کے جواب میں مجدد صاحبؒ نے بے ساختہ فرمایا :’’ بادشاہ بے دین ست اعتبارے ندارد ‘‘(ترجمہ :بادشاہ بے دین ہے ، اس کا اعتبار نہیں)۔
محی الدین اورنگ زیب عالمگیرؒ
اسی راہ کے شہسواروں کی فہرست میں اورنگ زیب عالمگیر کا نام بھی موجود ہے ، ان کا عہد حکومت(۱۶۵۸ء تا ۱۷۰۷ء) سترھویں صدی کے نصفِ آخر پر محیط ہے ۔ ان کی بادشاہت کی داستان مولانا سید محمد میاں صاحب ؒ کچھ اس طرح سناتے ہیں:’’واقعہ یہ ہے بساط تاریخ پر اگر حق و انصاف کی کوئی قیمت ہے تو نہایت بلند آہنگی اور دلیری کے ساتھ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ عالمگیر کے بعد سے آج تک (باوجودیکہ گردش لیل و نہار نے تقریباً ڈھائی صدیاں پوری کردی ہیں) دنیا عالمگیر جیسا رعایا پرور ، رحم دل ، انصاف پسند بادشاہ نہیں پیدا کرسکی ۔ ‘‘ شیخ محمد اکرام اپنی تصنیف رودِ کوثر میں آپ کی شجاعت کا نقشہ کھینچتے ہیں :’’اٹھارھویں صدی عیسوی کے تیسرے سال کی ابتدا ہے ۔ اسلامی ہندوستان کا آخری جلیل القدر بادشاہ ، عالمگیر دکن میں مخالفوں سے برسرِ پیکار ہے ۔ اس کی عمر پچاسی سال کی ہورہی ہے ۔ بڑھاپے کے بوجھ سے کمر جھک گئی ہے ، لیکن اس کمزور اور نحیف جسم کے اندر ابھی وہی آہنی دل ہے ، جس کے بل بوتے پر عالمگیر چودہ برس کی عمر میں ایک مست ہاتھی کے سامنے یکتا و تنہا ڈٹ گیا تھا ۔ ‘‘
اورنگ زیب عالمگیر ؒ بادشاہ اور مردِ میدان ہونے کے ساتھ ہی ذوقِ تصوف کے حامل بھی تھے ۔ میاں عبد اللطیفؒ اکابر اولیاء میں سے تھے ۔ اورنگزیب عالمگیر ان کی خدمت میں زمانۂ شہزادگی میں بھی حاضری دیا کرتے تھے اور بادشاہ بننے کے بعد بھی حاضر خدمت ہوتے تھے ۔ ایک مرتبہ عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو علاقہ کھرکون کے کچھ دیہات مصارفِ خانقاہ کے لیے پیش کردیے جائیں ۔ میاں صاحب نےارشاد فرمایا :
شاہ ما را دہ دہد منت نہد
رازقِ ما رزق بے منت دہد
(بادشاہ ہم کو دس(۱۰)دیتا ہے تو احسان جتلاتا ہے (جبکہ) ہمارا رازق ہمیں بغیر احسان جتلائے رزق دیتا ہے )
مآثرِ عالمگیری میں آپ کی صفات کچھ اس طرح بیان کی گئی ہیں :’’باقتضاء سعادت فطری در مراتب دینی بکمال رسوخ انصاف داشتند و بمذہب امام اعظم ابو حنیفہؒ عامل و بناء خمسہ اسلام را کما ینبغی تاسیس و نشید مے نمودند ۔ و پیوستہ با وضو و بذکر کلمہ طیبہ و دیگر اذکار و ادعیہ ماثورہ رطب اللسان مے بودند ، و صلوٰۃ مفروضہ را اوّل وقت در مسجد وغیرہ مسجد باجماعت و جمیع سنن و نوافل و مستحبات را بخضوع و خشوع تمام مے کردند ۔ و در مشہور روز ہائے بیض و در ایام ہفتہ دوشنبہ و پنجشنبہ و جمعہ را صائم بودہ ……… و در لیالی متبرکہ باِِحیاء شب مے پرداختند ………از غایت طلبی حق شبہا در مقصودہ مسجد دولت خانہ صحبت اہل اللہ مداشتند ………و زکوٰۃ شرعی ………ہر سال بارباب استحقاق مے دادند ……… و ماہ مبارک رمضان را بصوم مے گزارانیدند ………و در عشرہ اخیرہ در مسجد معتکف مے بودند‘‘
(دینی حیثیتوں میں فطری سعادت کے باعث تا حدِ کمال انصاف پسند تھے ۔ امام اعظم ابو حنیفہ ؒکے مسلک پر عمل کرتے تھے اور اسلام کے پانچوں ارکان پر پوری طرح کاربند تھے ، با وضو رہتے تھے ، کلمۂ طیبہ اور دیگر اذکار و ادعیۂ ماثورہ سے زبان تر رہتی تھی ۔ فرض نماز کو اول وقت میں مسجد کے اندر اور باہر(غرض ہر جگہ) باجماعت ادا کرتے اور جملہ سنن و نوافل و مستحبات کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ۔مشہور ایامِ بیض اور پیر ،جمعرات اور جمعے کا روزہ رکھتے ۔۔۔ مبارک راتوں میں(بغرضِ عبادت)بیدار رہتے۔حق کی جستجو میں تمام رات دولت خانے کی مخصوص مسجد میں اہل اللہ کی صحبت میں رہتے ، زکوٰۃ شرعی ہر سال اس کے مستحقین کو دیتے ، تمام رمضان روزے سے گزارتے اور آخری عشرے میں مسجد میں معتکف ہوجاتے )۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ
شاہ ولی محدث دہلوی ؒکے دینی فضل و کمال کے بیان میں یہ بات کافی ہے کہ ہندوستان کی تقریباً ہر علمی سند آپ کا نام دہراتی ہے ۔مزید یہ کہ آپ جس درجےطریقت میں باکمال تھے اسی درجے شریعت میں بھی اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔شاہ ولی اللہ ؒ ۱۰ فروری ۱۷۰۳ء کو بھارت کے ضلع مظفر نگر کے ایک گاؤں پھلت میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد محترم شاہ عبد الرحیم ؒبھی ایک بڑے عالم اور پاک باطن بزرگ تھے اور انہیں صوفیاء میں بلند مقام حاصل تھا ۔ شاہ صاحب ؒکا سلسلۂِ نسب اپنے والدِ محترم کی طرف سے حضرت عمر فاروقؓ اوروالدۂ محترمہ کی جانب سے حضرت موسیٰ کاظم ؒ سے جاملتا ہے۔ آپ ؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ محترم ہی سے حاصل کی ۔ پانچ سال کی عمر میں آپ کو مدرسہ رحیمیہ میں داخل کروادیا گیا ۔ سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی اورکم عمری ہی میں کثیر المطالعہ ہوگئے۔
شاہ ولی اللہ ؒ نے والد صاحب ہی سے چودہ سال کی عمر میں بیعت کی اور اشغالِ صوفیہ بالخصوص مشائخِ نقشبندیہ کے اشغال میں مشغول ہوگئے۔والد صاحب نے آدابِ طریقت کا ایک حصہ تعلیم کیا اور خرقہ پہنایا (اور سترہ سال کی عمر میں والدِ محترم نے رحلت فرمائی )۔ شاہ ولی اللہ ؒ کو اپنے والد شاہ عبد الرحیمؒ کی طرح اصل تعلقِ خاطر سلسلہ باقویہ نقشبندیہ سے تھا لیکن وہ دوسرے مشہور صوفی سلسلوں سے بھی منسلک تھے اور تذکروں میں لکھا ہے کہ آپ بیعت کے وقت چاروں سلاسل (یعنی نقشبندیہ ، چشتیہ ، سہروردیہ اور قادریہ سلسلوں) کے بزرگوں کے نام لیتے ، تاکہ سب سے فیض حاصل ہو سکے ۔
آپؒ نے کئی سیاسی خدمات بھی پیش کیں،جو بہت سے بڑے کارناموں کا پیش خیمہ بنیں ۔پروفیسر خلیق احمد نظامی ’’شاہ ولی اللہ دہلوی کے سیاسی مکاتیب‘‘ نامی کتاب میں بہت سے اہم مکاتیب جمع کرتے ہوئے رائے ظاہر کرتے ہیں :’’ مرہٹوں کے خلاف احمد شاہ ابدالی کو بلانے اور نجیب الدولہ کو اس کا شریک کرنے میں شاہ صاحبؒ کا ہاتھ تھا ۔پانی پت کا میدانِ کارزار حقیقت میں شاہ ولی اللہ صاحب کا سجایا ہوا تھا ۔‘‘
حضرت سید احمد شہید ؒ
حضرت سید احمد شہید ؒ ۱۲۰۱ھ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کو بچپن ہی سے سپہ گری کا شوق تھا ۔ کم سن لڑکوں کا لشکر بناتے اور بطور جہاد بہ آواز بلند تکبیریں کہتے ہوئے ایک فرضی لشکر پر حملہ کرتے ۔ جسمانی قوت غیر معمولی تھی ۔آپ شاہ عبد العزیزؒ کے خلیفہ تھے ۔آپ نے شاہ عبد العزیزؒ کی صحبت میں طویل عرصہ گزارا اور آپ کو آنجناب سے سلسلۂِ نقشبندیہ میں بیعت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ تاریخِ دعوت و عزیمت میں مولانا علی میاںؒ شاہ عبد العزیزؒ کی عظمت و رفعت کا بیان کرتے ہیں اور اس دعوے کے ثبوت کے طور پر ان کے خلیفہ سید احمد ؒ (۱۲۰۱ھ-۱۲۴۶ھ) کا نام ذکر کرتے ہیں ۔ایک ثقہ عالمِ دین مولوی عبد الاحد صاحب ؒجن کا زمانہ سید احمد شہید صاحب ؒ سے قریب تھا لکھتے ہیں :’’حضرت سید صاحب ؒ کے ہاتھ پر چالیس ہزار سے زیادہ ہندو وغیرہ کفار مسلمان ہوئے اور تیس لاکھ مسلمان آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے، اور جو سلسلہ ِٔبیعت آپ کے خلفاء کے خلفاء کے ذریعے تمام روئے زمین پر جاری ہے،اس سلسلے میں تو کروڑوں آدمی آپ کی بیعت میں داخل ہیں ۔‘‘
سید احمد شہید ؒ نے جنگی اعتبار سے بھی کارہائے نمایاں انجام دیے اور جہاد فی سبیل اللہ کی وہ صورت جو میدانِ کارزار سے متعلق ہے اس میں بھی بڑھ چڑھ کر جوہر دکھلائے ۔میر بابر مشتاق اپنی تصنیف سو عظیم مسلم شخصیات میں سید صاحب کو مجاہدینِ اسلام کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’سرفروشوں کا ایک لشکر آپ کے پاس جمع ہوگیا جن کا مقصد اول و آخر ہندوستان میں اسلامی حکومت کا اِحیاء تھا ، ۱۷ جنوری ۱۸۲۶ءکو سید صاحب نے دار الحرب ہند سے ہجرت کی ..... سکھوں نے سید صاحب کا راستہ روکنے کے لیے ایک لشکر تیار کیا .....سکھوں کے ساتھ جنگ ہوئی ۔ سات سو سکھ مارے گئے ، صرف ۳۶ مجاہدین شہید ہوئے۔ ‘‘
اس جانباز سپہ سالار نے اور بھی کئی معرکہ آرائیاں کیں جن کی تفصیل مصادرِ تاریخ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
سید صاحبؒ نے ابتداءً پنجار کو مرکز بنایا اور وہاں اڑھائی ہزار لوگوں کو جمع کرکے بیعت علی الجہاد لی ۔سرحد میں قائم شدہ شرعی نظام کو سکھوں اور دُرّانیوں نے ختم کرنا چاہا تو ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور انہیں بری طرح سے شکست دی ۔ جس کے نتیجے میں پشاور سے اٹک اور اٹک سے امب تک پورا علاقہ ایک نظام کے تحت متحد ہوگیا ۔6 مئی 1831ء ، جمعہ مبارک کے روز بالاکوٹ اور مٹی کوٹ کے درمیانی علاقے میں سکھوں کے ساتھ خون ریز لڑائی شروع ہوئی جو دو گھنٹے جاری رہی ۔ سکھوں کی تعداد مجاہدین سے کئی گنا زیادہ تھی ۔ بہت سے سکھ مارے گئے ۔ تین سو مجاہدین شہید ہوئے جن میں مردِ مجاہد سید احمد شہید ؒ بھی شامل تھے ۔
شاہ اسماعیل شہید ؒ
شاہ محمد اسماعیل ؒ ۱۱۹۳ھ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی آٹھ برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا ۔بچپن ہی سے دھیمی اور حلیم فطرت کے مالک تھے۔ جوں جوں بڑے ہوتے گئے طبیعت میں مزید انکساری آتی گئی ۔دس برس کی عمر میں والد صاحب شاہ عبد الغنیؒ کے انتقال کے بعد چچا شاہ عبد القادر دہلوی ؒکی زیرِ سرپرستی انہی سے دینی علوم حاصل کیے ۔ ۱۶ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے ۔آپ ؒتیر اندازی ، گھڑسواری اور بندوق چلانے کی بھی مشق کیا کرتے تھے ۔ آپ بغیر زین و رکاب کے گھوڑے پر سواری کرلیا کرتے تھے چاہے کتنا ہی منہ زور کیوں نہ ہو اور کئی کئی میل سواری کرتے مگر تھکن طاری نہ ہوتی ۔آپ ؒ جہاد میں شریک ہونے سے پہلے ہر جمعے کو جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر وعظ کیا کرتے تھے ۔ آپ مولانا محمد یوسف ؒ کے مرشد تھےجو کہ بعد میں سید احمد شہید ؒ کے مرید ہوگئے ۔بعد میں شاہ صاحب خود بھی سید صاحب کے مرید ہوگئے ۔ صاحب ’’انوار العارفین ‘‘ آپ کی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہیں :’’شاہ اسماعیلؒاور مولانا عبد الحی ؒاکٹھے امتحان کی غرض سے سید صاحب ؒ کے پاس پہنچے اور نماز میں حضورِ قلب کے متعلق سوال کیا ۔ سید صاحب ؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا : آج رات میرے حجرے میں آکر میرے پیچھے دو رکعت نماز ادا کیجیے ۔ چنانچہ دو رکعت نماز سید صاحب ؒ کے ساتھ پڑھ چکنے کے بعد دو رکعتوں کی نیت باندھ لی ۔ سید صاحب ؒ کی صحبت اور حقانی توجہ کی برکت سے ساری رات استغراق میں گزاردی بس اس وقت سے ایسے معتقد ہوئے کہ پھر ساتھ نہ چھوڑا۔‘‘ آپؒ کو جب بھی کسی محفل کی اطلاع ہوتی ، چاہے وہ ناچ گانے کی ہی کیوں نہ ہو ، وہاں جاتے اور وعظ کہتے جس کا عوام پر گہرا اثر پڑتا اور یہ وعظ ان کی اصلاح کا باعث بنتا۔آپ نے سید احمد شہید صاحب ؒ (جن سے آپ نے بیعت سلوک و جہاد کی تھی) کی نہ صرف ہمرکابی اور رفاقت کا حق ادا کیا ، بلکہ اس کارِ جہاد میں آپ کی حیثیت تحریک کے ایک قائد اور امیر کے وزیر و نائب کی تھی ۔
۱۷جنوری ۱۸۲۶ء کو آپ نے گھر بار اہل و عیال سب کچھ چھوڑ کر سید احمد شہید ؒ کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہجرت کی ۔ تپتے صحراؤں اور سنگلاخ چٹانوں سے گزرتے ہوئے آپ نے سید صاحبؒ کے ساتھ ۱۹ معرکوں میں حصہ لیا ۔۶ مئی ۱۸۳۱ ء کو معرکہ ٔ بالاکوٹ میں داد شجاعت دی۔ آپ سید احمد شہید ؒ کی قیادت میں مجاہدین کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ، اسی اثناء میں آپ کی پیشانی پر گولی لگی جس سے آپ کی داڑھی خون سے تر ہوگئی اور وہ یہ کہتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھتے چلے گئے کہ ’’میں تو وہیں جاتا ہوں جہاں امیر المؤمنین ہیں ۔‘‘
حسن البناء شہیدؒ
آپؒ اکتوبر ۱۹۰۶ء میں محمودیہ،مصر کے ایک مایہ ناز علمی اور دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد نے ابتدا ہی سے آپ کے حفظِ قرآن پر توجہ دی اور پھر محمودیہ کے مکتب’’مدرسۃ الرشاد الدینیۃ‘‘ میں داخل کردیا جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم استاذ محمد زہران ؒ کی زیرِ نگرانی مکمل کی ۔آپ کے بھائی عبد الرحمٰن البناءاس دور کے معمولات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’والدِ محترم ہمیں سیرۃ النبی ﷺ کے اوراقِ مطہرہ اور فقہ ، اصولِ فقہ اور نحو کے اسباق زبانی حفظ کرواتے ۔ والد بزرگوار نے ہمارے لیے ایک گھریلو نصابِ تعلیم وضع کر رکھا تھا جسے وہ ہمیں پابندی سے پڑھاتے تھے ۔‘‘وہ مزید لکھتے ہیں کہ : ’’حسن البناء کو بچپن ہی میں نماز ، روزے اور ذکر اللہ کا بے حد شوق تھا ۔ ہم دونوں ’’چھوٹی مسجد‘‘عشاء کے وقت چلے جاتے اور نمازِ عشاء کے بعد حصافی اخوان کی مجلسِ ذکر میں شریک ہوجاتے ، دیر تک بیٹھے رہتے اور ……ذکرِ الہٰی میں مشغول رہتے ………رات پر پردہ سکوت چھاجاتا اورصرف دعاؤں اور مناجاتوں کی دھیمی دھیمی صدائیں کانوں میں پڑتیں۔ حسن البناء ؒ کی زبان پر یہ اشعار بار بار جاری ہوتے:
اللہ قل و ذر الوجود و ما حوی إن کنت مرتادا بلوغ کمال
فالکل دون اللہ إن حققتہ عدم علی التفصیل و الاجمال
(ترجمہ : ایک اللہ کو پکار اور باقی تمام موجودات کو ترک کر اگر تجھے درجۂِ کمال تک پہنچنے کا شوق ہے ۔ اگر تو تحقیق کرے گا تو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے سوا ہر چیز نیست و نابود ہے ، تفصیلاً بھی اور اجمالاً بھی)۔
حسن البناء شہیدفقیروں اور درویشوں کی صحبت پسند کرتے تھے ، اپنے اس شوق کا اظہار اس شعر سے کرتے :
ما لذۃ العیش إلا صحبۃ الفقراء ھم السلاطین و السادات و الأمراء
(ترجمہ : زندگی کا مزہ فقراء کی صحبت ہی میں ہے ، در حقیقت وہی سلطان ہیں، وہی سادات ہیں اور امراء ہیں )۔
حسن البناء لکھتے ہیں : رمضان المبارک میں نمازِ فجر سے پہلے شیخ حسن خزبک کے درس میں حاضری ہوتی تھی ۔ اب ذوق و شوق کو اور مہمیز لگی ۔ اور اسی مسجد میں حصافی اخوان کے ایک گروہِ صلحاء کے ہمراہ پوری پوری راتیں اعتکاف میں گزرنے لگیں ۔ نماز عشاء پڑھ کر ہم شیخ محمد عامر یا استاذ حسین فوزی آفندی کے ساتھ تھوڑا سا کھانا کھاتے اور پھر کچھ دیر تک ذکرِ الہٰی میں محو ہوجاتے اور پھر گھڑی دو گھڑی سو کر عین نصف شب میں تہجد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے اور نمازِ فجر تک اس میں منہمک رہتے ۔پھر وظائف و اوراد کا سلسلہ شروع کردیتے ۔ اس کے بعد اسکول کا رُخ کرلیتے ۔ جمعہ کے جن ایام میں ہم دمنہور میں ہوتے ان میں اکثر ہم دمنہور کے قرب و جوار میں کسی نہ کسی ولی کی زیارت کا پروگرام بنالیتے … چنانچہ اسی غرض کے لیے ہم وسوق جاتے…وسوق بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جسے ہم تین گھنٹوں میں طے کرلیتے ۔ مراسم زیارت ادا کرتے اور پھر نمازِ جمعہ پڑھتے … کبھی کبھی عزبۃ النوام کی جانب نکل جاتے۔ وہاں شیخ سنجرؒ کا مقبرہ ہے ۔ یہ بزرگ طریقہ حصافیہ کے خاص اور چیدہ لوگوں میں سے تھے اور زہد و نیکوکاری میں مشہور تھے ۔ وہاں ہم پورا دن ٹھہرے رہتے اور رات کو واپس لوٹتے۔
ناعمہ صہیب نے اپنی تصنیف ’’تاریخِ اسلام کی عظیم شخصیات ‘‘ میں آپ کی سوانح کا عنوان باندھتے ہوئے لکھا :’’موجودہ دور میں عالمِ عرب میں سب سے بڑی اسلای تحریک ’’الاخوان المسلمون ‘‘ کے بانی اور راہِ حق کے شہید‘‘۔جب آپ ؒ نے مصر پر مغربیت کا رنگ چڑھتے اور اس کو اسلام سے دور ہوتے دیکھا تو آپ ؒ نے اس دھارے کا رخ تبدیل کرنے کے لیے اپنا تن من دھن لگادیا ، عوام میں وعظ و نصیحت کی مجالس کا سلسلہ شروع کیا ، جس کے نتیجے میں کچھ احباب آپ ؒ کے پاس آئے اور اسلامی طرزِ حیات اپنانے اور نافذ کرنے کے لیے عملی جد و جہد کی خواہش ظاہر کی ۔ ان افراد سے الاخوان المسلمون کا آغاز ہوا ، جو بعد میں اس درجے ترقی کرگئی کہ مغرب اور اس کی کٹھ پتلی مصری حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہوگئیں۔ چونکہ یہ جماعت اسلام کی داعی تھی سو نظامِ طاغوت کا اس سے خوف کھانا بجا تھا ۔ اس راہ میں آپ ؒ اور آپؒ کی جماعت نے کئی مصائب و شدائد کا سامنا کیا ۔پہلے مرحلے میں اخوان کے اخبارات اور رسائل پر پابندی لگائی گئی اور اس کا پریس ضبط کرلیا گیا ۔ اس کے بعد اجتماعات پر پابندی لگائی گئی اور پھر آپؒ اور اخوان کے تمام عہدیداروں کو گرفتار کرلیا گیا ۔رہا ہونےپر آپ ؒ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جس سے پورے ملک میں آزادی کی لہر دوڑگئی ۔ دوسری طرف مسئلۂِ فلسطین کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اخوان نے فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف زبردست احتجاج کیا ، جلسے جلوس نکالے اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے بچاؤ کے لیے جہاد کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ یہ تمام صورتحال دیکھتے ہوئے یہود و نصاریٰ اور اسلام مخالف قوتوں کو یقین ہوگیا کہ اگر اس تحریک اور اس کے سربراہ کو مزید موقع دیا گیا تو وہ عرب دنیا میں اسلام کی نشأۃ ثانیہ کو روک نہ سکیں گے اور ان کے ناپاک عزائم ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جائیں گے ۔ چنانچہ پورے مصر میں اخوان کے خلاف شدید آپریشن شروع کیا گیا ۔ جیلیں اخوان کے کارکنوں سے بھردی گئیں اور مظالم کی خوفناک داستانیں رقم کی گئیں ۔ ۱۲ فروری ۱۹۴۹ ء کی شام کو شبان المسلمین کے مرکز کے سامنے قاہرہ کی سب سے بڑی سڑک پر حسن البناء کو گولی مار کر شہید کردیا گیا۔
مشتے نمونہ از خروارے کے مطابق یہ چند مثالیں ہمارے اسلاف کی ہمہ گیریت کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔ ہماری روایت پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونے سے عبارت ہے اور بجز چند استثنئات کہیں بھی دین کے حصے بخرے کرنے کی مثال نہیں ملتی۔ لہذا دورِ جدید کے فتنے سیکولرازم جس نے حیاتِ انسانی کو ٹکڑیوں میں تحلیل کردیا ہے اس کے سامنے کھڑے رہنے کا راستہ یہی ہے کہ امت کے اس تواترِ عملی کو پیش نظر رکھ کر اپنی ہر حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔