Menu

Blog

جنرل سیسی اور جامعہ ازہر

Dec 30 2018

جنرل  سیسی اور جامعہ ازہر
مولانا معراج محمد

جب سے جنرل عبد الفتاح سیسی مصر کی حکومت پر قابض ہوئے ہیں انہوں نے اسلام پسندوں پر گھیرا تنگ کردیا ہے۔ رابعہ عدویہ سمیت مختلف موقعوں پر ہزاروں اسلام پسندوں کو شہید کیا،مصر کی جیلیں اسلام پسندوں سے بھری پڑی ہیں جس میں اخوان کی اعلی قیادت سے لے کر ان کے حمایتیو تک جرم ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔مگر سیسی نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ اسلام کی اصلاح کی بھی ٹھان لی اور صدر بنتے ہی تعبیر دین کی تجدید پر زور دینا شروع کیا۔ انہوں نے دین کی جدید تعبیر جو مغرب کے لیے قابلِ قبول ہو،  کا کام جامعہ ازہر کے سامنے رکھا اور گزشتہ سال میلاد النبی کے موقع پر ایک مجلس میں شیخ الازہر اور علما ء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’یہ کوئی معقول بات نہیں کہ جس فکر کو ہم صدیوں سے مقدس سمجھتے ہیں پوری امت کو سارے جہاں میں اضطراب ، خطرے ، قتل اور ہلاکت تک پہنچا دیں‘‘۔جامعہ ازہر نے اپنی عادت کے مطابق کوشش کی کہ فکری انداز سے مسئلے کا حل نکلے مگر حکومت کو یہ راس نہ آیا اور سیسی نے تجدید دین کا کام اپنے مشیر دینی امور ڈاکٹر اسامہ ازہری کے حوالے کردیا۔معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب طنطا اور اسکندریہ دھماکوں کے بعدسیسی نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مقابلے کے لیے  ایک کمیٹی  کی تشکیل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ’’یہ کام اعلی سطح پر ہوگا اس کے لئے قانون سازی کی جائے گی تاکہ کمیٹی کو اپنے اہداف کے حصول کے لئے میڈیا ، عدالتی، قانونی ، دینی اور تمام اختیارات حاصل ہوجائیں‘‘۔ اس کے بعد تو گویا ایک طوفان امڈ آیا ،ہر طرف سے جامعہ ازہر پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی کہ دہشت گردی ،دین کی جدید تعبیر میں  ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ازہر کے خلاف مزید شور تب برپا ہوا جب ازہر نے داعش کی تکفیر سے انکار کیا اور شیخ الازہرڈاکٹر محمد طیب نے سینیر صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا’’کہ ازہر داعش کی تکفیر نہیں کرے گا  کیونکہ ازہر اشعری مذہب پر چل رہا ہے جو کسی کو اس وقت تک کافر قرار نہیں دیتاجب تک وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اہل قبلہ میں سے ہوتا ہے جبکہ وہ (داعش، گمراہی کا شکار ہونے کے باوجود)اہل قبلہ میں سے ہیں  اس لیے  ان کی تکفیر ممکن نہیں ‘‘ان کاکہناتھاکہ’’اس حوالے سے ازہر نے بڑی تنقید کا سامنا کیا مگر وہ اپنے مؤقف پر قائم ہے جس سے وہ کبھی نہیں ہٹے گا اور کسی کی اس وقت تک تکفیر نہیں کرے گاجب تک وہ صراحۃً اس چیز کا انکار نہ کرے جس نے اسے سلام میں داخل کیا ہے‘‘۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’اللہ کا انکار ہی ہے جو انسان کو ایمان سے نکالتا ہے اور ازہر کسی پرکفرکاحکم نہیں لگاتا بھلے وہ دنیا کی تمام برائیوں کا ارتکاب کرے اور داعش والے بہرحال مسلمان ہیں اگرچہ انہوں نے تمام جرائم کا ارتکاب کیا ہے چناں چہ ہم اُن پر فاسق اور فاجر کا حکم لگاتے ہیں لیکن ہمارے پاس انہیں کافر قرار دینے کا اختیار نہیں‘‘۔ایک موقع پر شیخ الازہر نے کہا ’’میں ان کی اس بات کو غلط سمجھتا ہو کہ وہ لوگوں کوکافر قرار دے کر قتل کرتے ہیں ۔اگر میں انہیں کافر کہوں تو میرے اور ان کے درمیان کیا فرق ہوا ؟ ‘‘

گزشتہ فروری میں سیسی نے ایک مجلس میں کہا کہ طلاق کی شرح بہت بڑھ گئی ہے ہمیں مل کر اس صورت حال سے نمٹنا چاہئے،ان کا مطالبہ تھا کہ طلاق کے لئے مجلس قضاء میں گواہوں کے سامنے لکھنے کی شرط لگائی جائی اور زبانی طلاق دینے کو معتبر نہ مانا جائے ۔ازہر کی کبار علمائے کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ طلاق کے لئے مقرر شرعی اوصاف کی موجودگی میں طلاق واقع ہوجاتی ہےاور یہ کہ طلاق کی شرح میں اضافے کی وجہ سے اس پر گواہ بنانے اور توثیق کی شرط نہیں لگائی جاسکتی ۔ایک مجلس میں سیسی نے منہ پرشیخ الازہرسے کہا’’تعبتنی یافضیلۃ الامام‘‘امام صاحب آپ نے مجھے تھکا کررکھ دیا۔اس کے بعد ازہر کے علماء پر بڑی تنقید کی گئی اور بعض نے تو شیخ الازہر سے  استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ جریدہ الدستورکے ریئس التغریر محمد الباز نے ’’ شیخ الازہر استعفیٰ کیوں نہیں دیتا‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا جس میں کہا ’’قبل اس کے کہ تجھ پر زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ کردی جائے استعفیٰ د ے دے ‘‘۔  سیسی کے  مشیر برائے مذہبی امور اسامہ ازہری  نے ا لاھرام میں ’’امریدع اللبیب حیران ‘‘کے عنوان سے کالم لکھا جس میں  انہوں نے ازہر کی تاریخی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے معروف عرب قوم پرست ڈکٹیٹر جمال عبدالناصرکی 1954میں جامعہ ازہر میں کی گئی تقریرکااقتباس نقل  کیاجس میں جمال عبدالناصرنے ازہرکی تعریف کی ہے۔ اور حالیہ شیخ الازہرپر تنقید کرتے ہوئے لکھا ’’اے ازہر شریف !میں ،تمہارے کچھ لوگوں سے مخاطب ہو ں نہ کہ تمہاری شاندار تاریخ سے جس کی عظمت، وطن پرستی اور اسکی سر بلندی میں کوئی اختلاف نہیں کرسکتا ۔اپنی تاریخ کے شایان شان کارکردگی کے لئے اٹھ کھڑا ہو، جو وطن ،دین ،مصری عوام ،عربی امت اور دنیا کے لئے حساس اور خطرناک وقت میں مفید ہو‘‘۔واضح رہے کہ چالیس سالہ اسامہ ازہری سابق مفتی مصر علی جمعہ صاحب کے شاگر د ہیں۔ جنہوں نے مرسی حکومت کوہٹانے اوران کے  حق میں احتجاج کر نے و الوں کو کچلنے کی مکمل تائید کی تھی اور صحافی کے سوال پر کہ منتخب صدر کو ہٹانے کی تاریخ میں کوئی مثال ہے؟1909 میں ایک سازش کے تحت معزول کیے گئے سلطان عبدالحمید ثانی کی مثال پیش کی۔استاد اور شاگرد اخوان کی مخالفت میں انتہائی متشدد ہیں ۔اول الذکر اخوان کے خلاف ایک کتاب بھی لکھ چکے ہیں ۔جس میں سید قطب شہید ؒپر انتہائی سخت تنقید کی گئی ہے۔اصلاح دین کی تحریک میں سیسی کو امریکہ کی مکمل تائید حاصل ہے ۔سیسی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی تعلقات خارجہ کمیٹی کی رکن دالیہ یوسف نے کہا ’’امریکہ عبدالفتاح سیسی کی کوششوں کی قدر کرتا ہے اس لیے کہ وہ پہلے اسلامی ملک کے سربراہ ہیں جو دین کی تجدید اور اصلاح پر زور دیتے ہیں مگر افسوس کہ مصر میں دینی اداروں کی جانب سے سیسی کی کوششوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی‘‘۔یہاں تک کے بعض مغربی اخبارات نے انہیں عرب کا مارٹن لوتھر قرار دیا ہے۔
دینی اداروں کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ نومبر 2016 کو انڈیفنڈنٹ اخبار نے امریکی عسکری تجزیہ کاروں کی ایک تحقیق شائع کی جس کے مطابق شام اور عراق میں ہزاروں جنگجوؤں کو داعش اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ملانے کا مضبوط سبب اسلام نہیں ہے۔امریکی عسکری اکیڈمی سی ٹی سی کی تحقیق کے مطابق 1200 جنگجوؤںمیں سے اکثر نے دینی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی ہے  اور نہ پوری زندگی میں کبھی اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کیا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ مغرب سے جہادی تنظیموں میں شامل ہونے والے اکثر جنگجوؤں کی شمولیت کا سبب اسلام کے بجائے سیاسی اور ثقافتی مسائل ہیں ۔اسلام کا کردار اس میں ثانوی ہوتا ہے ۔ڈیلی میل نے ایک خبر شائع کی ہے کہ داعش کے ستر فیصد جنگجوؤں کو اسلام کا کچھ پتہ نہیں ہے اخبار کا مزید کہنا ہے کہ تنظیم کے متعدد جنگجوؤں کو قرآن اور حدیث کے حوالے سے بنیادی معلومات بھی نہیں اور 3000  کے قریب اسلام کا متوسط فہم رکھتے ہیں جبکہ 5 فیصد پہلے سے اسلام کو پڑھے ہوئے ہیں جن میں سے صرف پانچ حافظ قرآن ہیں ۔چنانچہ معلوم ہوا کہ ازہر سمیت عالم اسلام کے تمام دینی ادارے دہشت گردی میں  تعاون سے بری ہیں بلکہ انہی اداروں اور جامعات کا وجود غلط افکار کے مقابلے کے لیے انتہائی اہم اور ضروری ہے۔

Maqalaat

جنرل سیسی اور جامعہ ازہر

Dec 30 2018

جنرل  سیسی اور جامعہ ازہر
مولانا معراج محمد

جب سے جنرل عبد الفتاح سیسی مصر کی حکومت پر قابض ہوئے ہیں انہوں نے اسلام پسندوں پر گھیرا تنگ کردیا ہے۔ رابعہ عدویہ سمیت مختلف موقعوں پر ہزاروں اسلام پسندوں کو شہید کیا،مصر کی جیلیں اسلام پسندوں سے بھری پڑی ہیں جس میں اخوان کی اعلی قیادت سے لے کر ان کے حمایتیو تک جرم ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔مگر سیسی نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ اسلام کی اصلاح کی بھی ٹھان لی اور صدر بنتے ہی تعبیر دین کی تجدید پر زور دینا شروع کیا۔ انہوں نے دین کی جدید تعبیر جو مغرب کے لیے قابلِ قبول ہو،  کا کام جامعہ ازہر کے سامنے رکھا اور گزشتہ سال میلاد النبی کے موقع پر ایک مجلس میں شیخ الازہر اور علما ء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’یہ کوئی معقول بات نہیں کہ جس فکر کو ہم صدیوں سے مقدس سمجھتے ہیں پوری امت کو سارے جہاں میں اضطراب ، خطرے ، قتل اور ہلاکت تک پہنچا دیں‘‘۔جامعہ ازہر نے اپنی عادت کے مطابق کوشش کی کہ فکری انداز سے مسئلے کا حل نکلے مگر حکومت کو یہ راس نہ آیا اور سیسی نے تجدید دین کا کام اپنے مشیر دینی امور ڈاکٹر اسامہ ازہری کے حوالے کردیا۔معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب طنطا اور اسکندریہ دھماکوں کے بعدسیسی نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مقابلے کے لیے  ایک کمیٹی  کی تشکیل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ’’یہ کام اعلی سطح پر ہوگا اس کے لئے قانون سازی کی جائے گی تاکہ کمیٹی کو اپنے اہداف کے حصول کے لئے میڈیا ، عدالتی، قانونی ، دینی اور تمام اختیارات حاصل ہوجائیں‘‘۔ اس کے بعد تو گویا ایک طوفان امڈ آیا ،ہر طرف سے جامعہ ازہر پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی کہ دہشت گردی ،دین کی جدید تعبیر میں  ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ازہر کے خلاف مزید شور تب برپا ہوا جب ازہر نے داعش کی تکفیر سے انکار کیا اور شیخ الازہرڈاکٹر محمد طیب نے سینیر صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا’’کہ ازہر داعش کی تکفیر نہیں کرے گا  کیونکہ ازہر اشعری مذہب پر چل رہا ہے جو کسی کو اس وقت تک کافر قرار نہیں دیتاجب تک وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اہل قبلہ میں سے ہوتا ہے جبکہ وہ (داعش، گمراہی کا شکار ہونے کے باوجود)اہل قبلہ میں سے ہیں  اس لیے  ان کی تکفیر ممکن نہیں ‘‘ان کاکہناتھاکہ’’اس حوالے سے ازہر نے بڑی تنقید کا سامنا کیا مگر وہ اپنے مؤقف پر قائم ہے جس سے وہ کبھی نہیں ہٹے گا اور کسی کی اس وقت تک تکفیر نہیں کرے گاجب تک وہ صراحۃً اس چیز کا انکار نہ کرے جس نے اسے سلام میں داخل کیا ہے‘‘۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’اللہ کا انکار ہی ہے جو انسان کو ایمان سے نکالتا ہے اور ازہر کسی پرکفرکاحکم نہیں لگاتا بھلے وہ دنیا کی تمام برائیوں کا ارتکاب کرے اور داعش والے بہرحال مسلمان ہیں اگرچہ انہوں نے تمام جرائم کا ارتکاب کیا ہے چناں چہ ہم اُن پر فاسق اور فاجر کا حکم لگاتے ہیں لیکن ہمارے پاس انہیں کافر قرار دینے کا اختیار نہیں‘‘۔ایک موقع پر شیخ الازہر نے کہا ’’میں ان کی اس بات کو غلط سمجھتا ہو کہ وہ لوگوں کوکافر قرار دے کر قتل کرتے ہیں ۔اگر میں انہیں کافر کہوں تو میرے اور ان کے درمیان کیا فرق ہوا ؟ ‘‘

گزشتہ فروری میں سیسی نے ایک مجلس میں کہا کہ طلاق کی شرح بہت بڑھ گئی ہے ہمیں مل کر اس صورت حال سے نمٹنا چاہئے،ان کا مطالبہ تھا کہ طلاق کے لئے مجلس قضاء میں گواہوں کے سامنے لکھنے کی شرط لگائی جائی اور زبانی طلاق دینے کو معتبر نہ مانا جائے ۔ازہر کی کبار علمائے کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ طلاق کے لئے مقرر شرعی اوصاف کی موجودگی میں طلاق واقع ہوجاتی ہےاور یہ کہ طلاق کی شرح میں اضافے کی وجہ سے اس پر گواہ بنانے اور توثیق کی شرط نہیں لگائی جاسکتی ۔ایک مجلس میں سیسی نے منہ پرشیخ الازہرسے کہا’’تعبتنی یافضیلۃ الامام‘‘امام صاحب آپ نے مجھے تھکا کررکھ دیا۔اس کے بعد ازہر کے علماء پر بڑی تنقید کی گئی اور بعض نے تو شیخ الازہر سے  استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ جریدہ الدستورکے ریئس التغریر محمد الباز نے ’’ شیخ الازہر استعفیٰ کیوں نہیں دیتا‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا جس میں کہا ’’قبل اس کے کہ تجھ پر زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ کردی جائے استعفیٰ د ے دے ‘‘۔  سیسی کے  مشیر برائے مذہبی امور اسامہ ازہری  نے ا لاھرام میں ’’امریدع اللبیب حیران ‘‘کے عنوان سے کالم لکھا جس میں  انہوں نے ازہر کی تاریخی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے معروف عرب قوم پرست ڈکٹیٹر جمال عبدالناصرکی 1954میں جامعہ ازہر میں کی گئی تقریرکااقتباس نقل  کیاجس میں جمال عبدالناصرنے ازہرکی تعریف کی ہے۔ اور حالیہ شیخ الازہرپر تنقید کرتے ہوئے لکھا ’’اے ازہر شریف !میں ،تمہارے کچھ لوگوں سے مخاطب ہو ں نہ کہ تمہاری شاندار تاریخ سے جس کی عظمت، وطن پرستی اور اسکی سر بلندی میں کوئی اختلاف نہیں کرسکتا ۔اپنی تاریخ کے شایان شان کارکردگی کے لئے اٹھ کھڑا ہو، جو وطن ،دین ،مصری عوام ،عربی امت اور دنیا کے لئے حساس اور خطرناک وقت میں مفید ہو‘‘۔واضح رہے کہ چالیس سالہ اسامہ ازہری سابق مفتی مصر علی جمعہ صاحب کے شاگر د ہیں۔ جنہوں نے مرسی حکومت کوہٹانے اوران کے  حق میں احتجاج کر نے و الوں کو کچلنے کی مکمل تائید کی تھی اور صحافی کے سوال پر کہ منتخب صدر کو ہٹانے کی تاریخ میں کوئی مثال ہے؟1909 میں ایک سازش کے تحت معزول کیے گئے سلطان عبدالحمید ثانی کی مثال پیش کی۔استاد اور شاگرد اخوان کی مخالفت میں انتہائی متشدد ہیں ۔اول الذکر اخوان کے خلاف ایک کتاب بھی لکھ چکے ہیں ۔جس میں سید قطب شہید ؒپر انتہائی سخت تنقید کی گئی ہے۔اصلاح دین کی تحریک میں سیسی کو امریکہ کی مکمل تائید حاصل ہے ۔سیسی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی تعلقات خارجہ کمیٹی کی رکن دالیہ یوسف نے کہا ’’امریکہ عبدالفتاح سیسی کی کوششوں کی قدر کرتا ہے اس لیے کہ وہ پہلے اسلامی ملک کے سربراہ ہیں جو دین کی تجدید اور اصلاح پر زور دیتے ہیں مگر افسوس کہ مصر میں دینی اداروں کی جانب سے سیسی کی کوششوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی‘‘۔یہاں تک کے بعض مغربی اخبارات نے انہیں عرب کا مارٹن لوتھر قرار دیا ہے۔
دینی اداروں کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ نومبر 2016 کو انڈیفنڈنٹ اخبار نے امریکی عسکری تجزیہ کاروں کی ایک تحقیق شائع کی جس کے مطابق شام اور عراق میں ہزاروں جنگجوؤں کو داعش اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ملانے کا مضبوط سبب اسلام نہیں ہے۔امریکی عسکری اکیڈمی سی ٹی سی کی تحقیق کے مطابق 1200 جنگجوؤںمیں سے اکثر نے دینی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی ہے  اور نہ پوری زندگی میں کبھی اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کیا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ مغرب سے جہادی تنظیموں میں شامل ہونے والے اکثر جنگجوؤں کی شمولیت کا سبب اسلام کے بجائے سیاسی اور ثقافتی مسائل ہیں ۔اسلام کا کردار اس میں ثانوی ہوتا ہے ۔ڈیلی میل نے ایک خبر شائع کی ہے کہ داعش کے ستر فیصد جنگجوؤں کو اسلام کا کچھ پتہ نہیں ہے اخبار کا مزید کہنا ہے کہ تنظیم کے متعدد جنگجوؤں کو قرآن اور حدیث کے حوالے سے بنیادی معلومات بھی نہیں اور 3000  کے قریب اسلام کا متوسط فہم رکھتے ہیں جبکہ 5 فیصد پہلے سے اسلام کو پڑھے ہوئے ہیں جن میں سے صرف پانچ حافظ قرآن ہیں ۔چنانچہ معلوم ہوا کہ ازہر سمیت عالم اسلام کے تمام دینی ادارے دہشت گردی میں  تعاون سے بری ہیں بلکہ انہی اداروں اور جامعات کا وجود غلط افکار کے مقابلے کے لیے انتہائی اہم اور ضروری ہے۔