Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم
127 post(s) found

مفلسی دور کرنے کے لیے شادی کرنے کے حوالے سے روایت حدیث کی تحقیق

 عوام الناس میں ایک روایتِ حدیث بہت معروف ہے، جس کی اِسنادی حیثیت کی بابت  دریافت کرنا ہے۔
مسئولہ حدیث کا مفہوم کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مفلس شخص نے نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی مفلسی کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے اُسے شادی کرنے کی نصیحت فرمائی پھر شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد پھر دوبارہ اُس نے اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے دوسری شادی کرنے کو کہا پھر دوسری شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد اُس نے دوبارہ اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے تیسری شادی کرنے کو کہا ، پھر تیسری شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد اُس نے پھر اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے چوتھی شادی کرنے کو کہا ۔پھر چوتھی شادی کے بعد اُسکے مالی حالات درست ہوگئے۔
براہ کرام  مسئولہ حدیث کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ مستند ہے یا نہیں۔ اگر یہ روایت مستند ہے تو کیا کسی مفلس شخص کو اِس پر عمل کرکے اپنی مفلسی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا نہیں؟

قرض لوٹانے کی اہمیت پر روایات

ہمارے جاننے والوں میں سے کسی نے قرض دیا تھا اور اب انہوں وہ واپس لینا ہے، لیکن وہ قرض لوٹانے کے معاملے میں سیریس نہیں ہیں۔ سائلہ چاہتی ہیں کہ اس حوالے سے آیات واحادیث مل جائیں جس سے قرض واپس کرنے کی اہمت اور نہ لوٹانے کا گناہ واضح ہوجائے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے شخص کا حکم

حضرت آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ میں کہیں پڑھ رہا تھا ایک حدیث جس کا مفہوم کچھ ایسا ہے کہ کسی صحابی کو برا نہ کہو۔ کچھ مسلمان بھائی ہمارے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ صرف اسی لیے مشہور ہیں کیونکہ صحابی تھے، ورنہ ان کی دین کے لیے کوئی خدمات نہیں ہیں ۔ صحابہ کے حوالے سے ایسے خیالات ہوں تو احادیث میں کیا حکم ہے؟ 

اذان اور اقامت کے دوران پڑھی جانے والی دعا کی فضیلت

 مندرجہ ذیل حدیث کی اِسنادی حیثیت کی بابت دریافت کرنا ہےکہ آیا یہ حدیث مستند ہے یا نہیں؟
اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا: جوبندہ اذان اور اقامت کے درمیان یہ دعا پڑھ لے (جو دس پندرہ منٹ کا وقفہ ہوتا ہےاس وقفہ میں) اَللهُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فیِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ۔ اس کو اللہ چار انعام دیں گے۔
(۱)اللہ تعالٰی اسے ایسی بیماری نہیں لگنے دے گا جس سے موت آ جائے،یعنی خطرناک بیماری سے محفوظ رہے گا۔ (۲)اللہ تعالٰی اس کو تنہائی کے گناہ سے بچائے گا۔ (۳)اللہ تعالٰی اس کو ظالموں سے دور رکھے گا۔ (۴)اللہ تعالٰی اس کو بغیر محنت کے آسان روزی عطا فرمائے گا۔

عباسی خاندان اور مسئلہ زکوٰۃ

ہمارے علاقے میں عباسی خاندان کی اکثریت ہے۔ جن کا شجرہ نسب محفوظ و مکتوب چلا آتا ہے۔ بعض علمائے کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ چوں کہ عباسی خاندان بنو ہاشم میں سے ہے  اس لیے ان پر زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جا سکتی ۔یہ ایک نئی بات تھی، چنانچہ لوگوں نے مختلف اشکالات ظاہر کیے،بعض نے  کہا کہ مسئلہ بیان کرنے والے  غیر عباسی اور مدارس کے علماء ہیں اس لیے تعصب اور زکوٰۃ کی رقم مدارس میں لے جانے کے لیے وہ اس بات کو اچھال رہے ہیں حالانکہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔یہ کوئی دینی معاملہ نہیں بلکہ انتظامی مسئلہ ہے کہ یہ ممانعت اس دور میں تھی جب بنو ہاشم حکمران تھے، اگر اس وقت انہیں زکوٰۃ کھانے کی اجازت دی جاتی تو وہ سارا مال آپس میں ہی بانٹ لیتے ۔اب جبکہ ان کی حکومت چلی گئی تو یہ حکم بھی چلا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس دور میں بنو ہاشم کے لیے بیت المال سے وظائف مقرر تھے جب وظائف ختم ہو گئے تو ان کے حق میں حرمت زکوٰۃ بھی ختم ہو گئی ۔اگر ان کے لیے زکوٰۃ کے جواز کی رائے پر عمل نہ کیا جائے تو بنو ہاشم کے غرباء کے حقوق کا ضیاع لازم آئے گا۔بعض کہتے ہیں جس طرح عام لوگوں کے لیے   صدقات اہل خاندان کو دینا افضل ہے اس طرح بنو ہاشم کے لیے بھی افضل یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں کو زکوٰۃ ادا کرے اور دوہرا اجر پائے، یہ حضرات مزید کہتے ہیں کہ بنو ہاشم پہ زکوٰۃ ہے تو حرام لیکن دوسروں کی حرام ہے اور آپس میں ایک دوسرے کی زکوٰۃ ان پر حرام نہیں ہے۔ یہ لوگ  الفاظ حدیث ’’تؤخذ من اغنياءهم فترد في فقراءهم‘‘ سے بھی دلیل پکڑتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے بنو ہاشم کے حق میں زکوٰۃ کے جواز کا فتویٰ دیا تھا، بعد میں لوگوں نے اسے بدل دیا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ بنو ہاشم پر صرف  زکوٰۃ ہی حرام ہے  یا مذکورہ حرمت فطرانہ ، عشر ، فدیہ رمضان ، یا کفارہ کو بھی شامل ہے ؟عرض ہے کہ ان سوالات و اشکالات کا مفصل ومدلل جواب عطا فرمائیں۔


رمضان المبارک میں خریدی جانے والی اشیاء کا حساب

 رمضان المبارک میں جو چیز استعمال کی جائے، یا کھانے پینے کی چیزیں خریدیں جائیں تو وہ بے حساب ہوتی ہیں، یعنی اللہ تعالی کے ہاں ان کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔ اس حدیث کے بارے میں ایک عالم صاحب نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے اور من گھڑت ہے۔ اس کی وضاحت فرمادیں۔

صلاۃ الضحیٰ کی حدیث

درج ذیل حدیث  سنن ابوداؤد کے حوالے سے موصول ہوئی ہے اس کے بارے میں بتائیے ، کیا یہ صحیح ہے:
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کرکے فرض نماز کے لیے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے اور جو صلاۃ الضحی کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کےثواب کی طرح ہے اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین میں لکھی جاتی ہے۔

نہار منہ پانی پینا

 براہ مہربانی مندرجہ ذیل پوسٹ میں موجود سوال وجواب کی بابت رہنمائی فرمادیں کہ کیا درست ہے؟اور یہ بھی بتادیں کہ صبح اٹھنے کے کتنی دیر بعد پانی پیا جاسکتا ہے، کیوں کہ جو شخص روزے رکھتا ہے وہ تو پانی پیے بغیر روزہ نہیں رکھ سکتا۔ برائے مہربانی مکمل رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً

پوسٹ:

’’سوال:نہار منہ پانی پینا کیسا ہے؟

جواب:نہار منہ پانی پینا جائز ہے البتہ بعض احادیث مبارکہ میں نہار منہ پانی پینے کو صحت کےلیےنقصان دہ قرار دیا گیا ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ نہار منہ پانی نہ پیا جائے لیکن اگر کوئی نہار منہ پانی پیتا ہے تو گنہگار نہیں ہوگا۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : "مَنْ شَرِبَ الْمَاءَ عَلَی الرِّیْقِ ذهبَ نِصْفُ قُوَّته" (کنزالعمال، جلد 16، صفحه 35، مطبوعه ملتان، تاریخ دمشق، جلد24، صفحه 456، حدیث : 2957) ترجمہ:   جس نے نہار منہ پانی پیا اس کی آدھی طاقت چلی گئی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من شرب الماء علی الریق انتقصت قوته" (المعجم الاوسط للطبرانی جلد، 5، صفحه 51، حدیث نمبر4646 دارالحرمین) جس نے نہار منہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ومن شرب الماء علی الریق انتقضت قوته" (المعجم الاوسط، جلد 6، صفحه 334، حدیث: 6557 دارالحرمین)یعنی اور جس نے نہار منہ پانی پیا اس کی قوت بیکار ہوگی۔ مرقاۃ المفاتح میں ہے: "ان اکثر الامم لا سیما العرب یرون شرب الماء علی الریق بالغا فی المضرة". (مرقاۃ المفاتیح کتاب الاطعمة، جلد 7، صفحه 2706 حدیث4194 دارالفکر) بیشک اکثر امتیں خصوصاً عرب لوگ گمان کرتے ہیں کہ نہار منہ پانی پینا نقصان دہ ہے۔ حکماء کہتے ہیں : "ثلاثة اشیاء تورث الهزال: شرب الماء علی الریق والنوم علی غیر وطاء وکثرۃ الکلام برفع الصوت" (المجالسة وجواهر العلم، جلد6، صفحه 39 ) یعنی تین چیزیں کمزوری و دبلاپن پیدا کرتی ہیں : نہارمنہ پانی پینا, سخت و ناہموار زمین پر سونا, بلند آواز سے لمبی گفتگو کرنا۔  واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم‘‘