Menu

Fatawaa

All Posts Term: علوم
127 post(s) found

قرب فتنہ دجال والی حدیث کی وضاحت

 درج ذیل حدیث کی کچھ تشریح عنایت فرمائیں اس کا کیا مطلب ہےکہ قبروں میں فتنہ دجال کے پاس آزمائے جاؤ گے؟ کیا قبر کا عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو فتنہ دجال کے آس پاس مریں گے یا تمام مرے ہوئے لوگوں پر اس زمانے میں عذاب ہوگا یا یہ کوئی اور ہی فتنہ ہے جس کا یہاں علم دیا جا رہا ہے؟

عَن أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَقول قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ خَطِيبًا فَذكر فتْنَة الْقَبْر التِي يفتتن فِيهَا الْمَرْءُ فَلَما ذَكَرَ ذَلِكَ ضَج الْمُسْلِمُونَ ضَجةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ هَكَذَا وَزَادَ النسَائِيُّ: حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ فلما سَكَنَتْ ضَجتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ؟ قَالَ: «قَدْ أُوحِيَ إِلَي أَنكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا من فتْنَة الدجال» رواه البخاری (1373) و النسائی (103 ، 104) 

ترجمہ: ’’حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فتنہ قبر کا ذکر فرمایا جس میں آدمی کو آزمایا جائے گا، پس جب آپ ﷺ نے اس کا ذکر فرمایا تو مسلمان زور سے رونے لگے۔‘‘

 امام نسائی نے اضافہ نقل کیا ہےکہ یہ رونا میرے اور رسول اللہ ﷺ کا کلام سمجھنے کے مابین حائل ہو گیا، جب ان کا یہ رونا اور شور تھما تو میں نے اپنے پاس والے ایک آدمی سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کلام کے آخر میں کیا فرمایا؟ اس نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے وحی کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ تم قبروں میں فتنہ دجال کے قریب قریب آزمائے جاؤ گے۔‘‘ 


علم الاعداد

 کیا حروف ابجد کو ہی علم الاعداد کہا جاتا ہے کہ جس کی دین میں ممانعت ہے؟ اگر نہیں تو علم الاعداد سے کونسا علم مراد ہے؟ مزید یہ کی تسمیہ کی جگہ۷۸۶ کے عدد کا استعمال کرنا جائز ہے؟ اگر ہے تو کس حد تک اس کے استعمال کی گنجائش بنتی ہے؟

میت کی طرف سے قربانی کرنا

بعض حضرات کہتے ہیں کہ میت کے طرف سے قربانی جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے جو امت کے طرف سے قربانی کی تھی وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، محدثین کے اقوال سے اس پر دلیل دیتے ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قربانی کرنے والی روایت کو محدثین کے اقوال کی روشنی میں ضعیف کہتے ہیں۔ اس کی تحقیق بھیج دیں، کیا واقعی اسی طرح ہے؟ ان روایتوں کے خاص اور ضعیف ہونے کا کیا جواب ہوگا؟

ايك لاكھ نماز کی فضیلت حدود حرم میں

 حدیث میں مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت ایک لاکھ بیان ہوئی ہے۔ یہ فضیلت مسجد الحرام کے ساتھ خاص ہے یا حرم میں کہیں بھی نماز پڑھنے سے یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

درود تُنجینا اور دعائے جمیلہ

سوال نمبر1: درود ِتُنْجیینا کی فضیلت کیا ہے؟ کیا حاجتیں پوری کرنے کے لیے پڑھ سکتے ہیں، کوئ خاص تعداد معین کر کے پڑھنا چاہیے؟ یا چلتے پھرتے وضو بے وضو بھی پڑھ سکتے ہیں؟
سوال نمبر2: دعائے جمیلہ،سات سلام،اور سات حٰم انکی فضیلت کیا ہے؟ کسی خاص مقصد کا سوچ کر ہی پڑھے جا سکتے ہیں یا کبھی کبھی بغیر کسی مقصد کے بھی پڑھ سکتے ہیں؟ نیز کیا کوئی خاص تعداد مخصوص کر کے پڑھنا چاہیے؟
سوال نمبر3: طلاق کے بعد لڑکی کی دوسری شادی کے لیے کوئی خاص دعا بتا دیں؟ 


’’آخری امتی کے جنت میں داخل ہونے تک راضی نہیں ہوں گا‘‘ حدیث کی سندی حیثیت

Jul 30 2020
61
0
 براہ مہربانی درج ذیل حدیث کا ریفرنس بھیج دیں۔
’’ایک بار جب جبرائیل علیہ السلام نبی کریم کے پاس آئے تو محمد ﷺ نے دیکھا کہ جبرائیل کچھ پریشان ہیں، آپ ﷺنے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپ کو غم زدہ دیکھ رہاہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کر کے آیا ہوں، اس کو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاؤ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا جہنم کے کل سات درجے ہیں، ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا، اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالیٰ مشرک لوگوں کو ڈالیں گے، اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے،چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے، تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے، دوسرے درجے میں اللہ تعالیٰ عسائیوں کو ڈالیں گے، یہ کہ کر جبرائیل علیہ السلام خاموش ہوگئے تو نبی کریمﷺ نے پوچھا جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے، مجھے بتاؤ کہ پہلے درجے میں کون ہوگا؟ جبرائیل علیہ السلام نےعرض کیا اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپ کی امت کے گنہگاروں کو ڈالیں گے، جب نبی کریم ﷺ نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جائےگا تو آپ بھی بےحد غمگین ہوئے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کیں، تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کر کے اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے۔ صحابہ کرام حیران تھے کہ نبی کریم ﷺ پر یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے، مسجد سے حجرے جاتے ہیں، گھر بھی تشریف لے کر نہیں جارہے، جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پر آئے اور دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا، آپ روتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہٰذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جائے، آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ عنہ سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنی عظیم شخصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نہیں جانا چاہیئے، بلکہ مجھے ان کی نور نظر بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اندر بھیجنا چاہیے، لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئیں ابا جان السلام علیکم! بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائنات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا، اباجان آپ پرکیا کیفیت ہے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرماہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جائے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنی امت کے گنہگاروں کا غم کھائے جارہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کر رہاہوں کہ اللہ ان کو معاف کر اورجہنم سے بری کر، یہ کہ کر آپ ﷺ پھر سجدے میں چلےگئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گنہگاروں پہ رحم کر ان کو جہنم سے آزاد کر ،کہ اتنے میں حکم آگیا ’’ولسوف یعطیک ربک فترضی‘‘ اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاؤگے، آپﷺ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگو ں اللہ نے مجھ سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کرے گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جائے؟

حضرات شیخین کی قربانی نہ کرنے کی وجہ اور وجوب قربانی

ہمارے ایک ٹیچر کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، جب لوگوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی لازم نہیں ہے، لوگوں نے خود سے لازم بنالیا ہے، اور اسی طرح کی بات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟