Menu

Fatawaa

All Posts Term: معاملات
110 post(s) found

دوسری شادی کے وقت پہلی بیوی سے کیے جانے والے معاہدے پر عمل

زید نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی کرتے وقت پہلی بیوی سے جو درج ذیل معاہدہ کیا تھا اس میں یہ بات بھی طے ہوئی تھی کہ ہفتے میں پانچ دن پہلی بیوی کے ساتھ رہوں گا اور دو دن دوسری بیوی کے ساتھ۔ اس پر شوہر اور دونوں بیویوں کی رضامندی بھی ہوئی تھی اور نکاح کے موقع پر بھی یہ معاہدہ پیش کیا گیا تھا۔ اب اس معاہدے کی رو سے بتائیں کیا شرعاً زیدپر اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہےیا یہ کہ اب دونوں بیویوں کے درمیان برابری کی جاسکتی ہے؟ معاہدہ نامہ درج ذیل ہے: 
1. ایک سال تک میں پہلی بیوی کو اس کا فلیٹ دے دوں گا۔ 
2. میں بالکل نہیں بدلوں گا اور غصہ نہیں کروں گا۔
3. میں پانچ دن پہلی بیوی ساتھ اور دو دن دوسری کے ساتھ رہوں گا۔
4. دو ماہ رات آٹھ بجے تک میں دوسری بیوی کے ساتھ رہوں گا۔ 
5. یہ سب میں پہلی بیوی کے سامنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر تحریر کر رہاہوں۔ 
6. پہلی بیوی کا جیسا مزاج ہوگا زید اسے برداشت کریں گے۔ یہ بات مستقل بنیادوں پر ہوگی۔ 
7. ان سب شرائط پر ہم دونوں یعنی زید اور پہلی بیوی راضی ہیں اور دوسری بیوی بھی ان باتوں پر راضی ہیں۔ 
8. ان باتوں پر سختی سے عمل ہوگا اور زید روز قیامت جواب دہ ہوں گے۔

کیٹل فارمنگ میں کیا جانے والا معاہدہ

کیا فرماتے ہیں علما ءکرام اس بارے میں کہ آج کل جو حضرات کیٹل فارمنگ کررہے ہیں، وہ اپنے کاروبار میں جب کسی دوسرے شخص کے مال سے جانور شامل کرتے ہیں تو ان سے یہ معاہدہ طے کرتے ہیں کہ اس جانور سے پیدا ہونے والا ایک بچہ وہ خود رکھیں گے اور اس کے عوض ماہانہ جانور پر ہونے والے اخراجات وصول نہیں کریں گے ۔ اس طرح کا کاروباری معاہدہ درست ہے یا نہیں ۔ اس طرح کے کاروباری معاملہ میں بہتر معاہدہ کیا ہونا چاہئے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیرا


کسی شخص کے پاس رکھوائی گئی رقم کا حکم

 ایک ادارے نے ایک شخص کے پاس کچھ رقم رکھوائی، نو دس ماہ تک ادارے کو اس رقم کی ضرورت نہیں تو اس صورت میں کیا وہ شخص اس رقم کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے؟  وہ شخص اتنی استطاعت رکھتا ہے کہ مدت پوری ہونے پر اتنی رقم ادارے کو حوالہ کرے تو کیا پھر بھی وہی رقم رکھنا اور وہی رقم ادا کرنا ضروری ہے؟

کسی اور کے پاسپورٹ پر کاروبار کرنا

 درج ذیل فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے، اس فیصلے کی رو سے ہمیں یہ مسئلہ بتایا جائے کہ اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے پاسپورٹوں پر کاروبار کےلیے گاڑیاں بھجوائے اور دوسرا فریق اس پر راضی ہو اور اسے اس کا معاوضہ بھی دیا جائے تو کیا اس رقم کا لینا دینا جائز ہے؟
’’حکومت پاکستان نے تین سالہ کاروں کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی مستفید ہوں گے جو ذاتی سامان کے تحت کاریں بھیجنے، رہائش گاہ کی منتقلی اور گفٹ اسکیموں کے تحت کاریں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آٹھ ہزار کاروں کو بندرگاہوں سے آزاد ہونے کے لئے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہاں کار ڈیلرز اور پاکستان میں اکتوبر ۲۰۱۷ء سے ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے جب سابقہ قواعد و ضوابط واپس لے لیے گئے تھے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی خوش ہوں گے کیونکہ ان میں سے اکثر میزبان ملک سے واپسی پر گاڑی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا پھر اپنے اہل خانہ کو تحفے کے طور پر گاڑی بھیجنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایسی کاریں درآمد کرنے والے ہزاروں پاکستانی ملک بھر میں یہ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ۹،جنوری۲۰۱۸ ء سے قبل درآمد شدہ آٹھ ہزار نئی اور استعمال شدہ کاریں مستفید ہوں گی۔ یہ کاریں پاکستانی بندرگاہوں پر پھنس گئیں تھیں لیکن اب پاکستان کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو کلیئر کردیا جائے گا۔ پاکستان حکومت نے درآمدات کو روکتے ہوئے کہا کہ کاریں درآمد کنندگان کے غیر ملکی بینکوں کی تفصیلات اور کاریں برآمد کرنے والوں سے دیگر معلومات فراہم کیے بغیر لائی گئیں۔ معاملہ فیڈرل بیورو آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر زیر بحث لایا۔ اس سے پچھلے طریقہ کار کو بحال کیا گیا۔‘‘ 


بکرا فارم

 میرا بکرا فارم بنانے کا ارادہ ہے قربانی اور عام ضروریات کے لیے بکریاں پالیں گے اور خرید و فروخت بھی کریں گے۔ بلڈنگ،بکریوں کی قیمت اور چارہ ہمارے ذمے ہے البتہ ایک لڑکا، جانوروں کی دیکھ بھال اور چارہ ڈالنے کا کام کرے گا۔ اس کے ساتھ معاملہ یوں ہے کہ فی الوقت اس کو منافع میں سے حصہ دیں گے البتہ بعد میں جب کاروبار سیٹ ہو جائے گا تو ارادہ ہے کہ منافع کے ساتھ ماہوار تنخواہ بھی اس کی لگا دیں گے، لڑکے کی رہائش اور کھانا ہمارے ذمے ہو گا۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیے۔

مسئلہ طلاق

ہمارے محلے میں ایک لڑکے نے اپنی بیوی کو بچے کی پیدائش کے تیسرے دن کہا، ’’جا تجھے طلاق دی‘‘، اس کے بعد وہ پریشان ہوگیا کہ یہ میں نے کیا کردیا، پھر اس نے محلے میں مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک طلاق دے دی ہے اب تم رجوع کرلو تو اس نے رجوع کرلیا۔ تیس دن بعد ان کے گھر میں پھر جھگڑا ہوااتو اس لڑکے نے اپنی بیوی کے دو مرتبہ کہا،’’جا میں نے تجھے طلاق دی، جا میں نے تجھے طلاق دی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوگئی؟ یا اب بھی ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ ان کی دو بچیاں ہیں، ایک ابھی پیدا ہوئی تھی اور ایک دو سال کی ہے۔ ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی ہے، اس کی بیوی کہتی ہے کہ پہلی طلاق اس نے فون پر دی تھی اور اس نے جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی فون بند کردیا تھا، شوہر کہتا ہے کہ میں نے جملہ کہہ کر فون رکھا تھا اور بیوی نے پہلے ہی فون رکھ دیا تھا، یہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، برائے مہربانی جلد رہنمائی فرمادیں۔

دو طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا تعلق

میں شیعہ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، آج سے دس بارہ سال پہلے میری شادی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے شخص سے ہوگئی، نکاح کے وقت میرے والدین نے یہ شرط رکھی کہ نکاح اہل تشیع کے مطابق ہوگا، میرے سسرال والوں نے یہ بات مان لی، پچھلے سال میرے شوہر نے ایک اسٹامپ پیپر پہ لکھی ہوئی طلاق دی جس پر گواہوں کے دستخط بھی تھے اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی اس پر لگی ہوئی تھی، یہ پچھلے سال فروری میں انہوں نے یونین کونسل کے بجائے خود میرے والدین تک پہنچائی، والدین نے سمجھایا اور صلح کرادی، مگر اس نے خاندان میں یہ بات مشہور کردی کہ یہ میری بیوی نہیں ہے، میں نے اسے طلاق دےدی ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا بیڈ روم اس شخص سے الگ کرلیا، اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان میاں بیوی والا تعلق نہیں رہا، پھر اسی سال جون میں اس نے مجھے طلاق دی، اسٹامپ پیپر تھا جس پر گواہوں کے دستخط اور میرے شوہرکے دستخط اور اس کا شناختی کارڈ نمبر وغیرہ سب درج تھا اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی لی ہوئی تھی۔ یہ طلاق نامہ بھی یونین کونسل کے بجائے اس نے خود آکر میری والدہ کو دی۔ دوسری طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے پاس آگئی اور میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اب اس بات کو چھ سات ماہ ہوچکے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ آپ آپس میں صلح کرلیں، آپ مجھے یہ بتائیں کہ ہم دونوں کا اب کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ 
میں نے اپنا معاملہ ایک شیعہ عالم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ مرد سنی ہے ، اس نے طلاق بھی اہل سنت والجماعت کے مطابق دینی ہے اس لیے آپ اہل سنت والجماعت کے کسی عالم، مفتی سے مسئلہ پوچھیں۔ اس کے بعد میں نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ کیا اور وکیل سے رابطہ کیا، وکیل نے نوٹری پبلک والوں سے ریکارڈ نکالنے کا کہا مگر ان کے پاس یہ طلاق رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئی تھی، تو وکیل نے مجھے کہا کہ شریعت پاکستان کے قانون سے بلند ہے اس لیے آپ کسی مفتی سے رابطہ کریں، پاکستانی قانون کے مطابق تو طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس نے یونین کونسل کے تھرو یہ طلاق نہیں بھجوائی اور نوٹری پبلک والوں سے بھی اس نے رجسٹرڈ نہیں کرائی۔ 
اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا میرایہ مسئلہ کوئی اہل سنت والجماعت کا عالم حل کرے گا یا اہل تشیع کا عالم؟ اور دوسرا مجھے یہ بتائیں کہ دو طلاقوں کے بعد ہمارا کوئی تعلق اور کوئی رشتہ ہے یا نہیں؟ 

سود کا مسئلہ

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے سونار کے ساتھ بکنگ کی جس وقت سونے کی پرائز کم تھی اور کچھ پیسے بھی ادا کیے اور ساتھ یہ بھی طے ہواگیا کہ میں اسے قسطوں پہ ادا کروں گا اور پرائز پرانی ہی لگے گی، میں سال سے ڈیڑھ سال کے دوران اس کو پیسے ادا کرکے جو پرائز طے ہوئی تھی اس وقت کی وہ دوں گا۔ کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ 


بھائیوں کے مشترکہ گھر سے ایک کمرہ بطور مہر کے دینا

 ہم چار بھائی ہیں، بڑے سے چھوٹے بھائی کی ابھی شادی ہوئی، جس میں ایک کمرہ اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے مہر طے پایا، ہمارا تین کمروں کا ایک مکان ہے، میں سب سے چھوٹا بھائی ہوں اور والدین اگر میرے ساتھ رہتے ہیں تو وہ گھر میرا ہی ہوگا، باقی تین بھائیوں کو شادی کے بعد علیحدہ علیحدہ مکان بنانے ہوں گے، اب اگر بھابھی اپنے کمرے کا مطالبہ کریں جو ان کے حق مہر میں طے ہوا تھا تو میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ ان تین کمروں میں سے ایک کمرہ انہیں دینا پڑے گا یا متبادل کوئی کمرہ بناکے دینا پڑےگایا پیسے دینے پڑیں گے یا یہ کہ یہ میری ذمہ داری نہیں ہے، ان کے شوہر کی ذمہ داری ہے؟ اس حوالے سے مجھے رہنمائی درکار ہے۔