دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک ویڈیو بیان موصول ہوا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’مزارعت فقہ حنفی، امام ابوحنیفہ، امام شافعی وغیرہم رحمہم اللہ کے نزدیک حرام مطلق ہے، جس کی زمین ہے وہی کاشت کرے یا پھر زمین کسی دوسرے مسلمان بھائی کے حوالے کردے اور پھر اس سے کچھ نہ لے، متعدد احادیث میں یہ بات آئی ہے ۔ زمین میں مضاربت ممکن ہی نہیں ہے۔‘‘ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ بات درست ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص پر زمین فروخت کی اور حوالہ نہیں دیا اور رہن کے طور پر ان کو دوکان دی اور کہا کہ اگر فلاں تاریخ کو میں نے زمین حوالہ نہیں کی تو یہ دوکان آپ کی ہوگی، اس طرح خرید اور فروخت جائز ہے ؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مندرجہ ذیل مسئلے میں رہنمائی فرمائیں:
۱۔ ایک کمپنی کے پچاس فیصد شیئرز زید کے پاس ہیں اور پچاس فیصد بکر کے پاس ہیں، دونوں میں یہ طے پایا کہ کمپنی میں شرکت کا معاملہ ختم کرتے ہوئے کوئی بھی ایک پارٹی کمپنی کی مکمل ملکیت حاصل کر لے اور اس کے لیے ضابطہ یہ مقرر کر دیا گیا کہ کمپنی کی ملکیت کا حقدار صرف وہی ہوگا جو شیئرز کی زیادہ سے زیادہ بولی دے گا ، جس کے اصول وضوابط بھی طے کرلیے گئے۔ اب زید فی شیئر سو روپے کی بولی دے کر جیت جاتا ہے جس کے بعد اس کے پاس ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔
۲۔لیکن کسی وجہ سے زید اس خریداری سے دستبردار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہ ڈیل نہیں اٹھاسکتا تو جرمانے یا کسی بھی طور پر بکر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ زید کے پاس موجود حصص دس فیصد کم رقم مثلا نوے روپے میں خرید لے اور اسے بھی اس رقم کی ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دس فیصد کم کرنا شرعاً جائز ہے؟
۳۔ اب اگر بکر کہتا ہے کہ میرے پاس بھی رقم نہیں ہے اور میں یہ نہیں اٹھاسکتا تو سوال یہ ہے کہ آغاز میں بولی جیتنے والی پارٹی زید نے جو دس فیصد بیعانہ دیا تھا جس پر وہ سو روپے میں خریدنے کا حقدار ہو گیا تھا تو کیا بکر اس بیعانے کو لوٹانے کا ذمہ دار ہے یا پھر بکر کے لیے یہ بیعانے کی رقم خود رکھ لینا بھی جائز ہے؟برائے مہربانی اس معاہدے کی تفصیلات کے متعلق شرعی حکم ذکر کر دیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں لندن میں رہتا ہوں اور میری بیوی پاکستان میں۔ میں نے ایک مرتبہ بیوی کو میسج لکھ کر بھیجا کہ ’’میں تمہیں ہمیشہ کےلیے چھوڑ رہا ہوں‘‘ ان الفاظ سے میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اب مجھے بتائیے کیا اس سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارا سونے کا کاروبار ہے، لوگ ہمیں سونے سے بنی ہوئی چیزیں دیتے ہیں اور ہم انہیں ان کے خالص سونے کے بقدر جتنا سونا بنتا ہے دیتے ہیں مثلا ہمیں وہ دو گرام سونےکی چیز دیتے ہیں جس کا خالص ڈیڑھ گرام ہوتا ہے تو ہم انہیں ڈیڑھ گرام سونا دیتے ہیں تو کیا یہ کاروبار اس طریقے سے جائز ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اس بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ پاکستان کے تقریباً ہر سرکاری ادارے مثلاً بجلی، گیس، انکم و سیلز ٹیکس، کسٹم، ہسپتال (ڈاکٹرز) ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ کے اکثر ملازمین الا ماشاءالله سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اسی ادارے سے وابستہ سائلین کے لئے ایجنٹ کا کام کرتے ہیں یا پھر شام کے اوقات میں اسی ادارے سے متعلق مسائل کے حل کےلیے خدمات دینے کےلیے اپنا دفتر بھی چلا رہے ہوتے ہیں اور ان خدمات کے عوض سائلین سے تھوڑی یا زیادہ رقم بھی وصول کرتے ہیں اور اپنے ادارے سے بھی مکمل تنخواہ حاصل کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق ملازمت میں رہتے ہوئے ادارے کا ملازم اپنی آمدنی بڑھانے کےلیے دوسرا کوئی کام نہیں کر سکتا تو پھر اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟ اگر ان کاموں سے حاصل رقم صحیح نہیں اور اب کوئی اپنی اصلاح کر لے تو اس کےلیے کیا ہدایات ہیں؟ گزارش ہے مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ایک اسکول میں ملازمت کرتی ہوں۔ میری بیٹی کی طبیعت خراب تھی اس لیے میرے شوہر نے مجھے اسکول جانے سے منع کیا تو مجھے ضد آگئی جس کے نتیجے میں نے اسے کہا کہ تم بھی اپنے دفتر سے چھٹی کرو تا کہ بیٹی کو ہسپتال لے جایا سکے۔ میں یہ بات مانتی ہوں کہ میں نے یہ بات غلط کی بہر حال شوہر کو غصہ آیا اور اس نے کہا کہ اگرتم کل سےاسکول گئیں تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے۔خیر،آج اسکول تو میں نہیں گئی، کل انہوں نے مجھے یہ بات کہی تھی۔اور میں نے اسکول چھوڑبھی دیا۔ مجھے پوچھنا یہ ہے کہ انہوں یہ کہا کہ اگر اسکول گئیں تو میری طرف سے طلاق ہے۔ میں تو اسکول نہیں گئی اور یہ دن بھی گزر گیا۔انہوں نے ہمیشہ اسکول نہ جانے کو کہا؟ یا اسی اسکول جانے سے منع کیا یا کو ئی بھی اسکول جانے سے منع کیا یعنی کیا اب میں کسی بھی اسکول میں قدم رکھوں گی تو مجھے طلاق ہو جائے گی، یا صرف اسی اسکول کے لیے کہا گیا ہے ؟ یا اس ایک دن کے لیےکہا گیا ہے یاہمیشہ کے لیے کہا گیا ہے؟اس لیے کہ میرے بیٹے کا تو ایڈمیشن بھی اسی اسکول میں ہوا ہے۔
اگلے دن میرے شوہر بیٹے سے بات کر رہے تھے، اس سے پوچھا کہ مما کہاں ہیں؟ پھر فون پر مجھ سے بات کی اور پوچھا کہ اسکول گئیں تھیں؟ میں نے کہا کہ نہیں۔تو کہنے لگے کہ میں نےاپنے الفاظ واپس لے لیے ۔میں نے کہا کہ یہ واپس ایسے تو نہیں ہو سکتے ، یہ قسم تو نہیں ہے۔بہر حال میں نے کہا کہ میں اسکول چھوڑ چکی ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسکول چھوڑنے کو نہیں کہا تھا صرف چھٹی کا کہا تھا ۔ میں نے کہا کہ تم نے تو فقط اسکول کا کہا تھا اور تم نے کو ئی خاص اسکول کو متعین نہیں کیا تھا بلکہ بس یہ کہا تھا کہ اسکول گئیں تو طلاق ۔ اور مجھے تو آگے بچوں کے سلسلے میں کہیں نا کہیں اسکول تو جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری سوچ ہے میرے ذہن میں ایسا کچھ نہیں تھا، میرے ذہن میں بس چھٹی تھی وہ بھی بیٹی کی وجہ سے۔اور آئندہ بھی اگر میرے بچوں کی طبیعت خراب ہو تی تو بھی میں تمہیں چھٹی کرواتا۔انہوں نے کہا کہ میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا بس تمہیں ڈراتا ہوں اور تم بس ایسے ہی خاموش ہو تی ہو۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میری بیوی اپنے بھائی کے گھر ملنے کےلیے ٹیکسلا گئی، جب وہاں پہنچی تو اس نے مجھ سے مطالبہ کیاکہ اگر تو میانوالی یا قمرشانی جگہ لے تومیں آؤں گی ، اگر جلال پور میں لےگا تو میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اگر تجھے منانے میں یا میری ماں یا میرا بھائی یا کوئی بھی میری طرف سے تیری ماں یا تیرے بھائی یا بہن کے پاس گئے تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہوگی، میں حلفًا کہتا ہوں کہ میں نے یہ الفاظ صرف ایک مرتبہ کہے ہیں۔ اس واقعہ سے قبل بھی میں ایک طلاق دے چکا ہوں۔طلاق کو ان الفاظ (میری طرف سے طلاق ہوگی) کے ساتھ معلق کرنے سے طلاق ہوگی یا دھمکی طلاق ہے؟ اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہتاہوں اور بلڈنگ کی مینٹینس کمیٹی کا حصّہ ہوں۔ بلڈنگ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے ہمیں فنڈز درکار ہوتے ہیں، جو کہ رہائشی کمیٹی کے لیے طے شدہ ضابطے کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ بروقت فنڈز کی وصولی کے لیے کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایسے رہائشی جو بروقت رقم ادا نہیں کرتے یا نہیں کرپاتے ان سے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ جرمانہ کی رقم بلڈنگ ہی کی انتظامی معاملات میں خرچ ہو تی ہے،کسی تنخواہ کی مد میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جرمانہ لینا درست ہے؟ اگر جرمانہ عائد نہ کیا جائےتو رہائشی وقت پر ادائیگی نہیں کرتے جس کی وجہ سے شدید مالی بحران کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱: تقریبات میں ملنے والے لفافوں کے حوالے سے شریعت کیا کہتی ہے اسے کون استعمال کرسکتاہے جبکہ عام طور پر یہ نہیں بتایا جاتاکہ یہ کس کےلیے دیے گئے ہیں جیسا کہ شادی کے موقع پر پیسے دیے جاتے ہیں اور ان پیسوں کو شادی پر ہی خرچ کیا جا تا ہے؟
سوال نمبر۲: بچوں کو ملنے والی عیدی اور پیدائش کے موقع پربچوں کو ملنے والے پیسے کیا والدین اپنے ذاتی کاموں میں لگاسکتے ہیں یا ان پیسوں کو بچوں پر ہی خرچ کیا جائے گا اور کیا ان پیسوں کو صدقہ کیا جاسکتا ہے؟
سوال نمبر۳: نکاح کے موقع پر لڑکی کو ملنے والے پیسے اگر لڑکی کی والدہ کودےدیے جائیں تو کیا والدہ ان پیسوں کو استعمال کرسکتی ہےجبکہ لڑکی والوں سے وہ پیسے مانگے نہ گئے ہوں اور جبکہ نہ لڑکی اور نہ لڑکی کی والدہ ان کا مطالبہ کررہی ہوں؟