Menu

Mafaheem

اداریہ

جہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ اس سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کسی عام آدمی کو نہیں چاہیے کہ وہ قانون کا نفاذ خود کرتے ہوئے کسی گستاخ کو خود قتل کرے بلکہ چاہیے کہ پولیس کو اطلاع دے کر یہ سمجھے کہ اس نے اپنی ذمے داری ادا کر دی البتہ حکومت اور انتظامیہ کو یہ ذمےداری احسن طریقے سے ادا کرنی چاہیے اور اس حساسیت کا اندازہ کرنا چاہیے جو بالکل صحیح طور پر ناموس رسالت کے بارے میں مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔

درسِ حدیث ﷺ

 بعض حلال و حرام وہ ہیں جو بالکل واضح ہیں جیسے روٹی ،پانی ، پھل اور میوے  کا حلال ہونا  اور    شراب ، خنزیز کا گوشت ،زنا اور جھوٹ وغیرہ  کا حرام  ہونا،ان کی حلت و حرمت سب پر واضح ہے ۔ ان دونوں (یعنی حلالِ محض  اور حرام ِ محض) کے درمیان  کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ۔بہت سارےلوگ (یعنی عوام الناس )  ان(مشتبہ امور) کا حکم نہیں جانتے۔  علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اور امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  کچھ لوگ اپنے غور و فکر  اور اجتہاد سے مشتبہات  کا حکم معلوم کر کے  بعض پر حلال  اور بعض پر  حرام کا حکم لگاتے ہیں اور یہ علماے راسخین اور مجتہد  ین  ہوتے ہیں۔ اب عام لوگوں کو بھی مجتہدین کے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے  ۔ البتہ جو چیز   باوجود   اجتہاد  کےمجتہدین پر  بھی مشتبہ ہی رہے تو اس سے سبھی لوگوں کو  دور رہنا چاہیے۔

جدید برائیوں سے کیسے بچیں

 یہ دور کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں اس کے بارے میں اکثر ہم سنتے ہیں کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ ایمان اور عملِ صالح کے حوالے سے یہ مشکل وقت ہے۔ ایک بات تو خیر ہمیں معلوم ہونی ہی چاہیے کہ انسان کے نفس میں شر کا پہلو ہمیشہ سے رہا ہے اور وہ خِلقی ہے۔ خِلقی ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس کے اندر کچھ داعیات اور جبلتیں رکھی ہیں۔مثلا جنس کی جبلّت ہے،بھوک کی جبلّت ہے،ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا جذبہ ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کوبنایا، اور اس کی مرکزی مخلوق انسان ہے جس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اسے اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ انسان اس میں رہے بسے، زندگی اور اپنی نسل کو جاری رکھے تاکہ اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔

سوانحِ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب

مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ۲۰ شعبان ۱۳۱۴ھ بہ مطابق جنوری ۱۸۹۷ء کو دیوبند میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے دادا نے محمد مبین نام رکھا لیکن جب حضرت گنگوہی   رحمہ اللہ کو اطلاع ہوئی تو آپ  رحمہ اللہ  نے محمد شفیع نام تجویز کیا۔ آپ کا سلسلۂ  نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ  رحمہ اللہ  کے والدِ ماجد مولانا محمد یٰسین صاحب عثمانی دیوبندی  رحمہ اللہ  دار العلوم دیوبند میں فارسی کے مدرس تھے اور ایک عالم ِباعمل اور صاحبِ کمالات بزرگ تھے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ:’’ہم نے دارالعلوم کا وہ وقت دیکھا ہے جس میں صدر مدرس سے لے کر ادنیٰ مدرس تک اور مہتمم سے لےکر دربان اور چپڑاسی تک سب کے سب صاحب نسبت بزرگ اور اولیاء اللہ تھے۔ دارالعلوم اس زمانے میں دن کو دارالعلوم اور رات کو خانقاہ معلوم ہوتا تھا کہ اکثر حجروں سے شب میں تلاوت اور ذکر کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ‘‘۔

تفقہ فی الدین

’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ  جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ دیتا ہے اور بے شک میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی عطا کرتا ہے اور یہ امت اللہ کے امر پر اس طرح قائم رہےگی کہ اس کی مخالفت کرنے والا بھی انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہا ں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے‘‘۔

یہ ایک جامع حدیث ہے۔شیخ عبدالکریم الخضیر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح (کرنے یا سیکھنے ) میں ایک یا دو سال لگا دے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں اور اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح پر کوئی تصنیف کرے اور کل علم اس کے ذیل میں بیان کر دے تو تعجب کی بات نہیں جیسے کہ محدث ابن ہبیرہ نے اس حدیث کی شرح میں کل علم فقہ کو اس میں داخل کیا ہے۔

ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی اور محاکمۂ استشراق

گردشِ ایام اور شامت اعمال کے سبب جب عالم اسلام، یورپی ملکوں کی کالونی بنا تو سیاسی و اقتصادی کے ساتھ ساتھ،اسے عقیدے و نظریے کی سطح پر بھی یلغار کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مغربی مصنفین نے مشرقی علوم پر تحقیق کی ٹھانی اور ایک شعبۂ علمی’’ استشراق‘‘ وجود میں آ گیا۔ جہاں ایک طرف بہت سارےمسلمان اہل علم، اپنے ’’ فاتحین ‘‘ کی علمیت سے متاثر ہوئے وہیں بعض رجال العلم نے اِن ’’قابضین ‘‘ سے علمی مناقشے کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے گزشتہ صدی میں جو نابغۂ روز گار شخصیات اسلامی دنیا میں پیدا ہوئیں ان میں ایک اہم شخصیت ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی رحمہ اللہ کی بھی ہے۔آپ علماے سلف کی طرح علم وعمل دونوں میدانوں کے شہسوار تھے۔ شام میں اخوان المسلمین کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی مگر ان کا اصل کارنامہ امت کا اپنی تہذیب و ثقافت پر اعتماد بحال کرنا، انھیں اپنے اسلامی تشخص پر فخر سکھانا اور مسلمانوں کے علوم اور تہذیب پر سے مستشرقین کی اڑائی ہوئی گردوغبار صاف کر کے اس کی حقیقی صورت سامنے لانا ہے۔زمانۂ طالب علمی میں ہی آپ نے مستشرقین پر کام شروع کیا اور آغاز ہی میں ان کی علمی کمزوریوں کو بھانپ گئے، جس کی تصدیق بعد کی علمی تحقیقات اور مستشرقین کے ساتھ نجی ملاقاتوں نے بھی کردی۔

فتاویٰ یسئلونک دار الافتاء و الارشاد

احناف کے ہاں بھی اس کی ضرورت موجود ہے کہ بار بار گستاخی کا ارتکاب کرنے والا عام مرتد نہیں بلکہ زندیق ہوتا ہے اور زندیق کی سزا صرف قتل متعین ہے اور عصر حاضر کے گستاخوں کا جو حال ہے اس کے پیشِ نظر  ان کی سزا صرف قتل ہی متعین ہے۔ متقدمین کے زمانے میں گستاخیٔ رسول کسی مؤمن سے سرزد ہونا نا ممکن تھا  اس لیے ذمی کی گستاخی کا حکم  باب الجزیہ میں اور مسلمان کی گستاخی کا حکم باب المرتد  میں ذکر فرمایا، جبکہ متأخرین کے ہاں یہ وبا  عام ہوئی تو انھوں نے باب البغاۃ، باب الارتداد اور باب الجزیہ میں اس کی وضاحت فرما کر گستاخِ رسول  کی سزا قتل متعین فرمائی۔

اداریہ

آپﷺ کی رسالت کے عموم کو بہت ہی عام رکھا گیا:﴿إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ7’’زمین و آسمان کی ہر چیز مانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں سوائے ناہنجار جن وانس کے‘‘۔ محبتِ الٰہی کا ایک ظہور ﴿فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ﴾ کے الفاظ میں ہوا۔ اس ترکیب میں میں وارد’’چناؤ‘‘ کا معنی یوں بیان کیا گیا: أن يكون مَظْهَرَ صِفاتِه8’’تاکہ آپ اللہ کی صفات کے مظہر بن جائیں‘‘ تو آپ ﷺ بندۂ مولا صفات اور مظہر ِنورِ خدا ٹھہرے۔

درسِ قرآن

’’(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔ پھر بھی اگر یہ لوگ منھ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے‘‘۔

درسِ حدیث ﷺ

اب عالم ِخلق میں آپ ﷺکے ظہور کا مرحلہ آتا ہے کہ ولادتِ با برکت کے  موقعے پر  جب آپ کا جسمِ اطہر  ،  تنِ مادر سے جدا ہوا تو ایک روشنی دکھائی دی گئی جس سے شام کے  محلات روشن ہو گئے۔ یہ روشنی  گویا آپ ﷺکے نور ِنبوت و ہدایت  کا ایک استعارہ  تھی اور شام کے محلات کے روشن ہونے میں یہ ایک طرف تو  آپ ﷺکی نبوت کی وسعت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف یہ کہ آپ ﷺکی نبوت سے وقت کی  مملکتیں  ہلاک  اور ان  کے زیر سرپرستی فروغ پانے والے شرک و جہالت کے اندھیرے چاک ہو جائیں گے۔

طلوعِ آفتابِ رسالت ﷺ اور خوارق کا ظہور

مشہور و معروف قول کے مطابق شہنشاہِ کونین ﷺ۱۲ ربیع الاول کو مکہ میں صبحِ صادق کے وقت ابوطالب کے مکان میں پیدا ہوئے ،لیکن جمہور مورخین اور محدثین کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ ولادتِ باسعادت کی تاریخ ۸ ربیع الاول یوم دوشنبہ، اپریل ۵۷۰ عیسویں ہے۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے یہی مروی ہے،1جبکہ علامہ شبلی رحمہ اللہ نے مصر کے مشہور ہیئت دان محمود پاشا کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضور ﷺکی ولادت ۹ ربیع الاول بروز دوشنبہ ، ۲۰ /اپریل ۵۷۱ عیسویں میں ہوئی۔ 2

انقلاب کا نبوی طریق: چند اشکالات

سیرتِ نبویﷺسے منہجِ انقلاب کی تشکیل کا اصول یہ بیان کیا گیا کہ سیرت کا مطالعہ معروضی طور پر (objectively) کیا جائے اور پھر سیرتِ  مطہرہ کے حالات و واقعات کو خاص سے عام (generalize) کر کے اصول و مبادی مستنبط کیے جائیں اور ان کی روشنی میں انقلابی عمل کے مراحل و مدارج ا ور لوازم طے کیے جائیں۔اس تعبیر اور طرز تعبیر پر کچھ گذارشات عرض کرنا پیشِ نظر ہے۔ ہماری گزارشات تین اطراف سے ہوں گی: ایک تصورِ سیرت و سنت کے بارے میں، دوسرے معروضیت (objectivity)کے بارے میں اور تیسرے عموم (generalization) کے بارے میں ۔

آپﷺ کی پرورش:ایک منفرد نقطۂ نظر

سرورِ عالم سید ولدِ آدم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺکا بچپن مبارک سیرت نگاری کا اہم موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو اخص الخاص بنایا اور یہ منظور نہیں فرمایا کہ کوئی کسی بھی درجے میں آپﷺسے کسی بھی اعتبار سے بلند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺکی تعلیم وتربیت کا ابتدا سے انتہا تک خود ہی انتظام فرمایا۔ دنیاکے کسی شخص کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ آپﷺکا استاد ہے یا کسی نے آپ کی تربیت فرمائی۔ آپﷺکے والدِ ماجد کا انتقال آپ کی ولادت سے قبل ہی ہو گیا، اور چھے برس کی عمر میں والدہ ماجدہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اس کے بعد عموماً سیرت نگاروں نے یہ بات درج کی ہے کہ آپﷺکی پرورش آپ کے چچا اور دادا نے کی مگر حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی صاحب رحمہ اللہ نے اس بارے میں یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ آپﷺکی پرورش انھوں نے نہیں بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے براہ ِراست فرمائی، اور ساتھ ہی ساتھ آپﷺکی برکت سے ان سب کو بھی کئی نعمتوں سے نوازا۔

نعت گوئی اور چند اردو نعت گو شعرا

نعت کی ابتدا تو سابقہ انبیا کے مبارک صحیفوں میں میرے آقا ﷺکی آمد کی اَخبار اور آپ ﷺکے اوصاف کے بیان سے ہو چکی تھی لیکن اسے عروج؛ قرآنِ مجید میں حاصل ہوا۔ چنانچہ کہیں﴿وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾ تو کہیں ﴿عَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم﴾ کہا گیا۔کہیں ﴿مَا وَدَّعَکَ﴾ اور ﴿مَا قَلیٰ﴾ سے دل جوئی کی گئی، تو کہیں ﴿اَنْتَ فِیْھِمْ﴾ سے آپﷺکی عظمت اجاگر کی گئی۔ کبھی ﴿لَقَدْ مَنَّ اللہُ﴾ پڑھا تو آپﷺکی قدر ومنزلت آنکھوں کے راستے درونِ قلب تک جا پہنچی اورکبھی ﴿لاتَرْفَعُوْا﴾ سنتے ہی تمام تر اجساد خاکی آپﷺکی تعظیم میں جھکتےچلے گئے۔ کہیں تو شارع نے دوٹوک الفاظ میں ﴿وَمَا اٰتَاکُمْ﴾ سے آپﷺکے اقوال و افعال کی حجیت کا اعلان کیا اور جب کبھی اپنی شانِ رحمت کے اظہار کے لیے نطق فرمایا توآپﷺرحمۃ للعلمین قرار پائے،اگرکہیں﴿اِنَّمَا اَنَا بَشَر﴾ سے عبدیت اور بشریت کی طرف اشارہ ہوا تو ﴿قَابَ قَوْسَیْن﴾کے ذکر سے اپنے بندے کو رفعتوں اور قربتوں کی معراج پر پہنچا دیا۔ صلی اللہ علی محمد!

در جہانی و از جہاں بیشی

تفہیمِ مدعا کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہﷺکی ذاتِ والا صفات دو حصوں میں منقسم تھی۔ایک آپﷺکا اپنے خالق و مالک ومحبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالی سے تعلق جس کو ہم اختصار سے تعلق مع الحق کہہ سکتے ہیں اور دوسرا ماسوا للہ سے تعلق جس کو ہم تعلق مع الخلق کا عنوان دے سکتے ہیں۔ یہ دو پہلو ہوئے آپ ﷺکی شخصیت کے ، لیکن ایک تیسری جہت بھی قائم کی جا سکتی ہے یہ ذات حق اور اس کی خلق کے درمیان ربط و رابطے کی جہت ہے ۔جب تک رسول اللہ ﷺکی ان سبھی جہات کا صحیح ادراک حاصل نہ ہو آپ ﷺکا تعارف ناقص رہ جائے گا۔

فتاویٰ یسئلونک دارالافتاء والارشاد

سوال: میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ میلاد منانا جائز ہے؟

سوال: السلام علیکم! عید میلاد کے متعلق علماے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟
سوال: السلام علیکم! عید میلاد کے متعلق علماے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟

سوال:روضۂ رسولﷺپر حاضری کے آداب اور درود و سلام پیش کرنے کا صحیح طریقہ بتا دیں اور کونسا درودسلام پڑھنا چاہیے یا جس کی فضیلت زیادہ ہو وہ بتا دیں؟

احوالِ امت

امتِ مسلمہ کو ہر دور میں مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ان مسائل کی نوعیت اور صورتیں اگرچہ مختلف رہیں لیکن ان کے اسباب و وجوہات میں ایک چیز تقریبا ہر دور میں مشترک رہی :عدمِ اتحاد و یکجہتی ۔مسلمان جب متحد تھے تو ملک کیا پورے پورے براعظموں پر عدل و مساوات کا نظام قائم کیے رکھتے تھے ، لیکن جیسے جیسے اتحاد اور یکجہتی کا فقدان فقدان ، اجتماعی مفادات پر ذاتی مفادات کی ترجیح اور امت پن کے تصور میں کمزوری آتی گئی مسلمانوں کا شیرازہ بکھرتا چلا گیا۔آج امتِ مسلمہ کو جتنے بھی مسائل کا سامنا ہے یکجہتی اورایک امت ہونے کے تصور کا فقدان ہی اس کی اصل وجہ ہے۔

فقہ اکیڈمی کی تعلیمی سرگرمیاں :ستمبر ۲۰۲۰ء

یک سالہ تعلیم الاسلام کورس،

 الشھادۃ الدراسیۃ في العلوم الإسلامیۃ  سالِ اول تا سالِ پنجم،

 درسِ نظامی درجۂ اولیٰ و ثانیہ،

 مختصر تعلیم الاسلام کورس،

عربی گرامر دس ماہ کورس،

قرآنی عربی کورس

گزشتہ شمارے

2021 January  203  9
2020 November  544  7
2020 October  468  11

Magazine Segments