دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا آپ مجھے اس حدیث مبارک کی تصدیق کرکے بتاسکتے ہیں؟
’’حضورﷺ کا ارشاد پاک ہے: کسی کی نیکی کا اندازہ کرنے کے لیے صرف اس کے نماز روزے ہی کو نہ دیکھو (یعنی کسی کے صرف نماز روزے ہی کو دیکھ کر اس کے معتقد نہ ہوجاؤ) بلکہ یہ چیز دیکھو کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرے اور تکلیف اور مصیبت کے دنوں میں بھی پرہیز گاری پر قائم رہے۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
Milk Kefir، Water Kefir، Kambocha Tea ایک دوست نے ان چیزوں کے بارے پوچھا ہے کہ ان کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟کیفر ایک ایسا مشروب ہے جو دودھ یا پانی میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا شامل کر کے تیار کیا جاتا ہے (جس طریقے سے دودھ کو خمیر کر کے دہی بنایا جاتا ہے)۔ کیفر کے بیج کے فرق سے پانی، دودھ، یا چائے کی صورت میں مشروب تیار ہوتا ہے۔ مختلف بیکٹیریا پر مشتمل بیج شامل کرنے کے نتیجے میں دودھ یا پانی میں ایک گیس کاربن ڈائی آکسائڈ اور ایتھنول نامی ایک الکوحل پیدا ہوتا ہے، جس کا تناسب ایک سے تین فیصد ہوتا ہے۔ اس مشروب میں صحت افزا بیکٹیریا کثرت سے پیدا ہوتے ہیں، جو نظام ہاضمہ اور نظام مدافعت کو تقویت پہنچاتے ہیں۔پانی سے بنے کیفر مشروب اور کومبچا چائے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ چائے میں کیفین شامل ہوتی ہے، جب کہ کیفر عام پانی، ناریل پانی یا جوس کو خمیر کر کے تیار کیا جاتا ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
حدیث جبریل کی ایک عبارت ہے:’’ ووضع كفيه على فخذيه ‘‘اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ کیا حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ رکھے تھے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی کو یوں نہیں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھلا دیا گیا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کہنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل واقعے کی تصدیق مطلوب ہے۔
’’ علامہ سیوطی رحمہ اللہ ایک دفعہ بہت سخت بیمار ہوئے ، شفایابی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے، خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، آپ کے ساتھ پرندے بھی تھے، آپ نے فرمایا: بیٹا یہ دعا کیوں نہیں پڑھتے «بِسمِ اللهِ رَبِّیَ الله، حَسبِیَ الله، تَوَکَّلتُ عَلی الله،ِ اِعتَصَمتُ باللهِ، فَوَّضتُ اَمرِی اِلی اللهِ، مَاشَآء الله، لَاقُوَّةَ اِلَّا باللهِ» پھر وہ پرندے دھیرے دھیرے بندوں کی شکل میں مبدل ہوگئے، ان میں سے ایک نے استفسار کیا کہ اگر کوئی شخص یہ دعا دشمن کے نرغے میں یا قرضے کی ادائیگی کےلیے یا حاسدین کے حسد سے بچنے کےلیے یا جادو وغیرہ سے بچنے کےلیے اس وظیفہ کو پڑھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: واہ واہ پھر تو کیا کہنے! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میں نے پوچھا آپ کے ساتھ یہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں، یہ سید الشہداء حضرت حمزہ ہیں اور دیگر لوگ جو پرندوں کی شکل سے انسانوں کی شکل میں منتقل ہوئے یہ شہداء احد ہیں۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں: میں یہ دعا پڑھتا رہا، یہاں تک کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں بالکل تندرست کھڑا ہوگیا۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بخاری شریف کی پہلی حدیث ہے ’’اِنَّمَا الاَعمالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ کیا یہ حدیث مبارکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک جو صحیح حدیث کی شرائط ہیں ان شرائط پر پورا اترتی ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مخضرم اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟ حضرت نجاشی اور حضرت اویس قرنی رحمہما اللہ مخضرمی تھے یا تابعی؟ کیا مخضرمی اور تابعی میں کوئی فرق ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال یہ ہے کہ جو ہمارے یہاں مشہور واقعات ہیں جن کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جاتی ہے، جیسے ایک ضعیفہ کا واقعہ ہےجو کچرا پھینکتی تھی اور ایک ضعیفہ جو مکہ چھوڑ کر جارہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈر کر، کہیں وہ بھی اسلام قبول نہ کرلے اور اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سامنے تشریف لے آئے اور اس کا سامان بھی منزل تک پہنچایا بغیر کسی اجرت کے اور وہ یہ جان کر یہ خوبصورت چہرہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے تو وہ ایمان لے آئی۔ اور ایک یہ کہ عیدکے دن کسی مسکین اور یتیم کو گھر لے آتے اور حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کا لباس اسے پہناتے۔ کیا ان واقعات کی کوئی حقیقت ہے؟ کیا یہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں؟ یا ضعیف احادیث ہیں؟ برائے مہربانی جواب دیجیےگا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ماہ رجب کے روزے کی فضیلت کے حوالے سے درج ذیل احادیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ درست ہیں؟
۱۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے ماہ حرام (رجب) کے تین روزے رکھے اس کےلیے نو سو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔ (اللألی المصنوعۃ للسیوطی)
۲۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور رجب کے دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے اور تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے اور پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی)