Menu

Fatawaa

کیفر اور کومبچا چائے کا حکم

Apr 26 2020

 Milk Kefir، Water Kefir، Kambocha Tea  ایک دوست نے ان چیزوں کے بارے پوچھا ہے کہ ان کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟کیفر ایک ایسا مشروب ہے جو دودھ یا پانی میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا شامل کر کے تیار کیا جاتا ہے (جس طریقے سے دودھ کو خمیر کر کے دہی بنایا جاتا ہے)۔ کیفر کے بیج کے فرق سے پانی، دودھ، یا چائے کی صورت میں مشروب تیار ہوتا ہے۔ مختلف بیکٹیریا پر مشتمل بیج شامل کرنے کے نتیجے میں دودھ یا پانی میں ایک گیس کاربن ڈائی آکسائڈ اور ایتھنول نامی ایک الکوحل پیدا ہوتا ہے، جس کا تناسب  ایک سے  تین فیصد ہوتا ہے۔ اس مشروب میں صحت افزا بیکٹیریا کثرت سے پیدا ہوتے ہیں، جو نظام ہاضمہ اور نظام مدافعت کو تقویت پہنچاتے ہیں۔پانی سے بنے کیفر مشروب اور کومبچا چائے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ چائے میں کیفین شامل ہوتی ہے، جب کہ کیفر عام پانی، ناریل پانی یا جوس کو خمیر کر کے تیار کیا جاتا ہے۔
الجواب باسم ملهم الصواب
ہماری معلومات کے مطابق  سوال میں مذکور تمام اشیاء میں الكوحل شامل ہوتا ہے اور الكوحل کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر الكوحل انگور ، کشمش ، کھجور  سے حاصل کیا جائے تو اس کا استعمال جائز نہیں چاہے وہ کتنی ہی کم مقدار میں استعمال کیا گیا ہو اور اگر الكوحل انگور ، کشمش اور کھجور کے علاوہ کسی چیز سے حاصل کیا گیا ہے تو اس کی اتنی مقدار کا استعمال جائز ہے جس میں نشہ نہ ہو ۔سوال میں ذکر کردہ تفصیل کی روشنی میں مذکورہ اشیاء میں شامل ہونے والے الکوحل کی وجہ سے ان اشیاء کا استعمال حرام نہ ہوگا، لہذا ان کا استعمال جائز ہے۔
وبهذا تبيين حكم الكحول المسكرة التي عمت بها البلوى اليوم، فانها تستعمل في كثير من الادوية والعطور والمركبات الأخرى، فانها ان اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها أو طهارتها، وان اتخذت من غيرها فالامر فيها سهل... وان معظم الكحول التي تستعمل اليوم في الأدوية والعطور وغيرها لا تتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول وغيره. (تكملة فتح الملهم، جلد۳، ص۶۰۸، الناشر:مکتبة دارالعلوم كراتشي)
والله اعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4363