ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
قیامت آئے گی ، اور اس سے آگے اس کی نشانیاں ، تو علم اٹھا یا جائے گا لیکن سینوں سے نہیں بلکہ شہروں سے اور ہم نے شہر وں میں عالِموں کو علم سمیت اٹھتے دیکھا تو شہروں کو روتا پایا ۔ آخر موت پہ رونا کس کو نہیں آتا اور عالِم کے اٹھنے کو عالَم کی موت یونہی تو نہیں کہا گیا ، ظلمت کو موت یا جَہل سے تشبیہ دی جائے اور ظلمت کدے کوگو رستان سے، تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور نور کو علم یا روحِ زندگی سے تعبیر کیا جائے تو اچھا ہی ہے اس لیے کہ وحی ربانی میں اس طرح کے اشارے بے شمار ملتے ہیں:﴿أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ﴾’’ارے دیکھو جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو روشنی دی جسے لیے وہ لوگوں میں پھرتا ہے کیا اس کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیریوں میں ہے‘‘ ۔صاحب زاد المسیر رحمہ اللہ نے نور کی تفسیر میں تین اقوال نقل کیے ہیں: ہدایت ،قرآن پاک اور عِلم ، اور ظاہر ہے ان تینوں تعبیرات میں کوئی تباین نہیں ہے ۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اللہ تعالی کے نظر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے جسموں ، مالوں اور ظاہری صورتوں پر اللہ نظر اعتبار یعنی قدر و قیمت کا جانچنے کی نظر سے نہ دیکھے گا کیونکہ اس کی نگاہ میں جسموں کی مضبوطی اور ظاہری خوبصورتی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے جب تک ان کے ساتھ حسن سیرت نہ ہو ۔اسی طرح اللہ کی نظر میں مال و دولت کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ صدقات و انفاق اور اعمالِ صالحہ نہ ہوں۔ پس اللہ تعالی کی نظر میں اصل اہمیت تمہارے اعمال اور قلوب کی ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اب تک کی بحث میں ہم نے سمجھا کہ علم دین یا فقہ فی الدین کے تین شعبے ہیں یعنی علم الاعتقاد یا علم الکلام ، علم الاحکام یا علم الاعمال اور علم الاخلاق یا تزکیہ نفس و احسان ۔ دوسری اہم بات یہ سمجھیے کہ ان تینوں شعبوں کا اتنا علم کہ جس کی روشنی میں انسان اپنے اعتقاد ، اعمال اور اخلاق کی اصلاح کر سکے ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ انہی تین شعبوں کا اتنا علم کہ جس سے دوسروں کی رہنمائی کی جا سکے تمام امت پر فرض کفایہ ہےالبتہ اس فرض کفایہ کا اہتمام کرنا اولو الامر کی ذمے داری ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں پر اولو الامر کی اطاعت لازمی قرار دی ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
جہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ اس سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کسی عام آدمی کو نہیں چاہیے کہ وہ قانون کا نفاذ خود کرتے ہوئے کسی گستاخ کو خود قتل کرے بلکہ چاہیے کہ پولیس کو اطلاع دے کر یہ سمجھے کہ اس نے اپنی ذمے داری ادا کر دی البتہ حکومت اور انتظامیہ کو یہ ذمےداری احسن طریقے سے ادا کرنی چاہیے اور اس حساسیت کا اندازہ کرنا چاہیے جو بالکل صحیح طور پر ناموس رسالت کے بارے میں مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
بعض حلال و حرام وہ ہیں جو بالکل واضح ہیں جیسے روٹی ،پانی ، پھل اور میوے کا حلال ہونا اور شراب ، خنزیز کا گوشت ،زنا اور جھوٹ وغیرہ کا حرام ہونا،ان کی حلت و حرمت سب پر واضح ہے ۔ ان دونوں (یعنی حلالِ محض اور حرام ِ محض) کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ۔بہت سارےلوگ (یعنی عوام الناس ) ان(مشتبہ امور) کا حکم نہیں جانتے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اور امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے غور و فکر اور اجتہاد سے مشتبہات کا حکم معلوم کر کے بعض پر حلال اور بعض پر حرام کا حکم لگاتے ہیں اور یہ علماے راسخین اور مجتہد ین ہوتے ہیں۔ اب عام لوگوں کو بھی مجتہدین کے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے ۔ البتہ جو چیز باوجود اجتہاد کےمجتہدین پر بھی مشتبہ ہی رہے تو اس سے سبھی لوگوں کو دور رہنا چاہیے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ دیتا ہے اور بے شک میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی عطا کرتا ہے اور یہ امت اللہ کے امر پر اس طرح قائم رہےگی کہ اس کی مخالفت کرنے والا بھی انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہا ں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے‘‘۔
یہ ایک جامع حدیث ہے۔شیخ عبدالکریم الخضیر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح (کرنے یا سیکھنے ) میں ایک یا دو سال لگا دے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں اور اگر کوئی شخص اس حدیث کی شرح پر کوئی تصنیف کرے اور کل علم اس کے ذیل میں بیان کر دے تو تعجب کی بات نہیں جیسے کہ محدث ابن ہبیرہ نے اس حدیث کی شرح میں کل علم فقہ کو اس میں داخل کیا ہے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
آپﷺ کی رسالت کے عموم کو بہت ہی عام رکھا گیا:﴿إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ﴾7’’زمین و آسمان کی ہر چیز مانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں سوائے ناہنجار جن وانس کے‘‘۔ محبتِ الٰہی کا ایک ظہور ﴿فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ﴾ کے الفاظ میں ہوا۔ اس ترکیب میں میں وارد’’چناؤ‘‘ کا معنی یوں بیان کیا گیا: أن يكون مَظْهَرَ صِفاتِه8’’تاکہ آپ اللہ کی صفات کے مظہر بن جائیں‘‘ تو آپ ﷺ بندۂ مولا صفات اور مظہر ِنورِ خدا ٹھہرے۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
’’(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔ پھر بھی اگر یہ لوگ منھ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے‘‘۔
ماہ نامہ مفاہیم - صوفی جمیل الرحمان عباسی
اب عالم ِخلق میں آپ ﷺکے ظہور کا مرحلہ آتا ہے کہ ولادتِ با برکت کے موقعے پر جب آپ کا جسمِ اطہر ، تنِ مادر سے جدا ہوا تو ایک روشنی دکھائی دی گئی جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ یہ روشنی گویا آپ ﷺکے نور ِنبوت و ہدایت کا ایک استعارہ تھی اور شام کے محلات کے روشن ہونے میں یہ ایک طرف تو آپ ﷺکی نبوت کی وسعت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف یہ کہ آپ ﷺکی نبوت سے وقت کی مملکتیں ہلاک اور ان کے زیر سرپرستی فروغ پانے والے شرک و جہالت کے اندھیرے چاک ہو جائیں گے۔