دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بعض مقررین یہ بیان کرتے ہیں کہ جانتے بوجھتے کسی ایک کبیرہ گناہ کے مسلسل ارتکاب سے کوئی مسلمان خلود فی النار کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کے لیے وہ سورۃ البقرہ کی آیت «بلی من کسب... » کا حوالہ دیتے ہیں ازراہ کرم مذکورہ آیت کی تفسیر کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں شرعی راہ نمائی فرمائیں ۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بعض لوگ یہ نظریہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ ایک فرض کا مستقل تارک ہے تو اس صورت میں اس کی دوسری عبادات و فرائض کی ادائیگی اکارت جائے گی بلکہ اس کے منہ پہ دے ماری جائے گی اور اللہ کے ہاں سے اسے اجر نہیں ملے گا۔ البتہ اس نظریے کے اثبات کے لیے عمومًا ایک روایت اس انداز میں بیان کی جاتی ہے:
’’رسول اللہ ﷺنےفرمایا: اللہ تعالیٰ نےجبرئیل کو حکم دیا کہ فلاں بستیوں کواُن کے رہنےوالوں سمیت اُلٹ دو! حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس پرحضرت جبرئیل ؑنےعرض کیا: اےمیرےربّ !ان میں توتیرافلاں بندہ بھی ہےجس نےچشم زدن کی مدت تک بھی تیری معصیت میں بسرنہیں کی! آنحضورﷺنے فرمایا کہ اس پراللہ تعالیٰ نےفرمایا کہ اُلٹ دو انہیں پہلے اس پر پھر دوسروں پر، اس لیےکہ اس کےچہرےکی رنگت کبھی میری (غیرت اورحمیت کی )وجہ سےمتغیرنہیں ہوئی۔غورکیجیےکہ اس بندہ عابدکی عبادت گزاری کی شہادت کون دےرہےہیں اورکیادےرہےہیں ؟گواہی دےرہےہیں حضرت جبرئیل امین ؑکوئی کرائے کا وکیل نہیں۔وہاں دےرہےہیں جہاں ابوجہل بھی جھوٹ نہیں بول سکےگا،اورگواہی یہ دی جارہی ہےکہ اس بندۂ عابد نے آنکھ جھپکنے کی مدت بھی اللہ تعالیٰ کی معصیت میں بسرنہیں کی ۔یہاں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ایک شخص کی ذاتی عبادت اورنیکی کا یہ عالم ہے۔لیکن بارگاہِ خداوندی سےحکم یہ صادرہواکہ ’’اُلٹوپہلےاس پرپھردوسروں پر‘‘۔کیوں ؟چہرےکارنگ میری (غیرت وحمیت )کی وجہ سےکبھی متغیرنہیں ہوا۔یہ لیےکہ اس بےغیرت اوربےحمیت انسان اسی سزاکامستحق ہےکہ عذاب پہلےاس پرنازل ہوپھردوسروں پر۔حمیت وغیرت دین دراصل ایمان باللہ کااہم ترین تقاضاہے۔اس حمیت و غیرتِ حق کےبغیرنہ ولایت کی کوئی ادنیٰ سی نسبت ہےنہ کوئی انفرادی عبادت، کوئی زہداورکوئی ریاضت اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ہے۔تواصی بالحق امربالمعروف نہی عن المنکر، دعوت الی اللہ، اعلائےکلمہ اللہ کی سعی وجہداسی غیرتِ حق اورحمیت دینی کےعملی مظاہرہیں ۔یہ دین کی پشت پناہی اورنصرت ہے۔ان چیزوں سےاگرزندگی خالی ہےاورانفرادی زہدوعبادت اوروظائف واَ ورادہیں توولایت کی نسبت کاکوئی سوال نہیں ۔ان تمام ریاضتوں کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرکاہ کےبرابربھی نہ وقعت ہےاورنہ وزن ہے۔کسی کی والدہ کی شان میں کوئی شخص کوئی گستاخانہ بات کہہ بیٹھےتواس کے پورےجسم کاخون چہرے پر جمع ہوجائےگا، وہ مرنے مارنے پرتل جائےگا۔لیکن اللہ اوراس کےرسول ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی رہے،اس کےدین کامذاق اڑتارہےاورکوئی اپنی نفلی عبادت وریاضت میں مگن رہےتواسےولایت سےکیانسبت ہوسکتی ہے؟یہ توابلیس کامشن ہےجسےعلامہ اقبال نےان الفاظ میں بیان کیاہے:
مست رکھوذکروفگرصبح گاہی میں اسے
پختہ ترکردومزاجِ خانقاہی میں اسے!
چنانچہ ولایت کاحقیقی مفہوم ہےغیرتِ حق ‘حمیت دینی ‘دین کی پشت پناہی ‘اس کی کےغلبہ واقامت کےلیےجہاد و قتال۔ اگر ولی کایہ تصورآپ نےجان لیاتواس نصرت ‘اس کامنطقی نتیجہ بھی سمجھ میں آجائےگاکہ :’’جس نےمیرےکسی ولی سےعداوت رکھی اُس کےخلاف ہیں ااعلانِ جنگ ہے!‘‘جوشخص ولی ہےہمہ تن میرےدین کاحمایتی بناہواہےاُسےمیں چھوڑدوں ‘یہ کیسے ممکن ہے! جو اللہ کاولی ہے اللہ بھی تو اس کا ولی ہے۔پس فرمایا کہ جس شخص نےمیرےولی کےساتھ دشمنی رکھی تواس کے بارے میں فرمایا گیا۔ ’’خلاف میں اعلانِ جنگ کرچکاہوں۔‘‘ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ:
1۔ کسی ایک فرض عین کے تارک کی دوسری عبادات مقبول ہیں یا نہیں مثلا کیا زکٰوۃ نہ دینے والے کی نماز قبول ہو گی یا نہیں؟
2۔ فرض کفایہ جیسے دعوت وتبلیغ، جہاد فی سبیل اللہ کے تارک کے دوسرے معمولات اور عبادات قبول کی جائیں گی یا وہ مردود ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کھانے پینے کی چیزوں پر کچھ پڑھ کر کھانا پینا کیا جائز ہے؟ ایسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ یا اسی طرح کچھ اور آیات پڑھ کر پھونک دی جائیں تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سنن ابی داؤد کی درج ذیل روایت میں چند سوالات ہیں:
۱۔ اس روایت اور اس جیسی روایات کیا درجہ صحت کو پہنچتی ہیں؟
۲۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کرناکہ ’’ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ ‘‘ کیا آپ ان کی وفات کو مصیبت سمجھتے ہیں اور حضرت مقدام کا سخت جواب دینااس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت معاویہ وفاتِ حضرت حسن کو ہلکا لے رہےتھے اور حضرت معاویہ کے دل میں حضرت حسن کا کوئی خاص مقام نہیں تھا، اس بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کیا فرماتے ہیں؟
۳۔حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے بقول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں سونا، ریشم اور درندوں کی کھالیں استعمال میں لائی جاتی تھیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیے۔
۴۔ حضرت معاویہ کی موجودگی میں ان کے ساتھی اسدی نے حضرت حسن کے بارے میں یہ کہا کہ ’’انگارہ تھا جو بجھ گیا‘‘ اور حضرت مقدام اس پر غصہ ہوئے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضرت معاویہ کے ہوتے ہوئے حضرت حسن کی بارے میں اس طرح کی بات کی جائے۔
سنن ابی داود کی روایت یہ ہے:حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً، وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: «هَذَا مِنِّي» وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ، وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔ (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا کسی نبی، ولی یا اللہ کی کسی صفت کے طفیل مانگنا جائز ہے؟ جیسے : یااللہ آپ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم پر رحم کیجیے۔ یا آپ اپنی شان غفاری کی صدقے رحم کیجیے یا فلاں ولی کے صدقے رحم کیجیے۔۔۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جب گھر کی تعمیر شروع کی جائے تو اس میں برکت کے لیے صدقہ کا جانور وہیں ذبح کر کے اس کا خون اس کی بنیادوں میں ڈال دیا جائے. براہ مہربانی قرآن و حديث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا درست ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال یہ ہے کہ جو ہمارے یہاں مشہور واقعات ہیں جن کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جاتی ہے، جیسے ایک ضعیفہ کا واقعہ ہےجو کچرا پھینکتی تھی اور ایک ضعیفہ جو مکہ چھوڑ کر جارہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈر کر، کہیں وہ بھی اسلام قبول نہ کرلے اور اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سامنے تشریف لے آئے اور اس کا سامان بھی منزل تک پہنچایا بغیر کسی اجرت کے اور وہ یہ جان کر یہ خوبصورت چہرہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے تو وہ ایمان لے آئی۔ اور ایک یہ کہ عیدکے دن کسی مسکین اور یتیم کو گھر لے آتے اور حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کا لباس اسے پہناتے۔ کیا ان واقعات کی کوئی حقیقت ہے؟ کیا یہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں؟ یا ضعیف احادیث ہیں؟ برائے مہربانی جواب دیجیےگا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم الحمد للہ اپنی اصلاح کی غرض سے مختلف حضرات کے بیانات سنتے رہتے ہیں، لیکن ایک بات ہمیں پریشان کرتی ہے، وہ یہ کہ جب رسول اللہ ﷺ کا نام مبارک آتا ہے تو اکثر خطیب جو درود پڑھتے ہیں وہ یا سمجھ نہیں آتا یا پھر انہوں نے کوئی مختصر درود بنایا ہوتا ہے، ممکن ہے کہ جلدی کی وجہ سے ایسا ہوتا ہو ، عموماً اس طرح کے الفاظ سننے میں آتے ہیں: ’’صلی سلم، صلم، صللا سلم، صم‘‘
اس حوالے سے یہ رہنمائی فرمائیں کہ مختصر درود کون کون سے ہیں؟ اورمذکوہ بالا الفاظ کا پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا ہم اسے نظر انداز کردیں یا خطیب صاحب کی توجہ اس طرف کروائی جائے؟مزید یہ بھی بیان فرمائیں کہ ایک مجلس میں جتنی دفعہ رسول اللہ ﷺ کا نام آئے تو کیا ہر دفعہ درود پڑھنا لازم ہے؟ ہم تو بعض دفعہ پڑھتے ہیں اور بعض دفعہ رہ جاتا ہے، اگر لازم ہے تو ہم اور زیادہ احتیاط کریں۔